اللہ کی یاد سے ہی دلوں کو اطمینان ملتا ہے: ذکر، ہر مرض کی دوا
صداقت اور ذکر: دلوں کی دھلائی
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو صدق (سچائی) محبوب ہے، اور یہ صداقت ہی دلوں کو تمام میل کچیل سے دھو دیتی ہے۔ اس کا تجربہ دلیل ہے کہ سچا رہنما کبھی غلط رہنمائی نہیں کرتا۔
غم، اضطراب اور بے چینی کے علاج کے لیے:
"ذکر سے بڑھ کر کوئی چیز دلوں کو کھولنے والی اور زیادہ ثواب والی نہیں ہے۔"
یہ تو خود رب العالمین کا وعدہ ہے:
قرآن حکیم (البقرہ): "تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا"
ذکر کی حقیقت: دنیا میں جنت کا باغ
اللہ کا ذکر دنیا میں مثلِ جنت ہے۔ جو اس میں داخل نہ ہوگا (یعنی جس کا دل ذکرِ الٰہی سے آباد نہ ہوگا)، وہ جنت میں بھی (حقیقی سکون و لذت) نہ پائے گا۔
ذکرِ الٰہی سے نفسِ انسانی اضطراب، قلق، بیماری اور بے چینی سے نجات پاتا ہے۔ بلکہ یہ تو ہر کامیابی کا سیدھا راستہ ہے۔ وحی ربانی کو پڑھئے، آپ کو ذکر کے فوائد ملیں گے۔ اس کے مرہم کو آزمائیے، آپ کو شفا ملے گی۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ذکر سے:
خوف، تنگی اور حزن و ملال کے بادل چھٹ جاتے ہیں۔
مایوسی اور دل شکستگی سے نجات ملتی ہے۔
حیرت کی بات: غافل جی کیسے لیتے ہیں؟
اس میں تعجب کیا ہے کہ ذاکرین (اللہ کو یاد کرنے والے) سکون پاتے ہیں، کیونکہ یہ تو ہونا ہی چاہیے۔ اس سے بڑی اور تعجب خیز بات یہ ہے کہ خدا کو یاد نہ کرنے والے (غافل) جی کیسے لیتے ہیں؟
ایسے لوگوں کی مثال قرآن میں یوں بیان ہوئی ہے:
قرآن حکیم (النحل): "مردے ہیں، زندہ نہیں، انہیں تو یہ بھی شعور نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے"
جو شخص اللہ کی یاد سے غافل ہو، وہ چلتا پھرتا زندہ انسان نہیں، بلکہ روحانی طور پر مردہ ہے۔
راحت، اطمینان اور سکون کی کنجی
اے وہ شخص جسے رات کو نیند نہ آتی ہو، جو رنج و الم سے دوچار ہو، اور مصائب کا شکار ہو: اللہ کا مقدس نام لے! کیا اس کا کوئی ہم نام تم جانتے ہو؟ ہرگز نہیں!
جتنا بھی اللہ کو یاد کریں گے، اتنا ہی دل کو راحت، قلب کو اطمینان اور روح کو سکون ملے گا۔
کیونکہ اللہ کے ذکر کا مطلب ہے:
اس پر توکل، بھروسہ اور اعتماد۔
اس کی طرف رجوع اور اس سے حسن ظن۔
یہ امید کہ وہ ہر مشکل دور کر دے گا۔
وہ ذات جسے پکارا جائے تو قریب ہے، آواز دی جائے تو سنتا ہے، اور مانگا جائے تو دیتا ہے۔
کامیابی اور خوش نصیبی
اس سے لَو لگائیے، اس کا خشوع اختیار کیجئے، اس کے آگے جھک جائیے، اور اپنی زبان کو اس کے ذکر سے تر رکھئے۔
توحید، حمد، دعا، سوال اور استغفار کی کثرت کیجئے۔
اس کے بعد، اِن شاء اللہ، آپ کو خوش نصیبی، انعام، امن و سکون اور مسرت و شادمانی ملے گی۔
قرآن حکیم (آل عمران): "اللہ نے انہیں دنیا میں اچھا بدلہ اور آخرت میں بہترین اجر و ثواب عنایت فرمایا"
جو لوگ دنیا میں ذکرِ الٰہی سے دلوں کو آباد رکھتے ہیں، وہ دونوں جہانوں میں کامیاب ٹھہرتے ہیں۔


