Hazrat Abu Bakr Siddiq aur Teen Bade Fitne | Jaish-e-Usama ki Rawangi

تین بڑے فتنے

        ابوبکرصدیقؓ کو خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی تین ایسے فتنوں سے سابقہ پڑاکہ اگر آپ ان کو خدا داد استقامت اورمبہوت العقول قوت ایمانی کے ساتھ نہ روکتے تو وہ ابتدائی دور ہی میں امت کے تاروپود بکھیر دیتے۔

        پہلا فتنہ، اقتدار کے ان بھوکوں کا تھا جو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے آخری ایام میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرکے سرزمین عرب کے مختلف گوشوں میں اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور ہزاروں نومسلم اور ناسمجھ لوگ ان کے پیروکار بن گئے تھے۔ ان جھوٹے نبیوں میں اسود عنسی،طُلیحہ بن خویلد،مسیلمہ کذاب اوربنوتمیم کی ایک عورت سجاح شامل تھی۔

        دوسرا فتنہ ارتداد کا تھا، نجد، یمن اور دوسرے علاقوں میں ہزاروں لوگ یہ تصور کرکے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم  کی وفات کے ساتھ اسلام کی شمع بھی گل ہوچکی ہے، مرتد ہوگئے تھے، انہوں نے دوبارہ اپنا آبائی مذہب اختیار کرلیا تھا۔

        تیسرا فتنہ ان لوگوں کا تھا جو زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کررہے تھے۔


منکرینِ زکوٰۃ سے معاملہ:

        زکوٰۃ کے منکرین نے دربارِ خلافت میں اپنے نمائندے بھیج کر مطالبہ کیا کہ وہ توحید و رسالت اور اسلام کے تمام ارکان کو مانتے ہیں مگر انہیں زکوٰۃ معاف کردی جائے۔ بعض صحابہ کرامؓ نے حالات کی نزاکت اوروقتی مصلحت کو دیکھتے ہوئے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو رائے دی کہ فی الحال ان لوگوں کا یہ مطالبہ منظور کرلیا جائے اور زکوٰۃ ادا نہ کرنے کی چھوٹ دے دی جائے۔حضرت عمرفاروقؓ جیسے دلیر اور بلند حوصلہ انسان کا مشورہ بھی یہی تھا کہ بغاوت کے نئے فتنوں سے بچنے کے لیے ان کی شرط مان لی جائے۔ انہوں نے حضرت ابوبکر صدیقؓ سے کہا:

"یہ لوگ کلمہ لا الہ الا اللہ تو پڑھ رہے ہیں، آپ ان سے کیوں جنگ کرنا چاہتے ہیں؟"

        لیکن حضرت ابوبکرصدیقؓ نے سیاسی مصلحتوں اور وقتی ضرورتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اسلام کو اصلی شکل میں باقی رکھنے کا عزم کیے ہوئے تھے اس لیے آپ نے فرمایا: "اللہ کی قسم!جو شخص زکوٰۃ کو نماز کے برابر اہمیت نہیں دےگا، میں اس سے ضرور لڑوں گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو لوگ زکوٰۃ میں بکری کا ایک بچہ بھی دیتے تھے، اگر آج اس کی ادائیگی روکیں گے تو میں ان سے بزور شمشیر لے کر رہوں گا۔"

جیشِ اسامہ کی روانگی:

            باطل کے ان تمام گروہوں سے نمٹنا ضروری تھا مگر حضرت ابوبکرصدیقؓ نے جس کام کو سب سے زیادہ اہمیت دی وہ حضرت اسامہ بن زیدؓ کے اس لشکر کی روانگی تھی جسے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری ایام میں ترتیب دیا تھا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور پھر وفات کے سبب اب تک یہ لشکر مدینہ منورہ کے باہر رکا ہوا تھا اور ارباب صحابہ کرام کی اکثریت کا خیال یہ تھا کہ اس لشکر کو روک کر پہلے جزیرۃ العرب میں برپا ہونے والی بغاوتوں کی سرکوبی کی جائے تاکہ اپنی طاقت منتشر نہ ہونے پائے۔

        اس پرخطر آزمائش میں حضرت ابوبکرصدیقؓ ہی کا حوصلہ تھا جو نبوت کے معیارِ سیاست کو باقی رکھ سکے۔ انہوں نے توکل اور تدبیر کا ایسا امتزاج پیش کیا کہ مسلمان حالات کے ان سخت ترین طوفانوں سے بخیریت گزرگئے اور دین و شریعت کے کسی رکن میں معمولی رخنہ آنے کی نوبت بھی نہ آئی۔

        اگرحضرت ابوبکر صدیقؓ اس وقت دینی صلابت اورایمانی استقامت میں ذرا بھی ضعف کا مظاہرہ کرتے تو اسلام ایک عملی دین اور ابدی نظامِ حیات کی سطح سے گرکر ایک فلسفہ بن کر رہ جاتا یا محض عبادات کا ایک ذاتی نظام الاوقات تصور کیا جاتا۔ اسی وقت سے یہ فرض کرلیا جاتا کہ یہ دین بھی حکومت و سیاست کے امور کا ساتھ دینے سے قاصر ہے، پس چلتی پھرتی زندگی کے معاملات کو شریعت سے آزاد عقل اور تجربے ہی کے تحت حل کرنا چاہیے۔ مگرحضرت ابوبکرصدیقؓ کی بصیرت و بالغ نظری نے اس خطرے کو بھانپ لیا اور اس کا بروقت تدارک کیا۔

        حضرت اسامہ بن زیدؓ کے لشکر کی روانگی کا معاملہ سامنے آیا تو حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اور حضرت سعید بن زیدؓ جیسے اکابر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کی روانگی موخر کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا: "عرب میں ہر طرف بغاوت پھیل چکی ہے۔ اس لشکر کو شام بھیجنے کا کوئی فائدہ نہیں، اسے مرتدین کے خلاف روانہ کیجیے۔اس لشکر کی عدم موجودگی میں مدینہ محفوظ نہیں رہے گا۔ یہاں ہمارے بچے اور خواتین ہیں، آپ رومیوں سے جہاد کو اس وقت تک ملتوی رکھیں جب تک مرتدین کا معاملہ نہ نمٹ جائے۔"

        حضرت ابوبکرصدیقؓ نے ان کی باتیں بوجھل طبیعت کے ساتھ سنیں اور پھر گویا ہوئے: "مزید کچھ کہنا ہے؟" وہ بولے "جی نہیں۔ ہم اپنی بات کہہ چکے۔"

        تب خلیفہ بلا فصلؓ نے فرمایا: "اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! اگردرندے مدینہ میں گھس کر مجھے کھا جائیں،تب بھی میں اس لشکر کوضرور روانہ کروں گا۔ بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں اسے روک لوں،جبکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  جن پرآسمان سے وحی نازل ہوتی تھی،فرماگئے ہیں کہ اس لشکرکو روانہ کردو۔"

        حضرت ابوبکرصدیقؓ کا اٹل فیصلہ سن کر سب خاموش ہوگئے، تاہم بعض حضرات نے یہ تجویز دی کہ اسامہ بن زیدؓ کی جگہ اکابر صحابہ میں سے کسی کو امیر بنا دیا جائے۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ یہ سن کر بڑے جوش سے بولے: "جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر بنایا ہے، تم اسے معزول کرنے کا مشورہ دے رہے ہو۔"

        لشکر روانگی کے لیے تیار ہوا تو حضرت ابوبکرصدیقؓ مجاہدین کی حوصلہ افزائی کے لیے اس طرح ساتھ چلے کہ آپ پیادہ تھے اورحضرت اسامہ بن زیدؓ گھوڑے پر سوار۔ حضرت اسامہؓ نے مودبانہ طور پر درخواست کی:

        "خلیفۃ الرسول! آپ سوار ہوجائیں ورنہ میں بھی پیدل چلوں گا۔"

        حضرت ابوبکرصدیقؓ بولے: "نہ تمہیں اترنے کی ضرورت ہے نہ مجھے سوار ہونے کی۔ کیا حرج ہے، میرے پیروں پر اللہ کے راستے کی کچھ دھول لگ جائے، مجاہد کو تو ہرقدم پر سات سو نیکیاں ملتی ہیں۔"

        آپؓ مشاورت کے لیے حضرت عمر فاروقؓ کو اپنے ساتھ مدینہ منورہ میں رکھنا چاہتے تھے مگر وہ لشکرِ اسامہ میں شامل تھے۔ آپ نے نظم وضبط کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے انہیں خود روکنے کی بجائے حضرت اسامہ بن زیدؓ سے انہیں اپنے پاس رکھنے کی باقاعدہ اجازت لی۔ اس طرح سب پر واضح ہوگیا کہ امیر کا مقام کیا ہے اور نظم وضبط کسے کہتے ہیں۔ روانگی کے وقت حضرت ابوبکرصدیقؓ نے حضرت اسامہؓ کو درج ذیل ہدایات دیں:

        "خیانت اور بدعہدی مت کرنا، بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو قتل نہ کرنا، کھجوروں اور پھل دار درختوں کو نہ کاٹنا۔ تمہیں وہاں عبادت خانوں میں گوشہ نشین راہب ملیں گے، ان کو کوئی گزند نہ پہنچانا۔"

        لشکرِاسامہ میں دوہزار پیادے اور ایک ہزار گھڑ سوار تھے۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم  کی زندگی میں جو افراد اس میں شامل ہوئے تھے ان میں سے کوئی کم نہ ہوا۔

لشکرِ اسامہ کے جانے کے بعد مدینہ منورہ کا دفاع:

        حضرت اسامہ بن زیدؓ کے لشکر کی روانگی کے بعد مدینہ منورہ میں عسکری طاقت بہت کم رہ گئی تھی، اس لیے مرتد قبائل نے مدینہ منورہ کے اردگرد جمع ہونا شروع کردیا، مدینہ کے شمال سے عبس اور ذُبیان،شمال مشرق سے بنوفزارہ اور جنوب مشرق سے بنوغطفان کے مرتدین امنڈ پڑے۔ شہرکو خطرے میں دیکھ کر حضرت ابوبکرصدیقؓ نے بڑی مستعدی سے حفاظتی انتظامات کیے۔ تمام شاہراہوں اورراستوں کی ناکہ بندی کرائی اوراہل مدینہ کو ہروقت تیار اورچوکنا رہنے کی تاکید کی۔

        ادھر حضرت اسامہؓ کا لشکر شام کی سرحدوں کی جانب نکلا تو راستے میں کئی ایسے قبائل کے پاس سے اس کا گزر ہوا جو ارتداد اور بغاوت کا ارادہ کررہے تھے مگر جب انہوں نے اسلامی لشکر کو اس آن بان اور بے خوفی سے گزرتے دیکھا تو مرعوب ہوگئے اور بغاوت کا ارادہ ملتوی کردیا۔ حضرت اسامہؓ کے لشکر نے شام کی سرحد عبور کرکے "بلقا" اور "دارُوم" کے علاقوں میں رومیوں سے ٹکر لی اور انہیں شکست دے دی۔

        لشکرِاسامہ کی کامیابی کی خبریں سن کر وہ باقی قبائل جو مدینہ کے شمال اور مشرق میں صرف چند میل دور پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے سہم گئے، وہ کہہ رہے تھے: "اگر مدینہ والوں میں غیرمعمولی طاقت نہ ہوتی تو اس حالت میں وہ یہ لشکر روانہ نہیں کرسکتے تھے۔" چنانچہ انہیں مدینہ پر حملے کی جرأت نہ ہوئی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے بھی لشکر اسامہ کی واپسی تک احتیاط سے کام لیا اور مدینہ کے دفاع پر توجہ دیتے ہوئے باغیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی۔

باغیوں کی سرکوبی:

        چالیس دن بعد جونہی حضرت اسامہؓ فتح کا پرچم لہراتے ہوئے واپس آئے تو حضرت ابوبکرصدیقؓ نے انہیں مدینہ منورہ میں اپنا نائب بنایا اور خود لشکر لے کر باغیوں کی سرکوبی کے لیے چل پڑے۔ صحابہ کرام نے اصرار بھی کیا کہ آپ کا دارالخلافہ میں رہنا ضروری ہے مگر آپ نہ رکے۔ لشکر لے کر بذاتِ خود سپہ سالار کی ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے آپ نے مدینہ کے گردونواح میں پیش قدمی کی۔ یہ جمادی الآخرہ کے ایام تھے۔ عبس، ذبیان، بنو مُرہ اور بنوکنانہ کے فسادی مدینہ کے اطراف میں منڈلا رہے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اچانک یلغار کی اور ایک دن صبح کا اجالا نمودار ہونے سے قبل انہیں جالیا۔ فسادی انہیں یکایک سامنے پاکر دہشت زدہ ہوگئے،مسلمان ان پر پل پڑے، سورج نکلنے نکلتے حریف لاشوں کے ڈھیرچھوڑ کر فرار ہوچکا تھا۔ یہ شورش پسندوں کے خلاف پہلی فتح تھی۔

        اس طرح آپؓ نے باغیوں پر اپنی ہیبت طاری کر کے انہیں منتشر کردیا۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic