دنیا اور اس کی اہمیت اور ضرورت
آخر وہ کون سا اتنا بڑا گناہ ہم سے ہوا ہے جس نے ہمیں عرش سے گرا کر فرش پر پہنچا دیا، وہ کون سی بنیادی غلطی ہم مسلمانوں سے سرزد ہوئی جس کے نتیجہ میں پچھلے ڈیڑھ دو سو سال سے ہم زوال میں گھرے ہوئے ہیں، کیا ملتِ اسلامیہ کا موجودہ زوال نماز روزہ چھوڑنے کی باعث ہوا ہے؟ کیا ذکرِ الٰہی اور تلاوت میں ہم سے کوتاہی ہوئی ہے جو ہم کونے سے دوسرے کونے تک دشمنوں کے ہاتھوں چوٹیں کھا رہے ہیں؟
عام طور پر کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں نے نماز روزہ چھوڑا اس لئے ان کی کشتی گرداب میں پھنس گئی، لیکن میں کہتا ہوں کہ دین دار مسلمانوں نے دنیا کو چھوڑ دیا اس لئے یہ مصائب ہم پر نازل ہو رہے ہیں، تم کہو گے کہ یہ کس قدر الٹی بات ہے لیکن میں تمہیں تفصیل سے سمجھاؤں گا تو تم سمجھ لوگے کہ میری بات صحیح ہے۔
تمہارے دین داروں نے دنیا کو برا سمجھ کر اسے چھوڑا اور شیطانی طاقتوں نے دنیا پر مکمل قبضہ کر لیا اور پھر اس دنیا کو برائیوں اور ظلم و ستم سے بھر دیا، یہ ہے وہ بڑا قصور جس کا ہمیشہ اپنی دعاؤں میں ہمیں توبہ کرنی چاہئے، اور اپنے سوچنے کے ڈھنگ کو اور اپنے طرزِ عمل کو بدل دینا چاہئے۔
بزرگو! قرآن کریم اور اسوۂ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں اگر تم چند بنیادی باتوں کو سمجھ لوگے تو میری بات سے اتفاق کر لو گے، یہ صدیوں کی جمی ہوئی ذہنیت ہے، یہ بڑی مشکل سے دور ہوگی، ہمارے علماء کرام بھی سوچنے کا ڈھنگ بدلیں گے اور سب مل کر اس کی اصلاح کریں گے تب یہ مشکل آسان ہوگی، دنیا بری جگہ نہیں بلکہ آخرت کی کھیتی ہے۔
بزرگو! شیطان نے ہمارے کانوں میں پھونکا کہ دنیا بری جگہ ہے، اسے چھوڑ کر الگ بیٹھ جاؤ اور اللہ اللہ کر کے جنت حاصل کرنے کی کوشش کرو، حالانکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ــ'' الدُّنْيَا مَزْرَعَةُ الْآخِرَةِ '' دنیا آخرت کی کھیتی ہے، اس کھیت میں اچھا بیج ڈالو گے تب آخرت میں اچھی کھیتی کاٹو گے، اور دین دار لوگ اگر کھیتی کو چھوڑ دیں گے تو شیطان اس میں ببول بو دے گا اور اس ببول کے کانٹوں سے دنیا والوں کو تکلیف پہنچے گی، حدیثوں میں جس دنیا کو برا کہا گیا ہے وہ وہ دنیا ہے جو انسان کو نفس پرستی میں مبتلا کر دے یعنی دنیا بری نہیں دنیا کا غلط استعمال برا ہے، مولانا رومی نے کہا ہے
چیست دنیا از خدا غافل شدن
نے قماش و نقرہ و فرزند و زن
سونا، چاندی، بیوی، بچے برے نہیں، ان چیزوں کو خدا کی مرضی کے خلاف کام میں لانا برا ہے، اور دنیا خدا سے غافل ہونے کا نام ہے، روپیہ ، پیسہ، مکان جائداد کا نام نہیں ہے۔
مال و دولت خدا کا فضل ہے:
قرآن کہتا ہے کہ مال و دولت خدا کا فضل ہے اسے تلاش کرو '' وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ '' تم سے کہا جاتا ہے کہ مال بری چیز ہے اسے ہاتھ نہ لگاؤ حالانکہ سنت کے مطابق آج دعا کرو گے کہ **اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ** الٰہی ہم تجھ سے معافی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں، یہ مقبول راتوں کی مقبول دعا ہے اس میں عافیت طلب کی گئی ہے، یہ عافیت ہے کیا؟ کیا یہ عافیت نواری پلنگوں اور قالینوں کی زندگی کا نام ہے، نہیں، عافیت خوش حال اور با عزت زندگی کا نام ہے، جو محنت سے، جدوجہد سے اور خون پسینہ بہانے سے حاصل ہوتی ہے، قالینوں پر بیٹھنے اور عیش پرستیوں سے نہیں حاصل ہوتی۔
حضرت ابو قلابہ تابعی عافیت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں **الْزَمُ سُوْقَکَ فَإِنَّ الْغِنٰی مِنَ الْعَافِيَةِ** بازاروں اور منڈیوں میں جایا کرو اس لئے کہ مال داری عافیت کا ایک حصہ ہے۔
قوت حاصل کرنا فرض ہے:
قرآن کہتا ہے کہ جہاں تک ہو سکے دنیا کی قوتیں حاصل کرو '' وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ ''، اس آیت میں مالی قوت، جسمانی قوت، معاشی قوت اور علمی قوت حاصل کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے اور افسوس ہے کہ تم پچھلے دو سو برس سے ہر قسم کی قوت کو چھوڑتے جا رہے ہو، شیطانی گروہ تم سے علم اور سائنس کے میدانوں میں آگے بڑھ گئے اور تم صرف ہدایہ کی فقہی نکتہ سنجیوں اور آمین و رفع یدین کے جھگڑوں میں پھنسے رہے، حالانکہ ہمارے اسلاف اپنے وقت میں اس دور کی علمی قوتوں کے امام تھے مگر ہم آج مقلد بھی نہ رہے، یورپ علوم کا امام بن گیا، کل یہی ہمارا شاگرد تھا۔
آج ہماری ذہنیت کا یہ حال ہے کہ ہم اپنی بستی کے غریب بچوں کو مسجد میں ہندی اور انگریزی کی تعلیم حاصل کرنے سے روکتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہندی اور حساب پڑھنے سے مسجد کی بے حرمتی ہوگی، اور ایک وہ وقت تھا جب ہمارے بزرگ مسجدوں اور مدرسوں میں بیٹھ کر عیسائی اور یہودی علماء کو خود ان کی اپنی مذہبی کتابوں تورات اور انجیل کی تعلیم دیا کرتے تھے۔
اس غفلت کا نتیجہ یہ ہوا کہ علم و سائنس کو تم نے چھوڑا اور شیطانی گروہ اس پر قابض ہو گئے، اور آج وہ علمی قوت برائی اور تباہی کے لئے استعمال ہو رہی ہے۔
تجارت اور امانت جنت کا راستہ ہے:
ہمارا کاریگر دن بھر میں پانچ قینچیاں بنا کر خوش ہو جاتا ہے اور ایک تھان کپڑے کا تیار کر کے خدا کا شکر ادا کرتا ہے کہ چلو دال روٹی کا انتظام ہو گیا، شیطان نے اس کے کان میں یہ پھونک دیا ہے کہ جتنا زیادہ کماؤ گے اتنا زیادہ پریشان ہونا پڑے گا حالانکہ ہمارے بزرگوں نے تجارت اور صنعت و حرفت کے میدانوں میں اپنی عظمت و برتری کے جھنڈے گاڑ دیئے تھے اور ہمارے تجارتی قافلوں نے اس دنیا کو ایک کونے سے دوسرے کونے تک روند ڈالا تھا، اور ہم صرف پانچ قینچیاں اور چند گز کپڑے تیار کر کے مطمئن ہو جاتے ہیں، جبکہ ہمارے دشمن بڑی بڑی فیکٹر یوں اور کارخانوں پر قابض ہیں، وہ اس تجارتی اور صنعتی ترقی کے بل پر ہمیں اپنا محکوم بنا رہے ہیں۔
اگر آج ہم ان معاشی وسائل پر قابض ہوتے تو ہمارے یہاں پانچ پانچ سو روزانہ پانچ سو پرزے اور مشینیں تیار کرنے کے کارخانے ہوتے اور ہمارے یہاں بیکاری نہ ہوتی، بے روزگاری نہیں ہوتی، جس بیکاری اور افلاس نے ہمارے غریبوں کے دین اور ایمان کے لئے خطرہ پیدا کر دیا ہے، ایسی مثالیں نظر آتی ہیں کہ مسلمان سرکاری نوکریوں اور فیکٹریوں میں ملازمت کرنے کے لئے اپنے مذہب کو چھپاتے ہیں اور اپنا نام بدلتے ہیں اور ہمارے بڑے بڑے ممبران اور وزیر وزراء ان سرکاری کرسیوں کے لئے حکومت کی غلط اور مذہب دشمن پالیسیوں کی تائید کرتے ہیں۔
اس صورتحال کو دیکھ کر مجھے حضرت زینبؓ کا یہ حیرت بھرا جملہ یاد آتا ہے اے کاش میرے بھائی حسینؓ کے پاس ڈیڑھ پاؤ جو دینے کے لئے ہوتے تو وہ میدانِ کربلا میں اکیلے نہ ہوتے، دولت پر تو یزید کا قبضہ تھا اس لئے ہزاروں کوفی اس کے ساتھ تھے اور حضرت حسینؓ تن تنہا تھے۔
دشمن کی خطرناک چالوں سے خبرداری:
مسلمانو! تم شیطان کو صرف لاحول ولاقوۃ پڑھ کر بھگانا چاہتے ہو اور صرف خدا کی پناہ طلب کرتے ہو، حالانکہ شیطان اور شیطانی طاقتوں کو شکست دینے کے لئے صرف لاحول ولاقوۃ اور دعاء کافی نہیں، ہر قسم کے اسلحہ سے لیس ہونا ضروری ہے۔
غزوۂ احد میں سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم جیسے بہترین وافضل ترین سپہ سالار کی قیادت کے باوجود مسلمانوں کو زبردست شکست ہوگئی، کیوں کہ انہوں نے دشمن کے خطرناک حملوں سے اپنے آپ کو چوکنا نہیں رکھا، اور تیر انداز پارٹی پہاڑی کو چھوڑ کر نیچے اتر آئی، دشمن تاک میں تھا اس نے پیچھے سے حملہ کر کے میدان جیت لیا، سپہ سالارِ اعظم نے تاکید کی تھی کہ یہ جگہ نہ چھوڑنا مگر مجاہدین غفلت میں پڑ گئے، بس ذرا سی غفلت اور چوک نے مسلمانوں اور رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت دھکا پہنچا دیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہو کر ایک گڑھے میں پناہ گزیں ہو گئے۔
تبلیغ کے تین چلے:
تبلیغ کا کام ہمارا بنیادی فریضہ ہے، ہمارے جو بزرگ اور دوست اس کام میں ہمہ تن مشغول ہیں وہ ہمارا قابلِ فخر سرمایہ ہیں، لیکن کچھ دوست اس اچھے کام میں حدِ شرعی کو ملحوظ نہیں رکھتے، دلی شاہ گنج کے ایک دوست نے اپنے لڑکے کی شکایت کی کہ وہ تین چلے کے لئے دلی سے باہر جا رہا ہے، یہ ایک معمولی پٹواری ہیں، باپ بیٹے دونوں مل کر اس کاروبار سے روٹی کماتے ہیں، باپ پریشان ہوا کہ اگر لڑکا چلا گیا تو دکان کا کیا ہوگا۔
اسلام نے ہمیں اسباب کے تحت چلنے کا حکم دیا ہے:
معجزہ اور کرامت الگ چیز ہے، خدا تعالیٰ ایک ہی رات میں سوا کروڑ کا مالک بنا دے، وہ یقیناً قادر ہے، لیکن شریعت کا قانونِ اسباب ظاہرہ پر چلنے کی تاکید کرتا ہے، میں نے اس لڑکے کو سمجھایا میاں! تمہاری ذمہ داری صرف اپنی بستی اور اپنے شہر میں دین کی خدمت کرنا ہے، کاروبار بھی چلاؤ اور دین کی اشاعت میں بھی حصہ لو، کاروبار کی خاطر دین سے بالکل غافل نہ بنو، اور دین کی خدمت کے لئے ماں باپ، بھائی بہنوں اور کاروبار کو طلاق نہ دو، دونوں حق تم پر واجب ہیں، تبلیغی کام میں سارا وقت دے دو اور خدا غیب سے روٹی کا انتظام کر دے یہ کرامت ہوگی، عام لوگ اتنے پختہ یقین والے نہیں ہوتے، پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے بوڑھے ماں باپ کی خدمت کو جہاد سے مقدم رکھا اور ایک نوجوان کو حکم دیا کہ تم اپنے ماں باپ کی خدمت کا حق ادا کرو، بس تمہارا جہاد یہی ہے۔
کفر و فقر کے خلاف اعلانِ جنگ:
جب تک ہمارے بزرگوں نے دنیا کی قوتوں کو اپنے قبضہ میں رکھا، تجارت اور صنعت پر قابض رہے اور ان تمام قوتوں کو اس کے بندوں کی خدمت پر لگایا، غریبوں کو روٹی کپڑا پہنچایا، کمزوروں کی مدد کی، مظلوموں کی داد رسی کی، اس وقت دنیا امن وامان سے بھری رہی، اور جب یہ توازن بگڑا، دین دار لوگ نفس پرستوں سے ہار مان کر خانقاہوں کی طرف بھاگے، نفس پرستوں نے دنیا کے تمام وسائل پر قبضہ کر کے اس دنیا کی دولت، قوت اور حکومت کو اپنے ذاتی عیش پر لگا دیا اور کمزوروں کا خون چوسنا ان کا پیشہ بن گیا، اس وقت سے دنیا بدامنی اور بد معاشی کا گہوارہ بنی ہوئی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چیزوں کے خلاف اعلانِ جنگ کیا تھا، ایک کفر کے خلاف اور دوسرے فقر و ناداری کے خلاف، آپ دعا فرمایا کرتے تھے '' اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ '' خداوندا! میں کفر اور فقر دونوں سے پناہ مانگتا ہوں، ایک سائل نے پوچھا حضور! کیا کفر (خدا کا انکار) اور فقر (ناداری) دونوں برابر ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا '' نَعَمْ تُعْدَلَانِ '' ہاں دونوں برابر ہیں، اسلام نے بیک وقت ان دونوں برائیوں کو دور کرنے کا اعلان کیا۔
کفر! مخلوق کے سامنے سر جھکانا، اور فقر و ناداری! مخلوق کے سامنے ہاتھ پھیلانا، دونوں باتیں اشرف المخلوقات انسان کے لئے ذلت کا سبب ہیں، اور اسلام انسان کو عزت اور شرف کے مقام پر لانا چاہتا ہے جو اس کا اصل مقام ہے۔
اسلام نے ان دونوں برائیوں کو چند سال کے اندر ہی اندر دنیا کے بڑے حصے سے نکال دیا، کفر کی جگہ خدا پرستی آ گئی اور فقر کی جگہ خوش حال زندگی۔
حضرت عثمان غنیؓ کے عہد میں عرب جیسے بھوکے ملک میں خوش حالی کا وہ دور دورہ ہوا کہ مالداروں سے زکوٰۃ و وصول کرنے والا کوئی غریب نہ ملتا تھا، یہ تھی ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمۃ اللعالمینی، ہمارے حضور سارے عالم کے لئے رحمت ہیں، اور آپ کی رحمت صرف آخرت کی شفاعت تک محدود نہیں، بلکہ آپ دین اور دنیا دونوں کے لئے رحمت ہیں۔
ہماری بدقسمتی ہے کہ آج لینن اور مارکس کو ماننے والے اسلام کو جاگیرداروں کا محافظ کہہ کر اسے بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ اسلام غریبوں اور ناداروں کا سب سے بڑا دوست ہے، اسلام کے عادی غریبوں کے سب سے بڑے حامی اور دوست ہیں '' عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ '' لیکن ہمارے بادشاہوں، حکمرانوں اور دولت مندوں نے اپنی ذاتی عیش پر لگار کھا ہے اور عوام کی حالت کو سدھارنے کے لئے ان کے پاس چند پیسوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے، بڑی بڑی دولتِ مسلم حکومتوں کے حکمراں دادِ عیش دے رہے ہیں اور غریب بھیک مانگتے نظر آ رہے ہیں،
ہمارے آقانے اپنی لاڈلی صاحب زادی حضرت سیدہؓ کے گلے میں ایک معمولی ہار پسند نہ فرمایا اور اسے فروخت فرما کر ضرورت مند عوام پر خرچ کر دیا اور مسلمان سربراہوں کو یہ سبق دیا کہ غریبی ہٹانے کے لئے انہیں کتنے بڑے ذاتی ایثار سے کام لینا پڑے گا، صرف زکوٰۃ اور خیرات کی قانونی اور رسمی فیاضی عوام کی بھوک، پیاس اور بے روزگاری کا علاج نہیں بن سکتی، اگر آج ہماری حالت یہ نہ ہوتی تو یہ بے دین لوگ ہم پر انگلی نہ اٹھاتے۔
رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا جامع اور مکمل اسوہ:
رسولِ پاک کی سیرت تمہارے پاس موجود ہے، جس میں نماز روزہ بھی ہے، تلاوت اور ذکرِ الٰہی بھی ہے، تجارت اور زراعت بھی ہے، ہر کام اپنے وقت اور اپنے موقع پر موجود ہے، امامت کے وقت حضور بہترین امام ہیں، میدانِ جہاد میں بہترین سپہ سالار ہیں، صفہ کی تعلیم گاہ میں بہترین استاد اور معلم ہیں، مقدمات میں بہترین جج ہیں، گھر والوں کے ساتھ اچھے گھر والے، اچھے شوہر، اچھے بھائی، اچھے باپ، شفیق نانا، اور پڑوسی کے ساتھ اچھے پڑوسی بھی ہیں، بازاروں میں تجارت کی دیکھ بھال کرنے والے اچھے منتظم بھی ہیں، ذاتی معاملات میں عفو و کرم ہے اور شہری نظم ونسق کیلئے سخت گیری ہے، رات میں شب بیداری بھی ہے اور گھر والوں کے ساتھ آرام و راحت بھی ہے، ہر مسلمان کو اسی طرح زندگی کے ہر میدان کا شہسوار بننا پڑے گا اور ہر میدان میں اپنی ایمان داری اور محنت کا سکہ بٹھا کر اسلام کا بول بالا کرنا پڑے گا، تب ہی ہم اپنے فرض سے عہدہ برآ ہوسکیں گے۔
وقت ہوتا تو میں تفصیل کے ساتھ بتاتا کہ مسلمان قوم دعوتِ اسلام اور شہادتِ حق کا فرض اسی وقت ادا کر سکتی ہے جب اس قوم میں آخرت اور دنیا دونوں عالموں کی صلاحیتیں کمال کے ساتھ موجود ہوں گی، نمازیں بھی ہوں گی اور تجارت بھی ہوگی، ہم میں اچھے عالم اور قاری بھی ہوں گے اور ہم میں بہترین ٹیکنیکل مستری بھی، ڈاکٹر اور دانش مند وکیل اور سائنس داں بھی ہوں گے اور تہجد گزار عابد بھی ہوں گے، اور وقت کی مکارانہ سیاست کو سمجھنے والے اور اس کا توڑ کرنے والے پالیٹیشن بھی ہوں گے، اور یہ تمام پرزے اپنی جگہ فٹ ہو کر ملت کی گاڑی کو اتحادِ عمل کے ساتھ چلائیں گے، یہ تمام صلاحیتیں آج کسی ایک فرد کے اندر جمع نہیں ہوسکتیں، الگ الگ افراد ان کمالات کے حامل ہوں گے اور یہ اجتماعی قیادت ملت کو منزل کی طرف لے کر چلے گی۔
آخری گزارش:
نوجوانوں سے میں خاص طور پر کہتا ہوں کہ وہ ایک طرف دین واخلاق کی حالت کو بلند کریں، مسجدیں آباد کریں، دینی تعلیم کے مدرسوں کی خدمت کریں اور دین پھیلانے کے لئے وقت دیں اور دوسری طرف اپنی معاشی حالت کو سدھاریں، کاروبار کی ترقی کے لئے مل جل کر کام کریں، ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کا پرانا مشغلہ چھوڑ دیں، بچوں کو تعلیم دلوائیں، شادی بیاہ کی رسموں کو ترک کر دیں، حلووں اور کونڈوں کی نذر و نیاز کی جگہ اپنے غریب بھائیوں، بیواؤں کی حسبِ ضرورت مدد کریں، غریب مسلمان بچوں کی فیس کا انتظام کریں، ان کے لئے اسکول کی وردیاں اور کتابیں مہیا کریں، اس کا ثواب مردوں کی روح کو حلوے، پوریوں سے زیادہ پہنچے گا، یہ صدقۂ جاریہ ہے، اب وقت صرف جذباتی نعروں کا نہیں ہے، ہمیں اپنا معاشی، تعلیمی اور تنظیمی استحکام کرنا چاہئے، دین دار لوگ دنیا کے سنبھالنے کی بھرپور کوشش کریں اور دنیا دار لوگ عبادت اور دین داری کے لئے بھی وقت نکالیں، دوکان داری کے ساتھ نماز روزہ کا بھی اہتمام کریں، کارخانے بنانے کے ساتھ دینی مدرسے بھی چلائیں، اس طرح دنیا دار اور دین دار مل کر ملت کی گاڑی کو دلدل سے نکال سکتے ہیں۔
ماؤں اور بہنوں سے گزارش:
اسلام نے عورت کو ہر قسم کی پستی اور ذلت سے نکالا ہے، اور دنیا کی قوموں نے اس وقت عورت کو جن انسانی حقوق سے محروم کر رکھا تھا وہ تمام حقوق عطا کئے ہیں، زندگی کی گاڑی کا ایک پہیہ اگر مرد ہے تو دوسرا پہیہ عورت ہے، دونوں پہیے چلیں گے تب گاڑی آگے بڑھے گی، رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں اور بیٹیوں نے دنیا کی تمام ذمہ داریوں میں مرد کے ساتھ حصہ لیا ہے۔
پردہ مسلمان عورت کو شیطانی نظروں سے دور کرنے والی چیز ہے، یہ گھر کی چار دیواری میں قید کر کے دنیا کی ذمہ داریوں سے آزاد کرنے والی چیز نہیں ہے، اس پردہ کی حرمت کو برقرار رکھتے ہوئے اسلام کی بیٹیوں نے سماج کی خدمت میں نمایاں حصہ لیا ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہؓ نے زندگی بھر علم پھیلایا اور ہمیشہ نئی نسلوں کو علم و اخلاق کی دولت عطا فرماتی رہیں۔
حضرت فاطمہؓ نے غزوۂ احد کے اندر غار میں اپنے پیارے باوا جان کے زخموں کی مرہم پٹی کی، آج بیماروں اور زخمیوں کا علاج کرنا اور قوم کی طبی اور ڈاکٹری خدمت کا انجام دینا حضرت سیدہؓ کی سنت کہلائے گی۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیوی حضرت زینبؓ کھالوں کی رنگائی دھلائی کا کام کرتی تھیں اور اس مزدوری سے اپنے شوہر کے لئے شہد خرید ا کرتی تھیں جو حضور کو بہت پسند تھا، حضرت عائشہؓ کو حضور نے حبشی سپاہیوں کی نیزہ بازی کے کرتب دکھائے تاکہ حضرت عائشہؓ میں شجاعت کا جذبہ پیدا ہو۔
بعض لڑائیوں میں عرب کی بہادر عورتوں نے ہتھیار اٹھا کر دشمنوں کا مقابلہ کیا ہے۔
ایک سائل نے حضور سے پوچھا '' أَيُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ؟ '' حضور بہترین عورت کون سی ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا'' الَّتِي تَسُرُّهُ إِذَا نَظَرَ وَتُطِيعُهُ إِذَا أَمَرَ وَلَا تُخَالِفُهُ فِي نَفْسِهَا وَلَا مَالِهَا بِمَا يَكْرَهُ '' بہتر عورت وہ ہے جب اس کی طرف اس کا شوہر دیکھے تو اسے خوش کر دے، اور جب اسے کسی بات کا حکم دے تو اس کا حکم مانے اور جب وہ اس سے علیحدہ ہو تو اپنے ناموس اور اس کے مال و اولاد کی حفاظت کرے۔
انسانی نفسیات کا بڑے سے بڑا ماہر بھی صرف تین جملوں میں بہترین عورت کے اوصاف اس کمال کے ساتھ بیان نہیں کر سکتا جس کمال اور جامعیت کے ساتھ خدا کے رسول نے بیان فرمایا۔
اسلامی عورتیں قومی معاملات اور حالات پر نظر رکھتی تھیں وہ دنیا کے حالات سے بے خبر نہیں رہتی تھیں، صلح حدیبیہ کے ایک موقع پر نہایت نازک معاملہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک الجھن پیش آئی اور اپنے خیمہ میں آ کر اپنی حرمِ محترم حضرت ام سلمہؓ سے مشورہ کیا، ام سلمہؓ نے حضور کو ایسا صحیح مشورہ دیا کہ وہ گتھی فوراً سلجھ گئی۔
میری بزرگ ماؤں اور بہنوں! اس کے ساتھ مجھے یہ بھی عرض کرنا ہے کہ دنیا کی جدوجہد میں بھر پور حصہ لینےکے باوجود رہنا ہے تمہیں "اسلامی عورت" ہی بن کر جو خدمت اور عصمت کا بہترین نمونہ ہوتی ہے، آج ہماری کالجوں کے ماحول نے ہماری لڑکیوں کو بگاڑنا شروع کر دیا ہے، ہمیں اپنی بچیوں کو دینی تعلیم کے ساتھ دنیوی تعلیم بھی دلوانی ہے، لیکن جب کالجوں کے ماحول کا تصور کرتے ہیں رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، اس لئے ہمیں لڑکیوں کی تعلیم کے لئے اپنے مدرسے اور کالج کھولنے چاہئیں جہاں ہماری لڑکیاں اسلامی اخلاق کو قائم رکھتے ہوئے تعلیم حاصل کرسکیں، اب وہ دور نہیں کہ مسلمان عورتوں کو جاہل رکھا جائے اور انہیں کھانے پکانے اور لڑنے کے سوا کوئی دوسرا کام نہ آتا ہو۔
بحوالہ: کشکول علم و عرفان صفحہ /۱۵۷

