چھوٹی باتوں پر آپ ٹوٹ نہ جائیں: بلند عزائم کی ضرورت
معمولی اسباب پر غمگینی: منافقین کا رویہ
یہ ایک عام حقیقت ہے کہ کتنے ہی لوگ ایک حقیر اور معمولی سبب کے باعث مغموم و رنجیدہ رہتے ہیں۔ یہ رویہ ان لوگوں کی عکاسی کرتا ہے جن کی نظریں پست ہوتی ہیں اور جن کے عزائم چھوٹے ہوتے ہیں۔
قرآن میں منافقین کا جو حال بیان کیا گیا ہے، وہ معمولی وجوہات کی بنا پر بڑے مقصد سے پیچھے ہٹ جاتے تھے:
ہمتیں پست، عزائم حقیر: وہ کہتے تھے، "دھوپ میں جہاد کے لیے نہ نکلو"۔
بہانے سازی: "مجھے جانے کی اجازت دیجیے، مجھے نہ آزمائیے" یا "ہمارے گھر کھلے ہوئے ہیں، ہمیں خوف یہ ہے کہ کوئی مصیبت نہ آ جائے"۔
اعتماد کی کمی: "اللہ و رسول نے ہمارے ساتھ بس دھوکہ کا وعدہ کیا ہے"۔
کیسی پستی ہے ان کی باتوں میں! کیا ہی احساس کمتری ہے! ان کی نظریں بس پیٹ، صحن، اچھے گھر اور محلات تک ہی دیکھ پاتی ہیں۔ اعلیٰ قدروں کے آسمان تک ان کی نگاہیں اٹھتی ہی نہیں، اور نہ ہی وہ فضائل کے ستاروں کو دیکھتے ہیں۔ ان کی سوچ اور فکر بس گھوڑا، کپڑا، جوتا اور کھانا ہے۔
وقت کا زیاں: برتن میں ہوا کا بھر جانا
اسی طرح، ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی بھی ہے جن کا صبح و شام کا مشغلہ بس بیوی، بچوں یا رشتہ داروں سے جھگڑا، گالم گلوچ اور ایسی ہی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں۔ ان لوگوں کے لیے یہی باتیں اہم بن جاتی ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ:
ان کے پاس کوئی بڑا مقصد، کوئی بلند ارادہ ہی نہیں جو ان کا وقت لے اور مشغول رکھے۔
یہی وہ بات ہے جسے کہا جاتا ہے کہ "جب برتن سے پانی نکل جاتا ہے تو اس میں ہوا بھر جاتی ہے"۔ جب دل سے بڑے مقاصد اور اہم امور کا خیال نکل جاتا ہے، تو وہ چھوٹی اور فضول باتوں کے وسوسوں سے بھر جاتا ہے۔
صحیح قدر و قیمت: اللہ کا معیار
لہٰذا، سوچیے کہ جس مسئلہ میں آپ پریشان اور مغموم ہیں، وہ کیسا ہے؟
کیا آپ کی یہ پریشانی اس لائق ہے کہ آپ اسے اپنی عقل، گوشت، خون، راحت اور وقت سب دے دیں؟
یہ تو ٹوٹے اور گھاٹے کا سودا ہے۔
نفسیات کے ماہرین بھی کہتے ہیں کہ ہر چیز کو معقول حد میں رکھئیے، لیکن اس سے زیادہ صحیح ارشادِ الٰہی ہے:
قرآن حکیم (الطلاق): "اللہ نے ہر چیز کی قدر و قیمت رکھی ہے"
جیسا اور جس طرح کا مسئلہ ہے، اتنا ہی اسے وزن اور قیمت دیجیے؛ کمی زیادتی نہ کیجیے۔ کسی معمولی مسئلے کو اتنا بڑا نہ بنائیں کہ وہ آپ کی تمام توانائیاں چوس لے۔
حُدیبیہ کی محرومی: اونٹ کی فکر
حدیبیہ کے موقع پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک عظیم مقصد کے لیے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے، اور انہیں اس بیعت کو نبھانے کی فکر تھی۔
لیکن عین اس وقت ایسا شخص بھی تھا جسے اپنے اونٹ کی فکر تھی، یہاں تک کہ وہ بیعت بھی اس سے چھوٹ گئی۔ صحابہ کرام کو اللہ کی خوشنودی حاصل ہوئی اور اس شخص کے حصہ میں محرومی آئی۔
لہٰذا، چھوٹی اور معمولی باتوں کی فکر چھوڑ دیجیے، اپنی نگاہوں کو بلند مقاصد پر مرکوز کیجیے، تب آپ شاداں اور فرحاں رہیں گے اور تفکرات سے نجات مل جائے گی۔


