حضرت موسیٰ علیہ السلام
مصر اور فراعنہ مصر
مصری تہذیب دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک تھی ۔ حضرت نوح ؑ کا پوتا بیصر بن حام طوفان ِنوح کے بعد اپنے کنبے کے تیں افراد کے ساتھ وادی نیل میں اترا اور موجودہ قاہرہ سے بارہ میل (19) کلومیٹر) دور "مَنف" کو آباد کیا۔ بیصر کے بیٹے " مِصر " نے طویل عمر پائی اور قبیلے کو منظم کیا ۔ اس کے کارناموں کی وجہ سے یہ علاقہ اس کے نام سے موسوم ہو گیا مصر میں آباد ہونے وا لےزیادہ تر لوگ غیر ملکی تھے، ان میں قِبطی بھی تھے، عمالقہ بھی اور یونانی بھی۔ مگر قبطی اکثریت میں تھے ۔
یہ علاقہ پردیسیوں کے لیے عمدہ جائے پناہ ثابت ہوتا رہا۔ مستقل امن اور وادی نیل کی زراعت نے خوشحالی کو جنم دیا ، اہل مصرفن کیمیاء تعمیرات اور دوسری صنعتوں میں ماہر ہو گئے ۔ عقیدے کے لحاظ سے یہ بے راہ روی کا شکار تھے اور سورج کی پرستش کرتے تھے ۔ شیطانی علوم بہت ان میں مروج ہو گئے تھے۔ مصر کا جادو دنیا بھر میں مشہور تھا۔ مصر کی حکومت اولاد ِمصر میں منتقل ہوتی رہی ۔ ان میں سِنان بن عِلوان ( طولیس) وہ حکمران تھا جس کے دور میں حضرت ابراہیم ؑ مصر آے تھےاور یہاں ہاغار (ہاجرہ) ان کی زوجیت میں آئیں ۔
سنان کے بعد اس خاندان کا زوال شروع ہو گیا ۔ یکے بعد دیگرے دو عورتیں بر سر اقتدار آ ئیں، جن کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر شام کے عمالقہ نے مِصر پر قبضہ کر لیا۔
مصر میں عمالقہ کا پہلا بادشاہ ولید بن دومغ تھا، جو گائے کا پجاری تھا۔ اس نے سب سے پہلے فرعون کا لقب اختیار کیا۔بعد میں نہ صرف مصر کے آنے والے بادشاہ کو فرعون کہاجانے بلکہ بعض مورخین سابقہ شاہانِ مصرکو بھی فرعون کہہ کر یاد کرنے لگے،حالانکہ انہوں نے یہ لقب اختیار نہیں کیا تھا۔ ولید کے بیٹے ریّان کے زمانے میں مصر کی سرزمین کو حضرت یوسف ؑ جیسا وزیر نصیب ہوا۔ غالباً مصر کے یہ فرعون مؤمن نہ ہونے کے باوجود خدائی کے دعویدار نہ تھے اور عوام کے حق میں یہ سب ظالم و جابر نہ تھے ورنہ یوسف ؑ ان کی ملازمت اختیار نہ کرتے ۔
ریّان کے بیٹے داروم کے دور ِحکومت میں حضرت یوسفؑ کا انتقال ہو گیا ۔ مصر کے مقامی لوگوں نے اس عظیم پیغمبر سے اقتصادی بحران سے نجات اور معاشی ترقی کا تو فائدہ حاصل کیا مگر ان کی روحانی تعلیمات کی طرف کوئی توجہ نہ دی بلکہ حضرت یوسف ؑ کے انتقال پر انہوں نے یہ سمجھ کر کہ ایمانی فیض کا یہ چشمہ بند ہو گیا ہے ، کہا:
'' ان کے بعد اللہ کوئی اور پیغمبر نہیں بھیجے گا''۔
اس کے ساتھ ساتھ اہل مصرکو دنیوی معیشت و تعمیرات میں مزید انہماک ہو گیا اور وہ راہِ خدا سے بہت دور چلے گئے۔
ولید بن مصعب ، خدائی کا دعوے دار پہلا فرعونِ مصر
بداعمالیوں اور بدعقیدگی کے نتیجے میں مصر سیاسی بحران کا شکار ہو گیا۔ قبطیوں کے ایک فرد ولید بن مصعب نے جو سرکاری پولیس افسر تھا، عمالقہ کی حکومت کا چراغ گل کر دیا۔ مصر میں قبطی چونکہ اکثریت میں ہو چکے تھے اس لیے وہ ولید بن مصعب کی قیادت پر بڑے خوش ہوئے ۔ وہ جانتے نہیں تھے کہ یہ شخص اُن کی مکمل تباہی کا سبب بنے گا ۔ بادشاہت قبطیوں میں منتقل ہونے سے بظاہر مصر کو استحکام حاصل ہوا۔ ولید بن مصعب مصر کا سب سے زور آور فرعون بن گیا۔ اس نے تعمیراتی کام کرائے ، فوج کو بےحد مضبوط کیا اورآخرمیں اپنی طاقت اورعوامی قبولیت کو دیکھتے ہوئے خدائی کا دعوی کر دیا۔
اِدھر حضرت یوسفؑ اور ان کے بھائیوں کی اولاد بڑھتے بڑھتے بارہ قبیلوں میں تبدیل ہوگئی تھی، جنہیں '' بنی سرائیل'' کے نام سے پکارا جانے لگاتھا۔ یہ لوگ یقوبؑ کے دین پر قائم اورمصرکی مشرکانہ تہذیب و ثقافت سے محفوظ تھے۔ اگرچہ سابقہ فرعون بھی انہیں صحیح عقیدے سے ہٹانے کے لیے طرح طرح سے ستاتے تھے اورانہیں مملکت میں دوسرے درجے کے شہریوں کی حیثیت دیتے ہوئے ان سے جبرًا محنت مزدوری کراتے، مگر جب ولید بن مصعب نے سرکشی اور تکبر کی انتہا کرتے ہوئے خدائی کا دعویٰ کیا اور قوم پر اپنے تسلط کو بڑھا دیا تو بنی اسرائیل بالکل غلاموں کی حیثیت اختیار کر گئے ۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام
اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون کے مظالم سے نجات دلانے کے لیے حضرت موسی ؑ کو مبعوث کیا۔ وہ بنی اسرائیل کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئے تھے، ان کی ولادت سے قبل فرعون نے ایک خواب دیکھا تھا جس کی تعبیر نجومیوں نے یہ دی کہ بنی اسرائیل کی نسل کا ایک بچہ فرعونی سلطنت کو ختم کر دے گا۔ فرعون نے اس بچے کے خاتمے کے لیے بہت انتظامات کیے اور بنی اسرائیل میں ان گنت نومولود بچوں کو قتل کرتا چلا گیامگر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسی ؑ کی حفاظت کا عجیب انتظام کیا، ان کی والدہ کے دل میں یہ بات ڈالی کہ وہ انہیں صندوق میں رکھ کر دریائے نیل میں ڈال دیں ۔ یہ صندوق بہتے بہتے دریا ئے نیل کی اس نہر میں چلا گیا جو فرعون کے محل میں جاتی تھی۔ فرعون کی بیوی آسیہ نے صندوق کھولا اور اس بچے کو گود لے لیا۔ اس طرح فرعونی سلطنت کے خاتمے کی علامت بن کر آنے والا یہ عظیم پیغمبر فرعون ہی کے محل میں پلا بڑھا۔ جوانی کے ایام میں ان سے ایک مقامی شخص کا نادانستہ قتل ہو گیا جس کی بناء پر انہیں ملک چھوڑ کر مدین جانا پڑا وہاں حضرت شعیب ؑ کی خدمت اور تربیت میں رہے اور آخران کے داماد بنے ۔ آخر وہ وقت آیا جب اللہ تعالی نے انہیں کوہِ طور پر ہم کلامی کا شرف بخشا اور نبوت عطا کر کے فرحون کے ہاں جانے کا حکم دیا۔
حضرت موسیٰ ؑ نے اللہ کے فرمان کے مطابق فرعون کے دربار میں توحید کا پیغام سنایا اور مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو غلامی سے آزاد کیا جائے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے فرعون کو کھلے معجزات بھی دکھائے مگر وہ اپنی ضد اور عناد پر ڈٹا رہا۔ آخر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ کے حکم سے بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے شام کی طرف روانہ ہوئے ۔ مصر اور وادیٔ سینا کے درمیان واقع بحیرہ قلزم کی چند میل چوڑی پٹی سے موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے ساتھ ایک معجزے کے طور پر سمندر کو عبور کیا۔ فرعون ان کا تعاقب کرتے ہوئے اسی سمندر میں غرق ہو گیا۔
فرعون سے نجات پاتے ہی بنی اسرائیل نے حضرت موسی ؑ کی نافرمانیاں شروع کر دیں۔ چونکہ وہ مجسمہ سازی اور نقاشی کے دلدادہ قبطیوں کے ساتھ صدیوں سے رہتے بستے آئے تھے، قبطیوں کے رہن سہن نے ان کی طبیعت میں ظاہر پرستی اور مادّی ر جحان کو اس حد تک بڑھا دیا تھا کہ وہ بار بار کسی ایسے خدا کو تلاش کرتے تھے جو نظر آ سکے۔
بحیرہ قلزم کے پار آ کر انہوں ایک قوم کو دیکھا جو بتوں کو پوجتی تھی ، فورًا موسیؑ سے تقاضا کیا کہ ہمارے لیے بھی ایک ایسا خد ابنا دیں، جو نظر آئے ، ہم اُس کے سامنے سر جھکا ئیں۔
موسیؑ نے غضبناک ہوکر فرمایا ''تم بہت جاہل لوگ ہو'' ۔
موسیٰؑ تورات لینے کو ہِ طور پر گئے تو ان کی عدمِ موجودگی میں ان کی قوم کے ایک عیار شخص سامری نے بھی اسرائیل کو بچھڑے کے طلائی مجسمے کی عبادت کی طرف راغب کرنا شروع کیا۔ ظاہر پرستی کے مارے ہزاروں بنی اسرائیلی اس فریب میں آکر مرتد ہو گئے اور پھر اس جرم کی پاداش میں قتل ہوئے۔
جب موسیٰؑ تورات لے کر آئے تو بنی اسرائیل کے عمائد نے ایک بار پھر شک کیا کہ اَن دیکھے خدا کے نو شتے پر کیوں کر ایمان لائیں ۔ چنانچہ ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ ہمیں اللہ کی کھلم کھلا زیارت کرائی جائے۔ اس پر آسمانی بجلی کڑکی اور وہ ہلاک ہوگئے۔ موسی ؑ کی بے تابانہ دعا پر اللہ نے انہیں دوبارہ زندہ کیا کہ مگر بنی اسرائیل کی حالت نہ سُدھری۔
حضرت موسیؑ کی بقیہ زندگی بنی اسرائیل کی نظریاتی واخلاقی تربیت میں گزری۔ اس کام میں ان کے بھائی حضرت ہارونؑ ان کے معاون تھے۔ دونوں کو قوم کی طرف سے بار بار نا قدری اور کج فہمی کاسامنا کرنا پڑا۔ بنی اسرائیل نے تو رات کے بہت سے احکام کو سخت تصور کر کے ان کا انکار بھی کیا۔ ایسی حرکات کی وجہ سے بنی اسرائیل کو کئی بار آسمانی تنبیہات کا سامنا بھی کرنا پڑا ۔
حضرت موسیؑ کا بنی اسرائیل کو ان کے آبائی وطن فلسطین لے جا کر آباد کرنا چاہتے تھے، مگر وہاں ایک مشرک قوم عمالِقہ قابض ہو چکی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان مشرکوں سے جہاد کا حکم دیا۔ حضرت موسی ؑنے یہ حکم سنایا تو بنی اسرائیلی بولے ''آپ اور آپ کا خدا جا کر جہاد کریں، ہم تو یہیں بیٹھے رہیں گے''۔
اس ہٹ دھرمی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو مدت دراز تک وطن کی نعمت سے محروم رکھا اور وہ مصر اور شام کے درمیان ''تیہ " کے بیابانوں کی خاک چھانتے رہے۔ حضرت موسیٰ ؑ ان کی اصلاح میں مسلسل مصروف رہے۔ ابھی قوم کی تربیت کا کام باقی تھا کہ حضرت موسیٰ ؑ وفات پاگئے ۔
انبیائے بنی اسرائیل: عہدِ قُضاة ، عہدِ ملوک:
حضرت موسیؑ کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونؑ نے نسلِ نو کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا ۔ بنی اسرائیل اپنی ماضی کی کوتاہیوں کی تلافی کرنے کے لیے ان کے پرچم تلے جمع ہوئے اور قوم عمالِقہ سے جہاد کر کے ان کا مرکزی شہر'' اریحا'' فتح کرلیا۔ عمالِقہ شکست کھا کر بکھر گئے ۔ ان کے بہت سے افراد افریقہ میں جا بسے اور'' بربر " کہلائے ۔
حضرت یوشع بن نونؑ کی وفات کے بعد چارسو برس تک بنی اسرائیل کی سیاست ان کے علماء کے ہاتھوں میں رہی ۔ یہ دور عہد قضاۃ کہلاتا ہے۔ اس کے بعد کی تاریخ کا دور " عبد ملوک“ کہلاتا ہے جس میں حضرت شَموِیل ،حضرت داؤ د اور حضرت سلیمان علیہم السلام جیسے برگزیدہ پیغمبر ان کے بادشاہ بنے ۔ طالوت کی قیادت میں بنی اسرائیل نے جالوت جیسے دشمن کو شکست دے کر دریائے اُردن کے پار کا علاقہ بھی فتح کرلیا۔
حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ کا دورِ حکومت بنی اسرائیل کی تاریخ کا سنہرا دور تھا جس میں اسرائیلی دنیا کی سب سے طاقتور قوم شمار ہوتے تھے ۔ حضرت سلیمانؑ کی حکومت جنات، پرندوں اور ہوا پر بھی تھی ۔ تختِ سلیمانی جس پر حضرت سلیمان ؑ اپنے درباریوں سمیت تشریف فرما ہوا کرتے تھے، آن کی آن میں سینکڑوں میل طے کر جاتا تھا۔ آخری عمر میں حضرت سلیمان علیہ السلام نے بیت المقدس میں ایک عبادت گاہ کی تعمیر شروع کرائی جس میں جنات بھی مزدوروں کے طور پر کام کر رہے تھے، اس تعمیر کے دوران حضرت سلیمان کا انتقال ہو گیا ۔
حضرت سلیمان ؑ کی وفات کے بعد بنی اسرائیلی ایک بار پھر نظریاتی و اخلاقی کج روی کا شکار ہو گئے ۔ انہوں نے زبور کے مندرجات میں تحریف کر دی۔ ان کے بدطینت افراد شیطانی علوم، جادو اور کہانت کو بڑے فخر سے سیکھنے لگے اور یہ دعوے کرنے لگے کہ حضرت سلیمانؑ نے بھی جادو کے ذریعے جنات کو قابو کر رکھا تھا۔ (نعوذ باللہ)
عقائد و نظریات میں آمیزش نے قوم کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور ان کی نظریاتی یکجائی کے خاتمے کے ساتھ ہی سیاسی وحدت بھی بکھر کر رہ گئی۔
شاہان عجم
اس دوران مشرق میں عجم کے بادشاہوں نے بے پناہ شان و شوکت حاصل کر لی تھی اور ایرانیوں کی حکومت بہت دور دور تک پھیل گئی تھی۔ عجم کے بادشاہوں کو چار طبقات میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
پہلا طبقہ
"فِيشداذِیَّہ " کہلاتا ہے، ان کے ہر بادشاہ کا لقب "فِيشْدَاذ“ تھا جس کا معنی عادل ہے۔ ان میں سب سے پہلا بادشاہ اُو شھنج " تھا۔ بقیہ بادشاہوں میں سے طَهمُورُت، جمشيد، بِوراسپ (ضحاک) أفريدون،مِنوچِہراورافراسِیاب مشہور ہیں۔ مِنوچِہر حضرت موسیؑ کا معاصر تھا۔
دوسرا طبقہ
کَیانی“ کہلاتا ہے، ان میں سے ہر بادشاہ کے نام کے شروع میں " کَے آتا ہے، جس کا مطلب ہے "مقدس"۔ کیانیوں میں کَے قُباذ ( کیقباد ) ، کے کاؤس، کے خسرو،لہُراسپ اور دارا بڑے نامور تھے۔ کیقباد حضرت یوشع بن نونؑ کا ہم عصر تھا۔ دارا وہ ہے جو سکندراعظم سے شکست کھا کر قتل ہوا۔
تیسرا طبقہ
'' ملوک الطوائف" کہلاتا ہے۔ یہ درجنوں بادشاہ تھے جو کیانی سلطنت کے خاتمے کے بعد یونانیوں کے ماتحت چھوٹی چھوٹی ریاستوں پر حکومت کرتے رہے۔ ملوک الطوائف کا سب سے نامور خاندان اشغانی تھا، اس کا بانی " أشغاء ( اشک) تھا جس نے سکندر اعظم کے دو سو چھیالیس سال بعد تخت سنبھالا ۔ دوسرا اشغانی بادشاہ شاپُور تھا جس کی حکومت کا خاتمہ سکندر اعظم کے ۳۱۶ برس کے بعد ہوا تھا اور اس کے کچھ عرصے بعد حضرت عیسیؑ کی ولادت ہوئی تھی ۔ اشغا نیوں نے تقریباً تین سوسال تک حکومت کی ۔ آخرکار ساسانی جنگجو سردار اَردَشیربن بابَك نے ان کی حکومت کا خاتمہ کردیا۔
چوتھا طبقہ
وہاں سے چوتھے طبقے ''ساسانی" کا دور شروع ہوا جس کا ہر بادشاہ خسرو(کسری) کہلاتا تھا۔ ساسانیوں کا پہلا حکمران اَردشیربن بابَک اورآخری یَزدَ گرد تھا جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ کے دور میں تاج و تخت سے محروم ہوا۔
بنی اسرائیل کا دورِزوال اور جلا وطنی :
ہم بنی اسرائیل کے اُس دور پر نگاہ ڈالتے ہیں جب عقائد کے اختلاف کی وجہ سے نہ صرف ان میں مستقل فرقے بن گئے بلکہ وہ دو مستقل حکومتوں میں تقسیم ہو گئے پہلا فرقہ بیت المقدس کو قبلہ مانتا تھا، اس نے فلسطین کے جنوب میں ''پور" کے نام سے حکومت بنائی ۔ دوسرا فرقہ کوہِ سامرا کو قبلہ کہتا تھا۔ اس نے فلسطین کے شمال میں اسرائیل کے نام سے الگ ریاست قائم کرلی۔ یہ زمانہ جسے "عہدِ انقسام" کہا جاتا ہے، بنی اسرائیل کے لیے اغیار کی غلامی کی تمہید تھا۔ اس دور میں حضرت اِرمِیا علیہ السلام بنی اسرائیل کی اصلاح کے لیے متحرک رہے اور انہیں آنے والی تباہی سے خبردار کرتے رہے مگر یہ لوگ ٹس سے مس نہ ہوئے ۔
آخران کے انتشار سے موقع پاکر فارس کے بادشاہ لَہراسپ کے نائب بُختِ نَصر نے جو عراق کا حاکم تھا، شام کی طرف پیش قدمی کردی ۔ جزیرۃ العرب کی سرحدوں سے گزرتے ہوئے بخت نصر کو عرب قبائل کے سرداروں کا تعاون حاصل رہا جن میں قریش کے جدِامجد معد بن عدنان بھی شامل تھے۔ بخت نصر نے فلسطین پر حملہ آور ہوکر بیت المقدس کو اُجاڑ دیا، تورات کے نسخے جلا دیے، معبدِ سلیمانی کو مسمار کردیا، ہزاروں بنی اسرائیلیوں کو قتل کردیا اور ستر ہزار کے لگ بھگ کو گرفتار کرکے بابِل لے گیا، عرب قبائل کے تعاون کے صلے میں اُس نے کئی قبائل کو عراق کی سرحدوں میں لا بسایا ۔ یہ حضرت موسیٰؑ کی وفات کے نوسوننانوے(۹۹۹) سال کے بعد کا واقعہ ہے ۔ جبکہ حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت کا زمانہ ابھی پانچ سو پچاسی سال دور تھا۔
ستر برس تک بیت المقدس ویران رہا۔ آخر فارس میں جب بَہمَن ( کورش ) نے حکومت سنبھالی تو اس نے جلاوطن بنی اسرائیلیوں کو فلسطین واپس جانے کی اجازت دے دی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے بیت المقدس کو بھی از سرِنو تعمیر کرادیا۔ بابِل سے واپس آنے والے لوگوں میں حضرت عُزیرعلیہ السلام بھی تھے، جنہوں نے اپنے حافظے کی مدد سے تورات کو دوبارہ لکھوا دیا۔ اس طرح یہودیوں کو ایک مدت بعد شریعت کامأخذ دوبارہ میسر آیا۔
یہودی طویل مدت تک فارس کے بادشاہوں کے ماتحتی میں زندگی بسر کرتے رہے یہاں تک کہ یونانی فاتح سکندر اعظم نے ایشیا کا رخ کیا اور بُخت نصر کے حملے کے چار سو پینتیس(۴۳۵) سال بعد شام ، عراق اور ایران پر قابض ہو کر کَیانی سلطنت کا خاتمہ کیا۔
اس طرح یہودی یونانی بادشاہوں کے نائبین کی غلامی میں چلے گئے جن کوفلسطین میں ''ہیروڈوس " کہا جاتاہے۔ اس پستی اور ذلت کے دور میں بھی بنی اسرائیل میں انبیاء کرام کا سلسلہ جاری تھا مگر ان کی کوششیں بار آور نہیں ہورہی تھیں ۔علمائے یہود نے تورات کو اپنی خواہشات کے مطابق محرف کرکے انبیاء کی اصلاحی و تجدیدی کوششوں کی سختی سے مخالفت شروع کردی تھی ، اس کے علاوہ ان انبیائے کرام کو یورپی حکام کی روک ٹوک اور سختیوں کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے چونسٹھ (۶۴) سال قبل رومی حاکم پومپئی نے یونانیوں کو شکست دے کر فلسطین پر قبضہ کرلیا۔ اس طرح یہودی یونانیوں سے رومیوں کی غلامی میں آگئے۔ رومیوں کے دور میں حضرت ذکریاؑ اور حضرت یحییؑ جیسے مشفق پیغمبروں نے قوم کی اصلاح کے لیے تمام توانائیاں صرف کر دیں مگر حضرت زکریا ؑ کو یہودیوں نے جھوٹی تہمتیں لگا کر آرے سے چیر ڈالا اور حضرت یحییؑ کو رومی حاکم ہیروڈوس نے اس وجہ سے قتل کر دیا کہ وہ اپنی بھتیجی سے نکاح کرنا چاہتا تھا اور حضرت یحییؑ نے اسے اس گناہ سے منع کیا تھا۔
(تاریخِ امتِ مسلمہ ۹۵/۱)

