غزوۂ خندق کے بعد پیش آنے والے چند اہم واقعات
غزوہ خندق کے بعد ۵ھ کے اواخر اور ۶ھ کے درمیان کئی اہم واقعات پیش آئے جن میں سے بعض کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خانگی زندگی سے تھا اور بعض ریاست مدینہ سے متعلق تھے۔ ان کا مختصر تذکرہ پیش خدمت ہے۔
رسول الله ﷺ کا زینب بنت جحشؓ سے نکاح ( ذوالقعدہ ۵ ہجری):
زید بن حارثہؓ اب بھی نبیٔ اکرم ﷺ کے ساتھ ان کے منہ بولے بیٹے کے طور پر رہتے تھے، لوگ انہیں زید بن محمد کہتے تھے۔ انہوں نے اپنی جوانی میں حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے کہنے پر ام ایمن رضی اللہ تعالی عنہا سے نکاح کیا تھا جو اس وقت ان سے تقریبًا دوگنی عمر میں بڑھی تھیں۔ اب زید رضی اللہ تعالی عنہ چالیس سال کے لگ بھگ ہوچکے تھے اور ام ایمن عمر رسیدہ ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال آتا تھا کہ زید کے لیے ایک جوان بیوی ہونی چاہیے۔
اس مقصد کے لیے رسول اللہ صلی اللہ نے ایک قریشی خاتون زینب بنت جحش رضی اللہ تعالی عنہا کو منتخب فرمایا:
یہ خاتون نہایت اعلیٰ نسب، عبادت گزار اور سخی تھیں مگر انہیں زیدؓ سے نکاح میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ چنانچہ جب رسول اللہ ﷺ نے زید کے سرپرست کی حیثیت سے انہیں نکاح کا پیغام دیا تو انہوں نے یہ کہہ کر اپنی دلی کیفیت کا اظہار کردیا:
"مجھے وہ پسند نہیں ہیں"۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اسے تمہارے لیے پسند کرتا ہوں۔
زینب بنت جحش رضی اللہ تعالی عنہا ارشادِ نبوی کے آگے خاموش ہوگئیں۔ نکاح ہوگیا۔
کچھ دن اچھی طرح گزرے مگر رفتہ رفتہ واضح ہوگیا کہ زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ کا ان سے نباہ نہیں ہوسکتا۔ جب زید نے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ماجرا سنایا اور ساتھ ہی بتایا کہ میں انہیں طلاق دینا چاہتا ہوں ۔ حضور سلام فرماتے رہے: " زید! اس کے ساتھ نباہ کرو۔ مگر آخر کار زیدؓ نے انہیں طلاق دے ہی دی۔
زینب بنت جحش رضی اللہ تعالی عنہا عدت میں تھیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوچ رہے تھے کہ اس خاتون کی جو دلشکنی ہوئی ہے اس کا تدارک تب ہی ہوسکتا ہے جب میں خود ان سے نکاح کرلوں ۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ عرب میں منہ بولے بیٹے کو سگے بیٹے کی طرح سمجھا جاتا تھا اور اس کی بیوی کو حقیقی بہو کی حیثیت دی جاتی تھی۔ اس لیے سخت خدشہ تھا کہ اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نکاح کیا تو یہ بات معاشرے میں بہت عجیب سمجھی جائے گی۔ اغیار تو اعتراضات کریں گے ہی ، اپنوں کو بھی وسوسے ہوسکتے ہیں اور یہ بات خود ان کے دین و ایمان کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
تاہم اللہ تعالی نے سورۃ الاحزاب کی ابتدائی آیات نازل فرماکر ان تمام اعتراضات کا قلع قمع کردیا۔ ارشاد ہوا:
وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ۚ ذَٰلِكُمْ قَوْلُكُم بِأَفْوَاهِكُمْ ۖ
وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ
اللہ نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو (سچ مچ) تمہارا بیٹا نہیں بنادیا یہ صرف تمہارے منہ سے کہنے کی بات ہے، اور اللہ حق بات فرمادیتا ہے اور وہی سیدھا راستہ بتلاتا ہے۔ تم ان ( لے پالکوں) کو ان کے باپوں کی طرف منسوب کیا کرو۔ یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے۔
لوگ اب زید بن محمد کہنے سے باز آگئے ۔اب انہیں زید بن حارثہ یہ کہا جانے لگا۔
ادھر زینب بنت جحش رضی اللہ تعالی عنہا کی عدت پوری ہوئی تو اللہ تعالی نے اس مسئلے پر مہر تصدیق ثبت کرنے کے لیے خود وحی کے ذریعے ان کا نکاح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کردیا ، اعلان ہوا:
فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا ۚ وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولًا
پھر جب زید کا جی اس سے بھرگیا ہم نے آپ سے اس کا نکاح کردیا، تاکہ اہل ایمان کے لیے ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کچھ تنگی نہ رہے جب(منہ بولے بیٹے ان سے اپنا جی بھر چکیں)
یوں تا قیامت نسلی اولاد اور لے پالکوں کے حقوق اور ذمہ داریوں کے مابین واضح خط امتیاز کھینچ دیا گیا۔
رسول ﷺ کا ام حبیبہؓ سے نکاح:
۶ھ میں حبشہ کے حکمران نجاشی اَصحَمہ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح مہاجرینِ حبشہ میں شامل حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا سے پڑھایا اور اپنی طرف سے چارسو دینارکا خطیر مہر اداکیا۔ نجاشی نے انہیں شرحبیل بن حسنہ کی حفاظت میں مدینہ منورہ بھیج دیا۔ اس وقت ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا کی عمر ۳۳ برس سے کچھ زیادہ تھی۔
سریہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ (سیف البحر)
غزوہ خندق میں مشرکینِ عرب کی اجتماعی طاقت کو جس شرمناک ہزیمت سے واسطہ پڑا تھا، رسول اللہ ﷺ نے ان سے پورا پورا فائدہ اٹھایا اور قریش کے خلاف اقتصادی شکنجے کو مزید کس دیا۔ آپ ﷺ نے حضرت ابوعبیدہ بن الجراحؓ کی کمان میں تین سو افراد کا ایک بڑا دستہ ساحلِ سمندر کے ساتھ "سیف البحر" کے مقام پر تعینات کیا تاکہ قریشی قافلے راستہ بدل کر بھی شام کی طرف نہ جاسکیں۔
یہ قافلہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم رہا موسم کی شدت اور سامان کے ناکافی ہونے کے باوجود اپنی زمہ داری انجام دیتا رہا۔ اس پہرے کے زمانے میں بھوک کی شدت کے باعث مجاہدین کو صحرائی پودے "خبط" (ببول) کے پتے کھانے پڑے جس کی وجہ سے اس مہم کو "جیش الخبط " کہا جانے لگا۔
بعد میں اللہ تعالی کی مدد شاملِ حال ہوئی اور ایک کوہِ پیکر مچھلی ساحل پر آپڑھی۔ مسلمانوں کو شروع میں تردد ہوا کہ کہیں یہ مردار نہ ہو۔ مگر حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اپنی فقہی اجتہادی صلاحیت سے کام لیتے ہوئے فرمایا:
"ہم رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے ہیں۔ اللہ کے راستے میں نکلے ہیں۔ اسے کھالو۔"
300 سو افراد کا لشکر 18 دن تک اس خدائی ضیافت سے شکم سیر ہوتا رہا وہ واپسی پر اس کے بچے ہوئے گوشت کا وافر ذخیرہ بھی ساتھ لایا جسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تناول فرمایا اور اسے اللہ کی نصرت اور انعام قرار دیا۔
مکہ کے تین ستم رسیدہ مسلمانوں کی رہائی:
مکہ میں کچھ مسلمان سخت تنگی کی زندگی گزار رہے تھے۔ ان میں ایک عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ تھے جو ابوجہل کے ماں شریک بھائی تھے۔ حبشہ کی دوسری ہجرت میں شریک تھے۔ اس کے بعد دو بارہ مکہ آگئے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہم رکاب ہوکر ہجرتِ مدینہ کی، قبا آکر ٹھہرے تھے کہ ابوجہل آیا اور یہ کہہ کر واپس لے گیا کہ تمہاری ماں کی حالت بہت خراب ہے، اس نے قسم کھائی ہے کہ جب تک تمہیں نہ دیکھ لے گی سایے میں نہ بیٹھے گی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے منع کرنے کے باوجود یہ ماں کو دیکھنے مکہ روانہ ہوگئے مگر کفار نے انہیں گرفتار کرکے زنجیروں سے باندھ دیا۔
سلمہ بن ہشام رضی اللہ عنہ بھی حبشہ کی ہجرت ثانیہ میں شامل تھے۔ بعد میں مکہ واپس آگئے تھے۔ انہیں ہجرت سے روک کر قید کردیا گیا۔ ابوجہل انہیں مارتا پیٹتا اور بھوکا پیاسا رکھتا تھا۔
ولید بن ولید رضی اللہ عنہ مشہور کافر سردار ولید بن مغیرہ کے بیٹے تھے۔ غزوۂ بدر میں مشرکین کے ساتھ تھے۔ شکست کے بعد قیدی بنے اور اس دوران اسلام کی حقانیت ان کے دل میں گھر کرگئی مگر اسلام کا اظہار نہ کیا۔ کچھ دنوں بعد ان کے رشتہ دار آئے اور فدیہ دے کر انہیں آزاد کراکے ساتھ لے جانے لگے مگر یہ راستے سے واپس بارگاہ رسالت میں آگئے اور اسلام کا اعلان کردیا۔ رشتہ دار پیچھے آئے اورطعنہ دیا کہ اسلام قبول کرنا تھا تو پہلے کرلیتے، ہماری رقم کیوں ضائع کرائی؟ انہوں نے جواب دیا "تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ قید سے آزادی کے لیے مذہب تبدیل کیا ہے۔"
اس کے بعد یہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ مکہ چلے گئے جنہوں نے مکہ پہنچ کر انہیں قید کردیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز فجر میں قنوت نازلہ پڑھ کر مکہ کے تمام بے بس مسلمانوں کے لیے عمومی طور پر اور ان تین صحابہ کی رہائی کے لیے خاص طور پر نام لے کر دعا فرماتے تھے۔ ساتھ ہی یہ دعا بھی کرتے:
"اے اللہ اہل مکہ کو یوسف علیہ السلام کے دور جیسی قحط سالی میں مبتلا کر دے ۔"
پہلی دعا اس طرح قبول ہوئی کہ غزوہ خندق کے کچھ دنوں بعد ولید بن ولید رضی اللہ عنہ کسی طرح زنجیروں سے آزاد ہوکر مدینہ پہنچ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ اور سلمہ بن ہشام رضی اللہ عنہ کا حال پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں کا ایک ایک پاؤں ایک ساتھ ایک ہی زنجیر میں بندھا ہوا ہے۔
رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ان مظلوموں کی آزادی کے لیے فکرمند تھے۔ آخر ایک بندوبست ہوگیا۔ مکہ میں ایک لوہار نے خفیہ طور پر اسلام قبول کرلیا تھا (جو زنجیر کاٹنے میں مدد دے سکتا تھا)۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن ولید کو ہدایت کی کہ مکہ جاکر اس لوہار کے گھر میں روپوش ہوجائیں اور جب موقع ملے دونوں قیدیوں کو زنجیریوں سے آزاد کرکے ساتھ لے آئیں۔ ولید بن ولید رضی اللہ عنہ اس خطرناک مہم پرگئے اور آخرکار دونوں ساتھیوں کو آزاد کرکے مدینہ واپس آگئے۔
دوسری دعا اس طرح قبول ہوئی کہ انہی ایام میں مکہ اور اس کے مضافات شدید قحط کی لپیٹ میں آگئے۔ مکہ میں غذا اس قدر کم یاب ہوگئی کہ لوگ ہڈیوں کو غذا میں استعمال کرنے لگے۔
سریہ عکاشہ بن محصنؓ ۔ سریہ محمد بن مسلمہؓ
ربیع الاول میں رسول اللہ ﷺ نے عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کو ۴۰ افراد کے ساتھ بنواسد کے خلاف چھاپے کے لیے ''غمرمرزوق'' نامی چشمے پر بھیجا۔ دشمن فرار ہوگیا۔ مسلمان ۲۰۰ اونٹ غنیمت میں لے کر لوٹے۔ربیع الآخر ۶ھ میں رسول اللہ ﷺ نے محمد بن مسلمہؓ کو بنوثعلبہ کی مخبری کے لیے "ذوالقصہ" بھیجا۔ ۱۰ساتھی لے کرگئے مگر وہاں ۱۰۰ تیرانداز مقابلے پر آگئے۔ تیروں سے کئی مسلمان زخمی ہوگئے۔ اس کے بعد دشمن نے نیزے تان کر حملہ کردیا اور تقریباً سبھی مسلمانوں کو شہید کر ڈالا۔ محمد بن مسلمہؓ کا ٹخنہ ٹوٹ گیا، کوئی مسلمان بعد میں انہیں اٹھا کر لے آیا۔ حضور ﷺ نے ابوعبیدہ بن الجراحؓ کو دشمن کے پیچھے بھیجا مگر وہ ہاتھ سے نکل چکے تھے۔
سریہ زید بن حارثہؓ اور ابوالعاص بن ربیع کا قبولِ اسلام:
قریشِ مکہ کے قافلے اب بھی بچ بچا کے شام آتے جاتے رہتے تھے۔ مسلمان اب بھی ان کی ناکہ بندی کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ جمادی الاولیٰ سن ۶ ہجری میں زید بن حارثہؓ نے شام سے واپس آنے والے ایک قریشی قافلے پر چھاپہ مارا جس میں حضور ﷺ کے داماد ابوالعاص بھی تھے۔ مدینہ پہنچ کر وہ اپنی زوجہ حضرت زینبؓ کے دروازے پر پہنچے اور ان کی پناہ لے لی۔حضرت زینبؓ نے نمازِ فجر کے وقت اپنے دروازے پر کھڑے ہوکر بلند آواز سے نمازیوں کو پکارا:
"لوگو! سن لو، میں نے ابوالعاص کو امان دے دی ہے۔"
رسول اللہ ﷺ کو اس وقت تک اس بات کا علم نہ تھا۔ یہ آواز سن کر آپ بھی حیران ہوئے۔ آپ ﷺ نے حاضرین کو معمولی غلط فہمی سے بھی بچانے کے لیے کہا:
"لوگو! کیا جو بات میں نے سنی تم نے بھی سن لی ہے؟" سب نے کہا: "جی ہاں۔"
حضور ﷺ نے فرمایا: "اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، مجھے اس واقعے کا ذرا بھی علم نہیں تھا، ہاں جب تم نے یہ اعلان سنا تو وہی میں نے بھی سنا۔ اہل ایمان دوسروں کے بارے میں ایک ہاتھ کی مانند ہیں، ان میں سے کوئی معمولی فرد بھی کسی کو امان دے سکتا ہے۔ ہم نے بھی اسے امان دی جسے زینب نے امان دی۔"
پھر آپ ﷺ اپنے گھر تشریف لے گئے۔ زینبؓ حاضر ہوئیں اور درخواست کی کہ ابوالعاص کا جو سامان لوٹا گیا ہے، واپس کردیا جائے۔ آپ ﷺ نے ابوالعاص کو ان کا سامان واپس دلوا دیا۔ پھر انہیں کہا کہ جب تک وہ مشرک ہیں، ان کا زینب سے تعلق حلال نہیں، لہذا وہ ان سے دور رہیں۔ ابوالعاص نہایت شریف انسان تھے۔ اسلام کی خوبیاں ان کے سامنے واضح تھیں۔ وہ اسلام قبول کرنا چاہتے تھے مگر اس وقت انہیں یہی بہتر لگا کہ پہلے مکہ چلے جائیں تاکہ کسی کو یہ خیال نہ ہو کہ کسی خوف یا حرص کی وجہ سے انہوں نے اسلام قبول کیا ہے۔ وہ مکہ واپس چلے گئے۔ وہاں سب کی امانتیں لوٹائیں، جس کا جو حق تھا، اسے پورا پورا ادا کیا۔ اس کے بعد محرم ۷ ہجری میں وہ مدینہ آئے اور اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے زینبؓ کو ان کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی۔
کتب سیرت کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مہم جس میں ابو العاص بن ربیع گرفتار ہوئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے قریش کی اقتصادی ناکہ بندی کے لیے بھیجی جانے والی آخری کاروائی تھی۔ اس کے بعد یہ سلسلہ ختم کردیا گیا اور کچھ مدت بعد صلح حدیبیہ کے معاہدے کے مطابق فریقین کے لیے پورے جزیرۃ العرب میں تمام راستے کھل گئے۔ مگر تب تک قریش کی معاشی طاقت اس حد تک تہس نہسں ہوگئی تھی کہ وہ مسلمانوں کے خلاف دوبارہ کسی جنگ کا اقتصادی بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہے تھے۔
سریہ زید بن حارثہؓ اور اُمِ قرفہ کا قتل:
بنو فزارہ کے جنگجو ایک مدت سے وقتاً فوقتاً مدینہ منورہ کے مضافات پر چھاپے مارتے آرہے تھے۔ آخر ان لٹیروں کو سبق سکھانے کے لیے زید بن حارثہؓ ایک دستہ لے کر وہاں گئے۔ فزاریوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور مسلمانوں کو شکست ہوئی۔ زید بن حارثہؓ خود شدید زخمی ہوئے اور بمشکل ان کے ساتھی انہیں مدینہ واپس لاسکے۔ زید بن حارثہؓ نے قسم کھائی کہ جب تک بنو فزارہ کا سر نہ کچل دیں، غسلِ جنابت واجب نہیں ہونے دیں گے۔ زخم بھرتے ہی وہ ایک بار پھر بنو فزارہ کے خلاف فیصلہ کن جنگ کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔اس قبیلے کی اصل مرکزیت ایک جنگجو عورت اُمِ قرفہ (فاطمہ بنت ربیعہ) کے دم سے قائم تھی۔ مدینہ منورہ سے سات دن کی مسافت پر وادی القریٰ کے قریب اس کا گڑھ تھا۔ وہ حضور ﷺ پر سب وشتم کرتی تھی اور اپنے تیس بیٹوں اور پوتوں کو آپ ﷺ کے قتل کے لیے تیار کر رہی تھی (نعوذ باللہ)۔ زید بن حارثہؓ نے ماہِ رمضان میں اس کے خلاف کارروائی کی۔ اس کے بیٹے اور پوتے مارے گئے۔ وہ خود اپنی ایک بیٹی سمیت گرفتار ہوگئی۔ اسے قتل کردیا گیا جبکہ اس کی بیٹی کی جان بخشی دی گئی۔

