حضرت عیسی علیہ السلام
حضرت یحییؑ کی ولادت کے چھ ماہ بعد حضرت عیسیؑ دنیا میں تشریف لائے ۔ اللہ تعالی نے انہیں کنواری حضرت مریم سے بغیر باپ کے پیدا کیا ۔ انہیں تیس سال کی عمر میں نبوت ملی۔ وہ فلسطین کے شہروں میں گھوم پھر کر بنی اسرائیل کو دین کی دعوت دینے لگے ۔ اللہ نے انہیں انجیل عطا کی تھی جو حکمت و نصائح سے بھر پور آسمانی کتاب تھی مگر یہود کی اکثریت نے نہ صرف یہ کہ انجیل کا انکار کر دیا بلکہ حضرت عیسیؑ کو بھی جادوگر قرار دیا اور مقامی رومی حاکم کے ساتھ مل کر بنی اسرائیل کے اس آخری نبی کو قتل کرنے کی سازش تیار کرلی۔ اللہ تعالی نے حضرت عیسیؑ کو عین وقت پر انکے نزغے سے بچا کر آسمان پر اٹھا لیا اور یہودیوں نے اپنے مخبر ''یہوذا'' کوجس کی شکل اللہ کے حکم سے اسی وقت حضرت عیسیؑ کے مشابہ کردی گئی تھی،گرفتار کرلیا۔عدالت میں باقاعدہ مقدمہ چلا کر اس شخص کو سولی دے دی گئی۔
یہود تب سے اسی غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ انہوں نے حضرت عیسیؑ کو قتل کردیا ہے، حالانکہ قرآن مجید واضح طور پر اعلان کرتا ہے نہ انہوں نے عیسیؑ کو قتل کیا، نہ ہی سولی دی ۔
یہود کی یَثرِب آمد
حضرت عیسیؑ کے بعد یہود کی سرکشی اور ڈھٹائی میں مزید اضافہ ہو گیا۔ وہ دوسری اقوام کے تسلط سے نکلنے اور انہیں زیر کرنے کےلیے طرح طرح کی سازشوں میں مصروف ہوگئے ۔ ان کی حرکات سے تنگ آکر ۷۰ عیسوی میں رومی حاکم طیطوس (Titus) نے ان کا قتلِ عام کیا اور معبدِ سلیمانی کو منہدم کر دیا۔ ۵۱۳ عیسوی میں ایک اور حکمران اڈریان نے مزید ستم ڈھائے اور انہیں بیت المقدس سے نکال دیا۔ یہود منتشر ہو کر مختلف خطوں میں جا بسے ۔ ان میں سے کچھ جزیرۃ العرب آکر حجاز کے شہر یَثرِب میں آباد ہو گئے۔
عیسائیت میں نقب
اس دوران حضرت عیسیؑ کے زیادہ تر پیروکار جو پہلے ہی مٹھی بھر تھے، دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔ جو باقی رہ گئے تھے ، وہ رومی حکام کی دارو گیر کی وجہ سے دینِ عیسوی کی زیادہ اشاعت نہیں کرسکے تھے۔ ان کے بہت سے معتقدین اپنے مذہب کو چھپا کر جنگلوں میں بس گئے تھے اور راہب کہلانے لگے تھے، تاہم ایک شخص تھا جو دینِ عیسوی کی بھر پور تبلیغ کرتا رہا۔ اس کا اصل نام ساؤل تھا مگر وہ پُولَس کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ کٹر یہودی تھا۔ اس نے حضرت عیسیؑ کی زندگی میں ان کی بھر پور مخالفت کی تھی، مگر ان کے آسمان پر اٹھائے جانے کے کچھ عرصے بعد ان پر ایمان لانے کا دعویٰ کرنے لگا۔ اس کے بعد اس نے مسیحی مذہب کے ایسے اصول و قواعد وضع کیے جو حضرت عیسیؑ کی تعلیمات سے بالکل جدا تھے۔
اس نے حضرت عیسیؑ، حضرت جبرئیلؑ اور خدا پر مشتمل تین خداؤں کا نظریہ پیش کیا ، خدا کو باپ اور عیسیؑ کو بیٹا قرار دیا۔ اس نےحضرت عیسیؑ کے سولی چڑھنے کا عقیدہ پھیلایا جیسا کہ یہود کا خیال تھا ۔ حضرت عیسیؑ کے اصل ساتھی اس پر یقین نہیں کرتے تھےکیوں کہ حضرت عیسیؑ کوان کی نگاہوں کے سامنے آسمان پر اٹھایا گیا تھا مگر پولَس نے نہ صرف یہ عقیدہ مشہور کیا بلکہ اس بات کا بھی پرچار کیا کہ خدا کا بیٹا سولی چڑھ کر اپنے ماننے والوں کے سابقہ گناہوں کا کفارہ ادا کر گیا ہے۔
چوتھی صدی عیسوی کے آغاز میں اس بدلی ہوئی مسیحیت کو روم کے بادشاہ قسطنطین بن قسطنس کی سرپرستی حاصل ہوگئی ۔ یہ بادشاہ بوڑھا ہو گیا تھا اورعمائدِ سلطنت اس سے بےزار ہوکر متبادل حکمران لانے کی تیاریاں کرنے لگے تھے۔ بادشاہ نے سیاسی چال چلتے ہوئے عیسائی مذہب قبول کرنے کا اعلان کردیا۔ اس طرح وہ لاکھوں لوگ جو خفیہ طورپرعیسائی بن چکے تھے، اس کی حمایت میں کھڑے ہو گئے جن کو ساتھ لے کر اس نے اپنے سیاسی مخالفین کا جو قدیم یونانی دیو مالائی مذہب پر قائم تھے، مقابلہ کیا اور انہیں شکست دے کر اپنے نئے مذہب کا پلہ بھاری کر دیا۔
۳۲۵ء میں'' نیقیہ''( موجودہ ترکی کے ایک شہر) میں اس نئے مذہب کے علماء کی کانفرنس ہوئی، جس میں تثلیث عقیده کفا رہ اور خدا کے باپ اور عیسیؑ کے بیٹے ہونے کے عقائد کو عیسائیت کا لازمی اصول مان لیا گیا، اس طرح انجیل کے ان تحریف شدہ نسخوں کو آسمانی نوشتہ قرار دے دیا گیا جس کے اصل ہونے کی کوئی سند موجود نہیں تھی۔
اس طرح عیسائیت اللہ کی توحید سے ہٹ کر مشرکانہ عقائد کا مجموعہ بن گئی ۔ صرف ناصریہ (Nazarenes) ایک چھوٹا سا گروہ ایسا رہ گیا تھا جو رومی حکومت کے جبر، پادریوں کی ضلالت اور یہودیوں کی ملمع سازیوں کے باوجود توحید پر جما رہا۔ ان کے علاوہ کچھ راہب اور بزرگ ایسے تھے جو صحیح العقیدہ تھے مگراپنے افکارکو یہودیوں کے خوف کے باعث دنیا سے مخفی رکھتے تھے۔ انہی میں سے ایک صاحب، نجران کے وہ بزرگ تھے جو عبد اللہ بن تامر نامی نوجوان کی ہدایت کا ذریعہ بنے ۔ عبداللہ بن تامر کی کوششوں سے پوری قوم نے کلمہ توحید پڑھ لیا، مگر مقامی یہودی حاکم یوسف ذونو اس نے ان تمام مؤمنوں کو آگ کی خندقوں میں گراکر شہید کر دیا۔ یہ بعثتِ نبوی سے ستر(۷۰) سال قبل کا واقعہ ہے ۔
اس کے بعد صیح عیسائیت تقریبًا ناپید ہوگئی۔ ہاں مکہ کے عیسائی عالم ورقہ بن نوفل کی طرح اِکادُکا اصحاب تھے جو اپنے دل میں ہدایت کی شمع روشن کیے کسی اچھے وقت کے بے چینی سے منتظر تھے۔ جہاں تک عمومی منظر کا تعلق ہے تو دنیائے عیسائیت میں ہر طرف کفر و شرک کا دور دورہ تھا۔
(تاریخِ امت مسلمہ۱۰۱/۱)

