امت کے سوادِ اعظم کے بالمقابل فرقہ بندی
امت کے سوادِ اعظم کے مقابلے میں عراق اور شام میں کچھ تشدد پسند عناصر بہر حال موجود تھے۔ اہل شام کا تشدد طبقہ حضرت علیؓ اور سادات سے بغض رکھتا تھا۔ اہل عراق میں سے کچھ لوگ شامی صحابہ کو گمراہ اور بے دین کہتے تھے، کچھ نے بات بڑھا کر خلفائے ثلاثہ کو بھی مطعون کرنا شروع کر دیا۔ یہی غلو اور تشدد فرقہ بندی کی بنیاد تھا۔
شروع میں حضرت علیؓ کے تمام پیروکاروں کو ”شیعانِ علی“ کہا جاتا تھا مگر یہ کوئی الگ فرقہ نہیں بلکہ ایک سیاسی جماعت تھی جو حضرت علیؓ کی پیروکار تھی۔ احادیث میں حضرت علیؓ کے فضائل و مناقب کی کثرت دیکھ کر ان میں سے کچھ کا خیال یہ تھا کہ حضرت علیؓ اور حضرت عثمانؓ میں سے کسی ایک کو دوسرے پر فوقیت دینا مشکل ہے۔ کچھ یہ کہتے تھے کہ حضرت علیؓ کے مناقب زیادہ ہیں لہٰذا وہ حضرت عثمانؓ سے افضل ہیں۔ جب کہ ایک بہت بڑی تعداد حضرت علیؓ کی جانثار ہوتے ہوئے بھی حضرت عثمانؓ کو ان سے افضل مانتی تھی جیسا کہ جمہور علمائے اسلام کا قول ہے۔ اس جماعت کے اکثر لوگ اسی صحیح عقیدے اور نظریے سے وابستہ تھے جس کی حضرت علیؓ ہمیشہ زبان اور عمل سے تعلیم دیتے رہے۔ یہی عقیدہ غیر جانب دار صحابہ و تابعین کا تھا۔
جس طرح ان صحابہ و تابعین کو جو حضرت علیؓ کے سیاسی حامی تھے، شیعانِ علی کہا جاتا تھا، اسی طرح ان صحابہ و تابعین کو جو قصاصِ عثمان کے لیے اٹھے تھے، شیعانِ عثمان، عثمانی یا شیعانِ معاویہ کہا جانے لگا۔ جس طرح شیعانِ علی میں سے صحابہ اور کبار تابعین کا عقیدہ، ایمان اور تقویٰ کسی شک و شبہے سے بالاتر ہے، اسی طرح عثمانی حضرات میں سے بھی صحابہ کرام اور تابعینِ عظام قرآن و سنت کے مطابق عقیدے و عمل کے پابند تھے۔
شیعانِ علی اور شیعانِ عثمان کے اکثر حضرات بعد میں بھی اعتقادی و نظریاتی طور پر اسی طرح قرآن و سنت کے پیروکار رہے اور سابقہ اختلاف کو ایک مناسب محل میں رکھ کر ایک دوسرے کا احترام کرتے رہے۔ دونوں طبقوں کے یہ حضرات اور ان کے ساتھ غیر جانب دار طبقہ مل کر جمہور مسلمین کا طبقہ ”اهل سنت والجماعت“ کہلانے لگا۔
مگر کچھ لوگ اس راہِ مستقیم سے منحرف ہو کر سوادِ اعظم سے آہستہ آہستہ دور نکل گئے۔ ظاہر ہے کہ صراطِ مستقیم سے ابتدائی انحراف معمولی ہی ہوتا ہے۔ مگر رفتہ رفتہ بڑھ کر بڑی گمراہی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ شیعانِ علی اور شیعانِ عثمان میں سے تشدد پسند لوگوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔
”شیعانِ علی“ میں ایک مختصر گروہ ان بد عقیدہ لوگوں کا بھی تھا جو عبد اللہ بن سبا کے سحر کا شکار تھا۔ ان بد عقیدہ شیعوں سے خود کو الگ کرنے کے لیے، صحیح العقیدہ ”شیعانِ علی“ کو ”شیعہ مخلصین“، ”شیعہ متقدمین“ یا ”شیعہ اولیٰ“ کہا جانے لگا جن میں بہت سے صحابۂ جلیل القدر، تابعین اور بے شمار تبع تابعین شامل تھے۔ یہ شیعہ مخلصین حضرت حسنؓ کے حکم کے مطابق حضرت معاویہؓ سے بیعت ہو گئے، اس طرح مسلمان پھر یکجا ہو گئے۔ شیعانِ مخلصین علمی اور اصلاحی خدمات میں مشغول رہے، اس لیے علماء و محدثین میں ان کی بہت بڑی تعداد ملتی ہے۔
شدت پسند شیعانِ علی کی تین قسمیں:
اقلیتی شدت پسند گروہ رفتہ رفتہ ملت کے عمومی دھارے سے الگ ہو گیا۔ اس میں تین قسم کے لوگ تھے:
① معمولی شدت پسند: یہ حضرت علیؓ کو تمام صحابہ سے افضل مانتے تھے مگر کسی صحابی پر لعن طعن نہیں کرتے تھے، یہ تفضیلیہ کہلائے۔ شیعوں کا زیدی فرقہ اسی سے تعلق رکھتا ہے۔
② گمراہ: یہ حضرت علیؓ کو افضل ماننے کے ساتھ حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کو ظالم، غاصب اور کافر قرار دیتے تھے۔ یہ ابن سبا کے شاگرد تھے اس لیے ”سبئیہ“ یا ”سبائی“ کہلاتے تھے، یہ صحابہ کرام پر تبرا کرتے تھے، اس لیے ”تبریّہ“ یا ”تبرائی“ بھی کہلاتے تھے۔ بعد میں ظاہر ہونے والے شیعی فرقے جیسے: اثنا عشریہ، اسماعیلیہ وغیرہ اسی قسم سے تعلق رکھتے ہیں۔
③ انتہائی بد عقیدہ: یہ حضرت علیؓ کو خدا، خالق اور رازق کہتے تھے، یہ عبد اللہ بن سبا کے خصوصی مرید تھے۔ انہیں ”شیعہ غلاة“ کہا جاتا تھا۔ مست ملنگ قسم کے رافضی اسی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
گمراہ شیعوں کی تعداد بڑھ گئی تو ”شیعہ مخلصین“ نے غیر جانب دار طبقے کے ساتھ مل کر اپنی الگ پہچان اور شناخت کے لیے ”أهل السنة والجماعت“ کا لقب اختیار کر لیا۔ شیعہ تفضیلیہ بھی انہی کے زمرے میں شامل ہو گئے۔
مروانیوں اور ناصبیوں کا تعارف:
عثمانیوں میں سے بھی کچھ تشدد پسند اور متعصب لوگ امت کے دھارے سے الگ ہو گئے۔ انہوں نے تحریکِ قصاصِ عثمان کے مخالف یا اس سے تعلق نہ رکھنے والے ہر شخص کے ایمان کو مشکوک سمجھنا شروع کر دیا اور اس میں حضرت علیؓ اور ان کی صف میں شامل جلیل القدر صحابہ کی بھی رعایت نہ کی۔ چونکہ حضرت علیؓ کو ظالم اور نااہل ثابت کرنے کے لیے پروپیگنڈے کی ضرورت تھی لہٰذا حضرت علیؓ پر تنقید اور بنو ہاشم کی توہین بھی اس جماعت کا شعار بن گیا۔ یہ گروہ ”ناصبی“ یا ”مروانی“ کہلانے لگا۔ بعض اموی اور ہاشمی اکابر باہمی احترام، ہدایا کے تبادلے، رشتے ناتوں اور میل ملاپ کے ذریعے تعصب اور تشدد کی اس فضا کو ختم کرنے کی کوشش کرتے رہے مگر جس طرح عراق کا تشدد پسند گروہ، بنو امیہ کے سخت مخالف تھا اسی طرح اہل شام کا ناصبی گروہ حضرت علیؓ اور ان کے حامیوں سے متنفر رہا۔
یہ ایک کھلی ہوئی بات ہے کہ جب دو گروہوں میں سیاسی کشمکش ہوتی ہے تو فریقین کے تشدد پسند لوگ مخالف قیادت کے بارے میں منفی باتیں عام کرتے ہیں اور اسے کسی بھی طرح بدنام کر کے اپنی گروہ کی ساکھ کو مضبوط کرنے کے درپے رہتے ہیں۔ کچھ لوگ خود ایسی باتیں گھڑتے ہیں، کچھ انہیں بڑے اخلاص اور خشوع و خضوع کے ساتھ پھیلاتے ہیں اور بہت سے لوگ ان بے پر کی باتوں پر پختہ یقین کر لیتے ہیں۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو سیاسی اختلاف کو اپنے دائرے میں رکھتے ہیں اور مصدقہ باتوں کے سوا، کسی بات کا کوئی اثر نہیں لیتے۔
چنانچہ اہل عراق اور اہل شام کی کشمکش کو بڑھانے میں ایسے لوگ اگلے عشروں میں پوری طرح سرگرم رہے، اس دوران شیعی اور مروانی راویوں کی نشر کردہ بہت سی من گھڑت اور بہت سی مبالغہ آمیز باتیں اگلی نسل کے ذخیرۂ روایات میں ضم ہو گئیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جعلی یا مبالغہ آمیز روایات کی نشر و اشاعت میں زیادہ حصہ ان تشدد پسند اہل تشیع کا رہا جو رفض کی حدود میں پہنچ گئے تھے۔ مگر ایک حد تک یہی کام مروانی گروہ کے لوگ بھی کرتے رہے۔ اسی لیے جس طرح ائمہ جرح و تعدیل نے شیعی راویوں میں سے ایک جمِ غفیر کو ضعیف، متروک اور کذاب قرار دیا، اسی طرح مروانی یا ناصبیوں میں سے بھی بہت سوں کو نا قابلِ اعتماد اور مجروح شمار کیا ہے۔
فرقہ بندی کی ابتدا کیسے ہوئی؟ حافظ ذہبیؒ کی وضاحت:
حافظ ذہبیؒ اس زمانے میں فرقہ پرستی کے آغاز کی وجوہ کو یوں بیان فرماتے ہیں:
”حضرت معاویہؓ نے اپنے پیچھے بکثرت لوگ ایسے چھوڑے جو ان سے محبت کرتے تھے اور اس میں غلو کرتے تھے اور انہیں فوقیت دیتے تھے، یا تو اس لیے کہ حضرت معاویہؓ نے کرم، سخاوت اور جود و عطا کے ساتھ ان پر حکومت کی تھی یا اس لیے کہ یہ لوگ شام میں ان کی محبت کے ماحول میں پیدا ہوئے تھے، اسی طرح ان کی اولاد بھی اسی ماحول میں پلی بڑھی۔ ان میں صحابہ کی ایک قلیل جماعت تھی جبکہ تابعین اور فضلاء کی ایک کثیر جماعت تھی۔ ان لوگوں نے حضرت معاویہؓ کے ساتھ ہو کر اہل عراق سے جنگ کی تھی اور نصب (مخالفت) کی بنیاد پر ان کی نشوونما ہوئی۔ ہم جذبات کی پیروی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ اسی طرح خوارج کو چھوڑ کر حضرت علیؓ کے لشکر اور ان کی رعایا کی نشوونما حضرت علیؓ سے محبت کرنے، ان کے حق میں کھڑے ہونے، ان کے مخالفین سے بغض رکھنے اور ان سے اظہارِ برأت پر ہوئی تھی۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے تشیع میں غلو بھی اختیار کر لیا۔ یا الٰہی ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جو ایک ملک میں پلے بڑھے ہوں اور انہوں نے (اپنے اپنے ملکوں میں حضرت علیؓ یا حضرت معاویہؓ سے) محبت یا بغض میں غلو کرنے والوں کے سوا کسی کو نہ دیکھا ہو؟ تو ایسی صورت میں انصاف اور اعتدال کا وجود کہاں ہو سکتا ہے؟ ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں ایسے زمانے میں پیدا کیا جس میں حق ظاہر ہے اور فریقین کی حیثیت واضح ہے، ہم فریقین میں سے ہر ایک کے دلائل کو جانتے ہیں اور (حقیقت کو) دیکھ چکے ہیں۔ پس ہم انہیں معذور سمجھتے ہیں اور (ان کے لیے) استغفار کرتے ہیں۔ ہم اعتدال کو پسند کرتے ہیں۔ ہم باغیوں کے عمل کو بھی کسی مناسب تاویل یا ایسی غلطی پر جو ان شاء اللہ معاف کر دی جائے گی، محمول کر کے، ان کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں۔ ہم ویسے ہی کہتے ہیں جیسا کہ ہمیں اللہ نے سکھایا:
رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا
”اے ہمارے رب! بخش دے ہمیں، اور ان کو بھی کہ جنہوں نے سبقت کی ہم سے ایمان میں، اور ہمارے دلوں میں اے اللہ! کوئی کینہ نہ رکھ ان لوگوں کے لیے جو کہ ایمان لائے۔“
ہم ان حضرات سے بھی راضی ہیں جو فریقین سے الگ رہے جیسے کہ سعد بن ابی وقاص، ابن عمر، محمد بن مسلمہ، سعید بن زیدؓ اور بہت سے لوگ۔ ہم دین سے نکل جانے والے خوارج سے برأت ظاہر کرتے ہیں جنہوں نے حضرت علی سے جنگ کی اور فریقین کو کافر قرار دیا۔“
رجال اور روایت کی قبولیت میں روافض اور ناصبیوں کا انوکھا منہج:
رجال اور روایات کو قبول یا مسترد کرنے میں بھی روافض اور ناصبیوں کا اپنا ایک منہج ہے جس کی بنیاد محض تعصب پر ہے۔ رافضیوں کے منہج میں راوی یا روایت کی مقبولیت کا اصل معیار ”رفض“ ہے۔ اگر کوئی راوی خلفائے ثلاثہ پر طعن کرتا ہے تو وہ ان کے ہاں مقبول ہے، چاہے وہ علم، حافظے، دیانت اور صداقت میں کتنا ہی گیا گزرا کیوں نہ ہو اور چاہے وہ کذاب اور دجال مشہور ہو۔
دوسری طرف، ناصبیوں کے ہاں راوی کی مقبولیت کا اصل معیار ”ناصَبِیّت“ ہے، اگر کوئی راوی چاہے بخاری و مسلم کا ہو مگر اس سے یزید، مروان یا حجاج بن یوسف وغیرہ کے خلاف کچھ منقول نظر آ جائے تو وہ ان کے ہاں نا قابلِ اعتبار ٹھہرے گا اور یہ لوگ اسے ثقہ یا صدوق سے گرا کر ضعیف، کذاب، شیعی بلکہ رافضی ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کے برعکس اگر کوئی ضعیف و متروک بلکہ ابو مخنف جیسا کذاب بھی کہیں یزید یا حجاج کے حق میں یا حضرت حسن و حسین یا حضرت علیؓ کے خلاف کچھ نقل کر گیا ہو تو یہ لوگ اس روایت پر نعمتِ غیر مترقبہ کی طرح جھپٹتے ہیں اور اسے بخاری و مسلم کی روایات پر بھی ترجیح دینے میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتے دکھائی دیتے ہیں۔ الحمد للہ! جمہور علماء، افراط و تفریط کے ان دونوں راستوں سے ہٹ کر معتدل اصولوں کے مطابق رجال اور روایات کو قبول یا مسترد کرتے ہیں۔
عبد اللہ بن سبا کا انجام کیا ہوا؟
عبد اللہ بن سبا کے بارے میں ایک خیال یہ ہے کہ وہ انہی ملحدین میں شامل تھا جو حضرت علیؓ کو خالق و رازق کہہ رہے تھے اور حضرت علیؓ نے انہیں زندہ جلا دیا تھا، جیسا کہ صحیح بخاری اور سنن ابو داؤد میں ہے۔
مگر صحیح بخاری اور سنن ابو داؤد کی ان روایات میں عبد اللہ بن سبا کا نام مذکور نہیں، صرف اتنا ہے کہ حضرت علیؓ نے کچھ زندیقوں کو جلا دیا تھا۔ کچھ حضرات قیاس کر کے کہتے ہیں کہ ابن سبا انہی میں ہو گا۔
دوسری طرف اہل تشیع کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن سبا، حضرت علیؓ کی وفات کے وقت زندہ تھا اور مدائن میں تھا (جہاں اسے شہر بدر کر کے بھیجا گیا تھا)۔ شہادت کی اطلاع ملنے پر اس نے خبر دینے والے کو کہا:
كَذَبْتَ إِنْ جِئْتَنَا بِدِمَاغِهِ فِي سَبْعِينَ صُرَّةً وَ أَقَمْتَ عَلَى قَتْلِهِ سَبْعِينَ عَدْلًا ، مَا صَدَّقْنَاكَ ، بَعْلِمُنَا أَنَّهُ لَمْ يَمُتْ وَ لَمْ يُقْتَلْ ، وَ لَا يَمُوتُ حَتَّى يَمْلِكَ الْأَرْضَ.
(تو جھوٹ بولتا ہے۔ اگر تو ان کا بھیجا، ستر تھیلیوں میں لادے اور ان کے قتل ہونے پر ستر عادل گواہ پیش کر دے، تب بھی ہم تیری تصدیق نہ کریں گے، کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ وہ نہ مرے نہ قتل ہوئے۔ وہ اس وقت تک نہیں مریں گے جب تک پوری دنیا پر قابض نہیں ہو جاتے۔)
اندازہ یہی ہے کہ عبد اللہ بن سبا حضرت علیؓ کی شہادت تک زندہ تھا۔ چونکہ وہ پسِ پردہ رہ کر سازشیں کرنے والا ماسٹر مائنڈ تھا، لہٰذا کسی کو خبر نہیں ہو سکی کہ کب اور کہاں مرا۔ اسی لیے تاریخ اس کے انجام کے متعلق خاموش ہے۔

