Har Mushkil Ke Baad Asaani he


 عُسر کے ساتھ یُسر ہے: مشکلات کے بعد آسانی کا وعدہ


زندگی کا فطری چکر: ہر تنگی کے بعد آسانی

         اے انسان! یہ کائنات ایک متوازن نظام پر قائم ہے، جہاں ہر ایک مشکل کے بعد آسانی اور ہر سختی کے بعد راحت رکھی گئی ہے۔ یہ زندگی کا ایک فطری اور الٰہی اصول ہے۔




  • بھوک کے بعد شکم سیری ہے۔

  • پیاس کے بعد سیرابی ہے۔

  • جاگنے کے بعد نیند ہے۔

  • مرض کے بعد صحت ہے۔


         گم کردہ منزل پائے گا، اور مشقت اٹھانے والا آسانی حاصل کر لے گا۔ اندھیرے چھٹ جائیں گے، کیونکہ ہر شب کی سحر ہوتی ہے۔


قرآن حکیم (الطلاق): "قریب ہے کہ اللہ اپنی فتح یا اور کسی بات کو لے آئے"

 

 بشارت: روشنی کی تیزی سے آنے والی آسانی

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس امید اور یقین کو اپنے دل میں زندہ رکھیں۔

  • رات کو بشارت دو صبح صادق کی جو اس کو پہاڑوں کی طرف دھکیل دے گی اور وادیوں کی جانب بھگا دے گی۔

  • غمزدہ کو بشارت دو روشنی کی طرح تیزی سے آنے والی آسانی کی!

  • مصیبت زدہ کو مژدہ سنا دو مخفی لطف و کرم اور مہربان ہاتھوں کا!


         جب آپ دیکھیں کہ صحرا دراز سے درازتر ہوتا جاتا ہے، تو جان لیں کہ اس کے بعد سرسبز و شاداب نخلستان ہے۔ اور جب رسی لمبی پہ لمبی ہوتی جاتی ہے، تو یاد رکھئے کہ جلد ہی وہ ٹوٹ جائے گی (یعنی سختی اپنی انتہا کو پہنچ کر ختم ہو جائے گی)۔



 ایمان کی طاقت: خوف پر فتح

ایمان کی قوت انسان کو مشکل ترین حالات میں بھی آسانی فراہم کرتی ہے۔

  • آنسو کے ساتھ مسکراہٹ ہے، خوف کے بعد امن، اور گھبراہٹ کے بعد سکون ہے۔


ہمارے انبیاء کرام کی زندگی اس کی روشن مثالیں ہیں:

  • آگ ٹھنڈک بن گئی: آگ نے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کو نہیں جلایا، کیونکہ حکم ربانی سے وہ ابراہیم کے لیے ٹھنڈک اور سلامتی بن گئی تھی۔


  • سمندر راستہ بن گیا: سمندر نے حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کو نہیں ڈبویا، کیونکہ انہوں نے بلند اور سچی آواز میں کہا: "نہیں! میرا رب میرے ساتھ ہے اور مجھے راستہ دکھلائے گا۔"


  • نصرت حاصل ہوئی: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے یار غار (حضرت ابوبکر صدیقؓ) کو ڈھارس بندھائی کہ "ہمارے ساتھ اللہ ہے،" لہٰذا انہیں امن و سکینت اور نصرت حاصل ہوئی۔


 پردے کے پیچھے دیکھیں: وسعتِ نظر کی ضرورت

         موجودہ برے حالات کے شکار، مایوس کن صورت حال کے گرفتار صرف تنگی، عبرت، اور بدبختی ہی کا احساس کرتے ہیں۔ ان کی نظر صرف کمرے کی دیوار اور دروازے تک ہوتی ہے، اس کے آگے ان کی رسائی نہیں۔


کاش! وہ پردے کے پیچھے بھی دیکھتے، کاش! ان کی فکر "ورائے پس دیوار" تک پہنچ پاتی۔ اللہ کے لطف اور قدرت کو محدود نہ کریں۔

لہٰذا، تنگ دل نہ ہوں! ہمیشہ یکساں حالت نہیں رہے گی۔

  • بہترین عبادت اللہ کی رحمت اور آسانی کا انتظار ہے۔

  • زمانہ الٹتا پلٹتا ہے، گردش دوراں جاری رہتی ہے۔

  • غیب مستور ہے، اور مدبر عالم (اللہ) کی ہر روز نئی شان ہوتی ہے۔


قرآن حکیم (الطلاق): "امید ہے کہ اللہ اس کے بعد کوئی معاملہ پیدا کرے گا"

 

یہ حقیقت ہمارے دل میں نقش ہونی چاہیے: عُسر کے ساتھ یُسر ہے، تنگی کے بعد آسانی ہے۔


(لیموں سے میٹھا شربت بنائیے)

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic