Shehad Leejiye Lekin Chhatta Na Todiye

 

 شہد لیجیے لیکن چھتہ نہ توڑیے: نرمی، حسنِ اخلاق کی بنیاد

 نرمی کی زینت: خوش نصیبوں کے اوصاف

         یہ ایک ازلی حقیقت ہے کہ نرمی جس چیز میں بھی ہوگی، اسے زینت دے گی، اور جس چیز سے نکال لی جائے گی، اس میں عیب پیدا ہوگا۔ معاملات میں نرمی، گفتگو میں شائستگی، اور چہرے پر مسکراہٹ وہ بہترین اوصاف ہیں جو خوش نصیبوں کے حصے میں آتے ہیں۔ یہ صفات درحقیقت مومنوں کی پہچان ہیں۔



ان لوگوں کی مثال شہد کی مکھی جیسی ہے:

  • وہ پاک چیزیں (پھولوں کا رس) کھا کر پاک چیز (شہد) بناتی ہے۔

  • وہ پھول پر بیٹھتی ہے لیکن اسے توڑتی نہیں ہے۔

یہ اخلاق کا وہ بلند معیار ہے کہ آپ دنیا سے فائدہ اٹھائیں، لیکن کسی کو تکلیف نہ پہنچائیں۔


 دلوں کی فتح: جو سختی سے نہیں ملتا

نرمی سے اللہ تعالیٰ وہ چیز دے دیتا ہے جو سختی سے نہیں ملتی۔ نرم مزاج اور خوش اخلاق لوگوں کو معاشرے میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے:

  • لوگ ان کا استقبال کرتے ہیں۔

  • نگاہیں انہیں محبت سے دیکھتی ہیں۔

  • دل ان کی طرف مائل ہوتے ہیں۔

  • روحیں انہیں سلام کرتی ہیں۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کا مزاج، گفتگو، لین دین، میل جول اور خرید و فروخت کا انداز ہر جگہ انہیں محبوب بنا دیتا ہے۔


 دوستی کا فن: بغض کا مقابلہ بھلائی سے

         دوست بنانا ایک فن ہے، اور شرفاء اور اچھے لوگ اس سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا اپنا ایک اخلاقی دستور ہوتا ہے جو قرآن کی اس آیت پر مبنی ہے:


قرآن حکیم (حم السجدہ): "برائی کا جواب بھلائی سے دو، اس صورت میں آپ کے اور جس کے بیچ عداوت ہے وہ ایسا ہو جائے گا جیسے دلی دوست"

 



         یہ لوگ اپنے جذبہ پر جوش (کنٹرول)، بردباری اور درگزر کی صفات سے بغض و حسد کو دفنا دیتے ہیں۔

  • وہ اپنے ساتھ ہونے والی برائی کو بھول جاتے ہیں،

  • اور کی گئی بھلائی کو یاد رکھتے ہیں۔

  • وہ گندے اور چبھتے جملوں کی طرف کان ہی نہیں لگاتے۔

اس لیے وہ خود بھی آرام سے رہتے ہیں اور لوگ بھی ان کی طرف سے مامون (محفوظ)، بے خوف اور پرسکون رہتے ہیں۔


 مسلمان کی پہچان: مامون و محفوظ ہونا

         اسلامی تعلیمات میں مومن کی مکمل تعریف یہ ہے کہ لوگ اس کی طرف سے محفوظ اور مطمئن ہوں:


حدیث نبوی: "مسلمان تو وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھوں سے مسلمان محفوظ ہوں، اور مومن تو وہ ہے کہ لوگ اپنی جانوں اور مالوں پر اس سے مطمئن ہوں"۔

 

نرمی اور درگزر اختیار کرنے والوں کو اللہ کی طرف سے خاص حکم ہے:

حدیث نبوی: "اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ جو مجھ سے کٹے ہیں، اُس سے جڑوں، جو مجھ پر ظلم کرے میں اسے معاف کر دوں، جو مجھے نہ دے، میں اسے دوں۔"

 

اسی طرح، ایمان والوں کی صفات میں یہ شامل ہے:

قرآن حکیم (آل عمران): "اہلِ ایمان اپنا غصہ پی جاتے ہیں اور لوگوں کو عافیت دیتے ہیں (معاف کرتے ہیں)"

 

 آخرت کا اجرِ عظیم

         ان نرم مزاج، درگزر کرنے والے لوگوں کو اس دنیا میں سکون و اطمینان کی دولت ملے گی، اور ان کے لیے رب غفور و رحیم کے ہاں اخروی اجر عظیم کی بشارت بھی ہے۔ ان کا ٹھکانہ "صدق کی جگہ" (صدق کی مجلس میں) زبردست شہنشاہ کے پاس ہوگا۔


نرمی اختیار کریں، دنیا کو جیتیں، اور آخرت کو سنواریں۔


( ایمان ہی زندگی ہے)

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic