Hazrat Ismail AS ki Qurbani Ka Waqia

 بیٹے کی قربانی


         ابھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ایک امتحان باقی تھا جو پچھلے دونوں  امتحانات سے زیادہ کڑا تھا؛ کیوں کہ اس بار اس میں خود بچے کی رضامندی کا شامل ہونا ضروری تھا۔ خواب میں اللہ کا حکم آیا " اے ابراہیم ! اپنے بیٹے کو قربان کردو ۔


         اس طرح حضرت ابراہیم ، حضرت ہاجرہ اور کمسِن اسماعیل تینوں امتحان کی بھٹی میں ڈال دیے گئے ۔

         توفیق ازلی اُن کے شامل ہوئی اور تینوں نے اللہ کےحکم پر سر سلیم خم کر دیا۔ شیطان نے اس واقع پر پوری کوشش کی کہ کسی طرح کائنات کے ان پاکیزہ ترین بندوں کے عزائم میں رخنہ ڈال دے۔ انہیں اللہ کی محبت سے ہٹا کر دنیا کی طرف مائل کردے مگر ماں،باپ اوربیٹا تینوں اپنی اپنی جگہ اللہ کے شیدائی تھے۔ انہوں نے شیطان کو کنکریاں مار کر بھگا دیا۔ اور پھر آخرمنٰی کی وادی میں حضرت ابراہیم علیہ السلام  نے حضرت اسماعیل علیہ السلام   کو قربان کرنے کے لیے اُن کی گردن پر چھری چلادی۔ تب اللہ کی طرف سے ندا آئی ابراہیم تم سچائی کے امتحان میں کامیاب رہے ۔


دیکھا تو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ایک دنبہ ذبح ہو چکا تھا۔

         وقت کی نبضیں رک  گئی تھیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کے تین بڑے امتحانات پورے ہوچکے تھے ۔اب اس برگزیدہ نبی اور اس کے کُنبے کو انعامات سے نوازنے کا مرحلہ آگیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(تاریخِ امتِ مسلمہ ۹۱/۱)

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic