نئے سال کا جشن: تاریخی حقائق اور اسلامی موقف
وقت اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ایک عظیم نعمت اور امانت ہے۔ زندگی کا ہر گزرتا ہوا لمحہ انسان کو اس کی آخری منزل یعنی موت کے قریب کر رہا ہے۔ آج کے دور میں نئے سال کی آمد پر جس قسم کے جشن اور ہنگامے برپا کیے جاتے ہیں، وہ نہ صرف وقت کا ضیاع ہیں بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی منافی ہیں۔
نئے سال کی تاریخی حقیقت
یکم جنوری کو نئے سال کا آغاز قرار دینا کوئی آسمانی حکم نہیں بلکہ انسانی و تہذیبی روایات ہیں:تاریخی جڑیں: اس جشن کی بنیاد قدیم رومی اور بابلی تہذیبوں میں ملتی ہے۔
رومی دیوتا: جنوری کا مہینہ رومی دیوتا "جینس" (Janus) سے منسوب ہے، جسے وہ ماضی اور مستقبل کا دیوتا مانتے تھے۔ ایک مسلمان کے لیے ایسی نسبتوں والے دن کو جوش و خروش سے منانا عقیدہ توحید کے منافی ہے۔
اسلام میں تہواروں کا تصور
اسلام ایک کامل دین ہے جس نے خوشی منانے کے بھی طریقے اور حدود متعین کر دی ہیں۔
ارشادِ نبوی ﷺ ہے:
"اللہ نے تمہیں ان (جاہلیت کے تہواروں) کے بدلے دو بہتر دن عطا فرمائے ہیں: عیدالفطر اور عیدالاضحی۔" (سنن ابی داود)
ارشادِ نبوی ﷺ ہے:
"اللہ نے تمہیں ان (جاہلیت کے تہواروں) کے بدلے دو بہتر دن عطا فرمائے ہیں: عیدالفطر اور عیدالاضحی۔" (سنن ابی داود)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اسلام میں اپنی مرضی سے نئے تہوار گھڑنا یا غیروں کی نقالی کرنا درست نہیں۔
غیر مسلموں کی مشابہت سے ممانعت
اسلام ہمیں اپنی انفرادی پہچان برقرار رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ آتش بازی، میوزک پارٹیاں اور بے پردگی غیر اسلامی تہذیبوں کے شعار ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے متنبہ فرمایا:
"جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی، وہ انہی میں سے ہے۔" (سنن ابی داود)
"جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی، وہ انہی میں سے ہے۔" (سنن ابی داود)
اکثریت کی پیروی اور قرآن کی تنبیہ
آج دلیل دی جاتی ہے کہ "جب سب لوگ منا رہے ہیں تو ہم کیوں نہ منائیں؟" قرآن اس سوچ کو مسترد کرتا ہے:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"اگر تم زمین میں بسنے والوں کی اکثریت کی پیروی کرو گے تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے گمراہ کر دیں گے۔" (الأنعام)
حق کا معیار "لوگوں کی کثرت" نہیں بلکہ "اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت" ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"اگر تم زمین میں بسنے والوں کی اکثریت کی پیروی کرو گے تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے گمراہ کر دیں گے۔" (الأنعام)
حق کا معیار "لوگوں کی کثرت" نہیں بلکہ "اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت" ہے۔
وقت کی قدر اور محاسبۂ نفس
نیا سال شور و ہنگامے کا نہیں بلکہ محاسبۂ نفس (Self-Accountability) کا موقع ہے۔فکرِ آخرت: زندگی کا ایک سال کم ہونا درحقیقت خوشی کا نہیں بلکہ فکر کا مقام ہے کہ ہم نے آخرت کے لیے کیا تیاری کی؟
توبہ کا وقت: یہ وقت گزری ہوئی کوتاہیوں پر استغفار کرنے اور آنے والے سال کو نیکی میں گزارنے کا عزم کرنے کا ہے۔
فضول خرچی اور گناہ
نئے سال کی رات آتش بازی اور دیگر خرافات پر کروڑوں روپے ضائع کیے جاتے ہیں۔ قرآنِ کریم میں فضول خرچی کرنے والوں کو "شیطان کا بھائی" قرار دیا گیا ہے۔خلاصہ اور پیغام
مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ ہر عمل کو شریعت کی کسوٹی پر پرکھے۔ ہمیں چاہیے کہ:*غیر اسلامی رسومات اور اندھی تقلید سے دور رہیں۔
* گزرے ہوئے سال کی غلطیوں پر اللہ سے معافی مانگیں۔
* اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالنے کا پکا عزم کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

