Ghazwa-e-Khaibar Ki Mukammal Tareekh: Fateh-e-Khaibar Aur Marhab Ka Qatal

 غزوہ خیبر (محرم ۷ھ)

        حملہ آور قبیلے بنوقارہ نے فرار ہوکر بنوغطفان کے پاس پناہ لی تھی جن کو یہود کی طرف سے مدینہ کے خلاف مسلسل بھڑکایا جارہا تھا یہ تمام قرائن اہلِ خیبر کے جرائم کو ثابت کررہے تھے۔ آخرکار ان کی گوشمالی کے لیے نبی اکرم ﷺ نے محرم سن ۷ ہجری کے اواخر میں چودہ سو صحابہ کرام کے ساتھ خیبر کی طرف کوچ کردیا۔ اس غزوہ میں حضور صلی اللہ وسلم نے انہی چودہ سو اصحاب کو چنا تھا جو حدیبیہ کے سفر میں ساتھ تھے۔




        یہودی اگرچہ گرد و پیش سے بہت چوکنا رہتے تھے مگر حضور ﷺ راتوں رات سفر کرتے ہوئے اتنی خاموشی سے وہاں جا پہنچے کہ انہیں کچھ پتا نہ چلا۔ آپ ﷺ نے صبح صادق کے وقت خیبر کے قلعوں کے سامنے پڑاؤ ڈالا ۔ بے خبر یہودی معمول کے مطابق کھیتی باڑی کے اوزار تھامے اپنے باغوں کی طرف نکلے مگر جب لشکر پر نظر پڑی تو ٹھٹک گئے اور آنا فاناً سارا معاملہ سمجھ کرالٹے قدموں اپنے قلعے میں گھس گئے۔ بستی میں شور مچ گیا محمد لشکر لے کر آگئے۔"

        حضور ﷺ نے انہیں سنبھلنے کا موقع دیے بغیر قلعوں کا محاصرہ شروع کردیا۔ قلعے فتح کرنے والے صحابہ میں حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، محمد بن مسلمہؓ ، سعد بن عبادہؓ اور حُباب بن المنذرؓ  قابل ذکر ہیں۔

قَموص کی فتح اور مرحب کا قتل: 

        ''قموص“ نامی قلعہ دودن متواتر لڑائی کے باوجود سرنگوں نہ ہوسکا تھا۔ آخر کار آپ ﷺ نے رات کو فرمایا: ''کل میں حملے کا پرچم اسے دوں گا جو اللہ اوراس کے رسول کا محبوب ہوگا۔

        اگلی صبح سب منتظر تھے کہ یہ سعادت کسے نصیب ہوتی ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے حضرت علیؓ کو بلایا، ان کی آنکھیں دکھ رہی تھیں، آپ ﷺ نے لعابِ دہن لگایا تو آنکھیں بالکل ٹھیک ہوگئیں۔ آپ ﷺ نے پرچم ان کے حوالے کرکے خصوصی ہدایات دیں اور حملے کا حکم دیا۔ اس دن زبردست جنگ ہوئی ۔ قوم کا نامور یہودی پہلوان "مَرحَب'' کسی سے زیر نہیں ہوتا تھا۔ حضرت عامر بن اکوعؓ اس کے مقابلے کے لیے نکلے۔ دونوں کی تلواریں دوبار ٹکرائیں،مرحب کے اگلے وار کو حضرت عامر بن اکوعؓ نے اپنی ڈھال پر روکا، مرحب کی تواران کی ڈھال میں گھس گئی ۔ حضرت عامر بن اکوعؓ نے جھک کر اپنی تلوار گھمائی تاکہ مرحب کی پنڈلی کاٹ دیں مگر وہ بچا گیا اور تلوار شدت سے گھوم کر خود عامربن اکوع کی شہ رگ پر آ لگی۔ وہ اسی وقت شہید ہوگئے۔

حضرت علیؓ کے ہاتھوں مرحب کا قتل:

        مرحب مسلسل مسلمانوں کو للکار رہا تھا، آخر حضرت علیؓ اس کے مقابلے کے لیے نکلے۔ مرحب یہ شعر گائے ہوئے ان کی طرف لپکا۔

قَد عَلِمَت خبیر اَنى مَرحَب

خیبر جانتا ہے میں مَرحب ہوں۔

شاكني السَلاح بَطَل مُجرَّب

اسلحہ پہنے ہوئے کہنہ مشق جنگجو ہوں۔

حضرت علیؓ جوابًا یہ رجز پڑھتے ہوئے اس کی طرف جھپٹے۔


أنا الذّي سَمَّتني أمِّي حيدرة

كَلَيثِ الْغَابَاتِ كَرِيَّہَ الْمَنْظَرَة

"میں وہ ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر یعنی شیر رکھا اور میں جنگل کے شیر جیسا ہیبت ناک ہوں۔ 

        جھڑپ شروع ہوتے ہی ان حضرت علیؓ نے اس زور کا وار کیا کہ مرحب کا سر دو کھڑے ہوگیا۔

زبیر بن العوامؓ کے ہاتھوں یاسر یہودی کا قتل :

        مرحب کے مرنے کے بعد اس کا بھائی یاسر یہ رجز پڑھتے ہوئے میدان میں نکلا۔

قد علِمَت خير انى ياسر
شاكي السلاح بطل مُغاوِر

"خیبر جانتا ہے میں یاسر ہوں ، مسلح دلیر اور جری ہوں۔"

        ادھر سے زبیر بن العوامؓ مقابلے پر یہ کہتے ہوئے نکلے۔

قَدْ عَلِمَت خيبر أني زبّار
 قَرمُٗ لِقَوْمٍ غَيْرُ نكْس وَلا فرّار

 خیبر جانتا ہے میں ہوں زبیر قوم کا سردار ... نہ بھاگنے والا نہ بے کار

ابْنُ حَمَاةِ الْمَجْدِ وَابْنُ الْأَخْيَارِ
یاسرُ لَا يَغرُركَ جَمْعُ الكُفَّار

        میں ہوں شریفوں اور بزرگوں کی اولاد ۔۔۔۔۔اے یاسر! تجھے دھوکے میں نہ ڈالے لشکرِ کفار"

جمْعُهُمْ مِثْلَ سَراب الجرّار

 ان کی فوج ہے غائب ہونے والے سراب جیسی

        یاسر اتنا لحیم شحیم اور زورآور تھا کہ زبیرؓ کی والدہ صفیہؓ پریشان ہوکر بولیں:

        اللہ کے رسول ! آج میرا بیٹا شہید ہوجائے گا۔"

        حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: نہیں۔ ان شاء اللہ زبیر اسے قتل کرے گا۔

ایسا ہی ہوا ۔ یاسر حضرت زبیرؓ کے ہاتھوں مارا گیا۔

خیبر کے دیگر قلعوں کی فتح

        اپنے نامی گرامی سرداروں کے مارے جانے سے یہود کی ہمت ٹوٹ گئی اور ''قموص'' فتح ہوگیا ۔ جلد ہی ناعِم، صَعب، سموان اور نزار جیسے دیگر قلعے بھی مسخر ہوگئے ۔ آخر میں یہودی ہرطرف سے سمٹ کر"وطیع" اور "سُلالِم" نامی قلعوں میں محصور ہوگئے۔ چودہ دن کے محاصرے کے بعد انہوں نے درخواست کی کہ ان کی جان بخشی کردی جائے ، وہ خیر چھوڑ جائیں گے۔ آپ ﷺ نے یہ درخواست اس شرط پر منظور فرمائی کہ و سونا، چاندی اور اسلحہ چھوڑ جائیں، ان میں سے کچھ نہ چھپائیں ورنہ ان کی جان کی کوئی ضمانت نہیں۔ مگر یہودیوں کے رئیس کِنانہ بن ابی الحُقیق نے معاہدے کے برخلاف سونا، چاندی اور اسلحہ مسلمانوں کے حوالے کرنے کی بجائے زمین میں دفن کردیا۔ حضور ﷺ نے پوچھ کچھ کی تب بھی اس نے دروغ گوئی سے کام لیا۔ تاہم حضور ﷺ نے بطور معجزہ صحابہ کو بتادیا کہ اس کا مال اور اسلحہ کہاں دفن ہے۔ معاہدہ توڑکر یہودیوں کی حیثیت جنگی قیدیوں کی ہوگئی تھی۔ کِنانہ بن ابی الحُقیق فریب کے علاوہ ایک مسلمان کے قتل کا مجرم بھی تھا ، لہذا اسے قتل کردیا گیا۔ ان کی خواتین باندیاں بن کر مسلمانوں میں تقسیم ہوگئیں اور پورا خیبر اپنی زرخیز زمینوں کھیتوں اور باغات سمیت مسلمانوں کے قبضے میں آگیا۔

حضرت صفیہؓ سے نکاح:

        قیدیوں میں صفیہؓ بھی تھیں جو حضرت ہارونؑ کی اولاد میں سے تھیں، یہود کے ایک رئیس حُیی بن اخطب کی بیٹی اور دوسرے رئیس کنانہ بن ابی الحُقیق کی بیوی تھیں۔ وہ حضرت دِحیہ کلبیؓ کے حصے میں آگئیں مگر صحابہ کی رائے یہ بنی کہ ایسی عالی نسب اور حسین خاتون رسول اللہ ﷺ کے حرم کے لائق ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے انکا مشورہ قبول کرلیا اور دحیہ کلبیؓ کی رضا مندی سے صفیہؓ کو اپنے حصے میں لے لیا۔

        ان کے چہرے پر تازہ زدوکوب کا واضح نشان تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس بارے میں دریافت کیا توانہوں نے بتایا کہ چند دن پہلے انہوں نے خواب دیکھا تھا کہ چاند ان کی گود میں آگرا ہے۔ اپنے شوہر کنانہ کو یہ خواب سنایا تو اس نے زورکا طمانچہ رسید کیا اورکہا تو عرب کے سردار محمد کے سپنے دیکھ رہی ہے؟“

        کنانہ سزائے موت پاچکا تھا اور اسکی بیوہ صفیہ اسلام قول کرچکی تھیں۔ ان کا خواب سچا تھا۔ حضور اکرم ﷺ نے انہیں آزاد کردیا اور عدت کے بعد ان سے نکاح کرلیا۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic