Gham Se Nijat Aur Khushgawar Zindagi Ka Islami Rasta

ایک فکری و اصلاحی مطالعہ

        انسان کی دنیاوی زندگی نشیب و فراز کا مجموعہ ہے۔ اس سفر میں جہاں خوشیاں انسان کا استقبال کرتی ہیں، وہی رنج و ملال اور فکر و اضطراب کے سائے بھی پیچھا کرتے ہیں۔ لیکن ایک مسلمان کے لیے زندگی گزارنے کا وہ اسلوب کیا ہونا چاہیے جو اسے مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر شرحِ صدر کی روشنی میں لے آئے؟ شریعتِ اسلامی اور انسانی نفسیات کا عمیق مطالعہ بتاتا ہے کہ رنج و الم نہ تو شرعاً مطلوب ہے اور نہ ہی انسانی زندگی کا اصل مقصود۔


 شریعت اور فطرت کا تناظر

        قرآنِ حکیم کے مطالعے سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو غم اور کمزوری سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ سورہ آلِ عمران میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "نہ کمزور بنو نہ غم کرو"۔ یہ محض ایک نصیحت نہیں بلکہ ایک اصولی حکم ہے، کیونکہ حزن (غم) انسان کی عملی صلاحیتوں کو مفلوج کر دینے والا ایک ایسا بخار ہے جو زندگی کی حرارت کو ٹھنڈا کر دیتا ہے۔

        نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو بارہا حکم دیا گیا کہ مخالفین کے رویوں پر افسوس نہ کریں اور نہ ہی غمگین ہوں۔ ہجرت کے کٹھن سفر میں جب غارِ ثور میں بظاہر ہر طرف خطرات تھے، تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھی سے یہی فرمایا: "غم نہ کریں، اللہ ہمارے ساتھ ہے"۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایک مومن کا دل اللہ کے بھروسے سے اس قدر لبریز ہونا چاہیے کہ وہاں غم کی گنجائش باقی نہ رہے۔ شیطان کا تو اولین مقصد ہی یہ ہے کہ وہ اہل ایمان کو غمگین کر کے انہیں راہِ حق سے منحرف کر دے، کیونکہ ایک غمزدہ انسان کبھی بھی بلند عزائم کے ساتھ سفرِ زندگی جاری نہیں رکھ سکتا۔

غم اور فکر کے درمیان باریک لکیر

        انسانی نفسیات کی رو سے رنج (حزن) کا تعلق ماضی کے غمناک واقعات سے ہے، جبکہ فکر (ھم) مستقبل کے اندیشوں کا نام ہے۔ یہ دونوں کیفیات زہرناک ہیں جو روح میں حیرت اور ملال  پیدا کرتی ہیں۔ اگر انسان ماضی کے پچھتاووں اور مستقبل کے خوف میں گھرا رہے گا، تو وہ حال کی نعمتوں سے کبھی لطف اندوز نہیں ہو سکے گا۔

        اگرچہ انسانی فطرت کے تقاضے کے تحت کسی مصیبت پر وقتی رنج کا آ جانا فطری ہے، لیکن اسے مستقل اوڑھنا بچھونا بنا لینا شریعت کے مزاج کے خلاف ہے۔ جنتیوں کا یہ قول کہ "تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم سے غم دور کر دیا"، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دنیا میں غم لاحق تو ہوتا تھا، مگر اسے دعاؤں اور صبر کے ذریعے دور کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ محمود (پسندیدہ) حزن صرف وہ ہے جو کسی عبادت کے فوت ہونے یا گناہ پر ندامت کے سبب ہو، کیونکہ یہ ایمان کی زندگی کی علامت ہے۔ بصورتِ دیگر، دنیاوی نقصانات پر کڑھنا سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  کے خلاف ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  ہمیشہ شرحِ صدر، خندہ جبینی اور تبسم کے ساتھ جیتے تھے۔

تقسیمِ الٰہی پر قناعت: سکون کا اصل راز

        خوشی کا دوسرا بڑا ستون "قناعت" ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات میں رزق، صلاحیت، صحت اور حسن کی تقسیم اپنے حکیمانہ فیصلے سے کی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "جو میں نے تمہیں دیا ہے، اسے لو اور شکر گزاروں میں سے ہو جاؤ"۔

        تاریخ گواہ ہے کہ انسانیت پر سب سے گہرے اثرات ان لوگوں نے چھوڑے جو ظاہری طور پر محتاج یا غریب تھے، مگر ان کے دل قناعت کے نور سے منور تھے۔ عطاء بن رباح جیسے حبشی غلام ہوں، یا احنف بن قیس جیسے جسمانی طور پر کمزور انسان—ان لوگوں نے اپنی ظاہری حالت کو اپنی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ انہوں نے اللہ کی دی ہوئی محدود صلاحیتوں کو صحیح راستے میں لگا کر وہ مقام پایا کہ آج تاریخ ان کے تذکرے کے بغیر ادھوری ہے۔

        حقیقی عزت ڈگریوں، بنگلوں یا بینک بیلنس میں نہیں، بلکہ کردار کی عظمت اور نفع بخشی میں ہے۔ اگر آپ اپنی شکل و صورت، خاندان اور آمدنی پر راضی نہیں ہیں، تو آپ کبھی بھی ذہنی سکون حاصل نہیں کر سکتے۔ آپ کی اصل قدر و قیمت آپ کی وہ صلاحیتیں ہیں جو دوسروں کے کام آ سکیں۔

بلند عزائم اور چھوٹی باتوں سے اعراض

        اکثر دیکھا گیا ہے کہ جن لوگوں کی زندگی کا کوئی بڑا مقصد نہیں ہوتا، وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ٹوٹ جاتے ہیں۔ منافقین کا شیوہ یہی تھا کہ وہ معمولی وجوہات (جیسے گرمی کی شدت یا گھر کی حفاظت) کو بڑے مقصد (جہاد) کی راہ میں رکاوٹ بنا لیتے تھے۔

        جب دل بڑے مقاصد سے خالی ہو جاتا ہے، تو اس میں فضول وسوسے اور گھریلو جھگڑوں کی "ہوا" بھر جاتی ہے۔ ایک دانشور کا قول ہے کہ "جب برتن سے پانی نکل جاتا ہے تو اس میں ہوا بھر جاتی ہے"۔ اسی طرح جب انسان کے پاس دین یا دنیا کا کوئی عظیم ہدف نہیں ہوتا، تو وہ  بیوی بچوں کے جھگڑوں، رشتہ داروں کی غیبت اور حقیر باتوں میں اپنی توانائیاں ضائع کرنے لگتا ہے۔ ایک مومن کو چاہیے کہ وہ ہر معاملے کو اس کی اصل قدر و قیمت کے مطابق وزن دے۔ کسی معمولی مسئلے کو اتنا بڑا نہ بنائیں کہ وہ آپ کی راحت اور وقت کو نگل جائے۔ حدیبیہ کے موقع پر ایک بدبخت شخص اپنے اونٹ کی فکر میں  بیعتِ رضوان جیسی عظیم سعادت سے محروم رہ گیا، جبکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی نظریں اللہ کی خوشنودی پر تھیں۔

عالمی تفکرات سے اجتناب اور باطنی استقرار

        آج کے دور کا ایک بڑا المیہ "عالمی درد" کا بے جا بوجھ اپنے سر پر لینا ہے۔ کچھ لوگ دنیا کے ہر حادثے، مہنگائی، سیاسی تبدیلی اور افواہ کو اپنے اعصاب پر سوار کر لیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حادثات زمین پر ہوتے ہیں مگر زخم ان کے معدے اور دل پر لگتے ہیں۔ ایسے لوگ بلڈ پریشر اور شوگر جیسے امراض کا شکار ہو کر اپنی شخصیت کو خود ہی منہدم کر لیتے ہیں۔

        قرآن کریم ایسے لوگوں کے بارے میں کہتا ہے کہ "وہ ہر آواز کو اپنے ہی خلاف سمجھتے ہیں"۔ شجاعت اور ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کا سینہ چوڑا ہو، اعصاب ٹھنڈے ہوں اور یقین راسخ ہو۔ حالات کی آندھیاں انہیں متزلزل نہ کر سکیں۔ ایک بزدل شخص روزانہ کئی بار مرتا ہے، جبکہ ایک باحوصلہ مومن حالات کا پامردی سے مقابلہ کرتا ہے اور صرف اپنے دائرہ اختیار کی فکر کرتا ہے۔

آخرت کی ہمیشگی کی جنت

        تمام غموں کا آخری اور موثر ترین علاج آخرت کی یاد ہے۔ یہ دنیا ایک مسافر خانہ ہے جہاں کی نعمتیں بھی فانی ہیں اور تکلیفیں بھی عارضی۔ سب سے عقل مند وہ ہے جو اس جنت کے لیے کام کرے جس کی وسعت زمین و آسمان کے برابر ہے۔

        جب انسان جنت کے دلکش منظر کا تصور کرتا ہے جہاں نہ بیماری ہوگی، نہ بڑھاپا، نہ موت اور نہ ہی کوئی غم تو دنیا کی بڑی سے بڑی مصیبت بھی حقیر لگنے لگتی ہے۔ وہاں کے محلات، جاری نہریں، اور اللہ کا قرب وہ انعامات ہیں جن کے سامنے دنیا کا فقر و فاقہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ جو شخص آخرت کو اپنا مرکزِ نگاہ بنا لیتا ہے، اس کے نقصانات فائدوں میں اور اس کی مصیبتیں عطاؤں میں بدل جاتی ہیں۔

حاصلِ کلام

        خلاصہ یہ ہے کہ رنج و ملال سے نجات پانے کے لیے ہمیں اپنے نظریات اور رویوں میں تبدیلی لانی ہوگی۔اللہ کی تقسیم پر راضی رہنا، بلند مقاصد کے لیے جینا، فضول باتوں سے کنارہ کشی اختیار کرنا اور آخرت پر پختہ یقین رکھنا ہی وہ نسخہ کیمیا ہے جو زندگی کو گلزار بنا سکتا ہے۔

        اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے سینوں کو یقین کے نور سے بھر دے، ہمیں تنگی اور مشقت کی زندگی سے بچائے اور ہمارے قلوب کو انشراحِ صدر عطا فرمائے۔ آمین۔

تم نے جو صبر کیا اس پر تمہیں سلامتی ہو، کیا بہتر ٹھکانہ تمہیں ملا ہے" (الرعد)

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic