مصیبت زدوں سے حوصلہ پائیے:آزمائش میں تسلی اور استقامت
دائیں بائیں دیکھیں: غم میں تنہائی نہیں
جب انسان مصیبت میں ہوتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ دنیا میں سب سے زیادہ دکھ اٹھا رہا ہے۔ لیکن اگر آپ دائیں بائیں دیکھیں گے تو ہر طرف مصیبت زدہ دکھائی دیں گے۔
ہر گھر میں ہنگامہ برپا ہے۔
ہر رخسار پر آنسو ہیں۔
ہر وادی میں ماتم بپا ہے۔
آپ دیکھیں گے کہ آپ مصیبت زدہ تنہا نہیں، بلکہ دوسروں کے مصائب کے مقابلہ میں آپ کی مصیبت کم ہے۔ اس طرح موازنہ کرنے سے آپ کو تسلی اور حوصلہ ملے گا۔
مریضوں کو دیکھیں: کتنے ہی مریض ہیں جو سالہا سال سے بستر پر کروٹ بدلتے ہیں، درد سے کراہتے رہتے ہیں، شفایاب نہیں ہوتے۔
قیدیوں کو دیکھیں: کتنے جیلوں میں بند ہیں، سالوں سے انہوں نے سورج کی روشنی نہیں دیکھی۔
والدین کو دیکھیں: کتنی ایسی صورتیں ہیں جن کے جگر کے ٹکڑے نوخیزی اور عنفوانِ شباب میں چھن گئے ہیں۔
یہ یقینی طور پر جان لیں کہ دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے، غموں اور آفتوں کی جگہ ہے۔ یہاں صبح میں بھرے پرے محل شام ہوتے ہوتے اوندھے منہ گر جاتے ہیں۔ زندگی کا یہ تضاد اور ناپائیداری ایمان والوں کو نصیحت کرتی ہے:
قرآن حکیم (ابراہیم):
"اور تمہارے لیے ظاہر ہو جاتا ہے کہ ہم نے ان کے ساتھ کیسے معاملہ کیا اور ہم نے تمہارے لیے مثالیں بیان کر دی ہیں"
اونٹ کی طرح عادی بنیں: زندگی میں توازن
آپ کو چاہیے کہ اپنے آپ کو مصیبتوں کا سامنا کرنے کا ایسا عادی بنائیں، جیسے اونٹ صحرا میں چلنے کا عادی ہو جاتا ہے۔ یہ سفرِ زندگی ہے، اس میں توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔
اپنے ارد گرد کے اور پہلے کے لوگوں کے نمونے سامنے رکھئے۔
ان کے بیچ اپنا موازنہ کیجئے، تو پتہ چلے گا کہ آپ ان کی بنسبت زیادہ بہتر ہیں۔
آپ کو ہلکے سے جھٹکے لگے ہیں، اس پر اللہ کا شکر ادا کریں۔
جو اس نے لے لیا اس پر ثواب کی امید رکھئے۔
انبیاء کی آزمائش: صبر کی مثالیں
حوصلہ پانے کے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ اچھی مثال ہے۔ آپ ﷺ پر آنے والی مشکلات کا تصور کریں:
| آزمائش | تفصیل |
| جسمانی ایذا رسانی | سر پر اونٹ کا اوجھ رکھا گیا، قدم زخمی ہوئے، چہرہ پر چوٹیں آئیں۔ |
| معاشی بائیکاٹ | گھاٹی میں بند کیا گیا، یہاں تک کہ درختوں کے پتے کھانے پڑے۔ |
| وطن سے دوری | مکہ سے ہجرت کرنے پر مجبور کیا گیا۔ |
| جنگ اور نقصان | جنگِ اُحد میں سامنے کے چار دانت ٹوٹ گئے۔ |
| ذاتی غم | آپ کا بیٹا اور اکثر بیٹیاں آپ کی زندگی میں ہی انتقال کر گئیں۔ |
| بھوک و فاقہ | پیٹ پر بھوک کے مارے پتھر باندھے۔ |
| روحانی اذیت | آپ پر ساحر، کاذب، کاہن، مجنوں اور جھوٹے ہونے کے الزامات لگائے گئے، جو جسمانی اذیتوں سے بھی بڑھ کر تھے۔ |
آپ سے پہلے بھی عظیم ہستیاں مصیبتوں سے گزری ہیں:
حضرت زکریا علیہ السلام قتل کر دیے گئے۔
حضرت یحییٰ علیہ السلام کو ذبح کر دیا گیا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ستایا گیا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا۔
صحابہ کرام بھی اسی راستہ پر چلے: حضرت عمرؓ خون میں نہلائے گئے، حضرت عثمانؓ شہید کیے گئے، حضرت علیؓ کو نیزہ مارا گیا۔ ائمہ و صالحین کو کوڑے لگائے گئے، جیل میں ڈالا گیا اور سزائیں دی گئیں۔
مومن کا امتحان: جنت کا راستہ
یہ آزمائشیں تو پیش آتی ہی ہیں، کیونکہ یہ جنت کا راستہ ہے:
قرآن حکیم (البقرہ):
"کیا تم نے سمجھا ہے کہ تم جنت میں یونہی داخل کر دیے جاؤ گے؟ ابھی تو پہلے گزرے ہو اس کی مثال بھی نہیں، جن کو تنگی و ترشی لاحق ہوئی، زلزلوں میں ڈالے گئے"
دوسروں کی مصیبتوں سے عبرت لیں، صبر کریں، اور یقین رکھیں کہ یہ راستہ انعام کی طرف جاتا ہے۔


