کیا یہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں پر حسد کرتے ہیں؟: حسد، خود کو جلانے والی آگ
حسد کی تباہ کاری: روح اور جسم کا تیزاب
حسد ایک انتہائی مہلک اخلاقی بیماری ہے جو صرف دوسروں کو نقصان نہیں پہنچاتی، بلکہ سب سے پہلے خود حاسد کی ذات کو تباہ کر دیتی ہے۔
حسد ایسا نمکین تیزاب ہے جو ہڈیوں کو کھوکھلا کر ڈالتا ہے۔
یہ ایک مزمن (دیرپا) مرض ہے جو جسم کو فاسد کر دیتا ہے۔
حسد کرنے والا ظاہری طور پر خود کو مظلوم ظاہر کرتا ہے، لیکن وہ حقیقت میں خود پر ظلم کر رہا ہوتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ حسد کرنے والا ظالم ہوتا ہے مگر اپنے کو مظلوم ظاہر کرتا ہے۔ وہ بظاہر دوست کے لبادے میں ہوتا ہے، مگر درحقیقت دشمن ہوتا ہے۔
حاسد کا انجام: اپنی کھودی ہوئی آگ میں گرنا
حسد کی سب سے عجیب بات یہ ہے کہ یہ سب سے پہلے حاسد کو ہی مار ڈالتا ہے۔ میں اپنے کو اور آپ کو حسد سے اس لیے منع کرتا ہوں کہ دوسروں سے پہلے ہم اپنے آپ پر رحم کریں۔
حسد کے ذریعہ:
ہم فکر کے مارے گھل جاتے ہیں۔
رنج و فکر ہمارا خون پیتا ہے۔
ہماری آنکھوں کی نیند چُرا لی جاتی ہے۔
حاسد آگ کا گڑھا کھودتا ہے اور خود ہی اس میں گر پڑتا ہے۔ تکدر، مستقل غم اور رنج وہ بیماریاں ہیں جنہیں حسد پیدا کرتا ہے، اور وہ ان کے ذریعہ اچھی خاصی آرام کی زندگی کا خاتمہ کر دیتا ہے۔
اللہ کے نظام سے جھگڑا: حسد کی سب سے بڑی آفت
حاسد کی سب سے بڑی آفت یہ ہے کہ وہ باری تعالیٰ سے جھگڑا کرتا ہے۔ وہ درحقیقت اللہ کے انصاف میں شک کرتا ہے کہ اللہ نے کسی کو یہ نعمت کیوں عطا کی۔ اس طرح وہ:
شرع کے ساتھ بے ادبی کرتا ہے۔
پیغمبر اسلام کی تعلیمات کی مخالفت کرتا ہے۔
حسد ایک عجیب بیماری ہے کہ حاسد کو نہ تو دنیا میں سکون ملتا ہے اور نہ آخرت میں اجر۔ یہ ایک ایسی تکلیف ہے جس میں مبتلا کو ثواب بھی نہیں ملتا۔
حسد کی آگ کا ایندھن: نعمتوں کا زوال
حاسد اس وقت تک حسد کی آگ میں جلتا رہے گا جب تک کہ:
لوگوں سے وہ نعمتیں نہ چھن جائیں جن پر وہ حسد کرتا ہے۔
یا جب تک آپ خود اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں سے دست بردار نہ ہو جائیں، اپنے خصائص، امتیازات اور اخلاق کو خیرباد نہ کہہ دیں۔
اگر آپ ایسا کر لیں، تب شاید وہ خوش ہو جائے۔
حاسد کے شر سے پناہ
حسد کرنے والے کے شر سے ہم اللہ کی پناہ لیتے ہیں۔ اس کی تو صبح ہوتی ہی نہیں جب تک کہ وہ کالے سانپ کی مانند اپنا زہر کسی معصوم کے جسم میں نہ اتار دے۔ وہ ہر وقت آپ کی ٹوہ میں لگا رہتا ہے۔
لہٰذا:
حسد سے دور رہے۔
حاسد سے اللہ کی پناہ مانگیے (معوذتین اور دیگر دعاؤں کے ذریعے)۔
حسد کرنے کے بجائے یہ یقین پیدا کریں کہ اللہ کی تقسیم میں بہترین حکمت ہے، اور دوسروں کی نعمت پر حسد کرنے کے بجائے خود اللہ سے مانگیں۔


