اہل عرب کی دینی حالت
چھ سو برس قبل از مسیح تک اہل عرب بت پرستی کی لعنت سے پاک اور دین ابراہیمی کے پیروکار تھے مگر رفتہ رفتہ جزیرۃ العرب سے متصل بت پرست اقوام کے اثرات ان میں سرایت کرنے لگے ۔ وحی کی رہنمائی سے محرومی اور عمربن لحی جیسے کج فکر لوگوں کی سربراہی نے نہ صرف قریش بلکہ جزیرۃ العرب کے تمام قبائل کو دین ابراہیمی سے بہت دور لا پھینکا اور دیکھتے ہی دیکھے بتوں کی عبادت پورے عرب میں عام ہو گئی۔ پتھر کے مجسموں کو حاجت روا اور مشکل کشا مانا جانے لگا۔
لوگوں کا یہ عقیدہ بن گیا کہ ان مجسموں میں ایسی ارواح ہیں جو نفع و ضرر کی مالک ہیں اور امور کائنات کے مختلف شعبوں پر قدرت رکھتی ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا تھا کہ یہ معبود اللہ کے قرب کا وسیلہ اور اس کی بارگاہ میں سفارشی ہیں، اللہ تعالی نے انہیں دنیا کے اختیارات عطا کر دیے ہیں۔ مشرکین کا خیال تھا کہ خالقِ کائنات تو اللہ ہے مگر اب وہ فارغ ہے اور اس کی نیابت میں دوسرے معبود تمام امور کو چلا رہے ہیں جن میں سے کوئی فتح و شکست کا مالک ہے، کوئی زندگی اور موت کا کوئی روزی دیتا ہے اور کوئی صحت کوئی بیماریاں دور کرتا ہے اور کوئی قحط سالی۔
حرم کے تبرکات کے ساتھ حد سے زیادہ عقیدت بھی بد عقیدگی کا سبب بنی۔ بعض عرب قبائل مکہ سے واپسی پر یہاں کے پتھر اٹھا کر لے جاتے ، کعبہ کی طرح ان کا طواف کرتے ، بعد میں ان پتھروں کی باقاعدہ پوجا ہونے لگتی۔
عرب میں قسمہا قسم کے بت تھے۔ بعض بڑے بھاری بھر کم اور اپنی جگہ گڑے ہوئے تھے۔ مکہ کے اکثر مشہور بت ایسے ہی تھے، جبکہ ایسے ہلکے پھلکے مجسمے بھی تھے جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیے جاسکتے تھے۔ عرب ان بتوں کو "اصنام" کہتے تھے جو صنم کی جمع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی اصل صلم (Solm) ہے جو آرامی زبان کا لفظ ہے۔ عربی میں آکر یہ لفظ ''صنم'' بن گیا۔
بتوں کے پجاریوں کو کاہن کہا جاتا تھا اور انہیں اللہ کے تقرب اور اس سے تعلق کا واسطہ مانا جاتا تھا۔ قریش سمیت تمام عرب قبائل کاہنوں کے پیروکار تھے۔ وہ کاہنوں ، پجاریوں اور بت خانے کے خصوصی خادموں کو ہمراہ لیے بغیر کبھی جنگ کے لیے نہیں نکلتے تھے۔ یہی کاہن لشکر کے لیے نیک فالی یا بدفالی کے اشارے اخذ کرتے تھے۔ اہم فیصلوں میں ان کی رائے معتبر مانی جاتی تھی۔ ان کاہنوں میں قبیلہ کلب کا زُہیر بن حباب اور قبیلہ بنوعبس کا زہیر بن جذیمہ مشہور ہیں ۔
''مناۃ'' وہ پہلا بت تھا جس کی عرب میں پرستش کی گئی، اسے قسمت کا مالک مانا جاتا تھا۔ اسے بنوخزاعہ کا رئیس عمرو بن لُحی شام سے لایا تھا۔ قریش کے علاوہ بنو ہذیل اور یثرب میں آباد اَوس اور خَزرج بھی اس کے خاص پجاری تھے۔
ہُبل قریش کا سب سے بڑا بت تھا جسے عمرو بن لُحی نے کعبہ میں نصب کیا تھا۔ یہ سرخ عقیق سے تراشا ہوا انسانی شکل کا مجسمہ تھا۔ اس پر سو اونٹوں کی بھینٹ چڑھائی جاتی تھی ۔ کعبہ کے طواف کے بعد لوگ اس کے پاس سرمنڈواتے تھے، اس کے چڑھاووں کا مستقل خزانہ تھا، جس کے لیے ایک نگراں مقرر تھا۔
دوسرا مشہور بت ''لات'' تھا جو طائف کے بت خانے میں نصب تھا۔ یہ ایک سفید چوکور مجسمہ تھا۔ عرب اس کے نام کی قسمیں کھایا کرتے۔ اسے بنو ثقیف ( جو طائف اور اس کے گرد ونواح میں آباد تھے ) کے ایک سخی انسان کے نام پر بنایا گیا تھا جو حاجیوں کو سَتّو گھی میں ترکر کے دیتا تھا۔ اس کی موت کے بعد عمرو بن لُحَی کے بہکاوے میں آکر طائف کے لوگوں نے اس کا بُت بنا ڈالا ۔
اہل عرب درختوں کی عبادت بھی کرتے تھے، جیسے 'عُزّٰی'' نامی مشہور مؤنث بت بنوغطفان کے ایک ببول کے درخت کے نام پر بنایا گیا تھا ، جسے دیوی کی حیثیت دی گئی تھی ۔ قریش کے لوگ عبد العُزّٰی نام بڑے فخر سے رکھا کرتے تھے۔ عُزّی کی الگ قربان گاہ تھی جہاں جانور قربان کیے جاتے تھے۔
''ذات انواط'' بھی قریش کا مشہور مقدس درخت تھا جس کی عبادت کے لیے ایک دن کا اعتکاف کیا جاتا تھا ۔
جنگ کے دوران ہُبل ، لات اور عزّی کے نعرے لگا کر قوم کا حوصلہ بڑھایا جاتا تھا۔ بت پرستی کی ریل پیل کا یہ عالم تھا کہ تین سو ساٹھ بت کعبہ کے صحن میں تھے، جن میں اِساف اور نائلہ نامی بہت بڑے مشہور تھے، لوگ طواف کا آغاز اِساف سے کرتے اور اختتام نائلہ پر کرتے۔ ان میں سے پہلا بت مذکر تھا اور دوسرا مؤنث۔
ان کے علاوہ دُومۃ الجندل میں " وَدّ " کی پرستش ہوتی تھی جس کی نگرانی قریش کے پاس تھی۔ ''سُواع'' بنو ہذیل کا بت تھا۔ اہل جُرش کے ہاں ''یغوث'' نامی بت کی پوجا ہوتی تھی جوشیر کی شکل کا تھا۔ اہل خیوان نے ''یَعوق'' کی عبادت اختیار کر رکھی تھی جو گھوڑے کی صورت جیسا تھا۔ یمن کا قبلہ حِمیَر "نَسر'' کا پجاری تھا جو گِدھ کا مجسمہ تھا۔
یہ پانچوں نام (وُدّ سُواع ، یَغُوث ، یَعوق اور نسر ) اصل میں حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے بتوں تھے جو ہزاروں سال قبل بابِل (عراق) میں غرق ہو چکے تھے مگر ایک زمانے کے بعد بت پرستوں نے انہی ناموں کو نئی شکلوں میں زندہ کر لیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ عرب بعض جانوروں کے تقدس کے اس حد تک قائل تھے کہ ان کے مجسمے بنا کر انہیں پوجتے تھے ۔
مؤرخ ابن کلبی کا کہنا ہے:
مکہ کے ہر گھر میں ایک بت تھا جس کی لوگ عبادت کرتے تھے، جب کوئی سفر پر جاتا تو بت کو چھو کر نکلتا، واپس آتا تو سب سے پہلے بت کو چھوتا ۔
کچھ لوگ بت پرستی کی جگہ ستاروں کو مقدس، نظامِ دنیا کا مختار اور دعا کے لیے قبلہ و کعبہ سمجھے تھے۔ یہ صابئین کہلاتے تھے۔ مکہ والوں کی زبان میں ہرایسے شخص کو بھی ''صابی" کہا جاتا تھا جو بت پرستی کا منکر ہو۔
عربوں کی اخلاقی حالت :
جہاں تک عربوں کی اخلاقی حالت کا تعلق ہے وہ بعض فطری اوصاف برقرار رہنے کے باوجود بہت بگڑ چکی تھیں۔ بات بات پر لڑنا ، جھگڑنا اور تلواریں سونت کر ایک دوسرے پر پل پڑنا ان کی عادت تھی ۔ ذرا سے اختلاف پر بڑی بڑی جنگیں شروع ہو جاتیں ، جو نسل در نسل چلتی رہتیں ۔
شراب نوش اتنی عام تھی کہ ہر گھر مےکدہ معلوم ہوتا تھا، جوے کی لت ایسی پڑی تھی کہ لوگ اپنا سب کچھ داؤ پر لگادیتے اوراسے فخر کا باعث قرار دیتے۔ چوری، ڈاکا عام تھا۔ بعض قبیلوں کا مستقل پیشہ لوٹ مار تھا۔ شرم و حیا اس طرح رخصت ہوئی تھی کہ لوگ سرِعام عورتوں سے آنکھیں لڑاتے ، محفلوں میں اپنی محبوباؤں کا ذکر کرتے اور اُن کی یاد میں اشعار سناتے پھرتے۔ ان کے ہاں نکاح کی اہمیت ضرورتھی مگر زنا بھی کوئی بُری شے نہ تھی ۔ پیشہ ور عصمت فروش عورتیں آبادیوں میں رہتیں اوران کے گھر مخصوص جھنڈوں کی وجہ سے دور سے پہچانے جاتے تھے۔
اس معاشرے میں عورت کی کوئی قدر و قیمت نہیں تھی۔ ایک ایک آدمی بھیڑ بکریوں کی طرح جتنی عورتیں چاہتا اپنے پاس رکھتا، عورتیں میراث میں تقسیم ہو کر ایک سے دوسرے کی ملکیت میں چلی جاتی تھیں ۔ لوگ اپنے ہاں لڑکا پیدا ہونے پر فخر کرتے اور لڑکیوں کی پیدائش پر منہ چھپاتے پھرتے۔ بہت سے لوگ لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دیتے تا کہ قبیلے میں ان کی رسوائی نہ ہو۔
عربوں کی اس حالت کی جامع تصویر حضرت جعفر بن ابی طالبؓ نے نجاشی کے دربار میں یوں کھینچی تھی: ہم ایک جاہلیت والی قوم تھے، بتوں کی عبادت کرتے تھے، مردار کھاتے تھے، ہر قسم کی بے حیائیوں اور گناہوں میں آلودہ تھے، ہم میں سے جو طاقتور ہوتا تھا وہ کمزور کو چیر پھاڑ دیتا تھا۔