خلافتِ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ
حضرت ابوبکر صدیقؓ اُمتِ مسلمہ کے خلیفہ بلا فصل بن گئے، یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رحلت فرما جانے کے فوراً بعد اُمتِ مسلمہ نے انہیں اپنا خلیفہ تسلیم کرلیا۔ آپؓ اُمت کے اس اتفاق کے باوجود شورائیت کی تکمیل کے لیے احتیاطاً تین دن تک مسندِ خلافت سے کنارہ کش رہے۔ روزانہ آپؓ یہ اعلان فرماتے:
"میں نے تمہاری بیعت معاف کردی۔ تم جس سے چاہو، بیعت ہوجاؤ۔"
ہربار حضرت علیؓ کھڑے ہوکر فرماتے:"ہم نہ بیعت توڑیں گے نہ آپ کو مستعفی ہونے دیں گے۔ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے کیا تھا۔ کون ہے جو آپ کو پیچھے کرسکے۔"
اس سے ایک طرف تو حضرت صدیق اکبرؓ کی احتیاط کا اندازہ ہوتا ہے کہ آپ مسلمانوں کی رضا اوررغبت کے بغیر ان کی قیادت کا تصور بھی نہیں کرسکتےتھے۔ دوسری طرف حضرت علیؓ کے اخلاص اورعشقِ رسالت کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ جسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم امام بناگئے ہوں، حضرت علیؓ اس کے مرتبے میں کمی کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ کے مختصر حالات زندگی:
حضرت ابوبکرصدیقؓ کا نام عبداللہ اور لقب صدیق اورعتیق تھا۔ ابوبکرآپ کی کنیت تھی۔والد کا نام عثمان بن عامرتھا جوابوقحافہ کی کنیت سے مشہور تھے۔ والدہ کا نام سلمیٰ بنت صخر تھا مگروہ بھی اپنی کنیت "اُم الخیر" سے جانی پہچانی جاتی تھیں۔ آپؓ کا تعلق قریش کی شاخ بنو تیم سے تھا۔
آپ نے چار نکاح کیے تھے: پہلا نکاح قتیلہ بنت عبدالعزیٰ سے ہوا۔ ان سے عبداللہ اور اسماءؓ پیدا ہوئے۔ دوسرا نکاح اُم رومان سے ہوا جن سے عبدالرحمن اور عائشہ صدیقہؓ پیدا ہوئے۔ تیسرا نکاح اسماء بنت عمیسؓ سے ہوا جو حضرت جعفر بن ابی طالبؓ کی بیوہ تھیں، ان سے محمد بن ابی بکر پیدا ہوئے۔ چوتھا نکاح حبیبہ بنت خارجہؓ سے ہوا۔ پہلے دو نکاح اسلام لانے سے قبل اور آخری دو نکاح اسلام لانےکے بعد کیے تھے۔
آپؓ شروع ہی سے نہایت شریف، پاکباز، منصف مزاج اور خوش اخلاق تھے۔ مکہ مکرمہ میں آپ کو ایک معزز فرد کی حیثیت حاصل تھی۔ آپ کا ذریعہ معاش تجارت تھا، جس کی وجہ سے آپ کے تعلقات بہت وسیع تھے۔ آپ اسی وجہ سے عربوں کے حسب ونسب کے بڑے علماء میں شمار ہوتے تھے۔ آپ زمانہ جاہلیت میں لوگوں کے جھگڑوں کے فیصلے بھی کیا کرتے تھے، اس لیے آپ کو امورِسیاست وعدلیہ کا تجربہ دورِ جوانی ہی سے ہوگیا تھا۔ آپ کی معلومات اور تعلقات کی یہ وسعت اور کچہری کے تجربات بعد میں اسلام کی تبلیغ اورخلافت کے لیے بڑے معاون ثابت ہوئے۔
آپؓ کو مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل ہے۔ اسلام لانے کے بعد آپ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت اوردین کی خدمت کے لیے وقف ہوگئے۔ آپ کو تمام صحابہ کرام میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے زیادہ قرب حاصل تھا۔آپ نےایسے سترہ افراد کو کفار کے مظالم سے نجات دلانے کے لیے انہیں خرید کر آزاد کیا جنہیں اسلام لانے کی وجہ سے شدید اذیتیں دی جاتی تھیں۔
ہجرت کی مشکل ترین مہم میں آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ رہے، غارِ ثور میں بھی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پہرہ داری کی، غزوہ بدر میں شمعِ رسالت کے محافظ بنے، اپنی لخت جگر حضرت عائشہ صدیقہؓ کو آفتابِ رسالت کے عقد میں دی۔ تمام غزوات اور مہمات میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب رہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی خلافت کی طرف واضح اشارے فرمائے تھے۔ ایک بار ارشاد فرمایا:
"اِقْتَدُوْا بِالَّذِيْنَ مِنْ بَعْدِيْ اَبِيْ بَکْرٍ وَّعُمَرَ"
"میرے بعد ان دونوں کی یعنی ابوبکروعمرو کی پیروی کرنا۔"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری ایام حیات میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کو بڑی تاکید کے ساتھ اپنی جگہ امامت کے لیے متعین کیا تھا۔ یہ اس بات کی طرف عملی رہنمائی تھی کہ مسلمانوں کو نبی کی عدم موجودگی میں ان کی اقتداء کرنی چاہیے۔
سیدنا صدیق اکبرؓ کو درپیش آزمائشیں:
ساٹھ سالہ حضرت ابوبکرصدیقؓ نے زمامِ خلافت اپنے ہاتھ میں لی تو خود کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل ترین جانشین ثابت کردکھایا۔ آپ نے "خلیفۃ اللہ" کہلانا پسند نہیں کیا بلکہ "خلیفۃ الرسول" کا لقب مناسب سمجھا۔ خلیفہ بننے کے بعد بھی آپ نے اپنی معاش کا بوجھ کسی پر نہ ڈالا، مسلمانوں کے اجتماعی فنڈ بیت المال سے ایک درہم لینا بھی گوارا نہ کیا۔آپ حسب معمول صبح بازار نکل جاتے اورکپڑے فروخت کرتے،ظہرکے بعد خلافت کی ذمہ داریاں انجام دیتے۔ ایک دن حضرت عمرؓ اور حضرت ابوعبیدہؓ نے آپ کو کندھے پر کپڑے لادے بازار جاتے دیکھا تو دریافت کیا: "رسول اللہ کے خلیفہ! آپ کہاں چلے؟"
بولے: "بازار جاتا ہوں۔"
سوال ہوا: "آپ مسلمانوں کے معاملات کے ذمہ دار بنائے گئے ہیں۔ آپ تجارت کیسے کرسکتے ہیں؟"
فرمایا: "تو پھر اپنے بال بچوں کی کفالت کیسے کروں؟"
دونوں نے اس بارے میں غورکیا اور پھر بڑے اصرار کے ساتھ انہیں آمادہ کیا کہ وہ "بیت المال" سے اپنے اور گھروالوں کی ضرورت کے مطابق خرچ لے لیاکریں تاکہ پورے اوقات مسلمانوں کے معاملات دیکھنے بھالنے میں صرف ہوں۔
آپؓ کے سامنے سب سے اہم ہدف یہ تھا کہ اسلامی شریعت اور قانونِ الہیٰ کو اس شکل میں باقی رکھا جائے جیسا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تھا۔شریعت کا منبع قرآن کریم آپ کے سامنے تھا۔اس کی تشریح سنتِ رسول کی شکل میں موجود تھی۔ یہ شریعت کے مآخذ تھے اور آپ اُمت کو قدم بقدم ان کے مطابق چلانا چاہتے تھے۔
میراثِ نبوی... ایک اہم قضیہ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کی استقامت:
طبیعت اور جذبات پر شریعت کو غالب رکھنے کا ایک اور امتحان میراثِ نبوی کے مسئلے کی صورت میں سامنے آیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں سے اس وقت صرف حضرت فاطمہؓ حیات تھیں۔انہیں قدرتی طور پر یہ خیال ہواکہ باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ ہوتا ہے لہذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث میں ہمارا حق ہوگا۔ مگر اس خیال میں وہ تنہا نہ تھیں۔ اکثر اُمہات المؤمنین کو بھی یہ توقع تھی۔ عمر بھر کی طرح وفات کے وقت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خانۂ اقدس میں نہ تو کوئی درہم و دینار تھا نہ سازوسامان۔ البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کی گزر بسر کے لیے تین قسم کے اموال تھے:
۱۔ مدینہ میں یہودی بنونضیر سے جہاد میں حاصل ہونے والے مال فئے کی پیداوار کا پانچواں حصہ۔
۲۔ خیبر کے جہاد سے حاصل ہونے والے مال غنیمت کا حصہ۔
۳۔ خیبر کے شمال مشرق میں فدک نامی زرخیز علاقے کے باغات کی پیداوار۔
خیبر کی غنیمت اور فدک کی زرعی زمینیں اس جہاد میں شامل تمام صحابہ میں جو ۱۴۰۰ تھے، تقسیم ہوئی تھیں۔ ایک حصہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ملا تھا۔ آمدن کے ان ذرائع کا بیشترحصہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کی ضروریات میں صرف فرما دیتے تھے، تاہم کچھ اپنے اہل وعیال پر بھی خرچ فرماتے تھے۔
حضرت فاطمہؓ اور اُمہات المؤمنین ان ذرائعِ آمدن کو میراثِ نبوی سمجھ کر توقع کرنے لگیں کہ ان سے ایک حصہ ان کی ملکیت میں دے دیا جائے گا۔مگر یہاں شرعی مسئلہ کچھ اور تھا۔ بنونضیر والی زمین تو مال فئے تھی جو اللہ کے رسول کی ملکیت نہیں تھی بلکہ ان کی تولیت میں تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وہ خود بخود مسلمانوں کے شرعی خلیفہ کی تولیت میں آگئی تھی۔وہ اپنی صوابدید کے مطابق اسکی آمدن اہلِ بیت پر خرچ ضرور کرسکتے تھے مگر اسے کسی کی ملکیت نہیں بناسکتے تھے۔ جہاں تک خیبراورفدک کے حصے کا تعلق ہے،وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت میں ضرور تھامگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر فرما دیا تھا:
"اِنَّا مَعْشَرَ الْاَنْبِیَاءِ لَا نُوْرَثُ، مَا تَرَکْنَا صَدَقَةً۔"
"ہم انبیاء کی جماعت کا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔"
یعنی گزشتہ امتوں کے پیغمبروں کے لیے بھی یہی حکم تھا کہ ان کی ملکیت میں اگر دنیا کی کچھ چیزیں رہ بھی جاتی تھیں تو ان کی وفات کے بعد ان کے ورثاء میں تقسیم نہیں کی جاسکتی تھیں، بلکہ ان کا مصرف صدقہ کے سوا کچھ نہ تھا۔ اس میں اللہ کی طرف سے ایک بڑی حکمت یہ تھی کہ رسولوں کے منکروں کو کہیں یہ کہنے کا بہانہ نہ مل جائے کہ منصبِ رسالت بھی اہل وعیال کو پالنے اور اپنے خاندان کو مالامال کرنے کا ایک ڈھونگ ہوا کرتا ہے۔
مگر حضرت فاطمہؓ اور اکثر اُمہات المؤمنین کو یا تو اس شرعی مسئلے سے متعلقہ حدیث کا علم نہیں تھا یا ان کے نزدیک اس کا مطلب کچھ اور تھا۔ مگر چونکہ یہ ایک منفرد مالی معاملہ تھا، اس اُمت کو پہلی اور آخری بار اس سے سابقہ پڑا تھا اس لیے ابوبکر صدیقؓ جیسے چند ہی اکابر اس کے صحیح معنی سے آگاہ ہونا کوئی عجیب بات نہ تھی۔ اسی طرح اکثر خواتین کا اس سے لاعلم رہنا، سننے کے بعد بھول جانا یا اس کا صحیح مطلب نہ سمجھنا بھی کوئی محال کی بات نہ تھی۔بہرحال حضرت ابوبکرصدیقؓ نے اس شرعی مسئلے کی اسی طرح پاسداری کی جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تھا۔ آپؓ نے اس بارے میں فرمایا: "اللہ کی قسم! میں اس طرزِ عمل کو ہرگز نہیں چھوڑوں گا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے۔"
چنانچہ آپ نے خیبر کے اموال اورفدک کے باغات کو میراث کے طور پر اہل بیت میں تقسیم کرنے کی بجائے مسلمانوں کی اجتماعی فلاح وبہبود کے لیے وقف کر دیا یا اس جائیداد کو صدقہ وخیرات کی بہترین صورت "صدقہ جاریہ"میں تبدیل کردیا۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ حضرت ابوبکرصدیقؓ نے اہل بیت کو بے سہاراچھوڑ دیا۔ بلکہ آپ تو فرماتے تھے: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت میرے نزدیک اپنی قرابت داری سے زیادہ پسندیدہ ہے۔"
آپ نے مناسب ترین فیصلہ فرمایا کہ کسی کو مالکانہ حقوق دیے بغیر، ان جائیدادوں کے متولی کی حیثیت سے ان کی آمدن اہل بیت پر خرچ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اسی میں اہل بیت اور ساداتِ کرام کی مصلحت بھی تھی۔ کیوں کہ چند افراد کو مالکانہ حقوق مل جاتے تو ممکن تھا چند پشتوں بعد یہ ذریعہ آمدن ختم ہوجاتا اور بعد والے سادات کو اس سے حصہ نہ ملتا۔ اب اس جائیداد کے سرکاری سرپرستی میں محفوظ ہونے کا نتیجہ یہ نکلا کہ تقریباً دوصدیوں تک اہل بیت کی آل اولاد کو ان اموال سے حصہ پہنچتا رہا اور وہ معاشی طور پر فارغ البال رہے۔
بہرکیف جب ان اموال کو اہل بیت میں تقسیم نہ کیا گیا تو حضرت فاطمہؓ اور اکثر اُمہات المؤمنین کو اس بے علمی کی وجہ سے شکایت پیدا ہوئی۔ انہوں نے حضرت عثمان بن عفانؓ کو اپنے مطالبے سے آگاہ کرکے ابوبکرصدیقؓ کے پاس بھیجنا چاہا۔ اس موقع پر اُم المؤمنین عائشہ صدیقہؓ واحد زوجہ مطہرہ تھیں جوپیغمبروں کی میراث کے صحیح مصرف کے قانون سے آگاہ تھیں، چنانچہ انہوں نے فوراً دیگر ازواج مطہرات کو یاد دلاتے ہوئے کہا:
"کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا، جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے؟"
چنانچہ اُمہات المؤمنین کو یہ مسئلہ معلوم ہوا توانہوں نے اپنا مطالبہ ترک کردیا۔ ہاں حضرت فاطمہؓ کا پھر بھی یہی خیال تھا کہ ان کا میراث میں حصہ ہونا چاہیے۔ غالباً ان کے خیال میں حدیث کا مطلب یہ تھا کہ انبیاء کے ترکے سے درہم ودینار یا سونا چاندی جیسی چیزوں میں وراثت جاری نہیں ہوگی کیوں کہ بعض احادیث میں ہے: "لَا یَقْسِمُ وَرَثَتِيْ دِيْنَارًا وَّلَا دِرْهَمًا"ان کے نزدیک کھیت، زمین اور باغ جیسی غیرمنقولہ چیزوں کے بارے میں حکم نہیں تھا۔ اس لیے ان کا اشکال باقی رہا۔ اپنی تسلی کے لیے وہ حضرت عباسؓ کے ساتھ ایک بار حضرت ابوبکرؓ کے پاس گئیں۔ خلیفہ اول نےانہیں یہی حدیث سنائی کہ انبیاء جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔
اس موقع پر جگر گوشۂ رسول نے اپنے علمی ذوق کی بناء پر سوال اٹھایا کہ آخر آپ کی اولاد آپ کی وارث ہوگی تو میں اپنے باپ کی وارث کیوں نہیں ہوسکتی؟
حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: "اے رسول اللہ کی لخت جگر! آپ کے والد ماجد نے کوئی گھر، کوئی غلام، کوئی مال، کوئی چاندی یا سونا وراثت میں چھوڑا ہی نہیں۔"
حضرت فاطمہ الزہراءؓ نے دریافت کیا: "اور فدک کی اس زمین کی حیثیت کیا ہے جو اللہ نے ہمارے لیے مقررکی اور صافیہ (مال فئے کے پانچویں حصے) کا کیا مصرف ہے جو ہمارے لیے آپ کے ہاتھ میں ہے؟"
خلیفہ رسول نے فرمایا: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد تھا کہ یہ ایک لقمہ رزق ہے جو اللہ مجھے کھلا رہا ہے، میں فوت ہوجاؤں تو یہ مسلمانوں کے لیے وقف ہے۔"
حضرت فاطمہؓ اس ارشاد کے سامنے سکوت اختیار کرلیا۔ اس کے بعد حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کے دورِ خلافت میں بھی یہ حکم اسی طرح باقی رہا۔
حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ نے ان سے اس قضیے میں دوبارہ بات کی تھی مگر حضرت عمرؓ کے دلائل کے سامنے یہ دونوں حضرات خاموش ہوگئے تھے۔
حضرت ابوبکرؓ کے فیصلے کے درست ہونے اور بنوہاشم کے اس پر راضی رہنے کا نہایت واضح ثبوت یہ ہے کہ حضرت فاطمہؓ یا ان کی اولاد میں سے دوبارہ کسی نے یہ مطالبہ نہیں دہرایا۔ بلکہ حضرت علیؓ نے بھی اپنے دورِخلافت میں اس حکم کو اسی طرح باقی رکھا اور باغ فدک کو اہلِ بیت کی ملکیت میں نہیں دیا۔ اگر یہ واقعی بنوہاشم کا حق ہوتا تو حضرت علیؓ کو اپنے دور میں پورا اختیار تھا کہ یہ حق حقداروں کو دے دیتے۔ اگر حضرت ابوبکرؓ کا فیصلہ ظلم تھا تو حضرت علیؓ کا اس پر قائم رہنا بھی اختیارواقتدار کے باوجود اس ظلم کی تائید کے مترادف ہوگا، نعوذ باللہ کہ ہم ان حضرات کے بارے میں ایسا سوچیں۔
بعض لوگ یہ جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں کہ "حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عمرؓ کے ساتھ مل کر اہل بیت کو میراث سے محروم کرنے کی سازش کی تھی۔" حالانکہ میراث کی تقسیم خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی وجہ سے روکی گئی تھی۔ پھر یہ تاثر انتہائی گمراہ کن ہے کہ صرف حضرت فاطمہؓ کو محروم کیا گیا۔ درحقیقت اُمہات المؤمنین میں سے بھی کسی کو میراث نہیں ملی۔ اگر حضرت ابوبکر وعمرؓ میراث تقسیم کرواتے تو اس میں ان کا اپنا فائدہ تھا کہ ان کی بیٹیاں حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ بھی حصہ پاتیں۔ مگر انہوں نے تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر فرمانِ نبوی کی تعمیل کی۔
حضرت فاطمہؓ کی حضرت ابوبکرؓ سے ناراضگی کی روایت اور اس کی توجیہات:
بعض صحیح روایات کے ظاہری الفاظ سے شبہ ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کے اس فیصلے سے حضرت فاطمہؓ اتنی ناراض ہوئیں کہ دوبارہ ان سے بات چیت نہ کی۔ حالانکہ:
۱۔ ان روایات کا بے تکلف مطلب یہ ہے کہ مسئلہ میراث میں دوبارہ بات نہیں کی۔
۲۔ اگر مان لیا جائے کہ حضرت فاطمہؓ طبعی طور پر کبیدہ خاطر ہوئیں تو اس سے بھی حضرت ابوبکرصدیقؓ پر کوئی الزام نہیں آسکتا، نہ حضرت فاطمہؓ پر۔ آخر وہ انسان تھیں۔ قدرتی بات ہے کہ انسان کو کچھ ملنے کی توقع ہو اور پھر معلوم ہوکہ ضابطے کے تحت اس کا استحقاق نہیں ہوسکتا تو دل میں ایک کڑھن پیدا ہوجاتی ہے۔
۳۔ ممکن ہے حضرت فاطمہؓ کو یہ توقع بھی ہوکہ حضرت ابوبکرصدیقؓ خلیفہ اور سرپرست ہونے کی حیثیت سے فدک ان کے نام کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ مگر درحقیقت ابوبکرصدیقؓ کو شرعاً یہ اختیار نہ تھا۔ اس لیے انہوں نے جو کیا اس کے علاوہ کچھ کرنا ان کے لیے روا بھی نہ تھا۔ اگر انسانی فطرت کے مطابق حضرت فاطمہؓ کو کچھ حزن وملال ہوا ہو تو یہ ناممکن نہیں۔ مگر ایسا ہرگز نہیں ہوا کہ یہ ملال قطع تعلق تک جاپہنچا ہو۔
۴۔ سکوت الگ چیز ہے اور سلام وکلام بند کر دینا الگ بات۔ سلام وکلام بند کرنا تب ثابت ہوتا جب ان کا پہلے حضرت صدیق اکبرؓ سے اکثرملنا جلنا ہوتا اوراس مسئلے کے بعد یہ سلسلہ ختم ہوجاتا۔ ظاہر بات ہے کہ ابوبکرؓ ان کے لیے غیرمحرم تھے۔ پہلے بھی وہ ان سے شدید ضرورت کے بغیر نہیں ملتی تھیں تو اب کیوں ملتیں۔
۵۔ حضرت ابوبکرؓ سے حضرت فاطمہؓ کے نہ ملنے کی ایک اوربڑی وجہ یہ بھی تھی کہ حضرت فاطمہؓ اپنے والد کی وفات کے بعد غم واندوہ میں ڈوبی رہتی تھیں۔ اسی دوران وہ بیمار پڑیں اور چھ ماہ بعد دنیا سے چل بسیں۔ ادھر ابوبکر صدیقؓ اس وقت مرتدین اور منکرینِ ختم نبوت سے جنگوں اور ایران و شام کے لیے لشکر کشی جیسے اہم ترین امور میں مصروف تھے۔ اس لیے رسمی ملاقاتوں کا وقت کہاں نکل سکتا تھا۔
حضرت فاطمہؓ کی حضرت ابوبکرؓ سے رضامندی کا ثبوت:
یہ ثابت ہے کہ حضرت ابوبکرصدیقؓ حضرت فاطمہؓ کی بیمار پرسی کے لیے ان کے گھر تشریف لے گئے تھے۔حضرت ابوبکرؓ کی گھر تشریف آوری اورخبرگیری سے حضرت فاطمہ الزہراءؓ کو تسلی ہوئی۔ بعد میں بھی وہ ان سے راضی رہیں۔
حضرت فاطمہؓ کو حضرت عائشہؓ پر کامل اعتماد تھا:
یہ بھی ثابت ہے کہ حضرت فاطمہؓ کے اُم المؤمنین عائشہ صدیقہؓ سے آخر تک اتنے اچھے مراسم تھے کہ راز کی باتیں بھی ان سے کہہ دیا کرتی تھیں۔ چنانچہ جب اُم المؤمنین نے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات سے پہلے تمہارے کان میں کیا کہا تھا کہ تم پہلے روئیں اور پھر ہنس دیں، تو جواب دیا کہ انہوں نے پہلے اپنی وفات کی خبردی جس سے مجھے رونا آگیا۔ پھر بتایا کہ میرے گھرانے میں سے سب سے پہلے تم مجھ سے آ ملوگی۔ اس پر میں ہنس دی۔
اگر فاطمہؓ ابوبکرؓ سے ناراض ہوتیں تو ان کا اپنے گھر آنا پسند کیوں فرماتیں اور ان کی بیٹی سے راز کی باتیں کیوں کرتیں۔
حضرت علیؓ کا حضرت ابوبکرؓ سے اظہارِ محبت:
اسی طرح حضرت علیؓ نے اپنی دوسری بیوی لیلیٰ بنت مسعود سے تولد ہونے والے ایک بیٹے کا نام ابوبکر رکھا۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ کی وفات ہوئی تو ان کے بیٹے محمد بن ابی بکر اڑھائی سال کے تھے۔ حضرت علیؓ نے انہیں اپنا منہ بولا بیٹا بنا کر پالا۔
کیا یہ حضرت علیؓ کی حضرت ابوبکرؓ سے محبت کا واضح ثبوت نہیں؟ سچ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جگر گوشہ اوراہل بیت کو خلفائے راشدین کا مخالف باور کرنے والے ان ہستیوں کی عظمتِ کردار سے واقف ہی نہیں ہیں۔
حضرت فاطمہ الزہراءؓ کی وفات:
خلافتِ صدیقی کے چھٹے ماہ، ۳ رمضان ۱۱ھ کو حضرت فاطمہؓ کی وفات ہو گئی۔ ایک روایت کے مطابق نمازِ جنازہ حضرت علیؓ نے اور دوسری روایت کے مطابق حضرت صدیق اکبرؓ نے پڑھائی۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کا حضرت فاطمہؓ کے دل پر گہرا اثر تھا۔ اکثر یہ شعر پڑھتیں:
صُبَّتْ عَلَیَّ مَصَائِبٌ لَّوْ اَنَّھَا - صُبَّتْ عَلَی الْاَیَّامِ صِرْنَ لَیَالِیَا
"مجھ پر ایسے مصائب ٹوٹے کہ
اگر وہ دنوں پر نازل ہوتے تو دن بھی رات بن جاتے۔"
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کو کبھی کسی نے ہنستے ہوئے نہ دیکھا، ہر دم اندوہ سے اندر ہی اندر گھلتی رہیں۔ صحیح قول کے مطابق آپ کی عمر ۲۸ برس تھی۔

