عمرۂ قضا
ذوالقعدہ 7ھ میں آنحضرت ﷺ قریش سے گزشتہ سال کیے گئے معاہدے کے مطابق عمرۂ قضا کے لیے مکہ تشریف لے گئے۔ یکم ذوالقعدہ کو روانگی ہوئی جس میں وہی لگ بھگ چودہ سو صحابہؓ ہم رکاب تھے جو گزشتہ سال بیعتِ رضوان میں شریک تھے۔ حضور ﷺ نے کسی ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر جنگی ساز و سامان یعنی خَود، زرہیں اور نیزے وغیرہ ساتھ رکھے تھے مگر مکہ میں داخلے سے قبل حسبِ معاہدہ یہ سامانِ حرب سو مجاہدین کی نگرانی میں وادیِ یأجج میں رکھوا دیا۔
اس دن عبداللہ بن رواحہؓ رسول اللہ ﷺ کی سواری کے آگے آگے یہ شعر پڑھتے جا رہے تھے:
خَلُّوْا بَنِی الْکُفَّارِ عَنْ سَبِیْلِہِ .... اَلْیَوْمَ نَضْرِبُکُمْ عَلٰی تَنْزِیْلِہِ
ضَرْبًا یُّزِیْلُ الْھَامَ عَنْ مَّقِیْلِہِ .... وَیُدْھِلُ الْخَلِیْلَ عَنْ خَلِیْلِہِ
(اے کافر زادو! حضور ﷺ کا راستہ خالی کر دو... آج ان کی تشریف آوری کے موقع پر ہم تم پر وار کریں گے۔ ایسا وار جو کھوپڑیوں کو گردنوں سے الگ کر دے... اور دوست کو دوست سے بیگانہ کردے۔)
حضرت عمرؓ نے انہیں ایسے اشعار پڑھتے ہوئے دیکھا تو اعتراض کے طور پر کہا:
"رسول اللہ کے سامنے اور اللہ کے حرم میں ایسے اشعار پڑھتے ہو؟"
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اے عمر! جانے دو۔ یقیناً یہ اشعار مشرکین پر تیروں سے سریع الاثر ہیں۔"
قریش اپنے گھروں کو چھوڑ کر کوہِ قُعَیْقِعَان پر چلے گئے، وہاں سے وہ مسجد الحرام میں مسلمانوں کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھ رہے تھے۔ حضور ﷺ نے صحابہ کرام کو چستی اور تندرستی کا اظہار کرنے کے لیے حکم دیا کہ وہ طواف کے ابتدائی تین چکروں میں تیزی سے چلیں۔ قریش جو گمان کر رہے تھے کہ مسلمان مدینہ جا کر بیمار رہنے لگے ہیں، یہ دیکھ کر بولے: "یہ لوگ تو زیادہ چاق و چوبند ہوگئے ہیں۔" تیسرے دن کفار نے حضرت علیؓ سے کہا: "اپنے آقا سے کہہ دو کہ یہاں سے نکل جائیں، آج میعاد پوری ہورہی ہے۔"
حضور ﷺ نے حسبِ وعدہ مکہ سے نکلنے کی تیاری کی۔ مکہ میں کچھ مجبور مسلمان سخت پریشانی کی زندگی گزار رہے تھے۔ ان میں حضرت حمزہؓ کی اہلیہ ام عمارہ (سلمیٰ بنت عمیسؓ) اور بیٹی عمارہؓ بھی شامل تھیں۔ جب حضور ﷺ مکہ سے نکلنے لگے تو عمارہؓ "چچا جان! چچا جان!" کہتے ہوئے پیچھے پیچھے دوڑ پڑیں۔ حضور ﷺ نے انہیں اور ان کی والدہ کو ساتھ لے لیا۔ اس یتیم بچی کی کفالت کا شرف حاصل کرنے کے لیے حضرت علیؓ، حضرت جعفرؓ اور حضرت زید بن حارثہؓ باہم الجھ گئے۔ حضور ﷺ نے یہ دیکھ کر فرمایا: "خالہ ماں کی طرح ہوتی ہے۔" یہ کہہ کر حضرت جعفرؓ کو سرپرست مقرر کردیا، کیوں کہ ان کے نکاح میں بچی کی سگی خالہ اسماء بنت عمیسؓ تھیں۔
چونکہ کچھ مدت قبل صلح نامے کی وہ شقیں منسوخ کردی گئی تھیں جن کے تحت مکہ کے کسی مسلمان کا مدینہ جانا ممنوع تھا۔ اس لیے ان سب بے کسوں کو اپنے ساتھ لے جانے کی پوری گنجائش تھی۔
حضرت میمونہ بنت الحارثؓ سے نکاح:
مکہ میں حضرت عباسؓ، ان کے اہل وعیال اور بعض رشتہ دار سخت دباؤ کی زندگی گزار رہے تھے۔ اُم الفضل (زوجہ عباس بن عبدالمطلبؓ) کی چھوٹی بہن میمونہ بنت الحارثؓ بھی مکہ کے ان مجبور مسلمانوں میں سے ایک تھیں۔ ان کے شوہر کا انتقال ہوچکا تھا۔ وہ مدینہ جانا چاہتی تھیں مگر وہاں ان کا کوئی والی نہ تھا۔ ایسے میں حضور ﷺ کو، جو مکہ کے مجبور مسلمانوں کے حال سے واقف تھے، مناسب معلوم ہوا کہ میمونہؓ کو اپنی زوجیت میں لے لیا جائے۔ خانوادۂ عباس کی بھی خواہش تھی کہ رسول اللہ ﷺ سے رشتہ داری میں مزید اضافہ ہو۔ حضور ﷺ نے عمرے کے لیے روانگی سے پہلے ابورافعؓ اور اوس بن خولیؓ کو نکاح کے وکیل اور گواہ کے طور پر حضرت عباسؓ کے پاس بھیج دیا تھا۔ ادھر حضرت میمونہؓ حضرت عباسؓ کو اپنا ولی مقرر کرچکی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ کی جانب سے پیغامِ نکاح پہنچا تو حضرت میمونہؓ رضا مند ہوگئیں۔ حضرت عباسؓ نے ابورافعؓ اور اوس بن خولیؓ کی موجودگی میں نکاح پڑھا دیا۔عمرے سے واپسی میں رسول اللہ ﷺ نے مکہ سے نکل کر "سرِف" کے مقام پر پڑاؤ ڈال دیا۔ ابورافعؓ حضرت میمونہؓ کو یہاں لے آئے۔ رسمِ رخصتی انجام پائی اور حضور ﷺ مدینہ منورہ واپس تشریف لے آئے۔
حضرت زینبؓ بنت رسول اللہ ﷺ کا انتقال
عمرے سے واپسی پر سال 8ھ کا آغاز ایک المناک سانحے سے ہوا۔ رسول اللہ ﷺ کی بڑی صاحبزادی حضرت زینبؓ وفات پاگئیں۔ ان کے شوہر حضرت ابوالعاصؓ نے گزشتہ سال اسلام قبول کرکے مدینہ میں رہائش اختیار کی تھی۔ مگر دونوں ابھی ایک سال ہی ساتھ گزار پائے تھے کہ زینبؓ بیمار ہوئیں اور اللہ کو پیاری ہوگئیں۔ نبی اکرم ﷺ کو خبر ہوئی تو تجہیزوتکفین کے لیے ابوالعاصؓ کے گھر تشریف لائے۔ حضرت اُمِ ایمنؓ، حضرت سودہؓ اور حضرت اُمِ سلمہؓ نے غسل دیا۔ بیٹی کو قبر میں اتارتے وقت رسول اللہ ﷺ شدید رنجیدہ لگ رہے تھے۔ کچھ دیر بعد آپ کے چہرے سے اطمینان جھلکنے لگا۔ صحابہ کرامؓ کے دریافت کرنے پرآپ ﷺ نے فرمایا:"مجھے اپنی بچی کی کمزوری و ناتوانی کا خیال آرہا تھا۔ میں نے اللہ سے دعا کی کہ اسے قبر کی تنگی سے محفوظ رکھا جائے، دعا قبول کرلی گئی ہے۔ اس کے ساتھ آسان معاملے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔"

