Zindagi Jaisi Hai Waisi Hi Qabool Karen

 زندگی جیسی ہے ویسی ہی قبول کریں: حقیقت پسندی اور مصالحت

 دنیا کی حقیقت

        دنیا کی فطرت ہی یہ ہے کہ یہ ناپائیدار اور متغیر ہے۔ دنیا کی لذتوں میں ہمیشہ کدورت (گھلاوٹ) آتی ہے اور یہاں کے بوجھ بہت ہیں۔ دنیا کا چہرہ ترش رو ہے اور یہ متلون مزاج (بدلنے والی) ہے۔

         یہاں آدمی مستقل حادثوں اور المیوں سے دوچار رہتا ہے۔ خواہ وہ باپ ہو، بیوی ہو، دوست ہو یا ساتھی، گھر ہو یا دفتر، ہر جگہ کوئی نہ کوئی کدورت پیدا ہوتی ہے، اور آپ اکثر اوقات پریشان ہو جاتے ہیں۔

         لہٰذا، زندگی کی دھوپ چھاؤں میں، گرمی کو ٹھنڈک سے بجھائیے تاکہ آپ تلخیوں سے بچ جائیں۔ یعنی، مصیبت کے بعد آسانی کی امید رکھیں اور ہر مشکل کا صبر سے سامنا کریں۔



 مشیتِ الٰہی: خیر و شر کا امتزاج

         یہ مشیتِ الٰہی کا فیصلہ ہے کہ یہاں گرم، سرد، خیر و شر دونوں ہو، اچھائی ہو، برائی ہو، اور خوشی کے ساتھ غم بھی ہو۔

یاد رکھیں:

  • پوری پوری خوشی اور خیر تو صرف جنت میں ہوگا۔

  • اور پورا پورا شر دوزخ میں ہوگا۔

دنیا ایک دارالامتحان ہے، جہاں یہ تضاد اور کشمکش لازمی ہے۔ اسی لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

حدیث نبوی: "دنیا ملعون ہے، اس کے اندر کی ہر چیز ملعون ہے سوائے اللہ کے ذکر کے اور اس کے متعلقات کے اور پڑھنے پڑھانے والوں کے"۔

 

         یہ حدیث اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگر دنیا میں حقیقی اور پائیدار خیر ہے تو وہ صرف اللہ کے ساتھ تعلق اور علم دین کے حصول میں ہے۔


 حقیقت پسندی: آئیڈیلزم کو ترک کریں

         اس لیے ضروری ہے کہ آپ حقائق کے ساتھ رہیں اور خواب و خیال میں زندگی نہ گزاریں۔ آئیڈیلزم (مثالی خیالات) کے پیچھے نہ بھاگیں۔

دنیا جیسی ہے ویسی ہی قبول کیجیے۔ اپنے آپ کو اس میں رہنے اور اس سے تعامل (Interaction) کا عادی بنائیے۔ یہ سمجھ لیں کہ یہاں:

  • کوئی مکمل دوست نہیں ہوتا۔

  • نہ کوئی بات پوری ہوتی ہے۔

کیونکہ کمال دنیا کی صفت ہے ہی نہیں؛ کمال صرف اللہ کی ذات کے لیے ہے۔




 ازدواجی زندگی میں مصالحت

         یہ نہ چاہیں کہ آپ کی بیوی (یا کوئی بھی انسان) بہرطور آپ کی پسندیدہ ہو۔ ہمیں انسانی کمزوریوں کے ساتھ جینا سیکھنا ہوگا۔


حدیث نبوی: "ایک مومن مرد مومن عورت کو برا نہ سمجھے کہ اگر اُس کی کوئی عادت اسے بری لگے گی تو کوئی دوسرا پہلو بھا جائے گا"۔

 


 

لہٰذا، صرف خامیوں پر نظر رکھنے کے بجائے، خوبیوں پر بھی نظر رکھیں اور مجموعی صورتحال کو قبول کریں۔

 کامیابی کا رویہ: مصالحت اور درگزر

زندگی میں خوش و خرم رہنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم مصالحت کا رویہ اختیار کریں۔

  • دوسروں کے قریب ہوں۔

  • معافی اور درگزر سے کام لیں۔

  • آسان کو لیں، مشکل کو چھوڑ دیں۔

  • اپنے اقدامات درست کریں،

  • اور بہت سے معاملات میں درگزر سے کام لیں۔

         حقیقت پسندی اور درگزر ہی وہ کنجیاں ہیں جو آپ کو دنیا کی تلخیوں میں سکون فراہم کریں گی۔

(حسد، خود کو جلانے والی آگ)

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic