قضا و قدر کو مانے بغیر چارہ نہیں: تقدیر پر ایمان، سکونِ قلب کی کنجی
قلم سوکھ چکا، معاملہ طے پا گیا
تقدیر پر ایمان، اسلامی عقائد کا ایک بنیادی ستون ہے اور قلبی سکون حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ یہ ایمان اس حقیقت پر قائم ہے کہ:
"تمہیں زمین میں یا تمہارے نفسوں میں جو بھی تکلیف پہنچتی ہے، وہ تمہاری پیدائش سے پہلے ہی ایک ریکارڈ میں درج کر لی گئی ہے۔"
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: "قلم سوکھ چکا، صحیفے اٹھا لیے گئے، معاملہ طے پا گیا، تقدیر لکھی جا چکی۔"
جب یہ عقیدہ ہمارے دل میں راسخ ہو جائے تو ہم یہ یقین کر لیتے ہیں کہ:
"وہی ہمیں پہنچتا ہے جو ہمارے لیے لکھا جا چکا۔"
جو ہمارے ساتھ ہوا، وہ ٹلنے والا نہ تھا۔
جس سے ہم بچ گئے، وہ ہمیں لاحق ہونے والا نہ تھا۔
تکلیف عطیہ اور مصیبت انعام
جب یہ گہرا عقیدہ آپ کے دل میں اچھی طرح بیٹھ جائے تو آپ کی زندگی میں ایک انقلابی تبدیلی آتی ہے:
تکلیف عطیہ بن جاتی ہے
مصیبت انعام بن جاتی ہے
کیونکہ آپ ہر گزرنے والے واقعے کو اچھا سمجھتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ اللہ جس کے ساتھ خیر چاہتا ہے اُسے اس میں حصہ ملتا ہے۔
اب جو بھی آپ کو تکلیف پہنچے، چاہے وہ بیماری ہو، کسی عزیز کی موت ہو، مالی نقصان ہو جائے یا گھر جل جائے، تو بس یہ سمجھ لیں کہ: اللہ نے یہی مقدر میں لکھا تھا۔
لکھا کب مِٹے کِلکِ تقدیر کا (تقدیر کے قلم کا لکھا ہوا کیسے مٹ سکتا ہے؟)
سارا اختیار صرف خدا کے ہاتھ میں ہے
اس کائنات کے نظام میں سارا اختیار صرف خدا کے ہاتھ میں ہے۔
صبر کا اجر: صبر کرنے پر یقیناً اجر ملے گا، اور مصائب پر صبر کرنا ایمان کا تقاضا ہے۔
انکارِ کفر: تقدیر کا انکار کفر ہے۔
لہٰذا، وہ لوگ جو مصائب کا شکار ہیں، وہ خوش ہو جائیں! کیونکہ سب کچھ خدائے برتر کے حکم سے ہو رہا ہے، جو دیتا بھی ہے اور لیتا بھی، عطا بھی کرتا ہے اور چھینتا بھی ہے۔ اس سے اس کے کاموں کا حساب نہیں لیا جا سکتا، دوسروں سے لیا جائے گا۔
اعصاب کا سکون اور نفسیاتی الجھن کا حل
قضا و قدر پر جب تک ایمان نہ ہوگا:
آپ کے اعصاب کو سکون نہ ملے گا۔
نفسیاتی الجھن نہ جائے گی۔
دل کے وسوسے دور نہ ہوں گے۔
آپ کو یہ حقیقت قبول کرنی پڑے گی کہ جو ہوتا ہے وہ ہو کر رہے گا۔ لہٰذا، حسرت و ندامت سے کیا فائدہ؟ یہ مت سوچیے کہ:
آپ گرتی دیوار کو بچا لیں گے۔
پانی کو پہلے سے روک دیں گے۔
ہوا کو چلنے سے منع کر دیں گے۔
شیشے کو ٹوٹنے سے بچا لیں گے۔
ایسا نہیں ہو سکتا! آپ کو اور مجھے اچھا لگے یا برا، جو لکھا ہے وہ ہو کر رہے گا، فیصلہ الٰہی نافذ ہوگیا۔
سر تسلیم خم کر دیجیے
ناراضگی، افسردگی، اور چیخ و پکار کی بجائے، قضائے الٰہی کے آگے سر تسلیم خم کر دیجیے۔ تب آپ کو ندامت نہ ہوگی۔
اگر آپ نے اسباب سے کام لیا ہوگا، تدبیریں اپنائی ہوں گی، پھر بھی وہ ہو جائے جس کا اندیشہ تھا، تو پُرسکون ہو کر کہیے کہ یہی مقدر تھا۔ اللہ جو چاہے کر سکتا ہے۔
یہ نہ کہیں کہ: "کاش میں نے ایسا کیا ہوتا تو یہ ہوتا۔" کیونکہ یہ شیطان کے وسوسے ہیں۔ تقدیر پر مکمل ایمان ہی انسان کو اضطراب سے نجات دلا کر ابدی سکون عطا کرتا ہے۔


