Quraish Ka Urooj Aur Arab Ke Mashoor Shehar: Aik Tareekhi Jayeza

قریش کا عروج


        یہ قریش کے عروج کے دن تھے ۔ شام اور یمن کی تجارتی شاہراہ پر واقع ہونے کی وجہ سے مکہ کے بازار پورا سال آباد رہتے تھے۔ قریش کے تجارتی قافلے گرمیوں میں شام اور سردیوں میں یمن کی طرف نکلتے تھے کیوں کہ موسم سرما میں یمن کے ساحلی میدانوں اور گرما میں شام کے پہاڑی علاقوں کا موسم معتدل رہتا ہے۔ اس طرح تجارتی سرگرمیاں پورے سال جاری رہتی تھیں۔ بیت اللہ کے پڑوسی اور رکھوالے ہونے کی حیثیت سے کوئی قبیلہ قریش کے قافلوں کی طرف میلی آنکھ سے نہ دیکھتا تھا۔ ان قافلوں کا ساز و سامان بعض اوقات اڑھائی، اڑھائی ہزار اونٹوں پر لدا ہوتا تھا، جن کے ساتھ سو، دو سو افراد ضرور ہوتے ۔



        دینی مرکز ہونے کی وجہ سے دور دراز سے لوگ مکہ کا رخ کیا کرتے خصوصًا حج کے مہینوں میں مکہ حُجاج سے کھچا کھچ بھرا رہتا تھا، قریش حجاج کی خدمت بھی دل و جان سے کرتے تھے اور اس موقع پر خاصًا تجارتی نفع بھی حاصل کیا کرتے۔

        اپنی مذہبی پیشوائی اور تاجرانہ کمائی کے ساتھ ساتھ قریش عسکری امور اور سیاسی جوڑ توڑ میں بھی طاق تھے۔ انہیں سب سے زیادہ خطرہ بنوغِفار سے رہتا تھا جو حرم کے نزدیک شام کے راستے میں آباد تھے۔ یہ عقیدے کے لحاظ سے بھی الگ تھے۔ قریش کے بتوں ، کعبے اور حرم کے تصورات کو نہیں مانتے تھے ، اس لیے تاجروں ہی کو نہیں بلکہ حاجیوں کو بھی لوٹا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ ان کا لقب ہی "سُرّاقُ الحَجيج " پڑ گیا تھا۔

       قریش ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے بڑی سیاسی ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے رہے۔ انہوں نے اپنی عددی کمک کو پورا کرنے کے لیے مکہ کے نواح میں آباد بنو کِنانہ اور بنو مُدرِکہ کے ان قبائل کو اپنا حلیف بنا لیا تھا جنہیں اَحابیش" کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔

ان کے علاوہ غلاموں کی ایک الگ فوج تشکیل دی گئی تھی جسے عُبدان کہا جاتا تھا۔

یَثرِب میں یہود کی آمد

        مکہ کے بعد جزیرۃ العرب کا دوسرا بڑا شہر "یَثرِب" تھا۔ یہ ایک زرعی علاقہ تھا جہاں باغ اور کنویں کثرت سے تھے۔ کھجور اور انگور یہاں کی خاص پیداوار تھی۔ مکہ میں گرمی اور سردی شدید تر ہوتی تھی مگر یَثرِب کی آب و ہوا نسبتًا اور زیادہ بہتر اور معتدل تھی۔ لوگوں کا زیادہ تر پیشہ کھیتی باڑی اور باغبانی تھا۔ کچھ لوگ تجارت بھی کرتے ۔ اس میدان میں یہودیوں کا پلہ بھاری تھا جو صنعت و حرفت میں مشہور اور اسلحہ سازی اور زیورات کی ڈھلائی کے ماہر تھے۔ یہودیوں کا ایک محلہ '' بنو قَینُقاع " ڈھلائی کے کام کا مرکز تھا مگر ان یہودیوں میں بہت کم خاندان ایسے تھے جو نسلًا بنی اسرائیلی تھے۔ ان کی اکثریت عرب تھی، جن کا تعلق جُذام قبیلے سے تھا۔ یہ لوگ حضرت موسیٰؑ پر ایمان لائے اور پھر قوم عمالِقہ ( جو یہود کی دشمن اور بت پرست تھی) کی زیادتیوں سے تنگ آکر شام کو خیر باد کہہ کے حجاز چلے آئے ۔



        يَثرِب بنواسرائیل کی آمد سے قبل بھی آباد تھا ، اس وقت یہاں کے مقامی باشندے بنو سعد، بنو اَزرق اور بنو مَطروف تھے جو قوم عمالِقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ عمالقہ اس زمانے میں مکہ سمیت حجاز کے دوسرے مختلف علاقوں میں بھی آباد تھے۔ جُذام کے عربی النسل یہودی جب یثرب آئے تو یہاں کے عمالقہ کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر اپنی اجارہ داری قائم کر لی ۔ ان عرب یہودیوں کے یثرب آنے کی ایک بڑی وجہ اور بھی تھی۔ ان کے علماء نے تورات میں پڑھا تھا کہ آخری نبی ہجرت کرکے ایسے نخلستان میں آئیں گے جس کے دونوں طرف جھلسی ہوئی سطح مرتفع ہوگی ۔ یثرب ان نشانیوں پر پورا اترتا تھا، اس لیے بہت سے یہودی یہاں آباد ہو گئے ۔ یہ ''یثرب'' میں یہود کا پہلا قدم تھا۔

        ایک مدت تک یثرب پر یہود کی بالادستی قائم رہی ۔ صدیوں بعد جب یمن میں مآرب کا مشہورِ زمانہ بند ٹوٹا اور سبا کی عظیم الشان سلطنت پارہ پارہ ہوئی تو وہاں کے قحطانی عربوں کے دو قبیلے نقل مکانی کرکے یثرب آگئے ۔ یہ قبائل اوس اور خزرج تھے۔ اس کے لوگ یثرب کے زرعی علاقوں میں یہودی آبادیوں کے قریب سکونت پذیر ہوئے۔ خزرج نے یثرب کے وسط میں گھر بنا لیے، رفتہ رفتہ اوس اور خزرج کی آبادی بڑھ گئی اور وہ یثرب کی ایک بڑی طاقت بن گئے، تاہم یہودیوں نے تعداد کی کمی کے باوجود اپنا سیاسی و اقتصادی وزن باقی رکھا۔ تجارتی اور صنعتی لحاظ سے وہ بہر حال فائق تھے، مختلف ہتھکنڈوں اور مکروفریب کے ذریعے انہوں نے کبھی اوس اور خزرج کو اپنے اوپر غالب نہ آنے دیا۔ ان دونوں طاقتوں کے درمیان جنگوں ، معاہدوں ، مذاکرات اور سیاسی چپقلش کا سلسلہ چلتا رہتا تھا۔

        ۷۰ء میں جب رومیوں نے شام میں یہودیوں پر زندگی تک کرکے انہی بھاگنے پر مجبور کیا تو ایک بار پھر یہودیوں کے بہت سے خاندان "یثرب'' میں آکر آباد ہو گئے، جن میں زیادہ تر بنونَضیر اور بنوقُریظہ کے لوگ تھے۔ یہ دونوں قبیلے بھی عرب النسل یہودی تھے اور جُذام کی شاخ تھے۔

       یہ ''عرب قومیت'' ہی کا اثر تھا کہ یہ لوگ یہودی ہونے کے باوجود آثارِ ابراہیمی کا پورا پورا احترام کرتے تھے، مکہ اور خانۂ کعبہ سے بے حد عقیدت رکھتے تھے۔ اسرائیلی نسل کے یہودی عموماً فریب کار اور بزدل تھے مگر یہ عرب یہوری چالاک ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے جنگ آزما بھی تھے۔ ان کے نام بھی عربوں ہی جیسے تھے۔ بعد میں اَوس اور خَزرج کے بعض لوگ بھی ان کے ہم مذہب ہو گئے ۔

        ان جنگجو یہودیوں نے "یثرب'' میں فصیل بند بستیاں اور قلعے بنا کر یہودی آبادی کو عسکری طور پر مضبوط کر دیا ۔

        یَثرب کو شمال کے بعد جنوبی حملہ آوروں کا سامنا بھی ہوا۔ جب یمن کے تُبَّع بادشاہوں کو عروج حاصل ہوا تو آخری تُبّع اسعد ابوکرِب نے جسے ''حسان تُبع" بھی کہا جاتا ہے، یثرب پر چڑھائی کی۔ یثرب کے لوگوں نے اس کا بڑی پامردی سے سامنا کیا، خصوصًا خزرج کے بنونجار نے بھر پور مقابلہ کیا۔ حسان تُبّع نے یَثرب کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کا تہیہ کیا ہوا تھا مگر شہر کے دفاع کے لیے یہودی اور عرب یکجا تھے، چنانچہ اس موقع پر دو یہودی عالموں نے حسان کو خبر دار کرتے ہوئے کہا: "ایسا مت کرنا کیوں کہ یہ جگہ نبی آخر الزماں کی ہجرت گاہ بنے گی ۔

        یہ سن کرحستن تبّع نہ صرف اپنے ارادے سے باز آ گیا بلکہ واپسی میں اس نے مکہ میں قیام کیا اور انہی یہودی علماء کی ہدایت کے مطابق کعبہ کا طواف کیا اور اسے نیا غلاف پہنایا ۔ اس نے بنو جُرہم کو جو اس دور میں کعبہ کے والی تھے، تنبیہ کی کہ وہ بیت اللہ اور مسجد الحرام کو ہرقسم کی نجاست سے پاک رکھنے کا اہتمام کریں ۔

یثرب میں اوس و خزرج اور یہود کی کش مکش

        آنے والے دور میں یثرب کے یہودیوں اور عربوں کے تعلقات جو شروع میں دوستی اور تعاون پر مبنی تھے، کشیدہ ہوتے چلے گئے ۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اوس اور خوزج اپنی عددی کثرت کی وجہ سے اب یثرب کی اصل غالب طاقت کی حیثیت اختیار کر گئے تھے، یہودی اپنی بستیوں اور قلعوں میں خود مختار ہونے کے باوجود ان سے خطرہ محسوس کرتے تھے، اس لیے وہ ان سے عداوت پر اتر آئے اور ان میں پھوٹ ڈلوانے کے لیے متحرک رہے۔ اس کا موقع انہیں آسانی سے مل گیا؛ کیوں کہ اوس اور خزرج میں سے ہر ایک مکمل غلبے کا خواہش مند تھا۔ عروج کی طرف مائل ان دونوں عرب قبیلوں میں سے ہر ایک جب اپنی طاقت بڑھانے میں مصروف ہوا تو اتحاد و اتفاق کی کڑیاں ٹوٹ گئیں، پھر نوبت یہاں تک پہنچی کہ ذرا ذرا کے بہانے پر دونوں میں تلواریں چلنے لگتیں ۔ دوسرے عرب قبائل بھی حلیف بن کر اس آگ میں کودتے رہے۔

        ان نسل در نسل جاری لڑائیوں میں سے پہلی جنگ ''صفینہ'' تھی اس کے بعد یوم حاطب ، یوم البقیع اور یوم الدار جیسے معرکے ہوئے ۔ ان جنگوں کی آگ بھڑکانے میں یہود کا کردار کسی سے مخفی نہ تھا۔ ان کے بعض قبائل ایک فریق کا ساتھ دیتے اور بعض دوسرے گا۔

        اوس اور خزرج (مدینہ کے عرب باشندے) اور یہود کے تعلقات ذاتی نفع اور استحصال پرمبنی تھے-ان دونوں قبیلوں کو لڑانے پر بھی اپنے فائدے کی صورت میں بہت خرچ کرتے تھے ، جیسا کہ اَوس و خزرج کی متعدد لڑائیوں میں انہوں نے کیا تھا جن کے نتیجے میں یہ دونوں قبیلے تباہ ہورہے تھے۔ ان کے پیش نظر یہی رہتا تھا کہ مدینہ پران کا مالی تسلط برقرار رہے۔

طائف:

        مکہ اور یثرب کے بعد جزیرۃ العرب کا تیسرا بڑا شہر ''طائف'' مکہ کے جنوب مشرق میں تقریبًا ۷۵ میل (۱۲۰ کلومیٹر) دور واقع تھا جہاں بنوثقیف کے لوگ آباد تھے۔ سطح سمندر سے ساڑھے پانچ ہزار فٹ بلند یہ شہر اپنی خوش گوار آب و ہوا، سرسبزی و شادابی اور پھلوں کی کثرت کی وجہ سے مشہور تھا۔ مکہ کے رؤسا نے یہاں بہت سے باغ خرید کے رکھے تھے اورموسم گرما یہیں گزارتے تھے۔ اپنی خوبصورتی اور خوشحالی کے باعث یہ شہر مکہ کے ہم پلہ مانا جاتا تھا۔



         عربوں کے ہاں شہروں کے گرد فصیلیں بنانے کا رواج نہ تھا۔ مکہ اور یثرب جیسے شہر فصیلوں اور قلعوں سے محروم تھے مگر طائف کے گرد بلند فصیل سر اٹھائے کھڑی تھی۔ اس طرح دفاعی لحاظ سے یہ عرب کے تمام شہروں سے زیادہ مستحکم تھا۔



Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic