Jang-e-Muta ka pas manzar

بازنطینی روما سے پہلی ٹکر۔ جنگِ مُوتہ

        آنحضرت ﷺ کی جانب سے فرمانرواؤں سے مراسلت اور انہیں اسلام کی دعوت دینے کا سلسلہ جاری تھا، اس ضمن میں آپ نے حارث بن عمیرؓ کو شام کے سرحدی شہر بصریٰ کے حاکم شُرحبیل بن عمروغسانی کے پاس بھیجا۔ شرحبیل نے تمام سفارتی اور اخلاقی ضابطوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دربارِ رسالت کے سفیر کو شہید کردیا۔ یہ ایک ایسی حرکت تھی جس کو برداشت نہیں کیا جاسکتا تھا۔




         حضور ﷺ کو اس خبر سے شدید صدمہ ہوا، آپ نے اب تک شام کی طرف لشکر کشی سے گریز کیا تھا اور شاید پورے عرب کی تسخیر تک آپ دنیا کی اس سب سے بڑی سلطنت سے محاذ آرائی پسند نہ فرماتے مگر اب خود ریاست مدینہ کی ساکھ کا معاملہ پیش آگیا تھا، اگر اس معاملے کو سرسری لیا جاتا تو کوئی بعید نہ تھا کہ رومی مدینہ کی طرف بڑھنے میں بھی دیر نہ لگاتے۔

         پس اب دینی حیثیت کے ساتھ ساتھ حکمت کا تقاضا بھی یہی تھا کہ آگے بڑھ کر دشمن پر ضرب لگائی جائے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے جمادی الاولیٰ سن 8 ہجری میں تین ہزار مہاجرین و انصار کا لشکر مرتب فرما کر اسے شام کی سرحدوں کی طرف روانہ کردیا۔ آپ نے زید بن حارثہؓ کو لشکر کا امیر مقرر کیا جو آپ ﷺ کے آزاد کردہ غلام اور آپ کے گھر کے ایک فرد تھے۔ اس وقت ان کی عمر پینتالیس سال کے لگ بھگ تھی۔ آپ ﷺ نے ہدایت فرمائی کہ اگر زید شہید ہوجائیں تو جعفر بن ابی طالب قیادت سنبھالیں، وہ بھی شہید ہوجائیں تو عبداللہ بن رواحہ کو امیر بنایا جائے، وہ بھی شہید ہوجائیں تو مسلمان جسے چاہیں امیر بنالیں۔

        یہ لشکر نہایت دور دراز کے سفر پر جا رہا تھا۔ مرکز سے اس کا رابطہ، خبر رسانی کا انتظام اور خوراک و رسد کی فراہمی کا سلسلہ برقرار رکھنا بے حد مشکل تھا۔ پھر مقابلہ پراتنی بڑی سلطنت تھی جو ایک آن میں لاکھوں افراد مقابلے پر لاسکتی تھی۔ اس لیے شکست، پسپائی یا بھاری جانی نقصان کے خدشات موجود تھے۔

         نبی اکرم ﷺ نے لشکر کو دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔ مجاہدین تقریباً گیارہ سو کلومیٹر کا دشوار گزار سفر کرکے رومیوں کی سرحدوں میں داخل ہوگئے۔ یہاں انہیں معلوم ہوا کہ ایک لاکھ رومی ان کے مقابلے کے لیے نکل کھڑے ہوئے ہیں اور لَحم، جُذام اور دوسرے عیسائی عربوں کی فوجیں بھی ان سے جا ملی ہیں اور ان کی تعداد بھی لگ بھگ ایک لاکھ ہے۔ مسلمانوں نے دو دن "مَعان" کے مقام پر مشورہ کرتے گزارے کہ اب کیا کیا جائے؛ کیوں کہ روانہ ہوتے وقت یہ اندازہ نہیں تھا کہ اتنی بڑی فوج یکدم سامنے آجائے گی۔ جہاں دیدہ صحابہ کرام نے رائے دی کہ یہیں ٹھہر کر حضور ﷺ کو خط روانہ کرکے دشمن کی تعداد بتائی جائے۔ جس کے بعد حضور ﷺ امدادی فوج بھیج دیں یا حکم دیں تو ہم نتائج سے بے پروا ہوکر جنگ میں کود جائیں۔ 

        مگر اس موقع پرعبداللہ بن رواحہؓ نے مسلمانوں کی ایمانی قوت کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا: "مسلمانو! تمہیں کیا ہوا؟ آج تم اسی چیز سے ڈر رہے ہو جس کے شوق میں گھروں سے نکلے تھے۔ تم شہادت کی تلاش میں نکلے تھے، ہم کبھی بھی تعداد، کثرت اور طاقت کی بنیاد پر نہیں لڑے۔ ہم اس دین کے بل بوتے پر لڑتے آئے ہیں جس کی وجہ سے اللہ نے ہمیں عزت بخشی، پس اب دو ہی باتیں ہیں اور دونوں ہی بہترین ہیں یا تو فتح ملے گی یا شہادت۔"

        یہ سن کر سب کے حوصلے بلند ہوگئے۔ سب نے کہا: "اللہ کی قسم! عبد اللہ نے سچ کہا۔"

        مسلمانوں نے اب لڑائی کے ارادے سے کوچ کیا اور جنگ کے لیے مناسب میدان تلاش کرتے ہوئے ایک گاؤں "موتہ" کے قریب جاکر صف بندی کی۔ یہاں دونوں لشکروں میں گھمسان کا رن پڑا۔ مسلمانوں کے امیر زید بن حارثہؓ مرکزی پرچم اٹھائے قلبِ لشکر میں اپنی فوج کو لڑا رہے تھے، رومیوں کا دباؤ بڑھتا چلا گیا اور ان کے بہت سے سپاہی زیدؓ کے پاس پہنچ گئے۔ زیدؓ آخری دم تک لڑتے رہے اور آخر کار نیزوں سے چھلنی ہوکر شہید ہوگئے۔

        اسی لمحے حضرت جعفر بن ابی طالبؓ نے پرچم سنبھال لیا اور اپنی فوج کو ہمت دلا کر نئے زور و شور سے دشمن کا مقابلہ شروع کیا، آخر رومیوں نے انہیں بھی گھیر لیا۔ وہ فرارکے وسوسے سے بچنے کے لیے اپنے سرخ گھوڑے سے نیچے اتر گئے، ساتھ ہی گھوڑے کی اگلی ٹانگیں کاٹ دیں تاکہ کوئی رومی اس پر سواری نہ کرسکے۔ وہ دائیں ہاتھ سے پرچم تھامے بائیں ہاتھ سے لڑتے رہے، دایاں بازو کٹ گیا تو انہوں نے پرچم بائیں ہاتھ میں اٹھا لیا، بایاں بازو بھی کٹ گیا تو انہوں نے پرچم کو دونوں کٹے ہوئے بازوؤں کے ساتھ سینے سے چمٹا لیا۔ دشمن ان پر پے در پے حملے کرتا رہا، آخر تلواروں اور نیزوں کے 90 زخم کھا کر وہ گر پڑے۔ یہ سب زخم سینے اور بازوؤں پر تھے۔ ایک زخم بھی پشت پر نہیں تھا۔

        حضرت جعفرؓ کی شہادت کے ساتھ عبداللہ بن رواحہؓ نے کمان سنبھال لی اور فوج کو لڑانے لگے۔ چونکہ مسلمان اپنے مرکز سے بہت دور ہونے کی وجہ سے خوراک و رسد سے محروم تھے، اس لیے عبداللہ بن رواحہؓ نے کئی روز سے کچھ نہیں کھایا تھا۔ ان کی حالت کو بھانپتے ہوئے ان کے چچا زاد بھائی نے تھوڑا سا گوشت پیش کیا اور بولے: "کچھ کھا لو کہ کچھ توانائی آ جائے۔" انہوں نے ابھی ایک لقمہ لیا تھا کہ ایک طرف سے رومیوں کے آگے بڑھنے اور مسلمانوں کے جوابی حملے کا شور گونجا۔ انہوں نے گوشت پھینک دیا اور اپنے آپ سے بولے: "تو دنیا میں لگا ہوا ہے اور لوگ جان کی بازی لگا رہے ہیں۔" یہ کہہ کر شمشیر بکف آگے بڑھے، گھوڑے پر سوار لڑتے رہے۔

        جب دشمنوں کا دباؤ زیادہ بڑھا تو پیادہ لڑنے کے لیے گھوڑے سے نیچے اترنے کی ضرورت محسوس کی مگر اس میں یہ خطرہ تھا کہ فرار کا کوئی موقع نہ رہتا۔ اترنے میں کچھ تردد ہوا تو اپنے آپ کو مخاطب کر کے یہ اشعار کہہ ڈالے:


اَقْسَمْتُ يَا نَفْسُ لَتَنْزِلِنَّهْ .... لَتَنْزِلِنَّ اَوْ لَتُکْرَھِنَّهْ

        "اے دل! تجھے قسم ہے تجھے اترنا ہوگا، خوشی سے اتر جا ورنہ زبردستی اترنا ہوگا۔"

        اِنْ اَجْلَبَ النَّاسُ وَشَدُّوا الرَّنَّهْ .... مَالِي اَرَاكِ تَکْرَهِينَ الْجَنَّهْ

        "اگر کافر جمع ہوکر للکار رہے ہیں تو تجھے کیا ہوا کہ جنت کا شوقین نہیں؟"


قَدْ طَالَـمَا کُنْتِ مُطْمَئِنَّهْ .... هَلْ اَنْتِ اِلاَّ نُطْفَةٌ فِی شَنَّهْ

        "تجھے اطمینان کی زندگی گزارتے ہوئے مدت ہوگئی، اب تومشکیزے میں ایک قطرے کی مانند عمر باقی رہ گئی۔"

        ساتھ ہی اپنے آپ سے کہا: "اب کس چیز کا شوق باقی ہے؟ اگر بیویوں کا، تو انہیں طلاق۔ غلاموں کا تو وہ آزاد۔ باغ اور جائیداد کا تو وہ اللہ کے لیے خیرات۔"

        یہ کہتے ہوئے وہ گھوڑے سے اتر پڑے اور پہلی صف میں جاکر بڑی بےجگری سے دشمن پر حملہ آور ہوئے، بالآخر ایک دشمن نے نیزے کا ایسا وار کیا جو سینے سے پار ہوگیا۔ آپ مسلمانوں اور رومیوں کی صفوں کے بیچ میں گر پڑے، اور ساتھ ہی پکار کر کہا: "مسلمانو! اپنے بھائی کی لاش کو بچا لینا۔"

        مسلمانوں نے فوراً رومیوں پر دھاوا بول کر انہیں پیچھے دھکیل دیا اور ان کی لاش اٹھا لائے، ان کے گرتے ہی اسلامی پرچم ثابت بن ارقم رضی اللہ عنہ نے اٹھا لیا تھا، مسلمانوں نے انہی کی قیادت میں لڑنا چاہا مگر اس وقت کسی غیرمعمولی قائد کی ضرورت تھی جو اپنی شجاعت، تدبیر اور حکمت عملی سے پوری اسلامی فوج کو دشمن کے ہاتھوں تباہ ہونے سے بچا سکے، اس لیے ثابت بن ارقم رضی اللہ عنہ نے فوراً حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو پرچم دے دیا اور بولے: "آپ جنگوں کا زیادہ تجربہ رکھتے ہیں۔" باقی سب نے تائید کی اور یوں مکہ کے مایہ ناز جرنیل کو پہلی بار مدینہ کی فوج کی قیادت کا موقع ملا۔

        حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی جنگی صلاحیتوں اور قائدانہ بصیرت کے لیے اس وقت کڑا امتحان یہ تھا کہ وہ کسی طرح مسلمانوں کو رومیوں کے خطرناک نرغے سے بچا کر لے جائیں مگر پسپائی کی صورت میں انہیں بہرحال رومیوں کی طرف سے کئی سو میل تک تعاقب کا خطرہ لاحق تھا، اس خطرے کو ٹالنے کے لیے ضروری تھا کہ واپسی سے پہلے رومیوں کو پسپا کر دیا جائے۔ قدرتِ الٰہی نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو اس آزمائش سے سرخرو ہوکر نکلنے کی توفیق بخشی۔ انہوں نے مسلمانوں کی اگلی صفوں کو پیچھے بھیج دیا اور پچھلی صفوں کو آگے لے آئے۔ دائیں بازو کو بائیں طرف اور بائیں کو دائیں جانب تعینات کر دیا۔ جگہیں تبدیل کرنے سے ایک طرف تو دشوار مقامات پر تازہ دم سپاہیوں کو کھڑے ہونے کا موقع ملا، دوسرے اس نقل و حرکت سے رومیوں پر ایک نفسیاتی رعب طاری ہوگیا۔

        اب جو جنگ چھڑی تو مسلمان بڑی پامردی سے لڑے اور انہوں نے دشمنوں کو غیرمعمولی جانی نقصان پہنچایا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بذات خود اس جوش و خروش سے تلوار چلائی کہ یکے بعد دیگرے ان کی نو تلواریں ضربات کی شدت کے باعث ٹوٹ گئیں، آخر میں انہوں نے چوڑے پھل والی یعنی (یمنی) تلوار استعمال کی جو ناکارہ ہونے سے محفوظ رہی۔ رات کی تاریکی چھانے پر دونوں فوجوں نے لڑائی روک دی۔

        حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اس دوران مسلمانوں کی کچھ ٹولیوں کو لشکر سے دور بھیج دیا جو صبح کے وقت بہت بلند آواز سے تکبیر کے نعرے لگاتی ہوئیں لشکر میں شامل ہوئیں۔ اس سے رومیوں کو یہ محسوس ہوا کہ مسلمانوں کو کمک مل رہی ہے۔ 

        اسی لیے انہوں نے جنگ جاری رکھنا نقصان دہ سمجھا اور پیچھے ہٹ گئے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ کو اسی موقع کا انتظار تھا۔ انہوں نے فوراً مدینہ کی طرف کوچ کردیا۔ رومی اس خدشے میں مبتلا رہے کہ یہ مسلمانوں کی جنگی چال ہے اور وہ انہیں غائب پا کر صحرائے عرب کی بھول بھلیوں میں پھانسنا چاہتے ہیں، اسی لیے انہوں نے پیچھا کرنے کی کوشش نہ کی۔

        اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضور ﷺ کو اس لڑائی کی ساری اطلاعات دی جا رہی تھیں۔ حضور ﷺ نے پرنم آنکھوں سے صحابہ کو حضرت زیدؓ، حضرت جعفرؓ اور حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کی شہادت کی خبر دی اور پھر فرمایا:

        "اب لشکر کا پرچم، اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار نے سنبھال لیا ہے، جس کے ہاتھ پر اللہ نے فتح دی ہے۔"

        حضور ﷺ کی مراد خالد بن ولیدؓ تھے۔ چنانچہ حضرت خالد بن ولیدؓ کو "سیف اللہ" (اللہ کی تلوار) کہا جانے لگا۔

        اگرچہ اس لڑائی میں رومیوں کو فیصلہ کن شکست نہیں ہوئی تھی بلکہ مسلمان ان کو پسپا کرکے مصلحتاً واپس چلے آئے تھے مگر حضور ﷺ نے اسے "فتح" سے تعبیر کیا؛ کیوں کہ ساٹھ ستر گنا بڑے لشکر کے مقابلے میں اتنی ثابت قدمی سے لڑنا اور آخر میں اسے پیچھے ہٹا کر تعاقب سے باز رہنے پر مجبور کر دینا کوئی معمولی کامیابی نہیں تھی۔ اگرچہ مسلمانوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا مگر اس جنگ نے انہیں بڑی سے بڑی فوج سے ٹکرانے کا حوصلہ فراہم کرنے کے علاوہ رومیوں کی جنگی ترجیحات کو سمجھنے کا بہترین موقع دیا۔ یہی وجہ تھی کہ جب جنگِ موتہ سے لڑنے والے مجاہدین مدینہ منورہ میں داخل ہوئے اور کچھ مسلمانوں نے انہیں "میدان سے بھاگ آنے والے" کا طعنہ دیا تو حضور ﷺ نے اس کی تردید کی اور اپنے غازیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا: "تم بھاگنے والے نہیں، ان شاء اللہ تعالیٰ پلٹ کر حملہ کرنے والے ہو۔"

معرکہ ذات السلاسل:

        جنگِ موتہ کے بعد حضور ﷺ نے عمرو بن العاصؓ کی کمان میں تین سو افراد کا ایک دستہ شمال میں قبیلہ قضاعہ کو تنبیہ کے لیے بھیجا؛ کیوں کہ جنگِ موتہ میں مسلمانوں کی پسپائی کے بعد یہ لوگ رومیوں کی طرف مائل ہو رہے تھے۔ عمرو بن العاصؓ کے ذمے تھا کہ وہ انہیں دوبارہ مسلمانوں کی حمایت اور اہل شام کی مخالفت پر قائم کردیں۔ عمرو بن العاصؓ کی دادی کا نسلی تعلق یہاں آباد قبائل سے تھا، اس لیے وہ یہ کام اچھی طرح کر سکتے تھے۔ انہوں نے "سلاسل" نامی چشمے کے قریب پہنچ کر دشمن کی طاقت کا اندازہ کیا اور کمک طلب کی جو حضور ﷺ نے ابو عبیدہ بن الجراحؓ کی قیادت میں روانہ فرمائی۔ اس مہم کے ذریعے شمال میں مسلمانوں کا رعب دوبارہ قائم ہوگیا۔

قریش سے معاہدہ ٹوٹ گیا:

        قریش میں اب دم خم باقی نہیں رہا تھا، خیبر کی فتح کے بعد وہ اپنے حلیف یہودیوں کی مدد سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوگئے تھے، منافقین بھی دب گئے تھے اور ان سے قریش کو کوئی مدد نہیں مل سکتی تھی۔ صرف حدیبیہ کا معاہدہ مکہ پر مسلمانوں کی یلغار میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ مگر کچھ دنوں بعد قریش کی اپنی ایک غلطی سے یہ معاہدہ بھی سبوتاژ ہوگیا۔

        ہوا یہ کہ صلح حدیبیہ میں شامل قریش کے اتحادی قبیلے بنوبکر نے ریاست مدینہ کے اتحادی قبیلے بنوخزاعہ پر حملہ کردیا، حالانکہ صلح نامے میں دس سالہ جنگ بندی کی شرط طے تھی، لہٰذا ایسی کسی کارروائی کی کوئی گنجائش نہیں نکلتی تھی۔ طرہ یہ کہ قریش نے اس ناروا کارروائی میں نہ صرف بنوبکر کو ہتھیار مہیا کیے بلکہ کئی قریشی رئیس اپنے آدمیوں سمیت اس حملے میں شریک ہوئے اور بنو خزاعہ کا بہیمانہ قتل عام کیا، جب وہ پناہ لینے کے لیے حرم میں داخل ہوئے تو وہاں بھی ان کی جان بخشی نہ کی گئی۔ بنو خزاعہ کے ایک مظلوم سالم بن عمرو نے حضور ﷺ کو اس ظلم و ستم کی داستان سنائی تو آپ ﷺ نے فرمایا:

        "تمہاری مدد ضرور کی جائے گی۔"

        اب وقت آ گیا تھا کہ مسلمان قریش کی جھوٹی نخوت کو خاک میں ملاتے ہوئے مکہ میں فاتحانہ طور پر داخل ہوں اور کعبہ کو شرک کی آلودگی سے پاک کرکے اسے پہلے کی طرح توحید کا مرکز بنائیں۔ تاہم کسی حتمی کارروائی سے پہلے حضور اکرم ﷺ نے قریش کے پاس قاصد بھیج کر مطالبہ کیا کہ بنو خزاعہ کے مقتولین کا خون بہا ادا کریں یا بنوبکر پر حملہ کرنے والوں سے لاتعلقی کا اعلان کریں۔ اگر ان میں سے کوئی بات بھی منظور نہ ہو تو پھر حدیبیہ کا معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کریں۔ قریش نے غرور میں آ کر حضور ﷺ کے قاصد کو جواب دیا کہ ہمیں معاہدہ ختم کردینا منظور ہے۔
        
        جب قاصد یہ جواب لے کر واپس چلا گیا تب قریش کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ انہوں نے فوراً ابوسفیان کو مدینہ روانہ کیا تاکہ معاہدے کی تجدید کرا لی جائے۔ مدینہ پہنچ کر پہلے وہ حضور ﷺ کے دولت کدہ پر اپنی بیٹی اُم المؤمنین حضرت اُم حبیبہؓ کے گھر گئے، حضور ﷺ گھر پر موجود نہ تھے۔ وہ حضور اکرم ﷺ کے بستر پر بیٹھنے لگے مگر حضرت اُم حبیبہؓ نے انہیں روک دیا۔ وہ حیران ہوکر بولے: "میں اس بستر کے لائق نہیں یا بستر میرے لائق نہیں؟"

        وہ بولیں: "یہ حضور ﷺ کا بستر ہے، آپ مشرک ہونے کی وجہ سے ناپاک ہیں، مجھے گوارا نہیں کہ آپ اس پر بیٹھیں۔" ابوسفیان یہ کہتے ہوئے وہاں سے نکل آئے کہ "بیٹی! ہم سے دور ہوکر تم بالکل بدل گئی ہو۔"

        اس پریشانی کے عالم میں حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے اور صلح برقرار رکھنے کی درخواست کی۔ آپ ﷺ نے کوئی جواب نہ دیا۔ مایوس ہوکر ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ سے ملے مگر کہیں بھی بات نہ بنی اور انہیں ناکام واپس آنا پڑا۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic