دنیا تباہی کے دہانے پر
چھٹی صدی عیسوی کا نصف بیت چکا تھا۔ دنیا اپنی تمام تر رنگینیوں اور رعنائیوں کے باوجود ہدایت سے خالی تھی۔ آسمانی رہنمائی کا دور دور تک کوئی نام ونشان نہیں ملتا تھا۔ ہندومت ہو یا بدھ مت، عیسائیت ہو یا یہودیت، ہر مذہب چند مخصوص افراد کی محدود سوچ کا مرقع نظر آتا تھا۔ دینی پیشوا ہدایت کی طلب، خدا خوفی اور آخرت میں جوابدہی سے غافل تھے۔ جو مذاہب کبھی سابقہ انبیائے کرام کی تعلیمات کے نقیب تھے، اب تحریف در تحریف کا شکار ہوکر متاعِ بازار ہو چکے تھے۔ انبیائے کرام کی کتب اور صحیفے اپنی اصل شکل میں محفوظ نہ تھے۔
ہندومت
اس دور میں رائج مذاہب میں سے سب سے قدیم شاید ہندومت تھا جو مشرق میں تقریبًا پورے جنوبی ایشیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے تھا۔ یہ ایک ایسا گورکھ دھندا تھا جسے اس مذہب کے پیشوا بھی سمجھنے اور سمجھانے سے قاصر تھے ہمالیہ سے لے کر بحرِ ہند کے ساحل تک ۳۳ کروڑ دیوی دیوتاؤں کی پوجا کی جارہی تھی گائے، بندر اور سانپ سے لے کر چو ہے تک کی عبادت ہورہی تھی ۔ ہر محلے بلکہ ہرگلی کوچے میں الگ الگ معبود تھے۔
ایک ہندو مؤرخ کے بقول خداؤں کی تعداد ہندوستان کی آبادی سے بھی بڑھ گئی تھی۔ ایک دیوی کا پجاری دوسرے کے معبودوں کو ماننا اپنی توہین سمجھتا تھا، چنانچہ ہندو مذہب کی وضاحت ہی تقریبا ناممکن ہوگئی تھی ، اگر کوئی پوچھتا کہ ہندو کسے کہتے ہیں؟ تو شاید جواب میں یہ کہا جاتا کہ ہر بت پرست ہندو ہے مگر یہ جواب بھی اس وقت غلط محسوس ہوتا جب لوگ دیکھتے تھے کہ ہندو رہنماؤں نے خدا کے وجود کا انکار کرنے والوں کو بھی ناستک کا نام دے کر ہندو دھرم میں شامل رکھا ہے اور شودروں کو بھی ہندو شمار کیا ہے ، حالانکہ انہیں مندروں میں آنے کی بھی اجازت نہیں تھی۔
بدترین اعتقادی گمراہیوں کے بعد ذات پات کی تفریق ہندو سماج کا دوسرا روح فرسا المیہ تھا۔ ہندوؤں کے ہاں برہمن خدا کی اولاد، ہر گناہ سے پاک اور ہر چیز کے مالک سمجھے جاتے تھے، کیوں کہ وہ مذہبی پیشوا تھے۔ کھتری سیاسی و عسکری امور کے مالک تھے۔ انہوں نے برہمنوں کو فکر معاش سے آزاد کر دیا تھا اور باقی قوم کو ظلم و استحصال کی چکی میں پیٹنا اپنا مشغلہ بنالیا تھا۔
ویش جو تیسرے درجے کی ذات تھے، تجارت ، زراعت اور صنعت و حرفت کے ذریعے دونوں بالا دست طبقوں کے لیے سرمایہ پیدا کرنے میں جتے رہتے تھے جبکہ چوتھے درجے میں آنے والی ذات شودروں کا حال جانوروں سے بھی بدتر تھا۔ وہ اونچی ذات والے کے ساتھ بیٹھنا تو درکنار ان کی کسی چیز کو چھو بھی نہیں سکتے تھے۔ انہیں پیدائشی گناہ گار، ازلی مجرم اور دیوتا کا دھتکارا ہوا قرار دے دیا گیا تھا۔ ان کا ہر فرد پیدا ہوتے ہی اونچی ذات والوں کا غلام تھا۔ ان پر ہر ظلم وستم ڈھانا روا تھا اور ان کا صدائے احتجاج بلند کرنا بدترین جرم ۔
شاہ معین الدین ندوی والے لکھتے ہیں
برہمن کے لیے کسی بھی حالت میں کوئی بھی سزا نہ تھی، اگر اچھوت اونچی ذات والے کو چھو لیتے تو ان کی سزا موت تھی۔ نیچے طبقے مذہبی تعلیم سے قانونًا محروم کر دیے گئے تھے۔ اخلاقی حالت انتہائی شرمناک تھی۔ ایک ایک عورت کئی کئی شوہر کرسکتی تھی ، شراب گُھٹی میں پڑی ہوئی تھی، بدمستی میں ہر گناہ ثواب بن جاتا تھا۔ مندر کے پچاری بداخلاقیوں کا پیکر تھے۔ دیوداسیوں کی اخلاقی حالت شرمناک حد تک گری ہوئی تھی۔ عورتوں کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی بعض طبقوں میں لڑکیاں قتل کر دی جاتی تھیں۔ عورت شوہر کی موت کے بعد تمام دنیاوی فوائد سے محروم کر دی جاتی تھی۔ اس لیے وہ شوہر کے ساتھ جل کر مر جانے کو زندگی پر ترجیح دیتی تھی۔
بُدھ مت:
جنوبی ایشیا کا دوسرا بڑا مذہب بدھ مت تھا جس کا بانی شہزادہ سدارتھ تھا جسے گوتم بدھ کے نام سے یاد کیا جاتاہے۔ ہندو مذہب میں ذات پات کی انسانیت سوز حد بندیوں سے تنگ آکر اُس نے تنہائی میں مراقبے اور ذاتی خود فکر کے بعد ایک نیا اخلاقی نظام پیش کیا جس میں سب انسان برابر تھے مگر اس کے ساتھ ساتھ ہندو مذہب کے رد عمل میں اس نے کروڑوں دیوی دیوتاؤں کا اس طرح انکار کیا کہ ایک خدا کا قائل ہونا بھی ضروری نہ سمجھا۔ بدھ نے ذات پات کا قید سے آزادی دلانے کا نعرہ لگا کر کروڑوں انسانوں کو چونکا دیا مگر خدا کے تصور کا خانہ خالی ہونے کی وجہ سے یہ مذہب ایک زمانے تک لوگوں کو متاثر نہ کر سکا۔
گوتم بدھ کے بعد بدھ مت کے پیشواؤں نے اشاعتِ مذہب کی کوشش کی تو ایک محصول خدا کو پوجنے کی عوامی خواہش کو پیش نظر رکھتے ہوئے گوتم بدھ ہی کو خدا قرار دے دیا اور اس کی مورتی کی پوجا کو اتنا رواج دیا کہ ہندوں کی بت سازی اور صنم پرستی بھی پیچھے رہ گئی۔ بدھ کے مجسمے وسط ایشیا سے مشرقِ بعید اور بحر الکاہل کے جزائر تک نصب ہوگئے۔ یوں وحی کی رہنمائی سے محروم ہونے کے سبب ایک نئی اصلاحی تحریک مستقل گمراہی کا جال بن گئی۔
ایران کی مذہبی افتاد
مشرق کی سب سے بڑی طاقت ایران و خراسان اور وسط ایشیا تک پھیلی ہوئی ساسانی سلطنت تھی ۔ شاہان ایران مجوسی تھے اور صدیوں سے آتش پرستی کو فروغ دے رہے تھے۔ مجوسی مذہب کا بانی زَرتَشت (زردشت) تھا ساتویں صدی قبل از مسیح میں نمودار ہوا۔ اسی نے روشنی اور اندھیرے، نیکی اور برائی اور خدائے خیر و خدائے شر کے درمیان جنگ کا تصور پیش کرکے لوگوں کو آتش پرستی کا خوگر بنایا۔ مجوسی سورج اور چاند کو بھی پوجتے تھے۔ اس کے علاوہ خود ایرانی بادشاہ کسرٰی بھی اپنے آپ کو خدا کہلواتا تھا۔ خسرو پرویز کے نام کے ساتھ یہ القاب لگائے جاتے تھے خداؤں میں انسان غیر فانی اور انسانوں میں خدائے لاثانی ۔
ان سب خداؤں کے اوپر وہ نیکی اور بدی کے دو الگ الگ خداؤں کو سب سے بالا تر مانتے تھے، نیکی کو فروغ دینے والا خدا یزداں اور برائی کا مالک خدا اہرمن کہلاتا تھا جو شیطان کا بگڑا ہوا تصور تھا۔ ان کے خیال میں روز ازل سے یزداں اور اہرمن میں کش مکش جاری چلی آرہی تھی اور اسی وجہ سے کائنات میں خیروشر تعمیروتخریب اور فتح و شکست کی مختلف شکلیں سامنے آتی رہتی تھیں۔ یہ ایرانیوں کے عقیدے کی بنیاد تھی جس پر عجیب و غریب اعتقادات قائم تھے جو گا ہے گا ہے رنگ بدلتے رہتے تھے۔
مجوسیت چند مخصوص عبادتوں کا نام تھا جو خاص اوقات میں آتش کدے میں ادا کی جاتی تھیں ۔ آتش کدے سے باہر ہر مجوسی شرعی و اخلاقی حدود سے بالکل آزاد تھا۔ سود خوری، شراب نوشی اور زنا کاری جیسے گناہ جو اکثر معاشروں میں برے سمجھے جاتے تھے، ان کے نزدیک بالکل جائز تھے، یہاں تک کہ محارم سے جنسی تعلقات قائم کرنا بھی ان کے ہاں درست تھا۔
چونکہ یہ مذہب اخلاقی تعلیمات سے یکسر خالی تھا، اس لیے اس کے ایک ہزار سال بعد ( تیسری صدی عیسوی میں ) ''مانی'' نے مجوسیت میں اصلاحات کا بیڑا اٹھایا اور دنیا سے برائیوں کے خاتمے کے لیے لوگوں کو دنیا ترک کرنے،جنگلوں میں جانے اور نکاح و اولاد کی ذمہ داریوں سے دور بھاگنے کی ترغیب دی۔ یہ ایک دوسری انتہا تھی جو انسانی معاشرت کے تقاضوں کے بالکل خلاف تھی ، اس لیے پانچویں صدی عیسوی میں جبکہ آل ساسان کی حکومت کا سورج نصف النہار پر تھا ''مزدک'' نے نئی اصلاحات پیش کیں، جن کے تحت انسان کو ہر طرح کی عیاشی کی اجازت دے دی گئی ، نہ صرف کھانے پینے ، جائیداد اور مال و دولت میں بلکہ عورتوں سے جنسی تعلقات میں بھی تمام مردوں کو برابر کا حق دے دیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ ایک دوسرے کے گھروں کو لوٹنے لگے، کھیتوں اور املاک پر قابض ہونے لگے، جو شخص جہاں چاہتا، جس عورت کو چاہتا اپنی جنسی تسکین کے لیے پکڑ لیتا۔
غرض ایرانی سلطنت اور معاشرت جو بلوچستان سے سمرقند و بخارا تک اور خراسان سے ایشیائے کوچک کی سرحدوں تک پھیلی ہوئی تھی کبھی اس توازن اور اعتدال سے ہم آہنگ نہ ہوسکی جو ایک کامیاب اور پر امن معاشرے کے لیے ضروری ہے۔ اس کے برعکس وہاں بدامنی، تشدد ظلم او استحصال کا دور دورہ تھا عوام انتہائی غربت اور بدحالی کی تصویر تھے، جبکہ حکمران اس کے برعکس دنیا کو جنت بنانے میں مصروف تھے۔
ایرانی شہنشاہیت کے زیرنگین دو درجن کے لگ بھگ سلطنتوں کی آمدن کا اکثر حصہ بادشاہ اور شاہی اعیان کی تفریحات اور عیاشیوں میں خرچ ہورہا تھا۔ پایہ تخت مدائن میں کسری کے شاہی باورچیوں کی تعداد ایک ہزار سے زائد تھی، جبکہ گلوکاراؤں ، رقاصاؤں ، سازندوں ، موسیقاروں، شکاری چھیتوں، کتوں اور ان کو سدھانے والوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ تھی۔ موسم گرما کو موسم بہار بنانے کے لیے کسری نے مشہور زمانہ ''قالین بہار'' تیار کرایا تھا جس کے ایک ایک مربع فٹ پر ہزاروں اشرفیاں خرچ ہوئی تھیں ۔
چین کی اعتقادی حالت:
مشرق کا آخری بڑا ملک چین اپنی تمام تر سرحدی وسعتوں ، معدنی دولتوں، غیر معمولی ذہنی صلاحیتوں اور تہذیب و تمدن کی نفاستوں کے باوجود ''کَنفیوشِس'' کے فلسفے سے آگے نہیں بڑھ سکا تھا جو حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت سے پانچ سو پچپس سال پہلے چین کے علاقے شانتونگ میں پیدا ہوا تھا اور پھر ایک فلسفی کی حیثیت سے متعارف ہو کر تین ہزار سے زائد شاگرد پیدا کر گیا تھا۔ اس مشرقی مفکر نے چند اخلاقی تعلیمات کو فلسفیانہ رنگ میں پیش کر کے انسانی ذہن کو ایک محدود دائرے میں سوچ بچار کی راہ پر ضرور لگایا تھا مگر انسانی روح اور انسانی معاشرے کو در پیش ان عالمگیر مسائل کا حل پیش کرنے سے وہ بالکل قاصر رہا جو انسانیت کے اجتماعی ضمیر کے لیے المیہ بن چکے تھے ۔
یورپ کی اخلاقی و روحانی ابتری:
مشرق میں تہذیب و تمدن کی ایک گہما گہمی ضرور تھی مگر مغرب کا حال اس سے کہیں زیادہ برا تھا۔ مشرقی یورپ سے لے کر وسطی اور مغربی یورپ تک سوائے جہالت، افلاس، آلودگی اور جمود کے کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ یورپی باشندے علوم و فنون سے بالکل بے بہرہ تھے۔ باقی دنیا سے انہیں کچھ سروکار نہیں تھا۔ سیاست ہو یا معاشرت تعلیم ہو یا صنعت تجارت ہر چیز پر بد عقیدہ اور متعصب پادریوں کی اجارہ داری تھی جن کی انتہا پسندی کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے ایک طرف تو جدید علوم وفنون کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے کائنات میں غور و فکر اور تحقیق و ایجادات کی ہر کوشش کو ممنوع قرار دے دیا تھا جس کی وجہ سے ذہین لوگوں کی فکری و نظری صلاحیتیں معطل ہو کر رہ گئی تھیں۔
دوسری طرف انہوں نے رومی سلطنت کی تقسیم کے ساتھ ساتھ کلیسا کو بھی دو حصوں، مشرقی کلیسا اور مغربی کلیسا میں بانٹ لیا تھا۔
مشرقی کلیسا کا مرکز قسطنطنیہ تھا، جسے آرتھوڈ کس چرچ کہا جاتا تھا، اس کا سربراہ ''بِطریق'' (patrick) کہلاتا تھا۔
مغربی کلیسا کیتھولک چرچ کے نام سے موسوم ہو چکا تھا، جس کا پیشوا پوپ کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔
قسطنطنیہ اور روم کی سیاسی عداوت کے ساتھ دونوں چرچوں میں بھی روشنی بڑھتی جاتی تھی ۔ دونوں اپنے اپنے عقائد ایک دوسرے پر ٹھونسنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔
مشرقی کلیسا کہتا تھا کہ باپ (خدا) کا رتبہ بیٹے (یسوع مسیح) سے بڑا ہے، جبکہ مغربی کلیسا دونوں کو بہر حال برابر قرار دیتا تھا۔ ایسے کئی تنازعے تھے جن کی وجہ سے باہم لعنت اور تکفیر کی نوبت بھی آجایا کرتی تھی۔ اس صورت حال سے متنفر ہوکر ہزاروں لوگ اپنا دین وایمان بچانے کے لیے جنگلوں میں جا بسے اور راہب کہلائے مگر کسی نوشتۂ ہدایت سے محرومی کی وجہ سے وہ خود نت نئی گمراہیوں کا شکار بن گئے ۔
ان مذہبی لوگوں کو عام زندگی کے مسائل پر غور کرنے کی قطعًا فرصت نہیں تھی۔ پادریوں اور راہبوں کی بڑی تعداد تشدد پسند، مردم بیزار اور قنوطی تھی۔ وہ خود کو اذیت پہنچا کر خدا کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ انسانی معاشرے سے وہ بالکل کٹے ہوئے تھے۔ ان کے ہاں اب تک یہ طے نہیں ہوا تھا کہ عورت کو کسی چیز کے خرید نے بیچنے یا اس کا مالک بنے کا حق حاصل ہے۔ وہ اس پر بھی پورا یقین نہیں رکھتے تھے کہ عورت انسان ہے۔ ان کے بعض حلقوں میں صنف نازک کو کتے، بلی جیسا حیوان مانا جاتا تھا۔ انہیں اس میں بھی شک تھا کہ عورت میں روح ہے یا نہیں۔ بعض لوگ اسے ایک بے جان مشین ہی تصور کرتے تھے۔
رابرٹ بریفالٹ لکھتا ہے:
اس دور کی وحشت و بہیمیت قدیم زمانے کی وحشت اور درندگی سے کئی گنا زیادہ تھی کیوں کہ اس کی مثال ایک بڑے تمدن کی لاش جیسی تھی جو گل سڑ گئی ہو۔
یورپ میں یہ دور افراتفری اور انتشار کا تھا، اٹلی اور فرانس سے مشرقی یورپ اور قسطنطنیہ تک سیاسی رسہ کشیوں اور طوائف الملوکی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ کوئی مصلح یا مجدد نہیں تھا جو جہالت کی ان تاریکیوں میں راہِ راست کی طرف ہلکا سا اشارہ دیتا۔ ان کے پاس اصل انجیل کا کوئی مستند نسخہ باقی نہیں بچا تھا بلکہ وہ مدتِ دراز بعد دریافت ہونے والے ان نسخوں کو انجیل کا متبادل مان چکے تھے جو حواریوں کی یاد داشتیں تھیں اور ان میں بھی بے پناہ تحریف ہو چکی تھی۔
دین عیسوی کے اصل داعی حضرت عیسٰیٔ نے کہا تھا:
(إِنَّ اللهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوہ)
بے شک اللہ ہی میرا اور تمہارا رب ہے، پس تم اس کی عبادت کرو۔
مگر مسیحی پیشوا کا روپ دھار نے والے عیّار یہودی "پولس'' نے مسیحیت کی توحید کو تثلیث سے بدل ڈالا تھا۔
حضرت عیسی علیہ السلام کے نام لیوا صلیب کے پیروکار بن گئے تھے ۔ یونانی فلسفے کے اثرات میں بہہ کر انہوں نے سیدھی سادی توحید کی دعوت کو چھوڑ دیا تھا اور رومی بت پرستوں کو جلد متاثر کرنے کی غرض سے باپ، بیٹے اور روح القدس کا عجیب و غریب فلسفہ مان لیا، جس نے باقاعدہ عقیدہ تثلیث ( تین خداؤں پر یقین ) کی شکل اختیار کر لی تھی ۔
حضرت عیسٰیٔ کے بارے میں انہوں نے یہودیوں کی باتوں پر یقین کر لیا تھا جو کہتے تھے کہ ہم نے عیسٰیٔ کو قتل کر دیا ہے، حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ اللہ تعالی نے انہیں زندہ آسمان پر اٹھالیا تھا۔
اس میں شک نہیں کہ چھٹی صدی ہجری کے آخر میں بھی کہیں کہیں ایسے عیسائی مل جاتے تھے جو توحید کے قائل اور مروجہ عیسائیت سے بے زار تھے مگر ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم تھی اور جوتے وہ کسی اصلاحی کوشش کی کامیابی سے مایوس تھے اور گوشہ نشینی کی زندگی گزار رہے تھے۔

