Hazrat Ameer Muawia Ka Dor e Khilafat: Amn o Istahkam Ka Ahad

دورِ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ

عہدِ امن و استحکام

خاندان اور ابتدائی حالات

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ قریش کے خاندان، بنو امیہ کے نہایت باصلاحیت اور ہونہار فرد تھے۔ آپ کے والد حضرت ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ اور والدہ ہند بنتِ عتبہ رضی اللہ عنہا نے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا تھا جبکہ آپ اس سے پہلے سن ۷ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرۂ قضا کے وقت خفیہ طور پر مشرف بہ اسلام ہوچکے تھے۔ اس وقت ان کی عمر تقریباً اٹھارہ سال تھی۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی شخصیت باوقار اور مرعوب کن تھی۔ طویل قد و قامت اور گوری رنگت والے نہایت خوبصورت انسان تھے۔ بچپن ہی سے آپ رضی اللہ عنہ میں قیادت کے جوہر اتنے نمایاں تھے کہ قیافہ شناس لوگ سرِ راہ ایک نظر دیکھ کر بے اختیار کہہ اٹھتے تھے: "اللہ کی قسم یہ بچہ اپنی قوم کا رہنما بنے گا۔"


امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں:

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ قریش کے گنے چنے تعلیم یافتہ نوجوانوں میں شمار ہوتے تھے۔ فتح مکہ کے بعد وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب مقرر ہوئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان سے عرب رؤسا کے نام خطوط لکھواتے تھے اور وحی کی کتابت بھی کراتے تھے۔

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو تین سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب نصیب رہا اور بکثرت احادیث سننے اور نقل کرنے کا موقع ملا۔ ان سے ایک سو تریسٹھ (163) احادیث مروی ہیں۔

        حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمات سے خوش ہو کر دعائیں دیا کرتے تھے۔ ایک بار یہ دعا دی:

"اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَّهْدِيًّا وَّاهْدِ بِهٖ"
"اے اللہ! اسے ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا دے 
اور اس کے ذریعے ہدایت عام فرما۔"

        حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حیاتِ مبارکہ میں ایسے اشارے دے گئے تھے جن سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو اندازہ تھا کہ مستقبل میں مسلمانوں کی قیادت کی بھاری ذمہ داری ان کے کاندھوں پر آئے گی۔ ایک بار آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: "معاویہ! اگر تمہیں حکومت کا ذمہ دار بنایا جائے تو اللہ سے ڈرتے رہنا اور عدل و انصاف سے کام لینا"۔

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: "حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سے (جو بلاشبہ ایک  پیش گوئی تھی) مجھے برابر یہ خیال رہا کہ مجھے حکومت کی آزمائش میں ضرور مبتلا کیا جائے گا اور آخر مجھے اس ذمہ داری سے سابقہ پڑ کر رہا۔"

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد:

        حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے بڑے بھائی یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے ساتھ شام کی فتوحات میں شریک رہے اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

        شام کی فتح مکمل ہونے پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یزید بن ابی سفیان اور ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہما کو اس سرزمین میں اپنا نائب مقرر کیا۔ یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی نگاہِ انتخاب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر پڑی جو صلاحیتوں میں اپنے تمام بھائیوں سے ممتاز تھے۔ انہیں شام جیسی اہم ترین سرحد کا امیر بنانا جہاں ہر لمحے رومیوں کے حملے کا خطرہ موجود رہتا تھا، ان پر مکمل اعتماد کا ثبوت تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں اسلام کے اس جرنیل نے سمندری جہاد شروع کیا، رومیوں کو ناکوں چنے چبوائے اور متعدد علاقے فتح کیے۔

        صلح ہو یا جنگ، آپ ہر حال میں شرعِ اسلامی کے پابند تھے۔ ایک بار آپ کا رومیوں سے صلح کا معاہدہ چل رہا تھا، اس دوران آپ نے فوج کو سرحد پر جمع کر لیا اور صلح کی مدت ختم ہوتے ہی فوج کو دشمن کے علاقے میں داخل کر دیا۔ اتنے میں ایک صحابی حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ تیزی سے آئے اور کہا: "عہد کی خلاف ورزی مومن کا شیوہ نہیں۔" پھر یہ حدیث یاد دلائی: "جب دو قوموں میں صلح کا معاہدہ ہو تو کوئی فریق اسے نہ توڑے"۔ یعنی اس دوران صلح کے خلاف کوئی کام نہ کرے۔ مقصد یہ تھا کہ جنگ بندی کے دوران فوج جمع کر کے حملے کی تاک میں رہنا اور مدت ختم ہوتے ہی سرحدی خلاف ورزی کرنا درست نہیں۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ سنتے ہی فوراً افواج کو واپسی کا حکم دے دیا اور جو علاقے فتح کیے تھے، انہیں خالی کر دیا۔

        آئینِ الٰہی کی پابندی کی ایسی مثال صحابہ کرام ہی کے ہاں مل سکتی ہے۔

صحابہ کا آپ پر اعتماد:

        خلفائے راشدین اور فضلاءِ صحابہ کو آپ کی صلاحیتوں پر نہ صرف پورا اعتماد تھا بلکہ آپ کا اندازِ سیاست دیکھ کر وہ داد دیا کرتے تھے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:

        "تمہیں قیصر و کسریٰ کی سیاست کے تذکرے کی کیا ضرورت، جبکہ تمہارے درمیان معاویہ موجود ہیں"۔

        عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: "میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر امورِ سیاست کا ماہر اور کوئی نہیں دیکھا۔"

دورِ خلافت کا آغاز

        جمادی الاولیٰ سن ۴۱ ہجری میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ مسندِ حکومت پر بیٹھے تو عالمِ اسلام میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ امتِ مسلمہ برسوں کی بحرانی کیفیت سے نکل آئی اور ان اسلام دشمن طاقتوں کو جو مسلمانوں کے سیاسی انتشار سے خوش تھیں، سخت مایوسی کا سامنا ہوا۔ مخلص مسلمانوں کے تمام طبقات سیاسی لحاظ سے یکجا ہو گئے۔ دمشق پہلی بار مسلمانوں کا دارالخلافہ بنا۔ اس کے بعد تقریباً ایک صدی تک مرکزِ خلافت شام میں رہا۔

        حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت مخلص مسلمان دوبارہ دو طبقوں میں بٹے ہوئے تھے: پہلا طبقہ شام والوں کا تھا، جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا وفادار تھا۔ دوسرا طبقہ عراق کے مسلمانوں کا تھا جو حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے  بیعت کر چکے تھے کہ آپ جس سے صلح کریں گے، ہم بھی اس سے صلح کر لیں گے۔

        ان کے علاوہ غیر جانبدار بھی کثرت سے  تھے جن میں حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت سعید بن زید، حضرت محمد بن مسلمہ، اسامہ بن زید، سلمہ ابن اکوع، عبداللہ بن عمر، ابو موسیٰ اشعری اور حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم جیسے حضرات شامل تھے۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں خلافت کا منصب چھوڑ دیا تو عراق کے مخلص مسلمانوں نے بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے  بیعت کر لی۔ ان میں حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ جیسے اکابر بھی تھے۔ غیر جانبدار اکابر نے عوام و خواص کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت پر متفق دیکھا تو انہوں نے بھی  بیعت کر لی۔ اس لیے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی مسند نشینی کے سال کو 'عام الجماعت' (اجتماعیت اور اتحاد کا سال) کہا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکمرانی خیر و برکت کا باعث ہوئی۔

        یہ درست ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے  بیعت نہ کرنا اور شام پر اپنی آزاد حکومت قائم رکھنا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خطائے اجتہادی تھی مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے جانشین حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے جب انہیں حکومت سپرد کر دی تو اس کے بعد انہیں بلاشبہ شرعی حکمران کی حیثیت مل گئی تھی۔

شدت پسندوں کے بارے میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا طرزِ عمل:

        ایسے کچھ لوگ اس وقت بھی موجود تھے جو درحقیقت شعوری یا غیر شعوری طور پر طاغوتی عناصر کے ہاتھوں مسلمانوں کو لڑانے کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔ یہ تین گروہ تھے:

        1۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بغاوت کرنے والے۔

        2۔ خارجی ذہنیت رکھنے والے تشدد پسند مزاج لوگ جو اپنے سوا کسی کو مسلمان نہیں مانتے تھے۔

        3۔ شام کے شدت پسند اموی و مروانی جو قبائلی عصبیت کا شکار تھے۔

        اہلِ شام کے تمام گروہ بلا استثناء پہلے ہی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کرنے والوں نے جن میں سبائی بھی گھلے ملے تھے، بادلِ نخواستہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے  بیعت کر لی تھی تاکہ خود کو محفوظ رکھیں۔ خوارج نے بھی ایسا ہی کیا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بڑی حکمتِ عملی کے ساتھ ان سب کو سنبھالا۔ تحمل، بردباری اور حسنِ تدبیر کے ساتھ انہیں اعتدال پر لانے کی کوشش کی اور بلا ضرورت سختی سے اجتناب کیا۔

        خوارج نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے شکست کھا کر اپنی عسکری طاقت کھو دی تھی، مگر اب اندر ہی اندر وہ دوبارہ منظم ہو رہے تھے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے عام لوگوں پر ہاتھ نہ ڈالا مگر ان میں سے جو لاقانونیت اور کھلی شر انگیزی کے مرتکب ہوئے انہیں لگام دینے میں دیر نہ کی۔ یہی معاملہ سبائیوں کے ساتھ کیا گیا۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic