Ghazwa-e-Banu Quraiza: Waqiat, Pas-e-Manzar aur Hikmat-e-Amli

 غزوۂ بنو قریظہ (ذوالقعدہ ۵ھ)

        مسلمان خندق سے اپنے گھروں کو لوٹ آئے۔ حضرت سعد بن معاذؓ زخمی ہونے کے باعث حضور ﷺ نے مسجد نبوی کے اندر ایک خیمہ لگوا کر انہیں وہیں منتقل کر دیا تاکہ ان کی دیکھ بھال پر پوری توجہ دی جاسکے۔ ابھی حضور ﷺ نے ہتھیار اتار کر غسل ہی کیا تھا کہ حضرت جبرئیلؑ غبار آلود حالت میں تشریف لائے اور فرمایا:



        "آپ نے ہتھیار اتار دیے جبکہ ہم فرشتوں نے ابھی تک ہتھیار نہیں اتارے۔ آپ ان  پر یلغار کریں۔"

        رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: "کہاں؟"

        حضرت جبرئیلؑ نے بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا۔

        حضرت جبرئیلؑ کا یہ نزول اس لیے تھا تاکہ واضح ہوجائے کہ اللہ کا حکم یہی ہے اور بعد میں کسی کو بھی اس مہم کے برحق اور ضروری ہونے میں شک باقی نہ رہے۔ اگر حضرت جبرئیلؑ تشریف نہ بھی لاتے تب بھی حضور اقدس ﷺ اور صحابہ کرامؓ بنوقریظہ کی شرانگیزی اور بدعہدی کو نظرانداز نہیں کرسکتے تھے، جنہوں نے جنگ کے نازک ترین وقت میں مسلمانوں کی پشت پر خنجر گھونپنے کی کوشش کی تھی۔

        البتہ حضور ﷺ اس کارروائی کو چند دن مؤخر کرکے مجاہدین کو آرام دینا چاہتے تھے، تاہم اب آسمانی حکم کے بعد ٹھہر جانے کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ آپ ﷺ نے اسی روز خندق کے تھکے ماندے مجاہدین کو بنو قریظہ کی طرف روانہ فرمایا اور حکم دیا:

        "تم میں سے کوئی بھی بنوقریظہ کے علاقے میں پہنچنے سے پہلے عصر کی نماز نہ پڑھے۔"

        چنانچہ صحابہ کرامؓ بڑی تیزی سے روانہ ہوگئے۔ راستے میں عصر کا وقت ہوگیا تو بعض صحابہؓ نے یہ سمجھ کر نماز عصر ادا کرلی کہ اس حکم کا مقصد جلدی منزل پر پہچانا تھا نہ کہ نماز میں تاخیر کرنا۔

        بعض صحابہؓ نے حکم پر لفظ بلفظ عمل کیا اور بنوقریظہ کے قلعوں کے سامنے پہنچ کر تاخیر کے ساتھ نمازِعصر ادا کی۔ رسول اللہ ﷺ نے دونوں میں سے کسی کے عمل کو غلط قرار نہیں دیا۔ اس قسم کے واقعات سے اجتہاد کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔

        یکم ذی القعدہ کی شام تک بنوقریظہ کے قلعوں کا محاصرہ کرلیا گیا۔ تقریباً ۲۵ دن بعد بنوقریظہ نے ہتھیار ڈال دیے۔ طے پایا کہ ان کے مستقبل کا فیصلہ حضرت سعد بن معاذؓ کریں گے۔ وہ اسلام سے پہلے بنوقریظہ کے قریبی دوست رہے تھے، اس لیے نہ صرف بنوقریظہ بلکہ خود انصار کو بھی یہ توقع تھی کہ وہ ماضی کے تعلقات کا لحاظ رکھتے ہوئے نرم فیصلہ کریں گے اور زیادہ سے زیادہ بنو قنیقاع اور بنو نظیر کی طرح جلاوطنی کی سزا سنائیں گے۔

        مگر اس دن حضرت سعد بن معاذؓ کی نظر میں صرف اسلام کا مفاد تھا۔ وہ ہر رشتے ناطے کو بھلا چکے تھے جب انہیں سہارا دے کر مجلس قضاء میں لایا گیا تو انہوں نے فرمایا:

        "آج میں اللہ اوراس کے رسول کی خاطر کسی کی ملامت کا لحاظ نہیں کروں گا۔"

       فریقین کی رضامندی سے انہیں فیصلے کا اختیار دیاگیا تو انہوں نے فیصلہ سنایا:

        "لڑنے کے قابل مردوں کو قتل کیا جائے، عورتوں اور بچوں کو قیدی بنایا جائے اور مال کو تقسیم کردیا جائے۔"

        یہ سن کر سب دنگ رہ گئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

        "تم نے اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔"

        اس کے بعد فیصلے پر عمل کیا گیا۔ بنو قریظہ کے چار سو جنگجو مرد قتل کر دیے گئے حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ بنو قریظہ کا انجام دیکھنے کے لئے جی رہے تھے اس کے فورًا بعد ان کے زخم سے خون بہہ پڑا اور وہ خالق حقیقی سے جاملے۔ 

         یہ سلوک یقینا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معمول کے خلاف تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی جان بخشی کرسکتے تھے مگر آپ نے سزا جاری کرنے کو تربیج دی۔ اس کا اصل سبب تو یہی تھا کہ آسمانی حکم یہی تھا,اللہ تعالی نے جس طرح حضرت جبرئیل علیہ السلام کو بھیج کر بنوقریظہ پر حملے کو ایک دن بھی ملتوی نہیں ہونے دیا، اسی طرح ان مجرموں کی سزا بھی آسمان پر ہیں طے ہوچکی تھی جو سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی زبان پر جاری ہوگئی۔ دنیا کے سابقہ اور موجودہ قانون کے مطابق بھی باغیوں کو موت کی سزا دی جاتی ہے۔ خود یہودیوں کی مذہبی کتاب تورات ایسے قصے میں سزائے موت سناتی ہےجیسا کہ عہد نامہ عتیق میں ہے کہ خداوند کسی شہر کو تیرے قبضے میں کر دے تو تو اس کے ہر مرد کو تلوار کی دھار سے قتل کردے۔
 
        رہی یہ بات کہ آسمانی حکم سے ہٹ کر کیا اس اقدام کے پیچھے کوئی خاص زمینی وجہ بھی کار فرماتھی؟ اس کا جواب اس اثبات میں ہے مگر وجہ صرف یہ نہ تھی کہ وہ لوگ یہودی تھے کیونکہ یہودی تو بنوقینقاع اور بنونظیر بھی تھے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایسا سخت سلوک نہیں کیا، زمینی وجہ بنو قریظہ کی طبعی شرانگیزی بھی نہ تھی کیونکہ دوسرے یہودی بھی یقینا فتنہ پرور تھے جنہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جلاوطن کرنے پر اتفاق کیا تھا پھر بنوقریظہ سے رعایت نہ برتنے کی کیا وجہ تھی؟

        اگر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ بنو قینقاع اور بنونظیر کی طرف سے سر انگیزیاں اور بد عہدیاں عام حالات میں ہوئی تھی جبکہ بنوقریظہ نے اعلانیہ بغاوت کا گھناؤنا جرم اسلامی ریاست پر عین بیرونی حملے کے دوران کیا تھا جس کی وجہ سے اس جرم کی سنگینی کئی گنا بڑھ گئی تھی اس لیے انہیں اس سنگین ترین جرم کے مطابق نہایت کڑی سزا دی گئی۔

        رہی یہ بات کہ اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی طبعی رحم دلی کے مطابق کرم کا معاملہ فرما دیتے توکیا کوئی نقصان ہو جاتا؟ جی ہاں یقینا ہوتا۔ ظاہر ہے کہ بنوقریظہ کو معاف کر دینے کے باوجود انہیں ان کے ٹھکانوں پر آباد رکھنے کی گنجائش نہیں نکل سکتی تھی یہ اپنے آستین میں سانپ پالنے کے مترادف تھا انہیں جلا وطن ہی کرنا پڑتا۔ مگر اس کا نتیجہ کیا نکلتا؟ اس سے قبل بنوقینقاع اور بنونظیر کے بہت سے لوگ جلاوطن ہوکر خیبر کے قلعوں میں جا بسے تھے اور وہاں یہودیوں کی ایک عظیم جمعیت تیار ہوگئی تھی جو مدینہ کی سلامتی کے لیے خطرہ تھی بنوقریظہ کے لوگ جاکر ان کی طاقت میں مزید اضافے کا سبب بنتے۔ اس طرح بنو قریضہ کی جان بخشی کرنا خود اپنے پیروں پر کلہاڑی چلانے کا مصداق ہوتا۔

        ہم نے یہاں انسانی فطرت اور معاشرتی فلسفے کا ایک اہم پہلو بیان کیا ہے۔ عام طور پر لوگ اُس قوت کو ہی حقیقی مقتدر اور بااختیار سمجھتے ہیں جو سزا اور معافی دونوں پر قدرت رکھتی ہو۔ جب کوئی طاقت کبھی معاف کرتی ہے اور کبھی سزا دیتی ہے تو لوگوں کے نزدیک اس کی ہیبت اور وقار برقرار رہتا ہے۔

        لیکن اگر کوئی صاحبِ اختیار ہر معاملے میں صرف معافی ہی کا راستہ اختیار کرتا رہے اور کبھی سزا نہ دے تو عام لوگوں کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ وہ درحقیقت بااختیار نہیں، بلکہ مجبوری کے تحت معاف کر رہا ہے۔ لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اسے سزا دینے کا اختیار ہی حاصل نہیں ہے۔

        اس سوچ کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عادی مجرم، گنڈے، بدمعاش، چور اور اُچکے بے خوف ہوکر جرائم کرنے لگتے ہیں۔ جب سزا کا خوف ختم ہوجائے تو قانون کا احترام بھی باقی نہیں رہتا، اور رفتہ رفتہ معاشرے میں بدامنی اور انتشار پھیل جاتا ہے۔

        اسی لیے ایک متوازن معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ معافی اور سزا دونوں کا نظام حکمت کے ساتھ قائم رہے، تاکہ نیک لوگوں کو اطمینان اور مجرموں کو عبرت حاصل ہو۔

        دنیا کے قوانین میں بھی بغاوت کی سزا موت رکھی جاتی ہے۔ خود یہودیوں کی کتاب تورات میں بھی ایسے جرم کی سزا موت بیان کی گئی ہے۔

        مصنف نبی رحمت ﷺ کا تبصرہ توجہ کے قابل ہیں وہ لکھتے ہیں:

        رسول اللہ ﷺ نے بنوقریظہ کے ساتھ جو معاملہ فرمایا وہ جنگی سیاست اور عرب کے یہودی قبائل کی سرشت اور افتادِطبع کے مطابق تھا۔ ان کے لیے اس قسم کی سخت اور عبرت ناک سزا کی ضرورت تھی جس سے عہد شکنی کرنے والوں اور دھوکہ بازوں کو ہمیشہ کے لیے سبق مل جائے اور آئندہ نسلیں عبرت حاصل کریں۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic