Zamana e Jahiliyat ki Arab Hakumaten: Haira aur Banu Ghassan ki Tareekh

زمانۂ جاہلیت کی دیگر عرب حکومتیں


امارات حیرة

        قدیم کوفہ کے جنوب میں تین میل ( پونے پانچ کلومیٹر دور جہاں اب ''نجف'' آباد ہے، حیرۃ “نامی ایک شہر تھا۔ یہاں ''تَنوخی'' عربوں نے سکندرِاعظم کے حملے کے کچھ عرصے بعد اپنی حکومت قائم کرلی تھی ۔ ''تَنوخی'' عرب وہ تھے جو یمن سے ہجرت کرکے بحرین میں آبسے تھے۔ یہیں انہوں نے تنوخی کے نام سے ایک الگ قبیلے کے طور پر شہرت پائی۔ سکندرِاعظم کے حملے کے بعد جب عراق و فارس میں طوائف الملوکی کا دور شروع ہوا تو ان عربوں نے موقع پاکر جزیرۃ العرب کی سرحدوں پر واقع عراقی شہروں پر قبضے کی کوشش کردی ۔ اس طرح نہ صرف حیرۃ بلکہ اَنبار سے لےکر دریائے فرات تک ان کا تسلط ہوگیا ۔ حیرہ کے عرب چونکہ فارس اور روم دونوں کی سرحدوں سے متصل تھے اس لیے دونوں بڑی طاقتوں کے نظریاتی اثرات ان پر مرتب ہوتے رہے جس کی وجہ سے بہت سے تنوخی عرب عیسائی ہوگئے۔ ان کی خصوصیت یہ تھی کہ ان کے ناموں کے ساتھ عبد آتا تھا، جیسے عبدالمسیح، عبدیالیل اورعبد اللہ،اس لیے ان کوعُبّاد بھی کہا جاتا تھا۔



        اس حکومت کا بانی قبیلۂ دوس کا یک بلند ہمت شخص مالک بن فہم تھا، اس نے حیرہ میں محل بنایا اور باغ لگائے مگروہاں کی بجائے اپنا مرکز ''انبار'' کو بنایا۔

      اس کا بیٹا جَذِیمه الاَبرش بہادری، دانائی اور ذہانت کی وجہ سے عربوں کی کہانیوں کا حصہ بن گیا۔ اس نے ساٹھ سال تک حیرہ پر حکومت کی ۔ مؤرخین کے بقول وہ شاہانِ عرب میں سب سے عقل مند ، سب سے سخت گیر اور سب سے زیادہ محتاط تھا۔

        الجزیرہ کے عرب حاکم عمرو بن ظَرِب سے اس کی جنگ مشہور ہے، جس میں عمرو مارا گیا تھا۔ اس کی بیٹی زَبّا نے باپ کا انتقام لینے کے لیے یہ چال چلی کہ جذیمہ کو صلح اور شادی کی پیشکش کرکے اپنے ہاں مدعو کیا اور پھر قتل کر ڈالا۔

         جذیمہ کے بعد اس کا بھتیجا عمروبن عدی عراقی عربوں کا حکمران بنا،وہ پہلا شخص ہے جس نے حیرہ کو پایۂ تخت بنایا۔ اس نے جذیمہ کے دوست قُصَیر کو انتقام لینے زَبّا کے پاس بھیجا۔ قُصیر نے ناک کٹوا کر زَبّا کے ہاں حاضری دی اور ظاہر کیا کہ عمرو بن عدی نے اس پر یہ ظلم ڈھایا ہے۔ اس نے اپنی مظلومیت جتا کر زبّا کا اعتماد حاصل کیا مگر پھر موقع ملتے ہی زبّا کے شہرمیں اپنی فوج داخل کردی، جس نے زبّا کو قتل کر کے شہر کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔

        عمر بن عدی کے بعد اس کے جانشین ا‌ِمرؤالقیس اول کے دور میں ملوک حیرہ کا اثرورسوخ اور بڑھ گیا ۔ اِمرؤالقیس نے ساسانی بادشاہوں سے دوستانہ روابط استوار کرکے اپنی حکومت محفوظ بنائی ۔ یہ چوتھی صدی عیسوی کے آغاز کا قصہ ہے۔ اِمرؤالقیس کے پوتے نعمان اول نے ملوک حیرہ کا نام مزید چمکایا۔ اس کے دور میں اماراتِ حیرہ کے پاس عرب اور فارسی سپاہیوں کی دو الگ الگ فوجیں ہوا کرتی تھیں جن کے ذریعے اس نے بڑے بڑے عرب قبائل کو تابع کرلیا تھا۔ 

       نعمان کے بعد اس کا بیٹا منذر بن نعمان مسند نشین ہوا ، جس پر شاہان فارس کو اتنا اعتماد تھا کہ خسرو یَزدَگرد اَثیم نے اپنے بیٹے بہرام گور کو تربیت کے لیے اس کے پاس چھوڑ دیا تھا۔ بعد میں منذر بن نعمان نے بہرام کو باپ کا تخت و تاج دلوانے میں بھی مرکزی کردار ادا کیا۔

مَزدَ کیت اور امارتِ حیرہ

        پانچویں صدی عیسوی کے آغاز میں ایران میں ایک نیا مذہب مزدکیت جنم لے چکا تھا جس کا بانی مزدک لوگوں کو زر، زمین اور زَن میں مکمل اشتراک کی دعوت دیتا تھا۔ نفس پرستی پر مشتمل یہ نیا فلسفہ ایرانی کسری قُباز کو پسند آیا اور اس نے اسے اختیار کر کے نہ صرف اس کی سرکاری سر پرستی شروع کردی بلکہ اسے اختیار نہ کرنے والوں سے کھلی دشمنی پر اُترآیا۔ حیرہ کا حاکم منذر بن ماء السماء مزدکیت قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوا تو کسرٰی نے بزور قوت اس سے تاج و تخت چھیں کر ایک دوسرے عرب شہزادے حارث بن عمرو کو دے دیا، جس نے مزد کیت قبولی کرلی تھی، تاہم کسری قباذ کے مرنے کے بعد نوشیروان کواقتدار ملا تو اس نے مزدکیت کی مخالفت کی اور حیرہ کی حکومت بھی منزر بن ماءالسماءکولوٹادی۔

      حضورﷺ کی ولادت کے وقت حیرہ پر منذر کے بیٹے عمرو کی حکومت تھی جسے سیاسی امور پرسخت گرفت کی وجہ سے ''مضرطُ الحجارۃ'' کہا جاتا تھا۔

بنو غسان

     جس طرح عرب کی مشرقی سرحدوں پر ملوک حیرہ " شاہانِ فارس کی ماتحتی میں عرب کی سیادت کے فرائض انجام دیتے تھے اسی طرح سلطنت روما کی سر پرستی میں جزیرۃ العرب کی ان سرحدوں پر جو شام سے متصل تھیں ، بنوغسان اقتدار کے مزے لوٹ رہے تھے۔

       بنوغسان، بنو کہلان کی شاخ اَزد سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ لوگ بندِ مآرب کے سیلاب سے متأثر ہوکر یمن سے شام کی سرحدوں پر ''غسان" نامی ایک چشمے پر آبسے تھے ، اس لیے ان کا نام ” بنو غسان “ پڑ گیا۔ اُن کا پہلا قائد جفنہ بن عَمرو تھا جوحضوراکرم ﷺ سے چار سو سال پہلے گزرا ہے۔ آلِ جفنہ نے شام کی سرحد پر طویل عرصہ حکومت کی اور ان کے درجنوں حکمران گزرے۔ ان کا نامور رئیس حارث بن جبلہ یعقوبی فرقے کا عیسائی تھا جو حضرت عیسیٰؑ ہی کو خدائے بزرگ و برتر قرار دیتا ہے ۔ حارث نے ۵۲۹ء میں سلطنتِ روما کی باقاعدہ باج گزاری اختیار کر لی تھی تا کہ حیرہ کے عرب حاکم منذربن ماء السماء کا مقابلہ کر سکے۔ پھر اس نے ۵۴۱ء میں روم کی حمایت سے دریائے دجلہ عبور کرکے عراق پر حملہ کیا اور فتوحات حاصل کیں ۔ اس طرح "غسان کی حکومت مضبوط تر ہوگئی۔ رومیوں کی ماتحتی کی وجہ سے غسانی عرب عیسائی مذہب اختیار کرتے گئے اور رفتہ رفتہ ان کی اکثریت عیسائی ہو گئی ۔ غسانیوں کا آخری حکمران جبلہ بن اَیہَم تھا جس نے حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں اسلام قبول کیا تھا مگر کچھ دنوں بعد مرتد ہو گیا تھا۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic