کعبۃ اللہ کی تعمیر
اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو وہ اعزاز دینے کا فیصلہ کرلیا تھا، جس کے حق دار کے لیے تاریخ کب سے چشم براہ تھی ۔ یہ اعزاز اس گھر کی تعمیر کا تھا جو دنیا میں اللہ تعالیٰ کا سب سے پہلا عبادت خانہ تھا ۔ جب اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر اتارا تھا تبھی انہیں اس گھرکی تعمیر کا حکم دیا تھا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے فرشتوں کی رہنمائی میں بیت اللہ کی بنیاد رکھی تھی۔ انہوں نے اللہ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اس کا طواف کیا تھا اور میدان عرفات جا کر حج کے دوسرے مناسک ادا کیے تھے۔ ان کے بعد ایک مدت تک یہ عبادت خانہ اللہ کی تو حید کے زمزموں سے آباد رہا ۔ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں طوفان آیا تو بیت اللہ کی عمارت اٹھا لی گئی صرف بنیاد یں باقی رہ گئیں۔
زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ان بنیادوں پر بھی ریت کے تودے کھڑے ہوگئے اور کعبہ بالکل اوجھل ہو گیا۔ اللہ تعالی نے یہ اعزاز حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بخشا کہ بیت اللہ کو ان کے اوران کے بیٹے کے ہاتھوں ایک بار پھراس طرح تعمیر کرایا کہ قیامت تک اس کی عظمت و توقیر کا شہرہ رہے ۔ اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بیت اللہ کی حدود سے آگاہ فرمادیا اور حکم دیا کہ اسے از سرنو تعمیر کریں ۔ قرآن مجید میں ہے:
وَإِذْ بَوَّانَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَن لَّا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَ طَهِّر بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ و القائمین و الرکع السجود۔
''اور جب کہ ہم نے آباد کیا ابراہیم علیہ السلام کے لیے اس گھر کی جگہ کو (خانہ کعبہ کے پاس ) اور ہم نے انہیں یہ ہدایت دی کہ دیکھو تم میرے ساتھ شریک نہ کرنا کسی کو بھی اور تم پاکیزہ رکھنا میرے گھر کو طواف کرنے والوں کیلئے اور قیام کرنے والوں کے لئے اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے''۔
پس اب بیت اللہ دوبارہ توحید کی اشاعت اور اللہ کی خالص عبادت کا مرکز بنے والا تھا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام اس عظیم مقصد کے لیے ایک بار پھر فلسطین سے ہوکر مکہ معظمہ پہنچے۔ ان کے جواں سال بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام جو تیر اندازی اور تیر سازی کے ماہر تھے، اس وقت زم زم کے چشمے کے پاس بیٹھے تیر بنا رہے تھے۔ باپ کو آتے دیکھا تو محبت اور گرم جوشی سے اُن کا استقبال کیا ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی آمد کا مقصد بتاتے ہوئے کہا بیٹا اللہ نے مجھے ایک خاص کام کا حکم دیا ہے۔"
حضرت اسماعیل علیہ السلام نے عرض کیا اللہ نے جو حکم دیا ہے آپ کر گزریئے۔
فرمایا اس میں تم میری مدد کرو گے؟ عرض کیا جی ہاں ! میں آپ کی مدد کروں گا ۔
حضرت ابراہیم میں نے سامنے ایک ٹیلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اللہ کا حکم ہے کہ میں یہاں اُس کا ایک گھر تعمیر کروں ۔ اب باپ اور بیٹے نے مل کر اللہ کی بتائی ہوئی حدود اور پیمائش کے مطابق مکان کی بنیادیں اٹھائیں۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام پتھر لا لا کر دیتے اور حضرت ابراہیم بنیاد کی بچھائی کرتے جاتے ۔ جب بنیاد کچھ بلند ہوگئی تو ایک کونے میں حجر اسود نصب کر دیا گیا۔ باپ اور بیٹے دونوں کو یقین تھا کہ وہ ایسے مرکز کی بنیاد رکھ رہے ہیں جہاں سے اللہ وحدہ لاشریک کی توحید کا پیغام ساری دنیا میں عام ہوگا ، جو ٹوٹے ہوئے دلوں، باہم متنفر گروہوں، بھٹکے ہوئے لوگوں اور بکھری ہوئی قوموں کو ایک نقطہ توحید پر جمع کرے گا، جو سینکڑوں ملتوں اور ہزاروں فرقوں کو مجتمع کر کے ''اُمتِ واحدہ ''کا مقام عطا کرے گا۔
مقصد کی اس بلندی کے پیش نظر باپ اور بیٹا دونوں کعبے کے گرد گھومتے اور اللہ کی بارگاہ میں یہ دعا کرتے تھے:
رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ۔
(اے ہمارے رب ہم سے قبول فرما ! بے شک تو خوب سننے والا جاننے والا ہے )
جب تعمیر کعبہ مکمل ہوگئی تو انسانی تاریخ کے ان دو عظیم پیغمبروں نے یہ دعا کی جو اپنے ضمن میں دنیا کے آخری رسول اور آخری امت کے ساتھ خاص نسبت عطا ہونے کی التجا لیے ہوئے تھی:
رَبَّنَا وَابْعَثُ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ و یُزکیھم اِنکَّ انت الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(اے ہمارے پروردگار بھیج ان میں ایک رسول جو انہی میں سے ہو، جو تلاوت کرے ان کے سامنے تیری آیتیں اور انہیں تعلیم دے کتاب و حکمت کی اور انہیں پاکیزہ کرے، بے شک تو زبردست ہے، حکمت والا ۔ )
دعا قبول ہوئی۔ آخری نبی کا اولادِ اسماعیل سے ہونا طے ہو گیا مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی فیصلہ ہو گیا کہ نسل اسماعیل میں وہی ایک نبی آئے گا جو ایک ہو کر بھی سب سے فائق ہوگا ۔ جس کے ہاتھ پر دنیا کی تاریخ کے سب سے بڑےانقلاب کا ظہور ہوگا۔
(تاریخِ امتِ مسلمہ ۹۲/۱)

