منکرینِ ختمِ نبوت سے جہاد
اس کے بعد آپؓ نے مدینہ منورہ سے بارہ میل(۲۰کلومیٹر) دور"ذی القصہ" کے مقام پر کیمپ لگا کر فوج کو گیارہ حصوں میں تقسیم کیا۔ ہرحصے پر تجربہ کار صحابہ کرام کو امیر مقرر کیا اور ایک مربوط نقشہ جنگ مرتب کرکے ان گیارہ لشکروں کو پورے جزیرۃ العرب میں پھیلا دیا۔ آپ کا سب سے بڑا ہدف اب جھوٹے نبیوں کی سرکوبی کرنا تھا۔
آپ ان سے قبل تمام مرتد سرداروں، نبوت کے جھوٹے دعوے داروں اوران کے پیروکاروں کی طرف اپنے قاصد بھیج کرانہیں دوبارہ اسلام کی دعوت دے چکےتھے۔ آپ کے نائبیں سرتوڑ کوششیں کرچکے تھے کہ یہ گمراہ لوگ دوبارہ ہدایت پر آجائیں مگر فتنوں کی گھٹا ایسی گھنگھورتھی کہ بہت کم لوگوں پر اس دعوت کا اثر ہوا، چنانچہ حضرت ابوبکر صدیقؓ بھی پوری قوت، ہمت اور ایمانی جوش کے ساتھ ان کے مقابلے پر آگئے۔
طلیحہ کی سرکوبی:
بنواسد کے سردار طلیحہ نے نبوت کا دعویٰ کرکے اپنے گرد ایک بھاری جمیعت اکھٹی کرلی تھی۔ اس کا دعویٰ تھا کہ جبرئیلؑ اس کے پاس بھی آیات لاتے ہیں، اس کی من گھڑت آیات کچھ اس قسم کی تھیں:
"والحمامَ والیمامَ، والصُّردِ الَصوّامِ، قد ضُمنَ قبلکم بأعوامِِ، لیبلُغَنَّ مُلکُنا بالشام"
"قسم ہے شہری کبوتر اورجنگلی کبوتر کی اور روزہ دار لٹورے(شکرے جیسا ایک پرنداہ ) کی کہ ان سب نے تم سے کئی سال پہلے روزے رکھے، ہماری حکومت شام تک پھیل کررہے گی۔"
لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے وہ طرح طرح کی شعبدہ بازیاں دکھاتا تھا۔ ایک بار اس نے ریگستان میں پانی کے بڑے بڑے مٹکے چھپا دیے۔ جب اس کے ساتھیوں کو پانی کی تنگی محسوس ہوئی تو بولا:
"گھوڑوں پر سوار ہوکر اس سمت چند میل طے کرو۔ پانی کے مٹکے ملیں گے۔"
لوگوں کو اس جگہ پانی ملا تو اسے طلیحہ کا "معجزہ" سمجھے۔ اس شعبدہ بازی کے ذریعے اس نے بنواسد، بنوغطفان اور بنوطے کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا تھا۔ غرض یہ ایک مہلک فتنہ تھا جس نے مدینہ منورہ کے مشرق کو گرد آلود کردیا تھا۔
طلیحہ کی سرکوبی کے لیے حضرت ابوبکرصدیقؓ نے اسلام کے بہترین سالار حضرت خالد بن ولیدؓ کو منتخب کیا۔ اس وقت طلیحہ اپنی فوج کے ساتھ "بزاخہ" کے مقام پر فروکش تھا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو روانہ کرتے ہوئے ہدایت کی: "پہلے قبیلہ بنوطے کے پاس جانا، پھر بزاخہ کا رخ کرنا۔ اس مہم سے فارغ ہوکر بطاح میں (بنو تمیم کے مالک بن نویرہ) کی گوشمالی کرنا اور میرا دوسرا حکم آنے تک وہیں ٹھہرنا۔"
ان ہدایات میں سے ہرایک بڑی گہری حکمتوں پر مبنی تھی۔ حضرت خالد بن ولیدؓ حکم کے مطابق متاثرہ علاقوں میں پہنچے اورسب سے پہلے بنوطے سے رابطہ کیا،یہ لوگ طلیحہ کی حمایت کے باوجود ابھی تک اسلام پرقائم تھے،بنوطے کے سردارعدی بن حاتمؓ سے ملاقات ہوئی توانہوں نے مشورہ دیا کہ تین دن تک صبر کریں،اس دوران وہ اپنے قبیلے کو سمجھانے کی کوشش کریں گے۔ حضرت خالدؓ مان گئے۔ حضرت عدی بن حاتمؓ کی کوششیں کامیاب ہوئیں اور بنوطے کے لوگ طلیحہ کا ساتھ چھوڑکر حضرت خالدؓ کی فوج میں شامل ہوگئے۔
یہ حضرت ابوبکرصدیقؓ کی حکمتِ عملی پرعمل کرنے کا نتیجہ تھا کہ لڑائی سے پہلے ہی دشمن کی صفوں میں دراڑیں پڑگئیں اورمسلمان لشکر کی تعداد میں اضافہ ہوگیا۔ اب حضرت خالدؓ نے طلیحہ کے خلاف کارروائی شروع کی "بزاخہ" کے مقام پر دونوں فوجوں کا آمنا سامنا ہوا۔ یہ جگہ مدینہ منورہ سے کوئی چار سو کلومیٹر شمال مشرق میں ہے۔ طلیحہ خود ایک چادر اوڑھ کر مراقبے کی حالت میں اس طرح بیٹھ گیا جیسے اس پروحی نازل ہونے والی ہو۔اس کی فوج کا سپہ سالارعیینہ بن حصن، جس کے پاس بنوغطفان کے سات سو جنگجو تھے، مسلمانوں پرحملہ آور ہوا، گھمسان کی لڑائی شروع ہوئی۔
جلد ہی عیینہ نے محسوس کرلیا کہ خالد بن ولیدؓ کو شکست دینا مشکل ہے۔ اس نے طلیحہ کے پاس آ کر پوچھا:"کیا جبرئیل کوئی پیغام لائے ہیں؟"طلیحہ کا جواب تھا: "ابھی نہیں۔"
لڑائی نے طول کھینچا اورعیینہ کو کامیابی دور معلوم ہونے لگی تو پھر طلیحہ کے پاس گھبرایا ہوا آیا اور چلایا: "تیرا باپ مرے، جبرئیل کچھ حکم لائے کہ نہیں۔" طلیحہ بولا: "ابھی تک تو نہیں آئے۔"
عیینہ پھر جاکر فوج کو لڑانے میں مصروف ہوگیا۔ مگر جب ساتھیوں کے قدم ڈگمگاتے دیکھے تو پھر دوڑا ہوا آیا اور بولا: "جبرئیل آئے کہ نہیں؟" طلیحہ بولا: "ہاں آئے تھے۔" عیینہ نے خوش ہوکر پوچھا: "کیا حکم لائے؟"
طلیحہ نے من گھڑت آیات پڑھ دیں:
"إِنَّ لَکَ رَحاً کَرَحَاہُ، وَ حَدِیثاً لَا تَنْسَاہُ"
(تیرے نصیب میں ہے اک چکی، جیسے اس کی چکی۔ تیری حالت ہوگی ایسی، تو بھولے گا نہ کبھی)
یہ اوٹ پٹانگ جملے سن کر عیینہ سمجھ گیا کہ طلیحہ نے نبوت کا ڈھونگ رچا رکھا ہے۔ اس نے لشکر میں جاکر آواز لگائی: "لوگو! جان بچا کر بھاگو، یہ شخص تو جھوٹا اورمکار ہے۔"
عیینہ اور اس کے قبیلے کے بھاگتے ہی مرتدین کے قدم اکھڑ گئے،عیینہ تو پکڑا گیا مگر طلیحہ نے ایسے موقع کے لیے پہلے سے ایک نہایت تیزرفتار گھوڑے کا انتظام کررکھا تھا، وہ اپنی بیوی کو لے کر اس پر سوار ہوا اور یہ کہتے ہوئے فرار ہوگیا: "لوگو! جو اپنی بیوی کو لے کر بھاگ سکتا ہے، بھاگ جائے۔"
وہ جان بچا کر شام پہنچ گیا، پھر مدتوں ادھر ادھر مارا مارا پھرتا رہا، آخر دوبارہ مسلمان ہوگیا اورحضرت ابوبکرصدیقؓ کے دربار میں معافی کی درخواست بھیج دی، حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ارتداد سے تائب ہونے والوں کے لیے نرم رویہ اپنایا تھا، چنانچہ اس کی معذرت قبول کرلی گئی۔ بعد میں طلیحہ نے عراق کے جہاد میں اسلام کے بہترین سپاہی کا کردار ادا کیا۔ عیینہ نے اسلام قبول کرلیا تو اسے بھی رہا کردیا گیا۔
اُمّ زِمل کی سرکوبی:
طلیحہ کے لشکر سے نمٹنے کے بعد حضرت خالد بن ولیدؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی ہدایت کے مطابق اس علاقے میں ٹھہرے رہے، اس قیام کی مصلحت یہ سامنے آئی کہ اس دوران آس پاس ارتداد کے جو معمولی اثرات دوبارہ ظاہر ہوئے، حضرت خالدؓ کو انہیں مٹانے کے لیے دوبارہ مہم جوئی نہیں کرنا پڑی۔
ان دنوں بنوغطفان، ہوازن اور بنوسلیم کے مرتدین ایک عورت ام زمل (سلمیٰ بنت مالک) کی قیادت میں جمع ہوگئے تھے۔ ایک جہاد میں یہ قید ہوکر حضرت عائشہ صدیقہؓ کی باندی بنی تھی۔ انہوں نے احسان کرتے ہوئے اسے رہا کردیا تھا۔ اس کی ماں ام قرفہ بھی اپنے قبیلے کی سردار تھی جو مسلمانوں سے لڑائی میں ماری گئی تھی۔ ام زمل نے ماں کے انتقام کے جوش میں عرب قبائل کو اپنے گرد جمع کرلیا اور انہیں مسلمانوں سے لڑنے پر برانگیختہ کردیا۔
اس کے عزائم کی اطلاع ملنے پر حضرت خالدؓ لشکر لے کر بڑھے۔ ام زمل ایک اونٹ پر سوار ہوکر اپنے عقیدت مندوں کے جھرمٹ میں مقابلے پرآئی۔ ایک شدید لڑائی کے بعد مسلمانوں نے اس کے اونٹ کو گرا کے اسے قتل کردیا۔ اس لڑائی میں سومرتد، ام زمل کی حفاظت کرتے کرتے قتل ہوئے۔
اسود عنسی کا فتنہ:
جھوٹے مدعیانِ نبوت میں سے اسود عنسی نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہی یمن میں فتنہ برپا کردیا تھا۔ ہزاروں دیہاتی اس کے پیروکار بن گئے تھے۔ اس کی قوت سے سارے یمن والے خائف تھے۔ اسود عنسی کی ستم رانیوں کا یہ عالم تھا کہ اس نے یمن کے مشہور تابعی حضرت ابومسلم خولانیؓ کو(جنہوں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا مگر زیارت کا شرف حاصل نہ کرسکے تھے) اپنی جھوٹی نبوت کا کھلم کھلا انکار کرنے کی پاداش میں گرفتار کرکے بے دریغ بھڑکتے الآؤ کے شعلوں میں پھینک دیا، تاہم ابومسلم خولانی بالکل محفوظ رہے، اللہ تعالیٰ نے ان کا بال بھی بیکا نہ ہونے دیا، یہ حیرت انگیز منظر دیکھ کر اسود عنسی کے چیلوں نے کہا: "اسے یہاں سے چلتا کریں ورنہ لوگ آپ سے برگشتہ ہوجائیں گے۔" اسود نے انہیں یمن سے چلے جانے کا حکم دیا۔ وہ خود ان بدبختوں سے دور رہنا چاہتے تھے، چنانچہ یمن چھوڑ دیا۔
یہ واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات کا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسود کی شورش کا حال سن کر مقامی رئیسوں کو مکتوب بھیجا تھا کہ وہ اسود کے فتنے کی سرکوبی کریں، چنانچہ یمن کے ایک صحابی فیروزدیلمیؓ نے خفیہ طور پرایک شب اسودعنسی کی رہائش گاہ میں گھس کراسے قتل کردیا،اس طرح عارضی طورپریہ فتنہ دب گیا تھا ،مگر حضرت ابوبکرصدیقؓ کے دور میں اس کے پیروکاروں نے یمن میں پھر سے شورش برپا کردی تھی، آخر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت مہاجر بن امیہؓ کو فوج دے کر یمن بھیجا۔ انہوں نے شرپسندوں کو شکستِ فاش دی اور یمن میں امن و امان بحال کردیا۔
انہی دنوں ابومسلم خولانیؓ مدینہ منورہ حاضر ہوئے، حضرت عمرفاروقؓ نے انہیں مسجد نبوی میں نماز پڑھتے دیکھا تو چونکے، پوچھا: "کہاں کے ہیں؟" بولے، "یمن کا۔" پوچھا: "وہ کون تھا جسے اسود کذاب نے آگ میں ڈالا تھا؟" بولے: "عبداللہ بن ثوب۔" (ان کا اصل نام یہی تھا) حضرت عمرؓ نے تاڑ لیا اور قسم دے کر پوچھا: "کیا آپ ہی تو نہیں؟" بولے: "جی ہاں۔" حضرت عمرؓ نے انہیں گلے سے لگا کر رودیے۔ پھر انہیں ساتھ لے کر ابوبکرصدیقؓ کے پاس پہنچے اور ماجرا سنایا۔ وہ بولے: "اللہ کا شکر ہے کہ جس نے موت سے پہلے پہلے مجھے اس امت کے ایسے فرد کی زیارت کرادی جس کے ساتھ اللہ نے حضرت ابراہیمؑ جیسا معاملہ فرمایا۔"
مالک بن نویرہ کا قتل:
بطاح میں بنوتمیم کا رئیس مالک بن نویرہ بھی سرکشی ظاہر کررہا تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری ایام میں اپنے عاملین کو زکوٰۃ وصول کرنے اس کے پاس بھیجا تھا، اس دوران حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کی خبرآئی تو مالک بن نویرہ بگڑگیا کہ یہ زکوٰۃ اب مدینہ نہیں بھیجی جائے گی بلکہ یہیں کے مستحقین میں خرچ کی جائے گی۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عاملین نے زکوٰۃ کی رقم مدینہ منورہ بھیجنے پر اصرار کیا تو مالک بن نویرہ لڑائی پر آمادہ ہوگیا۔ انہی دنوں عراق کے سرحدی علاقے "الجزیرہ" سے نبوت کا دعویٰ کرنے والی عورت سجاح بنت حارث وہاں پہنچ گئی۔ اس کے ساتھ اچھا خاصا جتھہ تھا جن میں بنوتَغلِب کے عیسائی بھی شامل تھے جو مسلمانوں کی خانہ جنگی میں ایندھن ڈالنے کے لیے تیار تھے۔
سجاح اس لشکر کو لے کر مدینہ پر حملہ کرنا چاہتی تھی، راستے میں اس نے بنوتمیم کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے مالک بن نویرہ سے مذاکرات کیے۔ مالک نے اسے سمجھایا کہ ابھی مدینہ پر حملہ کی بجائے اپنی طاقت بڑھانا بہتر ہے۔ سجاح کو یہ مشورہ پسند آیا چونکہ ان دنوں یمامہ کے مسیلمہ کذاب کی قوت کا بڑا چرچا ہورہا تھا، اس لیے سجاح اس سمت روانہ ہوگئی۔ مالک بن نویرہ یہ مشورہ دے کر پیچھے تنہا رہ گیا۔
حضرت ابوبکرصدیقؓ ان حالات سے خوب واقف تھے اور حضرت خالد بن ولیدؓ کو مدینہ سے روانہ کرتے وقت بطاح والوں کی بھی خبر لینے کی ہدایت دے چکے تھے۔ چنانچہ طلیحہ سے نمٹتے ہی انہوں نے بطاح پر یلغار کردی۔ مالک بن نویرہ ساتھیوں سمیت گرفتار ہوگیا۔ اس نے زکوٰۃ اور کسی رکنِ اسلام کا انکار نہیں کیا تھا مگر بہرحال وہ خلافتِ اسلامیہ کا باغی ضرور تھا، اس کے باوجود حضرت خالدؓ اسے قتل نہیں کرنا چاہتے تھے، کیوں کہ وہ ایک شریف، غنی اور بہادر انسان کے طور پر مشہورتھا مگر قسمت کا ہونا ہوکر رہتا ہے۔ مالک بن نویرہ گرفتاری کے بعد غلط فہمی میں ایک سپاہی کے ہاتھوں قتل ہوگیا۔ مالک کا بھائی متمم بہترین شاعر تھا، اس نے بھائی کی یاد میں جو اشعار کہے وہ عربی ادب کا حصہ بن گئے۔
حضرت خالد بن ولیدؓ پر ایک ناروا الزام اور اس کا جواب:
یہاں یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ مالک بن نویرہ کے قتل میں حضرت خالد بن ولیدؓ کا ہرگز کوئی کردار نہیں تھا۔ حضرت خالدؓ نے ایک رات شدید سردی کے پیش نظر قیدیوں کے بارے میں سپاہیوں کو ہدایت دیتے ہوئے کہا تھا: "اِدفُؤا اَسراکم" "اپنے قیدیوں کو حرارت پہنچاؤ یعنی ان کو گرم کپڑے، لحاف وغیرہ فراہم کرو۔"
اس علاقے کی زبان لغت بنی کنانہ میں یہ لفظ قتل کے لیے استعمال ہوتا تھا، اس لیے بعض سپاہیوں نے غلط فہمی میں قیدیوں کو قتل کرنا شروع کردیا، اس سے پہلے کہ حضرت خالدؓ موقع پر پہنچ کر منع کرتے، مالک بن نویرہ بھی ان سپاہیوں کے ہاتھوں مارا گیا۔ حضرت خالدؓ نے اس واقعے پر رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
"جب اللہ کسی سانحے کا ارادہ کر لیتا ہے تو وہ ہوکر رہتا ہے۔" حضرت خالدؓ نے مالک بن نویرہ کی بیوہ ام تمیم کی اشک شوئی اور کفالت کی خاطر اس کی عدت گزرنے کے بعد اس سے نکاح کرلیا۔
غور فرمائیے! اگر حضرت خالدؓ مالک بن نویرہ کے قتل کے قصداً مرتکب ہوتے تو یہ سوال ہی پیدا نہ ہوتا کہ ام تمیم ان سے نکاح کرتی بلکہ وہ عربوں کی طبعی غیرت کے مطابق مقتول شوہر کا بدلہ لینے اٹھ کھڑی ہوتی۔ یہ بات بھی تاریخ سے ثابت ہے کہ حضرت ابوبکرصدیقؓ نے حضرت خالدؓ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی، یہاں تک کہ دیت کا بوجھ بھی ان پر نہیں ڈالا، اس کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے کہ خالدؓ ان کے نزدیک بھی بے قصور تھے۔ اگر واقعہ ویسے ہوتا جیسے غیرمحتاط مورخین بیان کرتے ہیں، یعنی حضرت خالدؓ نے مالک بن نویرہ کو قتل کیا ہوتا اور پھر اس کی بیوی کو زبردستی اپنے نکاح میں داخل کیا ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ حضرت ابوبکرصدیقؓ اس ظلم کو برداشت کرجاتے۔

