Qismat Par Raazi Rahen

 قسمت پر راضی رہیں: قناعت، حقیقی عزت اور جاودانی کی جنت

 تقسیمِ الٰہی پر قناعت

         یہ ضروری ہے کہ آپ کو جیسا بدن، مال، اولاد، گھر اور جو صلاحیت ملی ہو، اسی پر قناعت کرنی چاہیے۔ یہ اللہ کا حکم ہے کہ ہم شکر گزار بنیں:




قرآن حکیم (الاعراف):

"جو میں نے تمہیں دیا ہے، اسے لو اور شکر گزاروں میں سے ہو جاؤ"

 

 عظمتِ کردار: مال و شہرت سے بالا

         علماء سلف اور پہلی نسل کے لوگ اکثر غریب اور فقیر تھے، نہ ان کے پاس عطیے تھے، نہ شاندار مکانات، نہ گاڑیاں۔ اس کے باوجود وہ معاشرے پر اثر انداز ہوئے اور انسانیت کو زبردست فائدے پہنچائے۔

         وجہ: انہیں اللہ نے جو بھی خیر کی توفیق دی، اسے انہوں نے صحیح راستہ میں لگایا۔ اس لیے ان کے اعمال، اوقات اور صلاحیتوں میں برکت دی گئی۔

         اس کے مقابلے میں، ایسے مالدار اور اہل ثروت تھے کہ سیدھے اور فطری راستہ سے انحراف کے نتیجہ میں یہ مال و دولت ان کے کچھ کام نہ آئی، اور وہ بدبختی اور نحوست کی زندگی گزارتے رہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اشیاء ہی سب کچھ نہیں ہیں۔


  • آپ کو بہت سے لوگ ملیں گے جن کے پاس عالمی ڈگریاں ہیں لیکن اپنے فہم، اثر اور دین کے لحاظ سے ان کا کوئی شمار نہیں۔

  • جب کہ بہتیرے ایسے بھی ہیں جن کا علم تو محدود ہے، لیکن اس کو انہوں نے فائدہ، اصلاح اور تعمیر کا ابلتا چشمہ بنا دیا ہے۔


         اگر آپ خوش رہنا چاہتے ہیں تو جیسی کچھ شکل و صورت اللہ نے آپ کو دی، جس خاندان میں پیدا کیا، جو آواز دی، اپنے فہم اور آمدنی کے معیار پر خوش رہیں۔




 تاریخ کے نامور فقیر

تاریخ میں ایسے لوگوں کی ایک لمبی فہرست ہے جو کم پر راضی ہوئے اور نام کمایا:


شخصیتظاہری حالت/پیشہمقام
عطاء بن رباحآزاد کردہ غلام، کالے، چپٹی ناک والے، مشلول البدناپنے زمانہ کے سب سے بڑے عالم تھے۔
احنف بن قیسدبلے پتلے، کمزور، کبڑے اور پنڈلیاں نچی تھیںعربوں میں سب سے بردبار و علیم تھے۔
الاعمشآزاد کردہ غلام، نگاہ کمزور، محتاج، پھٹے حالاپنے زمانے کے سب سے بڑے محدث تھے۔
انبیاء علیہم السلامبکریاں چرائی، حضرت داؤد لوہار، حضرت زکریا بڑھئیخیر البشر اور تمام انسانیت کا مکھن۔

         آپ کی قدر و قیمت آپ کی صلاحیتیں اور نیک کام ہیں۔ یہ بات کہ آپ نفع پہنچائیں اور حسنِ اخلاق سے کام لیں۔ جمال، مال یا عیال میں کچھ کمی ہو گئی ہو تو اس میں رنج و افسوس کی کوئی بات نہیں ہے۔ اللہ جو دے، اس پر خوش رہیں۔


قرآن حکیم (الزخرف):

"ہم نے ان کے درمیان دنیاوی زندگی کی روزی تقسیم کر دی ہے"

 

 ہمیشگی کی جنت: حقیقی منزل

         اس جنت کو یاد کرتے رہیے جس کا عرض زمین و آسمان ہے۔

         دنیا میں اگر آپ محتاج یا غمگین ہوں، یا مرض لاحق ہو جائے،جیسی کچھ شکل و صورت اللہ نے آپ کو دی،جس خاندان میں پیدا کیا، جو آواز دی، اپنے فہم اور آمدنی کے معیار پر خوش رہیں۔ اور ہمیشگی کی جنت کو یاد کر لیں۔ جب آپ ایسا کرنے لگیں گے اور اس کے حصول کے لیے کام کریں گے تو:

  • آپ کے نقصانات فائدوں میں بدل جائیں گے۔

  • مصیبتیں عطایا ثابت ہوں گی۔


         سب سے عقل مند وہی ہے جو آخرت کے لیے کام کرے، کیونکہ آخرت ہی بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ مخلوقات میں سب سے احمق وہ ہیں جو دنیا کو اپنی آرام گاہ، اپنا گھر اور امیدوں کا مرکز سمجھتے ہیں۔ اسی لیے جب مصیبتیں پڑتی ہیں تو بہت گھبراتے اور مضطرب ہوتے ہیں۔

 جنت کا دلکش منظر: نعمتوں کی انتہا

کیا ہم نے اس پر غور کیا کہ اہل جنت نہ بیمار ہوں گے، نہ غمگین، نہ مریں گے، نہ ان کا شباب ختم ہوگا، نہ کپڑے پرانے ہوں گے۔


  • نعمتیں: وہ ہوں گی جنہیں نہ کسی فردِ بشر کی آنکھوں نے دیکھا، نہ کانوں نے سنا، نہ دل میں ان کا خیال گزرا۔

  • وسعت: اس کے ایک درخت کے سایہ میں سو سو سال تک چلتا رہے، تب بھی وہ ختم نہ ہو۔

  • آرام: نہریں جاری، محلات شاندار، پھل قریب لٹکے ہوئے، گدے اور قالین قرینے سے بچھے ہوئے۔

  • خوشی: اس کی خوشی مکمل، ہر طرف خوشبو، ہر جا شادابی۔


     پھر ہماری عقلوں کو کیا ہوا؟ ہم اس کے بارے میں سوچتے کیوں نہیں؟ جب انجام کار اس گھر میں داخلہ ہے، تو پھر مصیبت زدوں، غم زدوں اور محتاجوں کو کوئی غم نہ ہونا چاہیے بلکہ انہیں خوشی ہونی چاہیے کہ عاقبت خوش انجام ہوگی۔

         انہیں فقر و فاقہ کا رونا نہ رو کر، اور مصیبتوں کا دکھڑا نہ سنا کر، عمل صالح کرنا چاہیے تاکہ اللہ کی نعمتوں اور اس کی جنت کے مستحق بن جائیں۔


قرآن حکیم (الرعد):

"تم نے جو صبر کیا اس پر تمہیں سلامتی ہو، کیا بہتر ٹھکانہ تمہیں ملا ہے"

 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic