حضرت اسحاق و یعقوب علیہ السلام
شام میں سکونت پذیر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دوسری بیوی حضرت سارہ سے حضرت اسحاق علیہ السلام پیدا ہوئے۔ عراق، شام اور مصر کے وسیع و عریض ممالک میں انسانیت کی اصلاح کا کام ان کی اولاد کے سپرد کیا۔ان میں بڑے جلیل القدر رسول پیدا ہوئے ۔ حضرت یعقوب، حضرت یوسف، حضرت موسیٰ ، حضرت یوشع ، حضرت داؤد ، حضرت سلیمان ، حضرت عزیر، حضرت زکریا اور حضرت یحیی علیھم السلام۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے بعد کے تمام پیغمبر و انبیائے کرام بنی اسرائیل کہلاتے تھے، کیوں کہ ان کی بعثت حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں کی نسل سے پیدا ہونے والے قبائل میں ہوتی رہی ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کا نام "اسرائیل" (اللہ کا بندہ ) تھا، اس لیے ان کی اولاد کے نبی'' انبیائے بنی اسرائیل ''کہلائے۔
حضرت لوط علیہ السلام
حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ابتداہی میں ایمان لانے والوں میں اُن کے بھتیجے لوط پیش پیش تھے۔ انہوں نے حضرت ابراہیمؑ کے ساتھ ہجرت کی تھی اور اردن میں قومِ سدوم کے علاقے میں آباد ہوئے تھے۔
اللہ تعالی نے انہیں بھی نبوت سے سرفراز کیا اور اس بگڑی ہوئی قوم کی اصلاح کا کام ان کے ذمہ لگایا جوجنسی تسکین کے غیر فطری طریقوں کی عادی ہو چکی تھی۔ حضرت لوط علیہ السلام مدت ِدراز تک اُن کو سمجھاتے رہے مگر یہ لوگ ٹس سے مس نہ ہوئے ۔ آخر کار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عبرتناک عذاب نازل ہوا۔ قوم سد وم کی بستیاں الٹ دی گئیں، آسمان سے ان پر پتھروں کی بارش ہوئی ۔ حضرت لوط علیہ السلام اور چند اہل ایمان کے سوا جو اللہ کے حکم کے مطابق عذاب آنے سے پہلے بستی سے نکل گئے تھے، کوئی ذی روح زندہ نہ بچا۔
قومِ سدوم کی بستیاں اس طرح بے نام و نشان ہو ئیں کہ آج بھی وہاں ایک نہایت کڑوے سمندر کے سوا کچھ اور نہیں دکھائی دیتا جِسے " بحیرہ مردار ( Dead sea) کہا جاتا ہے۔ اس سمندر میں کوئی جانور پیدا ہوا ہے، نہ ہو سکتا ہے۔
حضرت ایوب علیہ السلام
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے بیٹے اسحاق علیہ السلام شام میں اپنے والد کے جانشین ہوئے ۔ حضرت اسحاق علیہ السلام کی پوری کوشش رہی کہ ان کی اولاد ملتِ ابراہیمی پر قائم رہے اور یہ سلسلہ ٔرشد و ہدایت تا قیامت انسانیت کو فیض یاب کرتا رہے ۔ ان کی اولاد میں سے اسرائیل اور عِیص بہت نامور ہوئے ۔ عِیص کی اولاد میں سے حضرت ایوب علیہ السلام کو اللہ تعالی نے نبوت سے نوازا۔ وہ بڑے مالدار تھے، باغ مویشی، حویلی سب کچھ ان کے پاس تھا۔
حضرت ایوب علیہ السلام ایک مدت
تک چین واطمینان سے زندگی بسر کرتے رہے، پھر اللہ تعالی نے انہیں پےدرپے
آزمائشوں میں ڈالا۔ وہ ایک اذیت ناک مرض میں مبتلا ہوکر بالکل لاچار ہوگئے ۔ اہل وعیال بھی حوادث کا شکار ہوئے۔ کوئی پرسان ِحال نہ رہا مگر ان کی بیوی نہایت
وفاشعاری سے خدمت کرتی رہیں ۔ آخر کار اللہ نے فضل فرمایا اور ۱۸ سال کی بیماری کے بعد
وہ شفایاب ہو گئے ۔ اُن کی زندگی راحت میں شکر اور مصیبت میں صبر کی بہترین مثال
رہی ہے۔
حضرت یوسف علیہ السلام
حضرت اسحٰق علیہ السلام کے دوسرے بیٹے حضرت یعقوب کو بھی اللہ نے نبوت
سے نوازا اور ان کی نسل سے جلیل القدر پیغمبروں کا ایک سلسلہ جاری فرمایا۔
حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے تھے، جن میں سے حضرت یوسف سب سے چہیتے اور با صلاحیت تھے ۔ اللہ تعالٰی نے ان کو بے مثال حسن بھی عطا فرمایا تھا۔ دوسرے بھائیوں نے حسد کی وجہ سے انہیں قتل کر دینا چاہا اور ایک کنویں میں پھینک دیا۔ اللہ تعالی نے ان کی حفاظت فرمائی۔ قریب سے گزرنے والے ایک قافلے نے انہیں کنویں سے نکال لیا اور مصر کے بازار میں غلام بنا کر فروخت کر دیا ۔ مصر کے وزیر نے جسے عزیز کہا جاتا تھا، انہیں خرید کر گھر کا منتظم بنادیا۔ عزیز کی بیوی ان پر فریفتہ ہوئی اور انہیں اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتی رہی ۔ جب حضرت یوسف علیہ السلام اس کے جال میں نہ آئے تو اس نے ساز باز کر کے انہیں جیل جانے پر مجبور کردیا، جہاں چودہ سال گزارنے کے بعد آخر وہ اس وقت رہا ہوئے جب بادشاہ مصر ریّان بن ولید ایک عجیب خواب کی تعبیر جاننے سے عاجز آگیا۔
یہ تعبیر حضرت یوسف علیہ السلام نے بتائی اور بادشاہ نے ان کے علم سے متاثر ہو کر انہیں نہ صرف رہا کرنے کا حکم دیا بلکہ اپنا وزیرخزانہ بنادیا۔ اقتدار ملنے کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں اور والد کو بھی اپنے پاس مصر بلا لیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا انتقال ایک سو دس سال کی عمر میں ہوا۔ اس کے چونسٹھ سال بعد بنی اسرائیل کے سب سے بڑے پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ کی ولادت ہوئی ۔
(تاریخِ امتِ مسلمہ ۹۴/۱)

