Mushajarat e Sahaba Aur Takmeel e Shariat: Asbaq e Tareekh

اسباقِ تاریخ

            حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ایک مہربان، خدا ترس اور عوام دوست حکمران کا بہترین نمونہ ملتا ہے۔ ان کی سیرت کا مطالعہ ہر اس قائد اور حاکم کو ضرور کرنا چاہیے جو اپنی آخرت کے لیے فکرمند ہو۔

        حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے رہن سہن اور تمدن میں سابقہ پالیسی کو نرم کر کے عزیمت و رخصت اور جواز و عدم جواز کی حدود کو واضح کیا۔ اس طرح تہذیب و تمدن میں وہ راہِ اعتدال سامنے آ گئی جس پر قیامت تک مسلمان چل سکتے ہیں۔


        حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حزبِ اختلاف کے وجود کو برداشت کر کے اسلامی سیاست کے ایک اہم اصول کا عملی اطلاق کر دکھایا۔ انہوں نے عملی تعلیم دی کہ حزبِ اختلاف جب تک مسلح ہو کر بغاوت نہیں کرتی، صرف سیاسی احتجاج اور تنقید و اعتراض کی حد تک رہتی ہے، اسے چھوٹ دینی چاہیے۔ انتقام کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔

        حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ہر دل عزیز حاکم ہوتے ہوئے بھی حزبِ اختلاف کے کھوکھلے الزامات کا کھلی کچہری میں سامنا کیا اور ہر بات کا جواب دیا۔ ایک کامیاب اور رعایا پرور حاکم کا کردار یہی ہوتا ہے۔

        حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے قوتِ اقتدار کے باوجود سیاسی مخالف مسلمانوں کے خون میں ہاتھ رنگنے اور مدینہ منورہ کی بے حرمتی میں شریک ہونے سے خود کو اور دوسرے مسلمانوں کو حتی الامکان بچایا۔ اس پالیسی پر ثابت قدم رہنے میں اپنی جان جانے کی پروا بھی نہ کی۔ ایک طویل زمانے سے طاقت ہاتھ میں آتے ہی خونِ مسلم سے بے در یغ ہاتھ رنگنا مرہٹوں کا معمول چلا آ رہا ہے۔ اس تناظر میں سیرتِ صحابہ کا یہ باب لمحہ فکریہ ہے۔

        حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی معاشرے میں حزبِ اختلاف کے وجود کی گنجائش رکھی بشرطیکہ وہ پُر امن رہے اور فتنہ  نہ مچائے۔ اسی بناء پر آپ نے باغیوں کی  بیعت قبول کی، خوارج کو مہلت دیتے رہے مگر جب وہ خونریزی پر آئے تو آپ نے انہیں کیفرِ کردار تک پہنچا کر چھوڑا۔

         جنگِ جمل اور صفین مسلمانوں کی تاریخ کے دو ابتدائی بڑے سانحے، گھمبیر حادثے اور نہایت ہی تلخ تجربات تھے مگر قدرتِ الہیہ نے صحابہ کے مابین اس سیاسی کشمکش اور ان جنگوں سے مسلمانوں کی نفسیاتی، فکری اور عملی تربیت کا ایسا کام لیا جو کسی اور طرح ممکن نہ تھا۔ ان اختلافات اور مناقشوں کی وجہ سے سیاسی امور میں مسلمانوں کی ذہنی پختگی اور فکری و عملی تربیت کا جو سرمایہ مہیا ہوا وہ شاید جغرافیائی فتوحات کے کئی دروازے کھلنے سے بھی نصیب نہ ہوتا۔

        ان جنگوں میں مخالفین سے برتاؤ نے فقہی مسائل کے لیے دلائل فراہم کیے۔ باغیوں سے متعلق اکثر فقہی
​احکام حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سیرت ہی سے لیے گئے ہیں۔ ائمہ مجتہدین نے مشاجرات کو اسی نگاہ سے دیکھا کہ ان میں ہمارے لیے راہِ عمل کیا نکلتی ہے، چنانچہ انہوں نے ان روایات سے درجنوں احکام اخذ کیے۔

        ​اسی لیے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے: "اگر لڑائی کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اسوہ سامنے نہ ہوتا تو کوئی نہ جان سکتا کہ مسلمانوں سے لڑائی کے متعلقہ احکام کیا ہیں۔"

​امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے:

        ​"مسلمانوں نے مشرکین سے قتال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اختیار کی۔ مرتدین سے قتال میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی سیرت اختیار کی اور باغیوں سے قتال میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا طریقہ اختیار کیا۔"

         جنگِ صفین حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی صداقت کا بھی بہت بڑا ثبوت بن گئی کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما گئے تھے: "قیامت برپا ہونے سے پہلے پہلے مسلمانوں کی ایسی دو جماعتیں آپس میں لڑیں گی جن کا دعویٰ (یعنی دین) ایک ہی ہو گا۔"

        ​شارحینِ حدیث کے نزدیک اس پیش گوئی کا مصداق صفین میں شریک دونوں فریق ہیں۔ ایسی سچی خبریں نبی کے سوا کوئی نہیں دے سکتا۔

        ​جمہور علمائے اسلام جنگِ جمل اور صفین میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو مجتہد مصیب اور بالمقابل فریق کو مجتہد مخطی قرار دیتے آئے ہیں؛ اس لیے کہ:

        ​① حضرت علی رضی اللہ عنہ شرعی خلیفہ مقرر ہو چکے تھے۔ مسلمانوں کے تمام گروہوں پر ان کی اطاعت واجب تھی۔

        ② کچھ ایسی صحیح روایات حدیث موجود تھیں جن سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا برحق ہونا واضح ہو جاتا تھا، مثلاً:

        ​❶ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد تھا: "تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ."

        ​حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ جنگِ جمل اور جنگِ صفین دونوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور جنگِ صفین میں انہی کے پرچم تلے شہید ہوئے تھے۔

        ​❷ صحیح احادیث میں اولیٰ بالحق جماعت کے لیے بشارت ہے کہ وہ ہی خارجیوں کو مغلوب کرے گی۔

        جنگِ نہروان کے بعد یہ حدیث بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حقانیت کی گواہ بن گئی۔

        ​مسئلے کو ثابت کرنے کے لیے یہ دلائل کافی تھے مگر اس کے علاوہ بعض قرائن بھی اس کے مؤید بن گئے مثلاً:

        حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس شام کے ایک قاضی آئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آدابِ قضا کے بارے میں ان سے گفتگو کی۔ وہ قاضی صاحب جانے لگے تو اچانک انہیں کچھ یاد آیا، لوٹ کر کہنے لگے:

        ​"میں نے خواب دیکھا ہے کہ سورج اور چاند آپس میں لڑ رہے ہیں اور دونوں میں سے ہر ایک کے ساتھ ستاروں کے لشکر ہیں۔" حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: "تم کس کے ساتھ تھے؟" قاضی صاحب نے کہا: "سورج کے خلاف چاند کے ساتھ؟" حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: "نعوذ باللہ" پھر یہ آیت تلاوت فرمائی:

​"وَجَعَلْنَا الَّيْلَ وَالنَّهَارَ اٰيَتَيْنِ فَمَحَوْنَا اٰيَةَ الَّيْلِ وَجَعَلْنَا اٰيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً"
​(اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں کے طور پر   پیدا کیا، پھر رات کی نشانی کو اندھیری بنا دیا اور دن کی نشانی کو روشن کر دیا)

        ​یہ کہہ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "چلے جاؤ! اللہ کی قسم تم آئندہ کبھی میرے تحت عہدے پر نہیں رہو گے۔"

        ​بعد میں  یہ قاضی صاحب جنگِ صفین میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔

        حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کو بھی ایک زمانے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تصویب میں شک تھا۔

        ​ایک بار انہوں نے خواب دیکھا کہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھا ہوں، حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی تشریف فرما ہیں۔ اتنے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو لایا گیا۔ دونوں کو ایک دروازے کے اندر لے جایا گیا اور دروازہ بند ہو گیا۔ پھر اچانک حضرت علی رضی اللہ عنہ ہشاش بشاش باہر تشریف لائے اور فرمایا: "ربِ کعبہ کی قسم! میرے حق میں فیصلہ ہو گیا۔" پیچھے پیچھے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بھی باہر آئے اور فرمایا: "ربِ کعبہ کی قسم میری بخشش کر دی گئی۔"

        غرض مذکورہ صحیح احادیث پر غور کرنے اور کچھ دیگر مضبوط قرائن جمع ہو جانے کی وجہ سے کچھ مدت بعد جمہور علماء کا مشاجرات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مجتہد مصیب ہونے پر اجماع ہو گیا۔ یہ بات بھی طے ہو گئی کہ حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم بھی اپنے طور پر اصلاح کے لیے کوشاں اور مجتہد تھے۔ اس لیے وہ گناہ گار نہیں بلکہ مجتہد مخطی ہیں اور مجتہد کی غلطی معاف ہے جبکہ اجتہاد پر اسے ایک اجر بھی ملتا ہے۔

        ​اس کے بعد کے کسی سیاسی قضیے کے بارے میں کسی متعین جماعت کے متعلق کوئی حدیث نہیں، اس لیے سارا دارومدار اپنے تجربے، غور وفکر اور معلومات پر رہ جاتا ہے، جن کو ہم کتنا ہی مکمل سمجھیں وہ کسی پہلو سے ناقص ہو سکتی ہیں۔

        ​لہذا ضروری ہے کہ جہاں تک ہو سکے اہلِ تقویٰ اور باکردار لوگوں خصوصاً اکابر اور اسلاف کے فیصلوں کو نیک نیتی پر اور ان کے اقدامات کو قوی خیرخواہی پر محمول کیا جائے۔ اگر ان کی کوئی واضح غلطی نظر آئے تو بھی اس کی وجہ سے ان پر طعن و تشنیع نہ کی جائے۔ اگر تبصرہ ضروری ہو تو مہذب انداز میں کیا جائے اور جتنا ممکن ہو حسنِ ظن کا فائدہ دیا جائے۔

        ​حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی تمام خوبیوں، عظمتوں اور جلالتِ شان کے باوجود بہرحال ایک انسان تھے۔ انہوں نے ایک اعلیٰ انسان کی زندگی گزاری۔ ان کا ایمان، عمل، اخلاق اور کردار ہمارے لیے روشن نمونہ ہیں۔ وہ خود ہمیشہ ایک اللہ پر بھروسہ کرتے رہے اور اسی سے مانگتے رہے۔ اسی سے مانگنے کی قولی و عملی تعلیم دیتے رہے۔ وہ خود مشکلات کا شکار ہوئے، تکالیف میں مبتلا ہوئے، غربت اور فقر وفاقے کی زندگی بسر کی۔ وہ اللہ کے بندے تھے جو خاک سے  پیدا ہوئے اور آخر خاک میں دفن ہوئے۔ باقی ذات صرف ایک اللہ کی ہے۔ مشکلات دور کرنے والی وہی ذات ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ دعائیں سننا، بگڑی بنانا اور مشکلات میں کام آنا اسی کو زیبا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ان کی  پیروی کرتے ہوئے ہر حال میں اللہ سے مانگیں اور اس کے سچے دین پر کاربند رہیں۔

​مشاجراتِ صحابہ تکمیلِ شریعت کے لیے تھے:

        حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنیؒ نے شریعت وطریقت کا تلازم' کے ابتدائی اور 'الاعتدال فی مراتب الرجال' کے آخری باب میں 'مشاجراتِ صحابہ' پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ ان ابواب کا مطالعہ ضرور فرمائیں۔ راقم یہاں ان کا حاصلِ مطلب اپنے الفاظ میں  پیش کر رہا ہے:

        ​"صحابہ کرام کے درمیان 'مشاجرات' در حقیقت اللہ کی طرف سے شریعت کی تکمیل کے لیے کرائے گئے تھے۔ کیوں کہ کسی بھی قانون کی تکمیل اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک اسے نافذ نہ کر دیا جائے، قانون کے نفاذ کے بعد ہی عملی ثبوت مل سکتا ہے کہ وہ انسانوں کے لیے مفید ہے یا مضر۔ شرعی احکام اللہ کی طرف سے ہیں، اس لیے ان کا مفید ہونا ایک مسلمان کے لیے یقینی ہے۔ مگر عام انسان جب تک ان کے نفاذ کے اثرات کو نہ دیکھ لے وہ مطمئن نہیں ہو سکتا۔ اس لیے اللہ نے دنیا والوں کے سامنے ہر قسم کے شرعی احکام کا عملی نمونہ محفوظ فرما دیا۔ یہ شرعی احکام چار قسم کے ہیں:

        ① ایک وہ جنہیں کر کے دکھانا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ عالی کے شایانِ شان تھا۔ جیسے نماز، روزہ, حج، زکوٰۃ، جہاد وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے کام حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کرائے، تاکہ امت کو براہِ راست  پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے عملی نمونہ ملے۔

        ​② دوسری قسم کے احکام ایسی لغزشوں سے متعلق تھے جن کا صدور، ذاتِ نبوت سے ہونا بھی عصمتِ انبیاء کے منافی نہ تھا جیسے نماز میں بھول چوک ہو کر سجدہ سہو واجب ہونا، نماز قضا ہونا۔ ایسے احکام کی تکمیل بھی خود ذاتِ نبوت سے کرائی گئی اور اس کے لیے کبھی کبھار پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو سہو کرا دیا گیا، ایک آدھ مرتبہ نیند طاری کر کے نمازِ فجر قضا کرا دی گئی تاکہ امت کو خود  پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے ایسے مسائل کا شرعی حکم معلوم ہو جائے۔

        ​③ تیسری قسم کے احکام شرعی سزاوں سے متعلق تھے، جیسے شراب نوشی، چوری اور بدکاری کی سزائیں۔ چونکہ پیغمبر کی ذات معصوم ہوتی ہے اس لیے ایسے کاموں کا ارتکاب، ذاتِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے ممکن ہی نہ تھا۔ لہٰذا اللہ نے ایسے کام حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں، بعض غیر معروف صحابہ سے کروا دیے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان پر شرعی سزائیں جاری ہوئیں۔ دنیا کے سامنے عملی طور پر یہ نمونہ آ گیا کہ سنتِ نبویہ میں ایسے جرائم کی یہ سزا مقرر ہے۔

        ​ان جرائم کے مرتکب حضرات بذاتِ خود نہایت پاکباز تھے مگر اللہ کی تقدیر اور مشیت نے ان سے ایسے کاموں کو کروا دیا تاکہ شرعی احکام صرف زبانی اور تحریری ہی نہ رہیں بلکہ ان کا عملی ثبوت بھی موجود ہو۔ تاکہ شریعت کی تکمیل ہو سکے۔

        ​④ چوتھی قسم کے شرعی احکام وہ ہیں جن کے نفاذ کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پُر نور زمانہ مناسب نہ تھا؛ کیوں کہ یہ احکام فتنوں، فساد، اختلاف اور خانہ جنگی سے متعلق ہیں۔ اسلام میں ان مسائل کا حل اور ان سے متعلق ہدایات موجود ہیں مگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانے کا یہ تقاضا نہ تھا کہ اس میں ایسے فتنے ظاہر ہوتے۔ اس لیے ان احکام کے عملی نفاذ کے لیے اللہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد کا وقت رکھا اور وہ بھی تب جب اسلام دنیا میں غالب اور مستحکم  ہوجائے، تاکہ اندرونی فتنوں سے اسلامی ریاست ایسی کمزور نہ ہو جائے کہ بیرونی طاقتیں اس پر چڑھ دوڑیں۔

        ​اللہ کی تقدیر کے اس فیصلے کے مطابق، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں یہ اختلافات رونما ہوئے، جن میں موقع بموقع فتنوں سے متعلق تمام شرعی احکام کا عملی نمونہ سامنے آتا چلا گیا۔ ان احکام کے نفاذ کے اثرات بھی دنیا کے سامنے آ گئے کہ جلد ہی مسلمان متحد ہو گئے اور اسلامی فتوحات اور عروج کا دور ایک بار پھر شروع ہو گیا۔

        صحابہ کرام وہ سچے عاشق تھے جنہوں نے شریعت کی تکمیل کے لیے جہاں قدم قدم پر جان و مال کی قربانی دی، وہاں اپنی عزتیں بھی اللہ کی مشیت کی تکمیل کے لیے  پیش کر دیں۔

        ​اگر شریعت کی تکمیل کے لیے اللہ کی مشیت ان سے کسی خطا یا کسی جرم کا ارتکاب کراتی ہے جس کی پاداش میں ان میں سے کسی کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے، کسی کو کوڑے لگائے جاتے ہیں اور کسی کو سنگسار کیا جاتا ہے، تو وہ اپنی خطا پر ندامت کے ساتھ ساتھ تقدیر کے اس فیصلے پر راضی بہ رضا ہیں۔ وہ شکوہ نہیں کرتے کہ ہم جیسے نبی کے لاڈلوں کو سزا دی جا رہی ہے اور سرِ عام رسوائی ہو رہی ہے۔ نہیں بلکہ وہ اس بے عزتی پر بھی صبر کیے ہوئے ہیں اور اللہ سے مغفرت کی امید رکھتے ہیں۔

        ​پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے پچیس برس بعد، ایک دوسرے پر جان چھڑکنے والے، یہی عشاق اللہ کی تقدیر کے آگے بے بس ہو کر باہم نبرد آزما ہوتے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں کٹ جاتے ہیں۔ ظاہر بین کے نزدیک یہ محض خونریزی ہے مگر اللہ کی مشیت یہاں حُرمتِ فتنہ اور خانہ جنگی کے شرعی احکام کا نفاذ کر کے دکھانا چاہتی تھی۔ صحابہ ان صدمات کو بھی جھیل جاتے ہیں۔ جان و مال کے ساتھ عزت و شہرت کی قربانیاں بھی دے دیتے ہیں اور اللہ کی تقدیر میں لکھے اتنے بڑے سانحوں پر بھی راضی بہ رضا رہتے ہیں۔ حرف گیری کرنے والوں نے مشاجرات میں تلواروں کا چلنا اور لاشوں کا گرنا دیکھا اور صحابہ کو دنیا پرست اور اغراض پسند سمجھ کر گمراہ ہو گئے۔ اللہ والوں نے ان واقعات کے پیچھے اللہ کی حکمت اور مشیت کو دیکھا اور صحابہ کرام کے بارے میں وہی عقیدہ رکھا جو قرآن مجید نے بتایا ہے۔ رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ

​حکوتی حکمتیں۔ قرآن وسنت پر اعتقاد کی آزمائش:

        ​اگر حکوتی حکمتوں کو نظر انداز کر کے 'مشاجرات' کو دیکھا جائے تو یہ محض مصیبت اور آفت دکھائی دیں گے مگر حکوتی حکمتیں سامنے ہوں تو پھر ان میں بھی اللہ کی رحمتِ خاصہ کی جلوہ نمائی محسوس ہو گی۔

        ایک حکمت یہ تھی کہ اہلِ ایمان کے ایمان کی آزمائش ہو جائے۔ قیامت تک آنے والے مسلمانوں کا امتحان ہو جائے کہ ان واقعات کو دیکھنے یا جانے کے بعد وہ صحابہ کے بارے میں وہی اعتقاد رکھیں گے جو قرآن وسنت میں مذکور ہے یا فتنہ اور گمراہ لوگوں کی باتوں میں آ کر اپنی اپنی کوئی رائے قائم کر لیں گے۔

​واقعہ افک بھی ایک امتحان تھا؟

        غور فرمائیں کہ ایک طوفان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں 'واقعہ افک' کی صورت میں پیش آیا تھا جو در حقیقت  یہ  واقعہ اس بات کی جانچ تھا کہ قرآن کی صداقت پر ایمان مضبوط ہے یا نہیں۔

        ​کوئی سوچ سکتا ہے کہ بہت اچھا ہوتا اگر یہ واقعہ رونما نہ ہوا ہوتا، کیونکہ اس واقعے سے تو بدباطن لوگوں کو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے خلاف بہتان طرازی کا ایک بہانہ مل گیا۔ اگر یہ سفر ہی نہ ہوتا، یا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اس سفر میں نہ جاتیں یا کم از کم ان کا ہار نہ کھوتا اور وہ قافلے کے ساتھ ہی چلی آتیں تو کسی کو لب کشائی کی جرأت نہ ہوتی۔ مگر یہ ہماری سوچ ہو سکتی ہے۔ اللہ جانتا تھا کہ کیا ہونا بہتر ہے۔ پس وہی ہوا جو اس کے نزدیک بہتر تھا۔ اگرچہ بظاہر واقعہ بہت تکلیف دہ تھا مگر اس واقعے سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا مقام اور بلند ہو گیا۔ قرآن مجید میں ان کی پاکدامنی کے متعلق پورے دو رکوع نازل ہو گئے۔ یہ آیات قیامت تک لوگوں کے سامنے رہیں گی۔ ان آیات کو مان کر قیامت تک اہلِ ایمان پر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عظمت، عفت اور صداقت کا اعتراف لازم ہو گیا۔ یہ ایک امتحان تھا اور اب بھی ہے۔ بہت سے لوگ اب بھی اپنی بدبختی کے باعث اس امتحان میں ناکام ہیں اور انہی جھوٹی باتوں  پر  یقین کرتے ہیں جو منافقین نے پھیلائی تھیں۔ ان کا حشر انہی کے ساتھ ہو گا۔

​مشاجرات میں کس چیز کی آزمائش تھی؟

        ​جنگِ جمل اور صفین بھی ایسے ہی دو امتحانات تھے۔ بلاشبہ یہاں نہ صرف شدید اختلاف ہوا بلکہ قتال تک نوبت پہنچ گئی۔ یہ واقعات مختصر طور پر یا تفصیل کے ساتھ قیامت کے لوگوں کے سامنے رہیں گے۔ واقعہ افک سے کچھ بڑھ کر یہاں دوہری آزمائش ہے۔ وحی کا سلسلہ بند ہو چکا ہے، آیات سے معلوم نہیں ہو سکتا کہ اس واقعے کی حقیقت کیا ہے؟ کون مصیب ہے اور کون مخطی۔ البتہ صحیح احادیث میں مصیب جماعت کی نشانیاں بتا دی گئیں تھیں۔

​دو اہم امتحان:

        ​اب یہاں پہلا امتحان یہ ہے کہ آیا ان احادیث کو من وعن مان کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اصابت اور فریقِ ثانی کی خطا کو تسلیم کیا جائے گا یا ان احادیث کو چھوڑ دیا جائے گا اور بلا وجہ کی تأویلات کر کے اپنی ذاتی آراء پر زور دیا جائے گا۔

        ​دوسرا امتحان یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اصابت کو ماننے کے ساتھ فریقِ ثانی کے متعلق قرآن وسنت کے مطابق رائے اختیار کی جائے گی یعنی ان کے مقامِ اجتہاد اور شرفِ صحبت کا لحاظ رکھا جائے گا یا انہیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جائے گا یا اس سے بڑھ کر ان کے ایمان کی ہی نفی کر دی جائے گی۔

        ​ذاتی آراء اور طبعی رجحانات کے پیچھے دوڑنے یا قرآن وسنت کے مطابق اعتدال اور انصاف کا راستہ اختیار کرنے کا یہ امتحان بھی آج تک اسی طرح باقی ہے۔ جو لوگ قرآن وسنت کی تمام نصوص اور ان کے ہر پہلو کو سامنے رکھ کر اور صحیح احادیث میں دور از کار تاویلات سے دامن بچاتے ہوئے معتدل رائے رکھتے ہیں، وہ اور ان کی  پیروی کرنے والے اس امتحان میں پوری طرح کامیاب ہیں۔ اس سے ہٹ کر جو شدت پسندی اختیار کر کے سنتِ مطہرہ کی نصوص سے ​جس حد تک بے اعتنائی برتتا ہے، یا ان کی جس قدر غلط تاویلات کرتا ہے، وہ اسی قدر اس امتحان میں ناکام ہے۔

​مشاجرات ایک پہلو سے مضر تھے اور ایک پہلو سے مفید:

        ​مشاجرات جیسے صدمہ انگیز واقعات اگرچہ ایک پہلو سے نہایت مضر تھے مگر دوسرا پہلو یہ ہے کہ اللہ کی حکمتِ بالغہ کے تحت ان کے وقوع میں امت کی بقا اور استحکام کا سامان تھا۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہ حوادث قرآن وسنت پر امتِ مسلمہ کے اعتقاد کو مضبوط بنانے کے لیے رونما ہوئے تو درست ہو گا۔ آزمائش ہی سے لوگ نکھرتے اور مضبوط ہوتے ہیں۔ آزمائشوں ہی سے اچھے اور برے الگ ہوتے ہیں۔ آزمائشیں ہی کھرے اور کھوٹے کی پہچان کراتی ہیں۔ آزمائشوں کے بعد شخصیت سے زنگ دور ہو جاتا ہے اور بھٹی سے نکل کر سونا کندن بن جاتا ہے۔

​کھرے اور کھوٹے الگ ہو گئے:

        ​ان آزمائشوں نے شک وشبہے میں پڑنے کے عادی، منافق اور بددماغ لوگوں کو جمہور امتِ مسلمہ سے الگ کر دیا۔ وہ کئی فرقے کی شکل میں جمہور سے الگ نمایاں ہو گئے۔ اگر یہ زنگ اور یہ فاسد مادہ امتِ مسلمہ کے وجود میں گھلا ملا باقی رہتا تو اندر ہی اندر زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتا۔

​مَا كَانَ اللّٰهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلٰى مَآ اَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتّٰى يَمِيْزَ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ
​(اللہ ایسا نہیں کر سکتا کہ وہ مومنوں کو اس حالت پر چھوڑے رکھے جس پر تم اس وقت ہو،
 جب تک کہ وہ ناپاک کو پاک سے الگ نہ کر دے۔)

​امتِ مسلمہ کی اندرونی ساخت مضبوط ہو گئی:

        ​یہ واقعات قوم کے لیے اجتماعی دھچکے اور صدمے تھے مگر ایسے دھچکوں اور صدموں سے قوموں کی اندرونی ساخت مضبوط ہوتی ہے۔ ایک مثال سے اس بات کو سمجھیں۔ کچھ مدت پہلے بچوں کے لیے مٹی میں کھیلنا اور مٹی کھانا مضرِ صحت سمجھا جاتا تھا مگر اب جدید طبی تحقیق بتاتی ہے کہ جو بچے مٹی میں کھیل کر بڑے ہوتے ہیں اور مٹی کھاتے ہیں، بڑی عمر میں قوتِ مدافعت میں دوسروں سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ مٹی کے ساتھ جو جرثومے جسم میں داخل ہوتے ہیں، وہ جسم کو مختلف قسم کے مضر جرثوموں کا عادی بنا دیتے ہیں، پھر معمولی قسم کی نقصان دہ چیزیں انسان کو متاثر نہیں کرتیں۔ اس کے برعکس جو بچے جرثوموں سے بالکل محفوظ ماحول میں پرورش پاتے ہیں، وہ زندگی کے عملی میدان میں اتر کر باہر کے ماحول کے ایک معمولی جھونکے کے باعث نزلہ، زکام، کھانسی اور بخار کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح جن بچوں کی تربیت نہایت لاڈ  پیار سے ہوتی ہے اور انہیں سردی گرمی سے ہر طرح بچایا جاتا ہے، وہ بڑے ہو کر معمولی ٹھنڈ یا معمولی گرمی سے  بیمار پڑ جاتے ہیں جبکہ بچپن میں سردی گرمی کا مقابلہ کرنے والے بچے بڑے ہو کر مضبوط قوتِ مدافعت کے حامل ہوتے ہیں۔

        ​امتِ مسلمہ نے بھی اپنے ابتدائی زمانے میں جو سختیاں برداشت کیں اور جو صدمے سہے، وہ اس کی قوتِ مدافعت کی مضبوطی کا باعث بن گئے۔ یہی وجہ ہے کہ چودہ صدیاں گزرنے اور آفات کے ہزار ہا طوفانوں سے پالا پڑنے کے باوجود امتِ مسلمہ نہ صرف باقی ہے بلکہ دن بہ دن اس کا دائرہ بڑھتا جا رہا ہے۔

​کیا صحابہ کرام کے تنازعات "رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ" کے خلاف ہیں؟

        ​بعض حضرات کہتے ہیں کہ صحابہ کرام کے تنازعات اور اختلافات نصِ قرآنی "رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ" کے خلاف ہیں، قرآن مجید تو کہتا ہے کہ وہ آپس میں بڑے رحیم و کریم ہیں جبکہ تاریخ میں مذکورہ واقعات اس کے برعکس ہیں۔ اس لیے جس تاریخ میں ایسے تنازعات کا ذکر ہے، اسے دریا برد کر دینا چاہیے۔

        مگر اول تو یہ دعویٰ ہی غلط ہے کہ ایسے واقعات صرف تاریخ میں ہیں۔ صحابہ کرام کے باہمی اختلاف اور ناراضی کے واقعات تو کتبِ حدیث میں بھی ہیں۔ عام صحابہ میں نہیں، امہات المؤمنین میں بھی کبھی کبھار ایسی نوبت آ جاتی تھی جس کی مثالیں حدیث کا ہر طالب علم جانتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ایک دو واقعات خلفائے راشدین کی بھی باہمی خفگی کے مل جائیں گے۔ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا امہات المؤمنین میں سے بعض سے ناراض ہونا اور ایلاء تک کرنا ثابت ہے۔ مگر ان میں سے کسی بات کو خلافِ محبت و مودت نہیں کہا جا سکتا۔

        آپس میں کبھی کبھار شکر رنجی اور جھگڑا ہو جانا  پیار ومحبت کے ہرگز خلاف نہیں۔ کونسا گھر ہے جہاں باپ بیٹے، میاں بیوی اور بہن بھائیوں میں کبھی کدورت اور خفگی نہ ہوئی ہو۔ مگر اس سے ان رشتوں پر کوئی حرف نہیں آتا۔ اسی طرح دوستوں بلکہ استادوں اور شاگردوں میں بھی اختلافِ رائے بلکہ بعض اوقات رنجش تک ہو جاتی ہے۔ بالخصوص جہاں تیز اور کھلے دماغ کے لوگ ہوں وہاں اختلافِ رائے ہونا لازمی ہے۔ صحابہ کرام کے ہاں ماحول بھی بے تکلفانہ تھا۔ نہ ہی کوئی مجہول اور لکیر کا فقیر نہ تھا۔ جو جس بات کو درست سمجھتا تھا، خیرخواہی کے جذبے کے ساتھ اسے برملا کہتا تھا۔ ہم اپنے گھر کے افراد، بہن بھائیوں اور اپنے عزیزوں میں ایسے واقعات کو محبت کے خلاف نہیں سمجھتے، تو کیا وجہ ہے کہ صرف صحابہ کرام کو ان معاملات میں اس نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کہ جیسے وہ ایک دوسرے کے جانی دشمن ہوں۔

        ​صحابہ کرام کے دل معصوم بچوں کی طرح پاک تھے۔ جس طرح بچے باہم لڑ جھگڑ کر تھوڑی دیر میں ہنسی خوشی کھیلنے لگتے ہیں اسی طرح صحابہ بھی کسی وقتی رنجش کے بعد جلد ہی شیر وشکر دکھائی دیتے تھے۔ نیز ان کے بہت سے اختلافات خالص علمی وفقی نوعیت کے تھے جو ہمیشہ علماء وحکماء کے ہر طبقے میں ہوا کرتے ہیں۔

        ایک دو معاملات میں اگر ان کے درمیان جنگ کی نوبت آئی ہے تو وہ بھی قرآن مجید میں ان کی  بیان کردہ صفت کے خلاف نہیں کیوں کہ جہاں "رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ" تھے، وہاں ان کی ایک صفت "لَا يَخَافُوْنَ فِي اللهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ" بھی ہے۔ جو جس بات کو شرعی حکم سمجھتا تھا، اسے پورا کرنے کے لیے جان دینے اور جان لینے پر بھی تیار تھا۔ جس  ​ایمانی غیرت سے موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کی داڑھی پکڑی اور جس جذبے سے ابراہیم علیہ السلام نے اسماعیل علیہ السلام کے گلے پر چھری چلائی، اسی جذبے سے صحابہ کرام نے جمل وصفین میں زخم کھائے۔ جس طرح موسیٰ، ہارون علیہما السلام اور ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کے ان واقعات کا نہ تو کوئی انکار کر سکتا ہے، نہ انہیں کسی منفی جذبے پر محمول کر سکتا ہے، اسی طرح صحابہ کرام کے مشاجرات کا انکار کرنا عبث اور انہیں غلط معنی پر محمول کرنا ضلالت ہے۔ جس طرح وہ حقائق انبیائے کرام کی عصمت کے ہرگز منافی نہیں، اسی طرح  یہ مناظر صحابہ کی عدالت سے قطعاً متصادم نہیں۔ بشرطیکہ دیکھنے والی نگاہ  بیمار نہ ہو۔

​سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خطاِ اجتہادی پر حضرت حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا ملفوظ:

        حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے واقعے پر یاد آیا، ایک شخص نے ایک کم علم مگر ذہین مولوی صاحب سے دریافت کیا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ میں جو جنگ ہوئی، اس میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ فعل کس درجے کا ہے؟ مولوی صاحب نے فرمایا کہ بھائی معاویہ رضی اللہ عنہ کی اجتہادی خطا ہے اور اس لیے وہ امر خفیف ہے۔ (حضرت حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہی ہمارے بزرگوں کا عقیدہ ہے۔) یہ سن کر وہ شخص کہتا ہے کہ جس درجے کا شخص ہوتا ہے، اسی درجے کی اس کی خطا ہوگی، اس لیے اس خطا پر شدید سزا ہونی چاہیے۔ مولوی صاحب نے فرمایا کہ ارے! یہ کیا تھوڑی سی سزا ہے کہ ایک صحابی پر ہم نالائق یہ حکم کریں کہ انہوں نے خطا کی، ورنہ ہمارا کیا منصب تھا، ہم گندے ناپاک اور وہ صحابی۔

        ​(حضرت حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے) فرمایا: واقعی عجیب و غریب جواب ہے۔

​سیاسی اختلافِ رائے کے وقت مناسب لائحہ عمل؟

        سیاسی و انتظامی معاملات ہمیشہ پہلو دار ہوتے ہیں۔ سیاست گھر کی ہو یا محلے کی، صوبے کی ہو یا ملک کی، اس میں کسی بھی معاملے میں انسان کی رائے، مشورے اور فیصلے میں غلطی کا امکان رہتا ہے۔ کوئی شخص اس ضمانت کے ساتھ رائے نہیں دے سکتا کہ اس کا نتیجہ خواہش کے عین مطابق ہی نکلے گا، نہ کوئی فیصلہ کرتے ہوئے پورے اطمینان سے  پیش گوئی کی جا سکتی ہے کہ اس کا ردعمل بالکل ویسا ہی ہو گا جیسا ہم چاہتے ہیں۔ کسی بھی فیصلے کے وقت ہمارے پاس سو فیصد درست معلومات نہیں ہوتیں۔ نہ ہی ہم دوسروں کے خیالات، رجحانات اور عزائم کو پوری طرح جانتے ہیں، نہ اپنے اقدامات کا مستقبل دیکھ سکتے ہیں۔

        ​سیاسی ذمہ داریوں اور قومی تقاضوں کی تکمیل کے لیے اٹھائے جانے والے ہر قدم پر انسان یہی کر سکتا ہے کہ اپنی نیت اچھی رکھے، خود غرضی اور مفاد پرستی سے دور رہے، قوم کی بھلائی کے لیے غور وفکر اور مشورے کرے اور اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اخلاقی حدود کے اندر رہتے ہوئے وقت، زمانے اور حالات کے لحاظ سے مناسب ترین لائحہ عمل اختیار کرے۔ اتنا کر کے قائد اپنی ذمہ داری سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی عہدہ برآ ہو جاتا ہے اور بندوں کے نزدیک بھی۔ مستقبل میں اگر اس اقدام کا نتیجہ مکمل یا جزوی طور پر منفی نکلتا ہے تو قائد پر اخلاقی لحاظ سے کوئی الزام صادر ہو سکتا ہے نہ شرعی لحاظ سے، جبکہ اس نے اپنے طور پر خلوص نیت، خیر خواہی، غور و فکر اور احتیاط کے تقاضے پورے کر دیے ہوں۔

        سیاسی و انتظامی معاملات میں اختلاف رائے کے باعث دونوں فریق مخلص اور قوم کے خیر خواہ ہونے کے باوجود بھی کبھی آپس میں ٹکرا سکتے ہیں۔ یہ ٹکراؤ اختلاف رائے سے بڑھ کر جنگ و جدال کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے۔ اکثر مواقع پر کسی تیسرے شخص کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ فریقین میں سے کون حق پر ہے اور کون باطل پر۔ کوئی نہیں بتا سکتا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سچا ہے اور کون جھوٹا۔ ایسے میں انسان کو دو اختیار دیے گئے ہیں: اگر اس کے نزدیک معاملہ الجھا ہوا ہے تو الگ تھلگ رہے۔ اگر کسی ایک کا ساتھ دینے پر قومی فائدے کی امید ہے اور اس کا موقف برحق لگتا ہے تو اس کا ساتھ دے۔ جب سیاسی کشمکش مسلمانوں اور کفار کے درمیان ہو تب فیصلہ کرنا مشکل نہیں ہوتا، کیوں کہ عقیدے کا فرق خود حق و باطل کو واضح کر رہا ہوتا ہے، اس طرح اگر بدکردار اور صالح یا ظالم اور مظلوم کے درمیان تصادم ہو تب بھی فیصلہ زیادہ مشکل نہیں ہوتا، لیکن اگر سیاسی اختلاف کرنے والے گروہوں میں دونوں جانب عقیدے اور اخلاق و کردار کا معیار یکساں ہو تو معاملہ بہت  پیچیدہ ہو جاتا ہے مگر ایسے معاملات سے آنکھیں بند بھی نہیں کی جا سکتیں، یہ فطری امور ہیں جو معاشرے کو ہمیشہ پیش آتے ہیں اور آتے رہیں گے۔

        ا یک سوال اس کشمکش سے براہِ راست متعلق افراد یا اس کشمکش کے دور میں موجود لوگوں کو پیش آتا ہے، ایک سوال بعد والوں کو یا کشمکش سے غیر متعلق لوگوں کو درپیش ہوتا ہے۔ متعلق لوگوں کے سامنے یہ سوال رہتا ہے کہ اس سیاسی قضیے میں وہ کس کا ساتھ دیں؟ بعد والوں کو یہ الجھن ہوتی ہے کہ وہ ان گروہوں اور شخصیات کے بارے میں کیا رائے رکھیں؟ جنگ جمل و صفین سے متعلقہ صحابہ و تابعین کا کردار اس بارے میں ہماری اطمینان بخش رہنمائی کرتا ہے۔

         ساتھ دینے کے حوالے سے ہمیں یہ تعلیم ملتی ہے کہ اگر معاملہ ہمارے نزدیک الجھا ہوا ہے، یا ہمارے نزدیک میں صلاحیتوں کو کھپانا قوم کے لیے سود مند نہیں تو ہم ان معاملات سے الگ رہیں، اگر پہلے کسی گروہ میں شامل ہیں تو اب علیحدگی اختیار کر لیں، جیسے حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے کیا اور جیسے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے جنگ جمل کے دوران علیحدگی کا فیصلہ کیا۔

        لیکن اگر کسی ایک سیاسی گروہ کی قومی خیر خواہی، اخلاق و کردار، منشور اور دعوت پر ہم کو اعتماد ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ شرعی لحاظ سے بھی اس کا ساتھ دینا برحق ہے اور اس میں قوم کا نفع ہے، تو پھر ہم اس جماعت کے ہم قدم ہو جائیں، جیسے صحابہ کی بہت بڑی تعداد سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہم قدم رہی اور جیسے بہت سے حضرات نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا اور بہت سے لوگوں نے حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما کا ساتھ دیا۔ ظاہر ہے کہ کوئی فرشتہ آ کر نہیں بتائے گا کہ کون برحق ہے۔ دارومدار شرعی دلائل کے تجزیے، اور غور وفکر کی استطاعت پر ہے، اسی کے مطابق فیصلہ کرنا ہو گا۔

        دوسرا سوال سیاسی قضیے سے دور رہنے والے یا بعد والوں کو  پیش آتا ہے کہ ان مخالف اور متحارب جماعتوں کے بارے میں کیا رائے رکھیں جو بظاہر باکردار، محبت قوم و ملت اور پابند شریعت نظر آتی ہیں؟ جنگ جمل اور صفین کا جائزہ بتاتا ہے کہ بڑے اور قابلِ تکریم لوگوں کے حق میں ادب واحترام برقرار رکھا جائے۔ اسلامی قانون کو بدلنا یا چھپانا جائز نہیں، لہذا اس نقطہ نگاہ سے علمی بحث میں کسی ایک فریق کی تصویب ناگزیر ہو جاتی ہے۔ اسے سمجھنے سمجھانے کے لیے عقلی و نقلی دلائل پیش کرنا بھی اہلِ علم کے لیے ضروری ہو جاتا ہے۔ مگر اسے ضرورت کی حد میں رہنا چاہیے۔ دل سے ہر فریق کی عزت کی جائے، ان کے اس جذبے کو سلام کیا جائے کہ انہوں نے جس موقف کو حق سمجھا اس پر ڈٹ گئے، ان کی خدا ترسی، قومی ہمدردی، پرہیزگاری اور شرافت و دیانت پر انگلیاں اٹھا کر اپنی زبان و قلم کو آلودہ نہ کیا جائے۔

بلا ضرورت مشاجرات کی بحث سے گریز کی تعلیم:

        مشاجراتِ صحابہ کوئی ایسا محبوب مشغلہ نہیں کہ اسے بلا ضرورت چھیڑا جائے۔ خصوصاً صحابہ کی عیب جوئی کی نیت سے اس میں غور و خوض کرنا تو ایمان کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ اسی لیے اسلاف مشاجرات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تصویب اور ان سے محارب کرنے والوں کے خطیئہ اجتہادی کا عقیدہ رکھنے کے باوجود عمومی طور پر عوام کو ان مسائل میں بحث سے منع کرتے تھے۔ چنانچہ امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"حسن بصری رحمہ اللہ سے صحابہ کرام کے باہمی قتال کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا:

"قَالَ شَهِدَ اَصْحَابُ مُحَمَّدٍ ﷺ وَغِبْنَا، وَعَلِمُوْا وَجَهِلْنَا، وَاجْتَمَعُوْا فَاتَّبَعْنَا، وَاخْتَلَفُوْا فَوَقَفْنَا۔"
یہ ایسی جنگ تھی جس میں اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم  موجود تھے اور ہم غائب۔ وہ (ان حالات کو) جانتے تھے اور ہم نہیں جانتے۔ (جن امور میں) انہوں نے اجماع کیا ان میں ہم ان کی  پیروی کرتے ہیں اور (جن امور میں) انہوں نے اختلاف کیا تو ان میں ہم بھی توقف کرتے ہیں۔"

        متکلمِ اسلام امام ابوبکر باقلانی رحمہ اللہ کی ایک تصنیف کا درج ذیل اقتباس بھی قابلِ غور ہے:

        "حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا: "مشاجرات کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟"

        فرمایا: وہی جو اللہ تعالیٰ نے کہا ہے:

رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا
(اور وہ لوگ جو ان کے بعد آئے جنہوں نے کہا کہ: اے رب ہمارے! بخش دے ہمیں اور ان کو بھی کہ جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے اور ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے لیے کوئی کینہ نہ ہونے دیجئے۔)


        (یہی سوال) حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا:

"میں وہی کہتا ہوں جو اللہ نے فرمایا:

عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ فِيْ كِتٰبٍ لَا يَضِلُّ رَبِّيْ وَلَا يَنْسَى۔
(ان لوگوں کا علم میرے پروردگار کے پاس دفتر (اعمال) میں (محفوظ) ہے،
 میرا رب نہ غلطی کرتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔)"

        اور بعض حضرات سے اس بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۔
"یہ (بزرگوں کی) ایک جماعت تھی جو گزر گئی، ان کے کام ان کے کام آئے گا اور تمہارے کام تمہارا کام کیا ہوا آئے گا اور تم سے ان کے لیے کچھ پوچھ گچھ تو نہ ہوگی۔"

        اور حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے بھی پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا:

تِلْكَ دِمَاءٌ طَهَّرَ اللهُ يَدِیْ مِنْهَا، اَفَلَا اُطَهِّرُ مِنْهَا لِسَانِیْ؟
(یہ وہ خون ہیں جن سے اللہ نے میرے ہاتھ کو پاک رکھا تو کیا میں اپنی زبان کو ان سے پاک نہ رکھوں؟)

        پھر فرمایا:

مَثَلُ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ مَثَلُ الْعُيُوْنِ، وَدَاءُ الْعُيُوْنِ تَرْكُ مَسِّهَا۔
اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی مثال آنکھوں کی طرح ہے، آنکھوں کا علاج یہی ہے کہ انہیں ہاتھ نہ لگایا جائے۔)

        جن صحابہ سے خطاۓ اجتہادی ہوئی، ان سے دل میں نفرت یا بغض رکھنا نا جائز ہے۔ ان کی عزت و تکریم بہر حال ہے ۔ درج ذیل واقعہ قابلِ غور ہے۔

        امام ابو زرعہ رازی کے پاس ایک شخص آکر کہنے لگا: "مجھے معاویہ سے بغض ہے۔" ابو زرعہ رازی نے پوچھا: "کیوں؟" کہنے لگا: "کیونکہ وہ حضرت علی سے ناحق لڑے۔" ابو زرعہ رازی نے فرمایا:

"رَبُّ مُعَاوِيَةَ رَبٌّ رَّحِيْمٌ، وَخَصْمُ مُعَاوِيَةَ خَصْمٌ كَرِيْمٌ، فَمَا دُخُوْلُكَ بَيْنَهُمَا۔"
معاویہ کا رب، رحیم رب ہے۔ معاویہ کا مد مقابل مہربان مد مقابل تھا۔
 پس تو ان کے درمیان کیوں دخل دے رہا ہے۔"

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic