فلاسفۂ یونان
اس دور میں تہذیب و تمدن اور علوم و فنون کا ایک قدیم مرکز یونان تھا۔ چھٹی صدی عیسوی میں یہاں بازارِ فلسفہ کی رونق ماند پڑ چکی تھی، مگر اب بھی اسے سُقراط ، افلاطون اور اَرسطو جسے دانشوروں کی سرزمین کے حوالے سے جانا جاتا تھا۔ یہ سب کے سب اپنے دور کے نامور فلسفی تھی ۔ سُقراط حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت سے تقریباً چار سو سال پہلے گزرا تھا۔ اس کے نامور شاگرد افلاطون کا زمانہ حضرت عیسی علیہ السلام سے ساڑھے تین سو سال پہلے کا ہے۔
پھر ارسطو آیا جو نامور یونانی فاتح سکندرِ اعظم کا استاد اور مشیر تھا۔ یونان کے شاہی خاندان کی سر پرستی میں ان فلسفیوں کی دکانیں خوب چمکیں ۔ سکندر اعظم نے مشرق کو افکارِ فلاسفہ سے آشنا کرنے کی خاطر مصر میں اسکندریہ کا شہر بسایا اور وہاں فلسطینیوں کو آباد کیا، اس طرح مشرق میں بھی فلسفیانہ علوم کی اشاعت شروع ہوگئی۔ یہ فلسفی ہر چیز اور ہر معاملے کو عقل کے ترازو میں تولنے کے عادی تھے، وہ کسی بھی مسئلے میں صحیح یا غلط کا فیصلہ کرنے کے لیے انسانی عقل کو کافی قرار دیتے تھے اور وحی کی ضرورت کا انکار کرتے تھے۔
ان فلسفیوں نے نہ صرف طب، فلکیات ، ریاضی اور سیاست کے معاملات پر بحث کی بلکہ خدا کائنات، خیر و شر اور مخلوق کے آغاز و انتہا کے مسائل کو بھی صرف اپنی سوچ سے حل کرنے کی کوشش کی۔ یہاں ان کا قدم ایسا پھسلا کہ وہ دور دراز کی گمراہیوں میں جا گرے۔ وہ عقل پر اکتفاء کرنے کی وجہ سے خالق کی معرفت سے بالکل جاہل رہے ۔ آخرت اور حشر و نشر کے بارے میں ان کا ذہن کبھی صاف نہ ہو سکا۔ اپنے علم کو حتمی اور کامل تصور کرنے کی وجہ سے انہوں نے بھی رسولوں کی تعلیمات پر غور کرنے کی ضرورت نہ سمجھی۔ اس طرز فکر نے فلاسفہ اور ان کے پیر و کاروں کو ایک طرح سے خدا اور آخرت کا منکر ہی بنا دیا۔ اس طرح شریعت اور وحی ، حلال وحرام کے الفاظ ان کے لیے بے معنی ہو گئے۔
اس کے نتیجے میں یونان سمیت فلسفے سے متاثر ہر علاقے میں ایک مادر پدر آزاد تہذیب وجود میں آئی جس میں شکوک و شبہات میں سرگرداں رہنے کو علم کا نام دیا گیا، عریانی اور فحاشی کو تہذیب و ثقافت مان لیا گیا۔ فلاسفہ کی دی ہوئی تہذیب نے یونان کا یہ حال کر دیا کہ ''ایتھنز'' کے چوکوں اور بازاروں میں فاحشہ عورتیں سر عام دعوت گناہ دیا کرتی تھیں۔ فلسفیوں کے دور عروج میں برہنگی یونانی تہذیب کا ایسا لازمی حصہ بن گئی کہ فنون لطیفہ کی ہر صنف چاہے مصوری ہو یا مجسمہ سازی، اس کی عکاسی کرتی تھی۔ تھیٹروں میں عورتوں کا عریاں رقص کرنا عام بات تھی۔ کھیل کے میدانوں میں لوگ بالکل عریاں ہو کر کھیلتے اور تماشائی داد دیتے۔ بدکاری، فحاشی،کھیل کود،ناچ گانا اور عیش و تفریح ہی زندگی کا مقصد ٹھہری۔
نئے نئے نظاروں سے عیش اور تفریح کا ذوق اس حد تک پہنچ چکا تھا کہ امراء اور شہزادے قیدیوں کو بھوکے درندوں سے لڑاتے اور اس تماشے سے محظوظ ہوتے، جنسی تسکین کے نت نئے طریقوں کی تلاش نے لوگوں کو فطری انداز سے اتنا منحرف کر دیا تھا کہ بڑے بڑے شرفاء ہم جنس پرستی کی لت میں پڑے ہوئے تھے۔ عام اوباشوں کا پوچھنا ہی کیا جنہیں بازاروں میں عصمت فروش عورتوں کے جوتے چاٹتے دیکھا جا سکتا تھا۔
چھٹی صدی عیسوی کے اس دور میں جس کی ہم بات کر رہے ہیں، یونان کی جگہ روم کا طوطی بول رہا تھا اور عروجِ فلاسفہ کے سنہرے ایام بیت چکے تھے، تاہم رومی تہذیب کے انگ انگ میں فلسفیانہ خیالات رچے بسے تھے اور تقریبا وہ تمام برائیاں موجود تھیں جن کا بیج فلسفے نے بویا تھا۔
لفاظی ہی لفاظی
سب سے زیادہ مایوس کن بات یہ تھی کہ مشرق و مغرب کے ان فلسفیوں ، انقلاب کے ان داعیوں اور انسانیت کے ان رہنماؤں کی تعلیمات صرف کتابی اور نظری تھیں۔ عملی طور پر ان تعلیمات کا کوئی نمونہ دیکھنے کی کوشش کرنے والے کو سوائے اندھیرے کے کچھ نظر نہ آتا۔
ان میں کسی فلسفی یا داعی کی عملی زندگی اس بارے میں کوئی رہنمائی فراہم نہیں کرتی کہ انسان کس طرح روح و جسم کی پاکیزگی حاصل کرے، اس کی جلوت اور خلوت کیسی ہو، گفتار و کردار میں کیا جوہر ہو، اس کا خالق سے تعلق کیسا ہو اور مخلوق سے کیا۔ وہ خوشی میں کن جذبات سے آراستہ ہو اور رنج وصدے میں اس کا رویہ کیا ہو۔ فتح اور کامیابی کے موقع پر اس کا برتاؤ کیا ہو اور شکست ، مصیبت اور نا کامی سے دوچار ہوکر اس کے تاثرات کیسے ہوں ، وہ کیسے سوئے، کیسے جاگے، بڑوں اور بزرگوں سے اُس کا سلوک کیسا ہو اور چھوٹوں سے کس طرح پیش آئے ، گھریلو زندگی کن خوبیوں کا مرقع ہو اور معاشرتی مصروفیات میں طور طریقے کیا ہوں ؟ دنیا کو اِن سوالات کے عملی جوابات کی ضرورت تھی مگر لگتا تھا کہ عمل کی نعمتِ عظمی انبیائے سابقین کے ساتھ ہی دنیا سے معدوم ہو چکی ۔
یہود گمراہی میں غلطاں :
اگر سرسری نظر سے دیکھئے تو اس دور میں دوسروں کی بہ نسبت یہودیوں سے یہ توقع زیادہ کی جاسکتی تھی کہ ان میں کوئی نیا مصلح پیدا ہو جوانتہائی بگڑے ہوئے معاشرے میں کوئی تبدیلی لا سکے کیوں کہ ہزاروں برس سے بنی اسرائیل میں انبیائے کرام کا سلسلہ چلا آرہا تھا، پھر ان کے پاس تورات کی شکل میں ایک ہدایت نامہ موجود تھا، جس میں جابجا تحریف کے باوجود ایک آخری پیغمبر کی نشانیاں بہر حال اب تک درج تھیں۔ خود یہود کو بھی یقین تھا کہ وہ آخری پیغمبر آنے والا ہے اور انہی میں سے ہوگا کیوں کہ صدیوں سے ان میں جلیل القدر انبیائے کرام کا ظہور ہوتا آرہا تھا۔ یہود نے خود کو باقی معاشروں میں گھلنے ملنے سے بھی محفوظ رکھا تھا اور وہ اپنے آباء کے طور طریقوں کی حفاظت کرتے رہے تھے، ان کی علمی صلاحیتوں اور ذہانت کو دیکھتے ہوئے بھی ان میں کسی قائد اور مصلح کے ظہور کی امید کی جاسکتی تھی۔
مگر یہ صرف ظاہری جائزہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ قوم جو صدیوں تک خدا کے انعامات و اعزازات کی مستحق رہی ، اندرونی طور پر اتنی گر چکی تھی کہ اس سے کسی خیر کی توقع عبث تھی۔ یہودیوں کی ساری خرابیوں کی جڑ اُن کا غرور وتکبر تھا۔
ماضی میں بار بار اللہ تعالیٰ کے رحم وکرم سے بہرہ ور ہونے کے بعد انہوں نے تصور کرلیا تھا کہ وہ خدا کے لاڈلے اور برگزیدہ ہیں۔ اس تصور نے انہیں مغرور کر دیا جس کے نتیجے میں وہ خود رائی اور من مانی کے مریض بن گئے، جب یہ مرض حد سے بڑھا تو انہوں نے آسمانی شریعت کو بھی اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش شروع کر دی۔ تورات میں جا بجا لفظی تبدیلیاں کردیں اور جو آیات اصل حالت میں باقی تھیں ان کے معانی و مطالب اپنی طرف سے ایسے طے کر دیے جو ان کی خواہشات کے خلاف نہ ہوں ۔
یہ نئے معانی و مطالب یہود کے اس زعم کی عکاسی کرتے تھے کہ وہ کائنات کی بہترین مخلوق ہیں اور باقی سب انسان ان کے غلام ہیں۔ انہی من پسند تشریحات کو انہوں نے سینہ بسینہ ہدایات کا نام دیا تھا اور صدیوں سے انہی پر عمل کرتے آرہے تھے۔ انہوں نے حضرت عیسیٔ کی نبوت کا انکار اور ان کی تعلیمات کی مخالفت بھی اس لیے کی تھی کہ ان کی تعلیمات سینہ بسینہ چلی آنے والی یہودی روایات کے خلاف تھیں اور یہودی ان روایات سے دستبردار ہونے پر تیار نہ تھے۔
حضرت عیسیٔ کے آسمان پر اٹھائے جانے کے ڈیڑھ سو سال بعد یہودی علماء نے تورات کی ان من پسند خفیہ تشریحات کو پہلی بار قلم بند کیا اور ان کی تشریح کا کام شروع کیا۔ اس مجموعے کو ''مِشنا'' کا نام دیا گیا اور یہودی علماء نے متفقہ طور پر فیصلہ سنادیا کہ اب تورات کی بجائے ''مِشنا " پر عمل ہوگا اور تورات پر عمل کرنے والے خدا کے غضب کا شکار ہوں گے۔ (بعد میں مِشنا پر اضافے کر کے اسے ''تَلمُون'' کا نام دیا گیا۔ یہودیوں کے ہاں اس پر عمل کیا جاتا ہے)۔
نفس کی خواہشات کی خاطر شریعت میں تحریف اور تاویل کے اس سلسلے نے یہود کو آسمانی ہدایت سے اس قدر دور کر دیا تھا کہ اب ان کے اندرونی حالات سے واقف کوئی بھی شخص ان سے کسی خیر کی امید نہیں کر سکتا تھا۔ یہودیوں کے علماء کی دین فروشی حق فراموشی اور اغراض پسندی ضرب المثل بن چکی تھی۔ ان کے سرمایہ داروں کی حرص و ہوس اور زر پرستی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ ان میں ایسے لوگ بھی پیشوا اور رہنما تھے جو شیطانی طاقتوں سے کام لیتے تھے، جادو ٹونا کرتے تھے، ان کالے علوم کو وہ اپنے دشمنوں کے خلاف استعمال کرتے تھے اور ذکرِ الہی کی بجائے جادوئی و شیطانی ریاضتوں کو اپنے من کی تسکین کا ذریعہ بنائے ہوئے تھے۔ یہود کے بڑے بڑے احبار اور قائدان کی ہدایات بے چوں و چراں مان لیا کرتے تھے۔
ان سب باتوں سے بڑھ کر یہود کی بد کرداری یہ تھی کہ صدیوں کی ذلت وخواری اور احساس محرومی نے ان میں ساری دنیا کے خلاف نفرت ، حسد اور انتقام کے جذبات بھر دیے تھے اور اب وہ تمام انسانیت کو اپنا غلام بنانا چاہتے تھے۔ کئی علاقوں میں انہوں نے اس قسم کے تجربات شروع کیے تھے اور ان کوششوں میں مصروف رہ کر وہ حد درجہ چالاک ، مکار اور دغا باز بن چکے تھے۔ چنانچہ ان میں خفیہ تنظیمیں بنانے ، جاسوسیاں کرنے، سازشیں کرکے حکومتوں کے تختے الٹنے، ایک ملک کو دوسرے کے خلاف بھڑ کانے اور ایک قوم کو دوسری کے خلاف استعمال کر کے اپنے مفادات حاصل کرنے کی روش پختہ ہو چکی تھی۔ اس تنگ نظری، خود پسندی اور بے رحمی کے ہوتے ہوئے اُن سے یہ توقع عبد تھی ہے کہ وہ دنیا میں کسی مثبت تبدیلی کا ذریعہ بن پائیں گے ۔

