Khilafat e Hazrat Hasan Ibn Ali aur Sulah e Ummat ka Tareekhi Waqia

خلافت حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما

        اگر چہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کسی جانشین کا تقرر کر کے نہیں گئے تھے مگر ان کی شہادت کے بعد عالم اسلام میں ان کے صاحبزادے حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے زیادہ برگزیدہ اور عالی نسب شخصیت اور کوئی نہ تھی۔

        حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اس نواسے سے اس قدر محبت تھی کہ کئی موا قع پر فرمایا : ”اے اللہ! میں حسن سے محبت کرتا ہوں  تو بھی اس سے محبت فرما اور اُس سے بھی محبت فرما جو حسن سے محبت کرے۔“


        صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فرماتے تھے کہ : حضرت حسن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ تھے۔

        اُمت کو ہادی برحق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی بھی یاد تھی :

        ”میرا یہ بیٹا سردار ہے۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی بدولت مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں صلح کرا دے۔“

        چنانچہ اکابر کوفہ کو توقع تھی کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت مسلمانوں کے لیے بڑی بابرکت ثابت ہوگی، اس لیے وہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے  بیعت پر فوراً متفق ہو گئے۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے ان کی فرمائش پر پہلے تو سکوت اختیار کیا مگر پھر امت کی مصلحت دیکھتے ہوئے انہیں بیعت فرمانے لگے۔ سب سے پہلے حضرت قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے  بیعت کی۔ جو افواجِ کوفہ کے سپہ سالار تھے۔

        حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالنے کے بعد جو پہلا خطاب کیا، اس کے ایک ایک لفظ سے عیاں تھا کہ وہ اُمتِ مسلمہ کے نہایت خیر خواہ اور اقتدار کے لیے خون بہانے سے سخت نالاں تھے۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نقل کرتے ہیں :

        ”حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قتل کے بعد لوگ مدائن میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہوئے تو حضرت حسن رضی اللہ عنہ  نے  لوگوں سے خطاب کیا۔ اللہ کی حمد وثنا بیان کی۔ پھر فرمایا : ”جو کچھ ہونے والا ہے، وہ بہت قریب ہے۔ اور بے شک اللہ کا فیصلہ نافذ ہو کر رہے گا چاہے لوگ اسے ناپسند کریں۔ اللہ کی قسم ! جب سے میں نے نفع دینے اور نقصان پہنچانے والے کاموں میں فرق سمجھا ہے، تب سے مجھے ہرگز یہ پسند نہیں کہ میں  محمد  صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے رائی برابر ایسے کام کا ذمہ دار بنوں، جس میں کسی کا ایک قطرہ خون بھی بہے۔“

کیا حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے ڈر کر صلح کی؟

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ایلیاء (بیت المقدس) میں اہل شام سے اپنی خلافت کی بیعت لے لی تھی اور انہیں اب ”امیر المومنین“ کہا جانے لگا تھا۔

        عالم اسلام کی سیاست میں یہ ایک نئی تبدیلی تھی کیوں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زندگی میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے خلافت کا دعویٰ نہیں کیا تھا بلکہ وہ صرف ”امیر“ کہلاتے تھے۔

خلافت کے دو دعوے داروں کی موجودگی میں متحد ہ خلافت کے احیاء کی تین صورتیں تھیں :

        (۱)شامی حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لیتے۔ 
        (۲)شامیوں سے لڑ کر انہیں ایک خلافت کے تحت لانے کی کوشش  کی جاتی۔ 
        (۳) منصبِ خلافت کو ترک کر کے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مان لیا جاتا۔

        شامیوں نے بیعت کرنا ہوتی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی کی کر لیتے، اس لیے پہلی صورت تو ممکن ہی نہ تھی۔ اب حضرت  حسن رضی اللہ عنہ کی بہت بڑی آزمائش تھی کہ وہ اس نازک وقت میں کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ ایسے میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے طے کیا کہ وہ اُمت کو متحد کرنے کے لیے اپنے اقتدار کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کریں گے۔اس فیصلے میں کسی  کمزوری یا بزدلی کا دخل نہیں تھا۔ صحیح روایات کے مطابق حضرت حسن رضی اللہ عنہ پوری طرح با اختیار اور طاقتور ہونے کے باوجود یہ حکمتِ عملی اختیار کر رہے تھے۔ جو روایات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے اپنی افواج کی کمزوری اور سرکشی سے بددل ہو کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کا فیصلہ کیا تھا، وہ ضعیف راویوں کی ہیں۔ ہاں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی  فوج میں بعض جذباتی لوگ ایسے ضرور تھے جو اہل شام سے صلح کو پسند نہیں کرتے تھے مگر یہ لوگ معاملات پر غالب نہیں    تھے۔ غالب طبقہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے پکے وفاداروں ہی کا تھا، جن کی تعداد ہزاروں لاکھوں میں تھی۔

        حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے شروع میں اپنے لائحہ عمل کا اظہار نہیں کیا تا کہ یکدم کوئی مخالف آواز بلند نہ ہونے پائے بلکہ  احتیاطاً آپ نے  بیعت لیتے ہوئے لوگوں سے یہ شرط لی: ”تم میری بات سنو گے اور مانو گے، جس سے میں صلح کروں اس سے صلح کرو گے، جس سے میں لڑوں تم اس سے لڑو گے۔“

        عراقی سپاہیوں کا وہ گروہ جو اہل شام سے صلح کے حق میں نہیں تھا، بیعت کے ان الفاظ پر بڑا سٹپٹایا اور کہنے لگا :
        ”حضرت حسن ہمارے مطلب کے آدمی نہیں، یہ تو لڑائی چاہتے ہی نہیں۔“

حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی اصول پسندی اور ابن ملجم کا قتل:

        حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قاتل عبدالرحمن بن ملجم کو سزا کے لیے سامنے لایا گیا۔ اس نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے کہا:

        ”حسن ! کیا آپ ایک  پیش کش پر غور کریں گے؟ خدا کی قسم ! میں نے جب بھی اللہ سے کوئی عہد کیا ہے، اسے نبھا کر چھوڑا ہے، میں نے حطیمِ کعبہ میں اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ میں علی اور معاویہ دونوں کو قتل کروں گا یا خود مارا جاؤں گا۔ اب اگر آپ پسند کریں تو مجھے موقع دیں کہ میں معاویہ کو نمٹادوں، پھر اگر میں بچ نکلا تو واپس آ کر خود کو آپ کے حوالے کر دوں گا۔“

        مگر حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے انکار کر کے اس کے لیے سزائے موت کا حکم جاری کیا، چنانچہ اسے قتل کر دیا گیا۔

حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا اعلانِ صلح اور شرپسندوں کی مخالفت:

        اس دوران حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو مراسلہ بھیج کر دعوت دی کہ وہ ان سے  بیعت کر لیں اور جو چاہیں مطالبہ منوالیں۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ اس پر آمادہ ہو گئے اور اپنے چچا زاد عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے کہا:

        ”میں نے کچھ سوچا ہے اور چاہتا ہوں کہ آپ اس میں میرا ساتھ دیں۔“

        عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا : ”کہیے ! کیا سوچا ہے؟“

        فرمایا : ”میں مدینہ چلا جاؤں اور حکومت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دوں۔ ہنگامے کے دن بہت طویل ہو چکے اور خون بہت بہہ چکا۔“

        عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے مکمل تائید کرتے ہوئے فرمایا : ”اللہ آپ کو پوری امت کی طرف سے جزائے خیر دے۔“

        اب حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بلوا کر اپنی رائے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے شروع میں اختلاف کیا مگر حضرت حسن رضی اللہ عنہ انہیں سمجھاتے رہے اور دلائل سے انہیں قائل کر لیا۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ بھی اس پر راضی ہو گئے۔

حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا اہلِ عراق سے خطاب اور شرپسندوں کی بدتمیزی:

        کچھ دنوں بعد حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے اہل عراق کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے اتحاد پر آمادہ کرنے کے لیے ”ساباط“ کے مقام پر جمع کیا اور جلسۂ عام میں تقریر کی۔ آپ نے نہایت دردمندانہ انداز میں فرمایا :

        ”میں آپ لوگوں کے حق میں ویسا ہی خیر خواہ ہوں جیسا اپنے لیے۔ میں نے ایک بات طے کر لی ہے۔ آپ میری  بات  کو مسترد نہ کریں۔ بلاشبہ امت کا متحد ہونا اس کے انتشار سے کہیں بہتر ہے۔“

        پھر فرمایا : ”مشرق سے مغرب تک آج میرے اور میرے بھائی کے سوا کوئی شخص ایسا نہیں جو کسی پیغمبر کا نواسا ہو۔ پھر بھی میری رائے یہ ہے کہ تم معاویہ پر متفق ہو جاؤ۔“

        ابھی آپ نے اتنا ہی کہا تھا کہ اردگرد موجود بہت سے لوگ جو خارجی اور سبائی رجحانات رکھتے تھے، یکدم بپھر گئے۔ اور بولے : ”حسن بھی اسی طرح کافر ہو گئے جیسے ان کا باپ۔“ ان میں سے کچھ آپ رضی اللہ عنہ پر ٹوٹ پڑے، کسی نے کندھے سے چادر اتاری۔ کسی نے پاؤں کے نیچے سے جائے نماز گھسیٹ لی، کچھ نے خیمے پر حملہ کر کے مال و متاع کو لوٹ لیا، یہاں تک کہ آپ کے قدموں کے نیچے سے قالین تک گھسیٹ کر لے گئے۔

حضرت حسن رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ:

        کچھ دنوں بعد حسن رضی اللہ عنہ مدائن جا رہے تھے۔ راستے میں ایک جگہ نماز پڑھا رہے تھے کہ انہی شرپسندوں میں سے کسی نے خنجر سے آپ پر حملہ کر دیا۔ اچانک حملے سے آپ کی ران پر زخم آ گیا۔ وفاداروں نے حملہ آور کو پکڑ کر قتل کر دیا۔

        آپ رضی اللہ عنہ مدائن کے قصر ابیض میں ٹھہر گئے۔ زخم کا علاج ہوا اور آپ رضی اللہ عنہ شفایاب ہو گئے۔ان ظالموں کو دست درازی کے یہ مواقع اس لیے ملے تھے کہ سیدنا حضرت حسن رضی اللہ عنہ بھی اپنے والد ماجد کی طرح  پہرے کا انتظام نہیں کرتے تھے۔ ایسا ہر گز نہیں تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ کے مخلص ساتھی جو ہزاروں کی تعداد میں تھے، باغی  ہو گئے ہوں۔ صحیح روایات کے مطابق حضرت حسن رضی اللہ عنہ قاتلانہ حملے یا مال و متاع لوٹے جانے کے باوجود آخر تک با اختیار اور طاقتور خلیفہ تھے۔

حضرت حسن رضی اللہ عنہ لشکر کیوں ساتھ لے گئے تھے؟

        کچھ دنوں بعد حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر جرار کے ساتھ عراق سے شام کا رخ کیا۔ عام تاثر یہ ہے کہ لشکر شام پر حملے کے لیے جا رہا تھا مگر درحقیقت حضرت حسن رضی اللہ عنہ چاہتے تھے کہ وہ تمام لوگ جو اُن سے مسلح اور جنگ کے معاملات میں اطاعت کا وعدہ کر چکے ہیں، ایک بار یکجا ہو جائیں اور وہ ان سب کو ساتھ لے کر مسلمانوں کے ایک عظیم اجتماع میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو خلافت کی ذمہ داری سپرد کر دیں۔

        درج ذیل روایات سے یہ حقیقت ثابت ہو جاتی ہے :

        امام زہری سے مروی ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو وہ جنگ نہیں چاہتے تھے۔

        حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے بیعت کرتے ہوئے شروع ہی میں یہ شرط لی تھی کہ جس سے میں صلح کروں گا تم بھی اس     سے صلح کرو گے۔ اس شرط کو بیعت کے الفاظ میں اس لیے شامل کیا گیا تھا کہ شروع سے ہی حضرت حسن رضی اللہ عنہ صلح    کے خواہش مند تھے۔

        بیعت کے وقت بعض امرائے فوج نے یہ الفاظ کہنا چاہے :

        ”ہم آپ سے کتاب وسنت کی  پیروی اور باغیوں (اہلِ شام) سے قتال کے عہد پر بیعت کرتے ہیں۔“ مگر حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے الفاظ کو مسترد کر کے یہ الفاظ کہلوائے :

    ”عَلَیٰ كِتَابِ اللّٰهِ وَسُنَّةِ نَبِيِّهِ“ (کتاب اللہ اور سنت نبویہ کی  پیروی پر بیعت کرتا ہوں ۔)

        پھر فرمایا : ”کتاب وسنت کی  پیروی تمام شرطوں کو حاوی ہے۔“

        حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک سالار کو اسی لیے معزول کر دیا تھا کہ وہ شام پر حملے کے لیے بضد تھے، آپ  نے ان کی جگہ حضرت عبید اللہ بن عباس کو سالار بنا دیا تھا۔

        حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا ایک لشکر جرار لے کر شام کی طرف جانا اور پھر فوراً وہاں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لینا خود اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ لشکر کشی لڑائی کے ارادے سے نہیں تھی ورنہ اتنی بڑی طاقت کے ساتھ شام پر حملہ کرنے میں آپ رضی اللہ عنہ کو کیا باک ہوسکتا تھا۔

        صحیح بخاری کی روایت میں خود حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا بیان موجود ہے کہ انہوں نے امتِ مسلمہ کو مزید خون ریزی سے بچانے کے لیے یہ فیصلہ کیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بڑی دردمندی کے ساتھ فرمایا تھا :

”إِنَّ هٰذِهِ الْأُمَّةَ قَدْ عَاثَتْ فِيْ دِمَائِهَا.“ ”بلاشبہ یہ امت اپنے ہی خون میں لت پت ہو چکی ہے۔“

        ظاہر ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ امت کی باہمی خون ریزی کے نقصانات سے اس وقت بھی آگاہ تھے جب آپ کوفہ سے لشکر لے چلے تھے۔ اس لیے یقیناً آپ صلح کا فیصلہ بھی کوفہ میں ہی کر چکے تھے۔

صلح کا واقعہ ”صحیح بخاری“ میں:

        اس مقصد کی شایان شان تکمیل کے لیے آپ نے حتمی اقدام کیا۔ خلافت کے چھٹے مہینے آپ رضی اللہ عنہ بے سروسامانی کے عالم میں نہیں بلکہ پورے لشکر سمیت شام کی سرحد پر گئے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک شامی قائدین کو حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے فیصلے کا کوئی اندازہ نہ تھا۔ اس لیے اتنا بڑا لشکر دیکھ کر وہ پریشان ہو گئے اور جنگ سے بچنے کے لیے مذاکرات میں پہل کی جس کی رائے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے دی تھی۔ صحیح بخاری کی روایت میں ہے :

        حضرت حسن رضی اللہ عنہ پہاڑوں جیسے لشکر لے کر آن پہنچے تو عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا : ”میں نے حضرت حسن کے پاس ایسا لشکر دیکھا ہے جو اپنے مقابل کو مارے بغیر جانے والا نہیں۔“

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ”اے عمرو! بتاؤ اگر اس فوج نے اُس فوج کو اور اُن لوگوں نے اِن لوگوں کو مار ڈالا تو میرے پاس عوام کی دیکھ بھال کرنے والا کون رہے گا؟ کون ہو گا جو عوام کا اور خواتین کا خیال رکھے گا؟ کون ہو گا جو ان کی جائیدادوں کی خبر گیری کرے گا؟“

        پس حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے قریش کے خاندان بنو عبدشمس کے دو (ممتاز) افراد : حضرت عبدالرحمن بن سمرہ اور حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہما کو بلایا اور فرمایا : ”آپ دونوں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے پاس جائیں،

        انہیں (صلح کی)  پیش کش کریں، ان سے بات چیت کریں اور (مفاہمت کی) درخواست کریں۔“ یہ دونوں
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بات چیت کر کے مفاہمت کی درخواست کی۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے فرمایا :

        ”ہم عبدالمطلب کی اولاد ہیں (جو سخاوت اور کرم نوازی میں نامور چلے آئے ہیں۔) اور ہم اس (دنیا کے  مال و دولت سے (بہت کچھ) خرچ کر چکے ہیں (یعنی لوگوں کو اپنی سخاوت کا عادی بنا چکے ہیں، اس کے علاوہ) بے شک یہ امت اپنے ہی خون میں لت پت ہے۔“ (یہ خون خرابہ ختم کرنے کے لیے صلح ضروری ہے اور صلح برقرار رکھنے کے لیے لازمی ہے کہ ہم لوگوں پر دل کھول کر خرچ کرتے رہیں، تا کہ صلح کے مخالف گروہ کا منہ بھی بند رہے اور لوگ صلح کے ثمرات سے خوش رہیں۔)

        شام کے سفیروں نے کہا: ”جی ہاں! حضرت معاویہ آپ کو (اتنے عطیات اور اموال کی) پیش کش کر رہے
ہیں اور آپ سے صلح کی درخواست کر رہے ہیں۔“ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے (ان عطیات اور اموال کو لوگوں کی ضروریات کے مطابق محسوس کرنے کے بعد مزید اطمینان چاہنے کے لیے) فرمایا : ”تو پھر اس  پیش کش کے پورا کرنے کی ضمانت کون لیتا ہے؟“ دونوں حضرات بولے : ”ہم اس کے ضامن ہیں۔“

        حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد جس چیز کی بھی فرمائش کی (کہ صلح کے بدلے اس کی ضمانت دی جائے) دونوں حضرات نے اس کی ضمانت دی۔ چنانچہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی۔

        حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح میں مال کی شرط اس لیے لگائی تھی کہ لوگ اپنی ضرورتیں لے کر ان کے پاس آتے رہتے تھے، اس کے علاوہ ان کے عقیدت مندوں میں سے کچھ صلح کے مخالف بھی تھے۔ انہیں مطمئن رکھنے کے لیے بھی انعام واکرام کا سلسلہ جاری رکھنا ضروری تھا۔ اسی مصلحت کے لیے حضرت حسن رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے گراں قدر وظائف جاری کروانا چاہتے تھے۔ ادھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پہلے سے اس کے لیے تیار تھے، چنانچہ صلح ہو گئی۔ صحیح روایات کے مطابق حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی خواہش کے مطابق ”دارا بجِرد“ نامی علاقے کا خراج مستقل آمدنی کے لیے ان کے نام کر دیا۔ اس کے علاوہ کوفہ کے  بیت المال کی جملہ رقم پچاس لاکھ ان کے حوالے کر دی۔

        ضعیف و بے سند روایات میں ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے شرائط صلح  پورا نہیں کی تھیں۔ یہ بالکل غلط ہے۔

اعلانِ صلح میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی شرکت:

        اس کے بعد کوفہ سے کچھ دور شام جانے والی شاہراہ پر واقع قصبے ”نُخَیْلَہ“ میں ایک اجتماع منعقد کر کے صلح کا
باقاعدہ اعلان کیا گیا۔ پھر ایک جلسہ عام منعقد کیا گیا جس میں لوگ دور دور سے آئے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پہلے دل شکستگی کی وجہ سے اس اجتماع میں شامل نہیں ہو رہے تھے مگر بعد میں وہ بھی مدینہ سے تشریف لے آئے تھے۔

        پہلے انہیں رنج تھا کہ اس فیصلے میں ان کی مشاورت ضروری نہیں سمجھی گئی لہٰذا انہوں نے اپنی بہن سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”آپ نے دیکھا لوگ کیا کر رہے ہیں ! انہوں نے اس معاملے میں مجھے کوئی حیثیت نہیں دی۔“

        حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے فوراً کہا : ”آپ کے شایان شان نہیں کہ آپ اس صلح سے دور رہیں جس کے ذریعے اللہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو جوڑ دیا ہے۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سالے اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں۔ آپ ان حضرات کے پاس جائیے۔ وہ آپ کے انتظار میں ہیں۔ مجھے خدشہ ہے کہ آپ کے نہ جانے سے کہیں کوئی اختلاف  پیدا نہ ہو جائے۔“ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے اصرار کر کے انہیں روانہ کیا اور آخر وہ بھی شریک ہوئے۔

        جب اکابر امت جمع ہو گئے اور صلح کی تمام شقیں طے پا گئیں تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے کہا : ”اٹھیے اور اعلان فرما دیجئے کہ آپ نے امرِ خلافت مجھے سونپ دیا ہے۔“

        حضرت حسن رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا :

        ”سب سے بڑی عقلمندی تقویٰ اور سب سے بڑی حماقت گناہ ہے۔ یہ معاملہ جس میں میرا اور معاویہ کااختلاف تھا، اس میں اگر میں برحق تھا تو میں نے امت کے امن وامان اور ان کے خون محفوظ رکھنے کے لیے
اپنا حق خود ترک کر دیا ہے، اور اگر کوئی دوسرا زیادہ حق دار تھا تو میں نے اس کا حق اسے دے دیا۔“

پھر یہ آیت تلاوت فرمائی :
 وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ.
(میں نہیں جانتا کہ شاید یہ تمہارے لئے آزمائش کا ذریعہ ہو اور ایک محدود وقت تک کا سرمایہ ۔)

        انتقالِ اقتدار کی کارروائی کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے خواص کے سامنے ایک تقریر کی ، پھر کوفہ تشریف لے گئے اور لوگوں سے اپنے لیے  بیعت لی۔

خلافت راشدہ کا اختتام :

        حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی منصبِ خلافت سے از خود سبک دوشی کے ساتھ ہی اُمت کی تاریخ کا وہ مبارک ترین دور اختتام پذیر ہو گیا جسے ”خلافتِ نبوت“ یا ”خلافتِ راشدہ“ کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد جو دور شروع ہوا، جمہور علمائے اسلام اسے ”خلافتِ عامہ“ کہتے ہیں۔ اسے ”خلافت“ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد بھی حکمرانوں نے منصب کو یہی عنوان دیا اور ”امیر المومنین“ کا لقب اسی طرح باقی رکھا۔ نیز شرعی قوانین، حدود و قصاص اسی طرح نافذ رہے اور اسلامی نظام مختلف ادوار میں کم و بیش کمزوریوں کے باوجود چلتا رہا۔

         اسے ”راشدہ“ کی جگہ ”عامہ“ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں اچھے، بُرے، متوسط ہر قسم کے حکمران آئے۔ جبکہ خلافتِ راشدہ کا معیار اس سے بہت بلند تھا۔

    اس ”خلافتِ عامہ“ کو ”ملوکیت“ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے، کیوں کہ رفتہ رفتہ اس میں طاقت کا مرکز حکمران کی ذات بن گئی اور حکومت حکمران کے گھر والوں کے لیے مخصوص کر دی گئی جیسا کہ بادشاہوں کا طرز ہوتا ہے۔

         شخصی اور خاندانی حکمرانی کے طرز نے خلافتِ عامہ کو قدرے ملوکیت کے مشابہ کر دیا۔ یہ اندازِ حکمرانی حد جواز میں ہونے کے باوجود اسلام کے اس مثالی شوریٰ نظام سے مختلف تھا، جو خلافتِ راشدہ کا مایۂ امتیاز تھا۔
 خلافتِ راشدہ میں حکمران کے انتخاب کے پس پردہ خاندان یا قبیلے کا کوئی دخل نہیں ہوتا تھا۔ افرادی قوت یا عسکری طاقت کے ذریعے اقتدار کے حصول کا وہاں کوئی سوال نہیں تھا۔ حکومت کے لیے جدوجہد بلکہ عہدوں کی طلب بھی مذموم شمار کی جاتی تھی۔ حکمران اور عہدے داروں کا انتخاب افضلیت، علم و فقاہت، معرفت و تقویٰ، غیر معمولی اہلیت اور اسلام کے لیے ایثار و قربانی کی نمایاں کارکردگی پر ہوتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ چاروں خلفائے راشدین الگ الگ خاندان کے تھے۔

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی پہلی تقریر :

        منصبِ خلافت پر فائز ہونے کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے خاص حضرات کے سامنے ایک تقریر کی۔ صحیح بخاری کی روایت ہے کہ ایک بار عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو اس تقریر کا چشم دید حال یوں سنایا :

        جب لوگ بکھر گئے تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور فرمایا: ”اب کوئی اس معاملے میں بولنا چاہے تو سر اٹھا کر بات کرے، ہم اس امر (خلافت) کے زیادہ حق دار ہیں، اس سے اور اس کے باپ سے۔“

        راوی حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے (ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) پوچھا : پھر آپ نے ان کی بات کا جواب دیا کہ نہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے اپنی جگہ سے اٹھنے کے لیے حرکت کی۔ میں انہیں کہنا چاہتا تھا کہ اس امر (اقتدار) کا زیادہ حق دار وہ ہے جو تم سے اور تمہارے والد سے اسلام کی خاطر جنگ لڑ چکاہے لیکن میں اس وجہ سے کہتے کہتے رک گیا کہ کہیں اجتماعیت میں رخنہ نہ پڑ جائے اور خانہ جنگی نہ ہو جائے، میری بات کا کوئی اور مطلب نہ لے لیا جائے۔ پس میں نے جنت کے ثواب پر اکتفا کر لیا۔“

        حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ”آپ محفوظ رہے اور بچ گئے۔“

        اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو اقتدار منتقل کیا تو یہ دیکھتے ہوئے کیا کہ ان میں قیادت و سیادت کی صلاحیت ہے اور وہ عادل، متقی اور اُمت کے خیر خواہ ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یقیناً ان سے صلح نہیں، جنگ کرتے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خوبیوں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو انکار تھا نہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو۔

        ہاں اُن میں خلفائے راشدین کی صفات کی بہ نسبت جو فرق تھا، اسے بھی نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔

اہلِ مدینہ کی بیعت:

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی دست برداری اور اپنے اعلانِ خلافت کے بعد عالمِ اسلام کے مختلف حصوں میں اپنے نائبین کو بھیجا تا کہ وہ لوگوں سے ان کی بیعت لیں۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
 
        ”عام الجماعۃ والے سال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بسر بن ارطاۃ رضی اللہ عنہ کو مدینہ بھیجا کہ وہ اہلِ مدینہ سے ایک ایک قبیلہ کر کے ان کے پرچموں کی موجودگی میں بیعت لے۔ جب انصار کی حاضری کا دن آیا تو اس دن بنو سلمہ بھی آئے۔ بسر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا ان میں جابر ہیں؟“ لوگوں نے کہا: ”نہیں۔“

        بسر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ لوگ واپس جائیں، میں ان کی بیعت قبول نہ کروں گا جب تک کہ جابر نہ آجائیں۔“

        جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پس کوئی شخص میرے پاس آیا اور کہا: ”ہم آپ کو اللہ کی قسم دیتے ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ تشریف لے چلیں اور بیعت کر لیں۔ تاکہ اپنا اور اپنی قوم کا خون محفوظ کر سکیں۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو ہمارے جوان مرد مارے جائیں گے اور ہماری اولاد باندیاں بنائی جائے گی۔“

        حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے انہیں رات تک انتظار کرنے کا کہا۔ شام کو میں ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور یہ ماجرا سنایا۔ وہ بولیں: ”میرے بھتیجے! جاؤ بیعت کر کے اپنا اور اپنی قوم کا خون محفوظ کر لو۔ میں نے اپنے بھتیجے کو بھی یہی کہا تھا، وہ گیا اور اس نے  بیعت کر لی ہے۔“

حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی طرف سے عہد کی پاسداری:

        حضرت حسن رضی اللہ عنہ جنہوں نے اختیار اور طاقت کے ہوتے ہوئے خلافت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کی تھی، بعد میں بھی امت کے ایسے محبوب بزرگ رہے کہ ان کے اشارے پر ہزاروں گردنیں کٹنے کو تیار تھیں، مگر وہ امت کے مفاد کو مدنظر رکھتے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی اہلیت کو تسلیم کرنے کی وجہ سے ان کے تابع دار رہے۔

        اگرچہ کچھ لوگ انہیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف اکسانے کی کوشش کرتے رہے اور ان کی طرف سے انکار کو ان کی کمزوری یا بزدلی قرار دیتے رہے مگر حضرت حسن رضی اللہ عنہ اپنے فیصلے پر اٹل رہے اور غلط باتیں پھیلانے والوں کی تردید بھی کرتے رہے۔ صلح کے بعد کسی موقع پر حضرت جبیر بن نضیر نے ان سے پوچھا:

        ”لوگ کہہ رہے ہیں کہ آپ (اب بھی) خلافت کے خواہش مند ہیں؟“

        آپ رضی اللہ عنہ نے پرزور انداز میں نفی کرتے ہوئے فرمایا:

        ”عربوں کے سر میرے لیے کٹنے کو تیار ہیں۔ وہ اس سے لڑیں گے جس سے میں لڑوں گا۔ وہ اس سے صلح کریں گے جس سے میں صلح کروں گا۔ میں نے خلافت کو اللہ تعالیٰ کی رضا پانے اور امتِ محمدیہ کا خون محفوظ رکھنے کی خاطر ترک کیا تھا۔ تو کیا اب میں دوبارہ اہلِ حجاز میں خون ریزی کراؤں؟“

قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کی بیعت:

        حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے بعض مخلص امراء و رفقاء شروع میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے  بیعت کو تیار نہ تھے۔ ان میں قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سر فہرست تھے مگر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے تدبر اور نرمی سے کام لے کر انہیں راضی کر لیا تاکہ کسی قیمت پر مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق ہو جائے۔ انہوں نے حضرت قیس رضی اللہ عنہ کے پاس سفیر بھیج کر پوچھا: ”آپ کس کے حکم کے تحت لڑنے پر تلے ہیں، کیوں کہ جن کے آپ تابع دار تھے، وہ تو خود میری بیعت کر چکے ہیں۔“

        قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے دب جانا پسند نہ کیا۔ تب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک سادہ کاغذ پر مہر لگا کر لکھ دیا: ”جو آپ شرائط چاہیں اس پر لکھ دیں، مجھے سب قبول ہے۔“ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اتنی کشادہ دلی کو خلافِ احتیاط تصور کیا اور فرمایا: ”قیس کے ساتھ رعایت مناسب نہیں۔“

        یہ سن کر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ سوچیے تو سہی ہم ان پر اس وقت تک غالب نہیں آ سکتے جب تک شام والوں کے بھی اتنے ہی افراد نہ مارے جائیں، پھر ان کے بغیر زندگی کا کیا مزہ۔ اللہ کی قسم! جب تک کوئی صورت ممکن ہے میں قیس سے نہیں لڑوں گا۔“

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے وہ مہر شدہ رقعہ بھیجا تو حضرت قیس رضی اللہ عنہ نے اپنے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حامیوں کے لیے ضمانت طلب کی کہ جو لوگ (گزشتہ جنگوں میں) ان کے ہاتھوں قتل ہوئے یا جو مالِ غنیمت ان کے ہاتھ آیا، اس کا بدلہ نہیں لیا جائے گا۔ اس معاہدے میں انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مال کی خواہش بالکل نہیں کی۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کی شرط کو قبول کر لیا۔ ان کے سب ساتھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حلقے میں شامل ہو گئے۔

        اس سے ظاہر ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی سیاسی حکمتِ عملی میں نرمی اور دل جوئی کو ترجیح تھی، وہ دلی طور پر امت کے خیر خواہ تھے اور حتی الامکان طاقت کی جگہ مفاہمت کی سیاست کے قائل تھے۔

        بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ صلح نامے میں یہ شرط بھی تھی کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت حسن رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوں گے مگر قدیم مآخذ کی کسی معتبر روایت سے اس کی تائید نہیں ہوتی۔ اگر یہ شرط طے پا گئی ہوتی تو آئندہ یزید کی ولی عہدی کے موقع پر لوگ یہ ضرور کہتے کہ یہ حق حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا تھا اور چونکہ ان کی وفات ہو چکی ہے اس لیے یہ حق ان کی اولاد کا ہونا چاہیے مگر اس وقت کسی نے یہ دلیل نہیں دی۔ غالباً یہ روایت اس لیے وضع کی گئی تھی تاکہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے قتل کا الزام حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر لگایا جا سکے۔

حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی عراق سے روانگی اور آخری گفتگو:

        خلافت سے دست برداری کے بعد حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے مدائن کے قلعے میں لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا:

        ”عراق والو! تم نے مجھ سے اس بات پر بیعت کی تھی کہ تم صلح اور جنگ میں میرا ساتھ دو گے۔ میں نے حضرت معاویہ سے  بیعت کر لی ہے۔ اب تم ان کی سنو اور مانو۔“

        اس کے بعد حضرت حسن رضی اللہ عنہ کوفہ گئے اور شہریوں سے رخصت ہونے سے قبل ایک پُر اثر تقریر کی جس میں لوگوں کو پڑوسیوں، مہمانوں اور بنو ہاشم کے حقوق کا خیال رکھنے کی تاکید کی۔

        عراق کے فتنہ پرور لوگوں سے سادات کو بڑی تکالیف پہنچی تھیں مگر حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے روانگی سے پہلے مثالی وسعتِ ظرفی کا ثبوت دیتے ہوئے ان زیادتیوں کو معاف کر دیا اور فرمایا:

        ”عراق والو! میں نے تمہاری تینوں باتیں معاف کر دیں: میرے والد کا قتل، مجھ پر نیزے کا وار اور میرے سامان کی لوٹ مار۔“

        حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی یہ باتیں سن کر بھی کچھ لوگوں کا دل ٹھنڈا نہ ہوا۔ وہ انہیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح پر شرم دلانے لگے اور بولے: ”آپ مؤمنوں کے لیے باعثِ عار ہیں۔“

        آپ رضی اللہ عنہ نے فوراً کہا: ”عار بہتر ہے نہ کہ نار۔“

حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کا مدینہ منورہ میں قیام:

        اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ اپنے بھائی حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور دیگر خاندان کے ساتھ ایک قافلے کی شکل میں مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔

        اس نقل مکانی میں کئی مصلحتیں تھیں: آپ اپنا دامن سیاسی جھمیلوں سے بچانا چاہتے تھے جو کہ کوفہ میں ممکن نہ تھا۔ آپ کو اپنے شدت پسند حامیوں اور خوارج سے خطرات بھی لاحق تھے، مدینہ منورہ آپ کے لیے محفوظ اور محبوب مقام تھا، جہاں آپ بقیہ زندگی یکسوئی سے بسر کرنا چاہتے تھے۔

        آپ کی باقی عمر مدینہ منورہ میں امت کی روحانی تربیت اور اصلاحِ عقائد میں گزری۔ آپ رضی اللہ عنہ شر پسند عناصر اور ساداتِ کرام کے بارے میں مبالغہ آرائیوں کی ہمیشہ نفی کرتے رہے۔ کسی نے پوچھا:

        ”آپ کے حامی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ قیامت سے پہلے دوبارہ زندہ ہوں گے۔“

        حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے پُر زور تردید کرتے ہوئے فرمایا:

        ”اللہ کی قسم! وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ وہ ہمارے گروہ کے لوگ نہیں، اگر ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زندہ ہونے کا عقیدہ رکھتے تو ان کی ازواج دوبارہ نکاح نہ کرتیں، ان کی میراث تقسیم نہ ہونے پاتی۔“

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا حسنین کریمین سے حسنِ سلوک:

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ عمر بھر حسنین کریمین کی خدمت اور اعزاز و اکرام فرماتے رہے۔ ایک بار حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا:

        ”میں آپ کو ایسا عطیہ دوں گا جو اس سے پہلے کسی نے کسی کو نہ دیا ہوگا۔“ پھر انہیں دو لاکھ درہم دیے۔

        ایک بار حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت حسن و حضرت حسین رضی اللہ عنہما اور (ان کے چچا زاد) عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کو ایک ایک لاکھ درہم بھیجے۔

        تحائف دینے کا یہ سلسلہ آخر تک جاری رہا اور حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہدیے قبول کرتے رہے۔

حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی کردار کشی کی مہم:

        چونکہ حضرت معاویہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہما کی صلح کے باعث شدت پسندوں کو مایوسی ہوئی تھی، اس لیے انہوں نے اپنی بھڑاس نکالنے کے لیے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو ”مُذِلُّ الْعَرَبِ“ (عربوں کو ذلیل کرنے والا) کے الفاظ کے ساتھ طعنے دیے۔ اس کے علاوہ ایسی روایات بھی پھیلا دیں کہ آپ نے صلح محض عیش و آرام کے لیے کی تھی، زندگی نکاح پر نکاح کرنے اور طلاقیں دینے میں گزاری۔ کہا گیا کہ آپ نکاح کے چند دن بعد طلاق دے دیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ کا لقب ”مِطلاق“ یعنی کثرت سے طلاقیں دینے والا پڑ گیا۔

        یہ تمام روایات نہایت ہی ضعیف بلکہ اکثر منقطع یا بے سند ہیں، اگر سند ہے تو ان میں ہشام کلبی، ابن جعدبہ اور واقدی جیسے راوی ہیں جنہیں ائمہ جرح و تعدیل نے انتہائی ضعیف قرار دیا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ طلاق کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے نزدیک حلال کاموں میں سب سے نفرت انگیز کام شمار کیا ہے۔ کیا اللہ کے نبی کا پیارا نواسا جو ہر آن اللہ کی رضا کا متلاشی تھا، اللہ کے نزدیک نفرت انگیز کام کو اتنی کثرت سے کر سکتا تھا؟

حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی وفات:

        حضرت حسن رضی اللہ عنہ عمر بھر مدینہ طیبہ میں رہے۔ سن ۴۹ ھ یا ۵۰ ھ میں جب کہ آپ کی عمر ستاون (۵۷) برس تھی، کسی نے آپ کو پراسرار انداز میں زہر دے دیا، جس کے اثر سے آپ رضی اللہ عنہ کچھ دنوں بعد وفات پا گئے۔ نمازِ جنازہ کے لیے حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کو آگے کیا جو بنو امیہ کے نامی گرامی فرد تھے۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو جنت البقیع میں اپنی والدہ ماجدہ حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے پہلو میں دفنایا گیا۔

        حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر مسجدِ نبوی میں جمع لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا:

        ”لوگو! آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیارا چل بسا۔“

        یہ سن کر حاضرین میں سے کوئی بھی شخص اپنے آنسو ضبط نہ کر سکا۔

        حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت اگرچہ مختصر رہا مگر امت پر ان کا یہ احسان ہمیشہ باقی رہے گا کہ انہوں نے بے مثال ایثار اور غیر معمولی حکمت و تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے امت کو اتحاد کی راہ پر ڈال دیا۔ انہوں نے ایسی قربانی دی جس پر مسلمانوں کی تاریخ کو ناز رہے گا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد تھے۔ خلافت کے منصبِ عالی پر فائز تھے۔ سپاہِ عراق ان کے اشارے پر کٹ مرنے کو تیار تھی۔ ان کی محبوبیت و مقبولیت مسلم تھی۔ یہ سب کچھ ہونے کے باوجود انہوں نے جھکنا قبول کر لیا۔ ان کی جگہ کوئی بھی حکمران ہوتا تو اپنے اقتدار پر کٹ مرتا۔ مگر حضرت حسن رضی اللہ عنہ، دنیوی بادشاہ نہیں، ان خلفائے راشدین کا تتمہ اور ان کا عکس تھے جن کا اقتدار ذات، غرض، نفس، خواہش اور مفاد جیسے مفاہیم سے نا آشنا تھا۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے جس بے مثال ایثار و قربانی کا مظاہرہ کیا وہ ایک خلیفۂ راشد ہی کے بس کی بات تھی۔ انتشار و افتراق کے دور میں مسلمانوں کو متحد کرنے اور اہلِ فتنہ سے دامن بچانے کی بابت ان کا اسوہ تاقیامت مسلمانوں کی رہنمائی کرتا رہے گا۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic