Christmas day ki Haqeeqat kiya he?

  کرسمس ڈے کی حقیقت

               حضرت عیسیٰ کے ماننے والوں نے آپ کے ساتھ بہت ہی ناروا سلوک کیا اور آپ کی جانب اور آپ کے ماں حضرت مریم کی جانب بہت سی غیر ضروری اور لایعنی و مشرکانہ باتوں کو جوڑ دیا ، عقائد ونظریات کو منسوب کر دیا ، اور آپ کی پیدائش کے نام پر جو تہذیب و شرافت کے خلاف اور حقائق سے ناواقف ہو کر رسوم و رواج کو انجام دینے کا ایک سلسلہ شروع کر دیا ہے ۔ آئیے ایک مختصر نظر کرسمس ڈے کی حقیقت پر ڈالتے ہیں اور اس نام پر جو خرافات انجام دی جاتی ہیں ان کو ملاحظہ کرتے ہیں ۔




               چناں چہ ۲۵ ڈسمبر کو دنیا بھر میں عیسائی کرسمس ڈے مناتے ہیں ، جس تاریخ کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ اسی تاریخ کو حضرت عیسی کی ولادت ہوئی ہے، اسی خوشی میں وہ اس دن کو عید کی طرح مناتے ہیں، خوشیوں کا اہتمام کرتے ہیں ، جشن و مسرت سے سرشار ہو کر خود حضرت عیسی کی تعلیمات کے خلاف کام انجام دیتے ہیں۔ اس کی کیا حقیقت ہے اس کو ملاحظہ کیجیے۔


               کرسمس ( Christmas) دو الفاظ کرائسٹ (Christ) اور (Mass) کا مرکب ہے ۔ کرائسٹ (Christ ) مسیح (علیہ السلام ) کو کہتے ہیں اور ماس (Mass) اجتماع ، اکھٹا ہونا ہے ۔ یعنی مسیح کے لیے اکھٹا ہونا ، مسیحی اجتماع یا یوم میلاد عیسیٰ علیہ السلام ، یہ لفظ تقریبا چوتھی صدی کے قریب قریب پایا گیا ، اس سے پہلے اس لفظ کا استعمال کہیں نہیں ملتا، دنیا کے مختلف خطوں میں کرسمس کو مختلف ناموں سے یاد کیا اور منایا جاتا ہے، مسیح علیہ السلام کی تاریخ پیدائش بلکہ سن پیدائش کے حوالے سے بھی مسیحی علماء میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔


             رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کلیسا اسے 25 ڈسمبر کو،مشرقی آرتھوڈوکس کلیسا 6 جنوری کو اور ارمنی کلیسا 19 جنوری کو مناتا ہے۔ 


              کرسمس کا تہوار 25 ڈسمبر کو ہونے کا ذکر پہلی مرتبہ شاہ قسطنطین ( جو کہ چوتھی صدی عیسوی میں بت پرستی ترک کر کے عیسائیت میں داخل ہو گیا تھا) کے عہد میں 325 عیسوی میں ہوا ۔


              یادر ہے کہ صحیح تاریخ پیدائش کا کسی کو علم نہیں ۔ تیسری صدی عیسوی میں اسکندریہ کے کلیمنٹ نے رائے دی تھی کہ اسے 20 مئی کو منایا جائے لیکن 25 دسمبر کو پہلے پہل رول (اٹلی) میں بطور مسیحی مذہبی تہوار مقرر کیا گیا۔ تاکہ اس وقت ایک غیر مسیحی تہوار زحل (یہ رومیوں کا ایک بڑا تہوار تھا) کو جو سورج کے راس الجدی پر پہنچنے کے موقع پر ہوتا تھا، پس پشت ڈال کر اس کی جگہ مسیح کی سالگرہ منائے جائے۔ 


              کینین فیرر نے بھی اپنی کتاب لائف آف کرائسٹ میں اس بات کا اعتراف کیا کہ مسیح علیہ السلام کے یوم ولادت کا کہیں پتہ نہیں چلتا، یہ ہے کرسمس ڈے کی حقیقت جسے دنیا میں حضرت عیسی کا یوم پیدائش سمجھ کر دھوم دھام کے ساتھ منایا جاتا ہے ، تاریخی حقیقت سے سب نا واقف ہو کر اور صحیح ترین روایتوں کے فقدان کے سبب خود اپنے پوپ و پادریوں کی من گھڑت بیان کردہ تاریخ کے مطابق پوری عیسائی دنیا اندھیرے میں پڑی ہوئی ہے، اور اس پر مستزاد یہ ہے کہ اسے اپنے نبی کی ولادت سے منسوب کرتے ہیں اور خود نبی کی تعلیمات اور شرافت و پاکیزگی والی ہدایات کو فراموش کر کے طوفان بد تمیزی قائم کرتے ہیں ، شراب و شباب کے نشے میں دھت ہو کر انسانی اور اخلاقی حدوں کو پامال کرتے ہیں۔


              کرسمس کا آغاز ہوا تھا تو اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں میں مذہبی رجحان پیدا کیا جائے یا یہ کہ سکتے ہیں کہ ابتداء میں یہ ایک ایسی بدعت تھی جس کی واحد فضول خرچی موم بتیاں تھیں لیکن پھر کرسمس ٹری آیا ، پھر موسیقی ، پھر ڈانس اور آخر میں شراب بھی اس تہوار میں شامل ہوگئی ۔ شراب داخل ہونے کی دیر تھی کہ یہ تہوار عیاشی کی شکل اختیار کیا گیا۔ 


             صرف برطانیہ کا یہ حال ہے کہ ہر سال کرسمس پر 7 ارب 30 کروڑ پاؤنڈ کی شراب پی جاتی ہے ۔ 25 دسمبر 2005 ء میں برطانیہ میں جھگڑوں لڑائی ، مارکٹائی کے دس لاکھ واقعات سامنے آئے ، شراب نوشی کی بنا پر 25 دسمبر 2002 میں آبروریزی اور زیادتی کے 19 ہزار کیس درج ہوئے ۔ اس طرح یہ لوگ خود ساختہ مذہبی دن کی دھجیاں اڑاتے ہیں، اور اپنے پیغمبر کے نام پر تمام ناروا چیزوں کو اختیار کرتے ہیں۔


           حضرت عیسی علیہ السلام کی شخصیت نہایت ہی قابل احترام ہے، اور ان کی سیرت و زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اللہ تعالی نے قرآن کریم میں بیان کیا ، ان کی پاک وصاف زندگی اور ان کی ماں حضرت مریم کے پاکیزہ کردار کی شہادت قرآن کریم نے دی ہے۔ جتنی سچائیوں کو قرآن نے بیان کیا ان کی تحریف کردہ کتابوں میں بھی وہ نہیں ہیں ۔ لیکن ان لوگوں نے خود ان مبارک ناموں پر اپنی عیش ‌و مستیوں کو پورا کیا اور اس بے حیائی کے طوفان میں پوری دنیا کو لے جانا چاہتے ہیں، دیہاتوں، قریوں کے مسلمانوں پر ان کے ایمان لیوا حملے ، دین سے دور مسلمانوں کو عیسائیت کے جال میں پھانسنے کی تدبیریں دن بدن بڑھتی ہی جارہی ہیں، حقائق کو بھلا کر کفر و شرک کے دلدل میں انسانوں کو پھنسانے کی کوشش میں مال و دولت کے انبار لٹا رہے ہیں ۔ ایسے میں مسلمانوں کو ان حقائق سے باخبر رہنا ضروری ہے، ان تمام رسموں اور رواجوں اور غیروں کے تہواروں سے اپنے آپ کو بچانا ضروری ہے ۔ بالخصوص عیسائی مشنری اسکولوں میں تعلیم پانے والے مسلمان بچوں کو ان تمام چیزوں سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ چوں کہ وہ اپنے اسکولوں میں اپنے مذہب کی تبلیغ کا کام بہت ہی خاموش انداز میں انجام دیتے چلے جاتے ہیں اور ہم معیاری تعلیم کے خوابوں میں کہیں اپنی اولاد کو دین و ایمان سے دور نہ کردیں۔ 


           حضرت عیسی علیہ السلام کی تاریخ ولادت کے متعلق کوئی تحقیقی بات کسی بھی مذہب کی مستند کتاب میں موجود نہیں ہے حتی کہ عیسائیوں کی کتاب میں بھی یہ ذکر نہیں ہے کہ ۲۵ دسمبر کو حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش ہوئی لیکن کسی دلیل کے بغیر عیسائیوں نے ۲۵ دسمبر کو حضرت عیسی علیہ السلام کی تاریخ پیدائش تسلیم کر لی ہے۔ 


          حالانکہ قرآن وحدیث اور اسی طرح بائیبل سے جو اندازہ ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش گرمی کے موسم میں ہوئی تھی۔ بائیل ( باب ۲ آیت (۸) میں ہے کہ جب حضرت عیسی علیہ السلام رات میں پیدا ہوئے تو اُس وقت چرواہا اپنی بھیڑوں کو باہر چرا رہا تھا۔ بیت لحم میں دسمبر کے آخری ایام میں اتنی برف باری ہوتی ہے کہ کوئی شخص اپنے گھر سے بھی باہر نہیں نکل سکتا۔ اور بائبیل میں ہے کہ چرواہا اپنی بھیڑوں کو باہر چرا رہا تھا، دسمبر کے مہینے میں بیت لحم ( فلسطین) میں سخت برف باری کی وجہ سے رات کے وقت بھیٹروں کو باہر چرانا ممکن ہی نہیں ہے۔


             نیز قرآن کریم (سورۃ مریم آیت ۲۵) میں ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کے فورا بعد حضرت مریم سے کہا کہ تم کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلاؤ، اس میں سے پکی ہوئی تازہ کھجوریں تم پر جھڑیں گی ، اس کو کھاؤ۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ کھجوریں سردیوں کے موسم میں نہیں بلکہ گرمیوں کے موسم میں پکتی ہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی متعدد دلائل ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش گرمیوں میں ہوئی۔


Merry Christmas کہہ کر مبارک باد پیش کرنا جائز نہیں

           عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے جنا( معاذ اللہ )، یعنی حضرت عیسی علیہ السلام اللہ تعالی کے بیٹے ہیں ، جس کی سورۃ مریم میں بہت سخت الفاظ کے ساتھ اللہ تعالی نے تردید کی ہے: یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالی کی کوئی اولاد ہے، ایسی بات کہنے والو! حقیقت یہ ہے کہ تم نے بڑے سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے، کچھ بعید نہیں کہ اس کی وجہ سے آسمان پھٹ پڑیں ، زمین پھٹ جائے ، اور پہاڑ ٹوٹ ٹوٹ کر گر پڑیں، کہ لوگوں نے اللہ کے لئے اولاد کا دعوی کیا ہے، حالانکہ اللہ تعالی کی یہ شان نہیں ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو۔ سورۃ الاخلاص میں بھی اللہ تعالی نے واضح الفاظ میں بیان کر دیا کہ اللہ کی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ غرضیکہ قرآن وحدیث کی واضح تعلیمات کی روشنی میں تمام مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اللہ کے بیٹے نہیں ہیں، بلکہ بشر ہیں، اور اس میں کوئی بھی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔


         عیسائی حضرات ۲۵ دسمبر کو اس یقین کے ساتھ Merry Christmas مناتے ہیں کہ ۲۵ دسمبر کو اللہ تعالی نے حضرت عیسی علیہ السلام کو جنم دیا نعوذ باللہ ہم اُن کے مذہب میں کوئی مداخلت نہیں کرنا چاہتے لیکن ہمارا یہ دینی فریضہ ہے کہ اس موقع پر منعقد ہونے والی ان کی مذہبی تقریبات میں شرکت نہ کریں اور نہ کسی شخص کو Merry Christmas کہہ کر مبارک باد پیش کریں ، کیونکہ  یہ جملہ قرآن وحدیث کی روح کے سراسر خلاف ہے۔


      ہاں اگر آپ کا کوئی پڑوسی یا ساتھی عیسائی ہے اور وہ اس موقع پر Merry Christmas کہتا ہے تو آپ خوش اسلوبی کے ساتھ دوسرے الفاظ ( مثلاً شکریہ ) کہ کر کنارہ کشی اختیار کر لیں کیونکہ جس عقیدہ کے ساتھ Merry Christmas منایا جاتا ہے وہ قرآنی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔ آپ کو اپنے پڑوسی یا ساتھی کی فکر ہو سکتی ہے، لیکن دوسری طرف اللہ کی نارانگی اور سخت عذاب کا بھی معاملہ ہے، اس لئے واضح الفاظ میں اُن سے کہہ دیا جائے کہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام با وجویکہ ایک برگزیدہ رسول اور نبی ہیں، وہ اللہ کے بیٹے نہیں۔ اس لئے اس موقعہ پر منعقد ہونے والی تقریبات میں شرکت سے معذرت خواہ ہیں۔


وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين


 (ماخذ: حضرت عیسیٰ اور کرسمس)

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic