Azmaish Me Sabr o Istiqamat: Musibat Se Kamyabi Tak Ka Safar

آزمائش میں استقامت اور صبرِ جمیل: مصائب سے کامیابی تک کا سفر

زندگی—تضادات کا مجموعہ

        انسانی زندگی دھوپ چھاؤں کا ایک ایسا کھیل ہے جہاں مسرتوں کے پیچھے غم اور راحتوں کے پہلو میں آفتیں چھپی ہوتی ہیں۔ کائنات کا نظام کچھ اس طرح وضع کیا گیا ہے کہ یہاں کوئی بھی شخص مکمل طور پر دکھوں سے آزاد نہیں۔ جب انسان پر کوئی مصیبت آتی ہے، تو وہ اپنی ذات کے خول میں محصور ہو کر یہ سمجھنے لگتا ہے کہ شاید کائنات کا تمام تر غم اسی کے حصے میں آ گیا ہے۔ وہ تنہائی محسوس کرتا ہے اور ناامیدی کے اندھیروں میں گھر جاتا ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اگر ہم بصیرت کی آنکھ سے اپنے دائیں بائیں دیکھیں، تو معلوم ہوگا کہ یہ دنیا "دار المصائب" ہے، یہاں ہر رخسار پر آنسو ہیں اور ہر وادی میں ماتم  بپا ہے۔


بقول شاعر:

نارسائی کی شکایت کیا کریں
غم تو دنیا میں سبھی کو ہے میاں
دائیں بائیں دیکھئے: غم میں تنہائی نہیں

        انسان کو جب اپنی تکلیف بڑی لگنے لگے، تو اسے چاہیے کہ وہ کائنات کے وسیع تر تناظر میں دوسروں کے دکھوں کا مشاہدہ کرے۔ آپ کی مصیبت دوسروں کے مقابلے میں شاید بہت کم ہو۔

        مریضوں کو دیکھیں: کتنے ہی ایسے نفوس ہیں جو سالہا سال سے ہسپتالوں کے بستروں پر پڑے کروٹیں بدل رہے ہیں۔ درد ان کا مقدر بن چکا ہے اور شفا ایک خواب۔

        قیدیوں کو دیکھیں: وہ لوگ جو سلاخوں کے پیچھے برسوں سے سورج کی روشنی کو ترس گئے ہیں اور جن کی دنیا ایک چھوٹی سی کوٹھڑی تک محدود ہے۔

        غمزدہ والدین کو دیکھیں: جن کے جوان بیٹے اور لختِ جگر ان کی آنکھوں کے سامنے منوں مٹی تلے جا سوئے ہیں۔

        جب آپ ان لوگوں کے حالات پر غور کریں گے، تو آپ کو اپنی تکلیف ہلکی محسوس ہوگی۔ یہ موازنہ انسان کے اندر شکر گزاری کی روح  پیدا کرتا ہے اور اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ جس رب نے آزمائش دی ہے، اسی نے بہت سی بڑی آفتوں سے بچا بھی رکھا ہے۔

دنیا: مومن کا قید خانہ

        اسلامی نقطہ نظر سے یہ دنیا مومن کے لیے جائے راحت نہیں بلکہ جائے امتحان ہے۔ یہاں کے محلات شام ہوتے ہوتے کھنڈرات میں بدل سکتے ہیں۔ قرآن حکیم سورہ ابراہیم میں ارشاد فرماتا ہے:

"اور تمہارے لیے ظاہر ہو جاتا ہے کہ ہم نے ان کے ساتھ کیسے معاملہ کیا
 اور ہم نے تمہارے لیے مثالیں  بیان کر دی ہیں"۔

        زندگی کے اس توازن کو برقرار رکھنے کے لیے انسان کو "صحرائی اونٹ" کی طرح بننا پڑتا ہے۔ جس طرح اونٹ تپتے ہوئے صحرا، پیاس اور کٹھن راستوں کا عادی ہو کر منزل تک پہنچ جاتا ہے، اسی طرح ایک مومن کو بھی حوادثِ زمانہ کا عادی ہونا چاہیے تاکہ وہ زندگی کے سفر میں توازن نہ کھوئے۔

صبرِ جمیل: اولوالعزم لوگوں کا شیوہ

        صبر کا مطلب بزدلی یا ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مثبت عمل ہے جس کا نام "استقامت" ہے۔ یہ ان لوگوں کی صفت ہے جن کے ارادے چٹانوں سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ جب مصیبت آتی ہے، تو دو ہی راستے ہوتے ہیں: یا تو انسان شکوہ و شکایت کر کے اپنا اجر ضائع کر لے، یا پھر صبر و توکل کی ڈھال اپنا کر حادثات کو دھول چٹا دے۔

شاعر کہتا ہے:

گزر جائے گا یہ وقت بھی، ذرا اطمینان تو رکھ
جب خوشی نہ ٹھہری، تو غم کی کیا اوقات ہے

        حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا واقعہ صبر اور توکل کی معراج ہے۔ جب آپؓ مرض الوفات میں تھے اور لوگوں نے طبیب بلانے کی پیشکش کی، تو آپؓ نے کمالِ اطمینان سے فرمایا: "طبیب (اللہ) تو مجھے دیکھ چکا ہے، اور اس نے فرمایا ہے کہ میں جو چاہوں گا وہی کروں گا"۔ یہ وہ مقامِ رضا ہے جہاں بندہ اپنی مرضی کو اللہ کی مشیت میں فنا کر دیتا ہے۔

صبر کے چار ستون


صبرِ جمیل تب ہی حاصل ہوتا ہے جب اس میں چار چیزیں شامل ہوں:

یقین: یہ کامل بھروسہ کہ اس مشکل سے نجات ضرور ملے گی۔

توقع: حُسنِ انجام اور بہتر مستقبل کی امید۔

طلب: اللہ کی رضا اور اس کے اجر کی تڑپ۔

نیت: یہ سوچ کہ یہ تکلیف میرے گناہوں کا کفارہ بن رہی ہے۔

آزمائشِ انبیاء: استقامت کا نصاب

        اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی آزمائش سخت ہے، تو ذرا تاریخ کے ان روشن ستاروں کو دیکھیں جنہیں اللہ نے اپنا سب سے زیادہ مقرب بنایا، مگر ان پر آزمائشیں بھی سب سے سخت آئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی زندگی صبر و ثبات کا ایک ایسا ہمالہ ہے جس کی چوٹی تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔

آزمائش کی نوعیت تفصیلِ واقعہ 

        جسمانی اذیت سجدے کی حالت میں اونٹ کی اوجھڑی رکھی گئی، 
        طائف میں لہولہان کیا گیا۔
        معاشی بائیکاٹ شعب ابی طالب میں تین سال تک محصور رہ کر درختوں کے پتے کھائے۔
        ذاتی صدمات زندگی میں اپنے بیٹے اور اکثر بیٹیوں کے جنازے اٹھائے۔
        جنگ و جراحت احد کے میدان میں دندانِ مبارک شہید ہوئے اور چہرہ زخمی ہوا۔
        روحانی اذیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم  جیسے سچے انسان پر جادوگر اور جھوٹا ہونے کے الزامات لگائے گئے۔

        صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  ہی نہیں، بلکہ حضرت زکریاؑ اور حضرت یحییٰؑ کی شہادت، حضرت موسیٰؑ کی ہجرت، اور حضرت ابراہیمؑ کا آگ میں ڈالا جانا اس بات کی گواہی ہے کہ اللہ کے  پیارے ہمیشہ آزمائے جاتے ہیں۔ صحابہ کرام میں حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمان غنیؓ اور حضرت علیؓ کی شہادتیں بھی اسی تسلسل کا حصہ ہیں۔

حضرت بلال حبشیؓ: صبرِ جمیل کی زندہ مثال


        صبرِ جمیل کی جب بھی بات ہوگی، حضرت بلال بن رباحؓ کا نام سرِ فہرست آئے گا۔ مکہ کی تپتی ریت پر جب امیہ بن خلف ان کے سینے پر بھاری چٹان رکھ دیتا اور کہتا کہ "اسلام چھوڑ دو"، تو اس وقت بلالؓ کی زبان پر کوئی کراہ یا شکوہ نہیں ہوتا تھا۔ وہ تڑپتے تھے مگر صرف ایک صدا بلند کرتے تھے: "احد! احد!" (اللہ ایک ہے)۔

        یہ وہ صبر تھا جس نے کفر کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس صبر کا صلہ کیا ملا؟

        وہ غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہوئے۔
        اسلام کے پہلے مؤذن بنے۔
        عرش والے نے معراج کی رات جنت میں ان کے قدموں کی چاپ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کو سنائی۔

بقول علامہ اقبال:

مِٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نے
وہ کیا تھا؟ زورِ حیدرؓ، فقرِ بوذرؓ، صدقِ سلمانیؓ

حاصلِ کلام: جنت کا راستہ کٹھن ہے

        مومن کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جنت کی طرف جانے والی سڑک پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں بھرا راستہ ہے۔ قرآن واضح طور پر کہتا ہے:

"کیا تم نے سمجھا ہے کہ تم جنت میں یونہی داخل کر دیے جاؤ گے؟
 ابھی تو تم پر وہ حالات نہیں گزرے جو تم سے پہلے لوگوں پر گزرے، 
جنہیں تنگیوں اور سختیوں نے ہلا کر رکھ دیا" (البقرہ)۔

        آزمائش دراصل ایک "فلٹر" ہے جو کھرے اور کھوٹے کو الگ کرتا ہے۔ یہ ہمیں مضبوط بناتی ہے، اللہ کے قریب کرتی ہے اور ہمیں یہ سکھاتی کہ دنیا کی ہر چیز فانی ہے۔ اگر آج آپ کسی تکلیف میں ہیں، تو یاد رکھیں کہ رات جتنی طویل اور کالی ہو، صبح کی پہلی کرن اسے مٹا کر دم لیتی ہے۔

خلاصہ یہ کہ:

اپنے سے زیادہ تکلیف زدہ لوگوں کو دیکھ کر شکر کریں، انبیاء کی زندگیوں سے حوصلہ لیں، اور حضرت بلالؓ کی طرح اپنے ایمان پر جم جائیں۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے: "بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے"۔

آخری بات اس دعا اور یقین کے ساتھ:

تندئ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic