عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم کی ضرورت اور اہمیت: ایک اہم فکری تجزیہ

عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم بھی ضروری ہے

        ہمارے دانش ور طبقہ کو کبھی بھول کر بھی یہ خیال نہیں آتا کہ نونہالانِ قوم کو عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم بھی دینی چاہیے، اس کے برعکس وہ اس نہج پر ضرور سوچتے ہیں کہ طلبہ مدارس کے لیے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی ضروری ہے۔ اس موضوع پر اتنا کچھ لکھا گیا ہے کہ اب اخبارات میں صرف اسی کی صدائے بازگشت سنائی دیتی ہے، عصری تعلیم گاہوں کی کوئی بات بھی نہیں کرتا۔ بلا شبہ دینی تعلیم کے ساتھ اگر کچھ ضروری تعلیم عصریات کی بھی ہو جائے تو ہمارے دینی مدارس دین و دُنیا کے اس امتزاج کے ساتھ زیادہ بہتر انداز میں خدمت کر سکتے ہیں۔


         لیکن مدارس کی اصلاح کے چکر میں پڑ کر ہمیں ان بچوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے جو محض دنیوی تعلیم میں لگے ہوئے ہیں اور انہیں یا ان کے سرپرستوں، یا ان کے ٹیچروں کو کبھی بھول کر بھی یہ خیال نہیں آتا کہ ہمارے بچوں کو دین کا اتنا علم ضرور ہونا چاہیے جو انہیں اچھے تعلیم یافتہ انسان کے ساتھ ساتھ اچھا مسلمان بھی بنا سکے۔ اس وقت اخبارات میں ہائی اسکول اور انٹر میڈیٹ کے سالانہ نتائج پر کافی کچھ آ رہا ہے۔ جو بچے اپنے شہروں میں یا قصبوں میں امتیازی نمبرات سے کامیاب ہوئے ہیں ان کے فوٹو چھپ رہے ہیں، انٹرویو شائع کیے جا رہے ہیں، ہر طرف خوشی کا ماحول ہے۔ جن اسکولوں اور کالجوں کا رزلٹ اچھا رہا ہے ان کی کوششوں کو خوب سراہا جا رہا ہے، اور جن اسکولوں کا رزلٹ مایوس کن رہا ہے ان پر تنقید کے نشتر بھی چل رہے ہیں۔ پوری قوم عصری تعلیم کے نشہ میں سرشار ہے، جو کچھ ہورہا ہے، بہت اچھا ہورہا ہے، لگتا ہے عصری تعلیم کے تئیں قوم  بیدار ہوچلی ہے۔ یقینی طور پر قوم کو انجینئروں کی، ڈاکٹروں کی اور دوسرے ماہرین کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت عصری تعلیم گاہوں سے ہی پوری ہوسکتی ہے۔ ملت میں عصری تعلیم کے تئیں زبردست  بیداری آئی ہے، یہ بڑی خوش آئند بات ہے اس کی جتنی بھی پذیرائی کی جائے کم ہے، مگر یہاں کچھ ایسے پہلو بھی ہیں جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

        عصری تعلیم کے شور میں دین کا پہلو نگاہوں سے اوجھل ہوتا جارہا ہے، یہ ایسا نقصان ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔ آج ڈاکٹروں، انجینئروں اور دوسرے  پیشہ وروں کی ایسی ٹیم تیار ہورہی ہے جو صرف نام کے مسلمان ہیں۔ یہ ان کا قصور نہیں ہے، قصور اس نظامِ تعلیم کا ہے جس نے ان کا راستہ غیر محسوس طریقہ سے الگ کر دیا ہے۔ بچے کی  پیدائش کے بعد سے ہی ماں باپ کو یہ فکر ستانے لگتی ہے کہ ان کا بچہ اس نظامِ تعلیم میں کہاں اور کس طرح فٹ ہوگا؟ کیوں کہ وہ یہ بات جانتے ہیں کہ اگر اس کے لیے ابھی سے جدوجہد نہ کی گئی تو وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گا۔ اس فکر نے ماں باپ کو ان کے اس فرض سے غافل کر دیا ہے کہ وہ اپنے بچہ کو ایک اچھا مسلمان بنانے کی سعی پیہم بھی کریں۔

         بچہ ابھی ٹھیک سے ہوش بھی نہیں سنبھالتا کہ اسے انگلش میڈیم اسکول میں داخل کر دیا جاتا ہے، اس اسکول سے وہ بہترین انگریزی بولتا ہوا نکلتا ہے ہندو اور عیسائی مذہب کے متعلق اسے بہت سی باتیں معلوم ہو جاتی ہیں لیکن وہ اپنے مذہب سے قطعی بے گانہ رہتا ہے، ماں باپ یہ سوچ کر خوش ہوتے رہتے ہیں کہ ہمارے بچے نے ترقی کی شاہراہ پر قدم بڑھا دیے ہیں، ان بیچاروں کو یہ معلوم نہیں کہ ترقی کا یہ صرف ایک رُخ ہے، یقیناً ان کا بچہ بڑا ہو کر اچھا پیشہ ور انسان ضرور بنے گا اور لاکھوں کما کر گھر بھر دے گا، لیکن اس کے دل کی دُنیا دین جیسی بیش قیمت متاع زندگی سے خالی رہ گئی ہے اسے کون پُر کرے گا؟

        مسلمان اور دین دونوں لازم اور ملزوم ہیں۔ دین کا ایک علم تو وہ ہے جو مکمل نظام کے ساتھ اسلامی مدارس میں جاری ہے، جہاں مفسر، محدث اور فقیہ  پیدا کیے جاتے ہیں۔ یقیناً یہ بڑا کام ہے اور اُمت کو دینی رہنمائی کے لیے ماہر علماء کی سخت ضرورت ہے، مگر یہ ضرورت ایک محدود تعداد پر ختم بھی ہوسکتی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے قوم کو میڈیسن، انجینئرنگ اور لاء وغیرہ کے شعبوں میں ماہرین کی ضرورت ہے، مگر یہ ضرورت اس وقت پوری ہوسکتی ہے جب ایک معقول تعداد ان ماہرین کی پیدا ہو جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح قوم کے ہر فرد کا ڈاکٹر یا انجینئر بننا ضروری نہیں ہے اسی طرح قوم کے ہر فرد کا محدث، فقیہ اور مفسر بننا بھی ضروری نہیں ہے۔

         لیکن بعض چیزیں ایسی بھی ہیں جو ہر شخص کے لیے ضروری ہیں، مثال کے طور پر ایک اچھا شہری بننے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ملک کا قانون کن اُمور کو صحیح اور کن اُمور کو غلط کہتا ہے، نہ صرف جاننا ضروری ہے بلکہ صحیح اُمور پر چلنا اور غلط اُمور سے بچنا بھی ضروری ہے۔ ملک کا قانون ہمیں فتنہ و فساد اور شر انگیزی سے روکتا ہے اور پُر امن بقائے باہم کے اُصول پر زندگی گزارنے کی ہدایت کرتا ہے۔ اس صورت میں ہمارے لیے لازم ہے کہ ہم ملکی قوانین پر عمل کرتے ہوئے ایسے کام سے بچیں جس سے معاشرہ میں فتنہ و فساد پھیلتا ہو اور ہر وہ کام کریں جس سے امن و امان کو فروغ ملتا ہو۔

             اسی طرح ہمیں یہ جاننے کی بھی ضرورت ہے کہ ایک اچھا مسلمان بننے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے، کن چیزوں کو اختیار کرنا چاہیے اور کن چیزوں سے اجتناب کرنا چاہیے، یہ وہ ضرورت ہے جس کا اظہار اس حدیث شریف میں کیا گیا ہے "طلب العلم فريضة على كل مسلم" (ابن ماجہ / ۱۸ حدیث نمبر ۲۲۴) "علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس علم کو جس کا اس حدیث میں ذکر ہے اگر ہم ان علوم پر محمول کریں جو مدارسِ اسلامیہ میں پڑھائے جارہے ہیں تو یہ بات نا قابلِ فہم ہے کہ ان علوم کا حصول تمام مسلمانوں پر فرض کر دیا جائے ۔

         اگر دُنیوی علوم مراد لیں جیسا کہ بعض لوگ "اطلبوا العلم ولو كان بالصين"، "علم حاصل کرو اگرچہ چین جانا پڑے"، جیسی ضعیف احادیث سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ جدید علوم کا حصول بھی فرض کے درجہ میں ہے، کیوں کہ حدیث شریف میں چین جانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے اور چین نہ پہلے علومِ دینیہ کا مرکز تھا اور نہ آج ہے، وہ اُس زمانہ میں بھی ٹکنالوجی کا مرکز تھا اور آج بھی ہے، اس سے ثابت ہوا کہ اسلام میں جدید علوم کے حصول کو بھی لازم قرار دیا گیا ہے، یہ دعویٰ بھی غلط ہے اور استدلال بھی، دعویٰ تو اس لیے غلط ہے کہ جدید علوم کا حصول سب کے لیے یکساں طور پر ضروری نہیں ہوسکتا اور نہ یہ ممکن ہے کہ سب لوگ ایک ہی راستہ کے مسافر بن جائیں، اس طرح تو زندگی کا سفر رُک سکتا ہے۔ استدلال اس لیے غلط ہے کہ اگر حدیث کے ضعف کو نظر انداز بھی کر دیا جائے تب بھی چین اصل میں دُوری کی علامت ہے، منشائے حدیث یہ ہے کہ علم حاصل کرو اگرچہ اس کے لیے کتنی ہی دور کیوں نہ جانا پڑے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض علوم وہ بھی ہیں جو بلا استثناء سب پر فرض ہیں اور ان کے حصول کے لیے جدوجہد کرنا بھی فرض کے درجہ میں ہے، ہم ان علوم کو دین کی بنیادی تعلیمات سے تعبیر کر سکتے ہیں۔

        قوم کے نوجوان ترقی کی شاہراہ پر تو آگے بڑھ رہے ہیں مگر دین کے راستہ سے دور ہوتے جا رہے ہیں، کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ ہمارے بچے اس طرح آگے بڑھیں کہ وہ پکے سچے مسلمان بھی ہوں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ شہری بھی! اس کے لیے والدین کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو بھی غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے جو تعلیم کے میدان میں کام کر رہے ہیں۔ بچہ  پیدا ہو تو جس طرح آپ کو یہ فکر ہوتی ہے کہ ہمارا بچہ کس مشہور و معروف اور اعلیٰ معیار کے حامل اسکول میں تعلیم حاصل کرے گا؟

         اسی کے ساتھ آپ کو یہ فکر بھی ہونی چاہیے کہ آپ کا بچہ دین دار کیسے بنے گا؟ یاد رکھیے اعلیٰ تعلیم یافتہ انسان بننے میں اور دین دار بننے میں کوئی تضاد نہیں ہے، ایک بچہ دین داری کے ساتھ دُنیا داری کے تقاضے بھی پورے کر سکتا ہے، اس کی کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، لیکن وہ اتنی کم ہیں کہ ہم انہیں قابلِ تقلید نمونہ تو کہہ سکتے ہیں مگر ان پر قناعت نہیں کر سکتے، ان مثالوں کو عام کرنے کے لیے تعلیمی نظام میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔

        اس وقت ملت کے سامنے سب سے اہم کام یہ ہے کہ مسلمان نرسری اسکولوں سے لے کر کالج کی سطح تک تمام ادارے اپنے قائم کریں، پھر ان اداروں میں دینیات کو لازمی مضمون کی حیثیت سے اختیار کریں۔ اگر بچے کو نرسری سے لے کر کالج کی سطح تک دینی تعلیم دی جاتی رہی تو جس وقت وہ عملی زندگی میں قدم رکھے گا ہر اعتبار سے مکمل انسان ہوگا، ایک ایسا انسان جس کے اندر تعلیمی صلاحیت بھی ہوگی، تہذیبی شعور بھی ہوگا اور دین کی سمجھ بھی، یہ نوجوان نہ صرف اپنے والدین کے لیے دُنیا و آخرت میں متاعِ گراں مایہ ثابت ہوگا بلکہ قوم و ملت کے لیے بھی باعثِ افتخار بنے گا۔

        عصری علوم کے مدارس میں یہ غلط فہمی پھیلی ہوئی ہے کہ اگر ان میں مذہبی تعلیم دی جائے گی تو حکومت ان کو جو مالی تعاون دیتی ہے وہ بند ہو جائے گا اور ہوسکتا ہے ان اداروں کی منظوری بھی ختم ہو جائے، یہ بڑی غلط فہمی ہے، دستورِ ہند کے آرٹیکل ۲۸ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ایسے تعلیمی ادارے جنہیں اقلیتیں چلا رہی ہیں اور جو حکومت سے منظور شدہ ہیں اور جنہیں حکومت کی امداد مل رہی ہے ان میں مذہبی تعلیم دی جاسکتی ہے۔ 

        یہاں یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ اقلیتوں کو اپنے اداروں میں مخلوط تعلیم سے حتی الامکان بچنا چاہیے۔ مخلوط تعلیم اس دور کا وہ فتنہ ہے جس نے معاشرہ کو اخلاقی اعتبار سے تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ آج جدید تعلیم یافتہ معاشرہ میں جس قدر برائیاں عام ہیں وہ ان ہی دو چیزوں کی وجہ سے ہیں، ایک دینی تعلیم سے دُوری اور دوسرے طلبہ و طالبات کا آزادانہ اختلاط و میل جول! ہم دینی تعلیم کو اپنے اداروں کے نصابِ تعلیم کا لازمی جز بنا کر اور مخلوط تعلیم سے دُور رہ کر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے میں کامیاب ہو سکتے ہیں جو ایک طرف جدید تعلیم یافتہ بھی ہوا اور دوسری طرف اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے والا بھی!

        یہ وقت تعلیمی سرگرمیوں کے آغاز کا زمانہ ہے، کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہمارے بچے ایسے ماحول میں تعلیم حاصل کریں جو دین کی آمیزش سے تیار کیا گیا ہو۔ اگر کسی جگہ اسکولوں اور کالجوں میں یہ ماحول میسر نہیں آتا تو گھر کی فضاؤں میں یہ ماحول بنانا ضروری ہے۔ اگر بچے اس ماحول سے محروم رہ گئے تو وہ آپ کی خواہش کے مطابق اچھے ڈاکٹر یا انجینئر یا قانون داں یا اکاؤنٹینٹ تو بن جائیں گے مگر اچھے مسلمان نہ بن سکیں گے! اور اس کی تمام تر ذمہ داری آپ پر ہوگی! والدین کی حیثیت سے آپ اس ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہو سکتے اور نہ آخرت کی جواب دہی سے دامن بچا سکتے ہیں!

        ہمارے ملک میں مسئلہ صرف یہی نہیں ہے کہ عربی مدارس کے نصابِ تعلیم کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جائے، مسئلہ یہ بھی ہے کہ عصری تعلیم کے اداروں کے نصابِ تعلیم کو بھی دینی تقاضوں سے مربوط کیا جائے، دونوں ہی مسئلے اہم ہیں دونوں پر بہ یک وقت توجہ دینے کی ضرورت ہے، اگر مدارس میں عصری علوم کی شمولیت پر علماء اور ذمہ دارانِ مدارس کو غور کرنا چاہیے تو عصری تعلیم گاہوں میں دینی علوم کے اضافے کے موضوع پر دانش وروں اور ماہرینِ تعلیم کو بھی توجہ دینی چاہیے۔

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic