Quraish Ka Zahoor: Qusai Bin Kilab Se Hashim Tak Ki Mukammal Tareekh

قریش کا ظہور 


        کعبہ پر بنوخزاعہ کی تولیت کا دور تقریباً تین سو برس تک رہا۔ اس دوران آلِ اسماعیل کے نامور فرد عدنان کی اولاد میں سے ربیعہ اور مُضَر دو مستقل بڑے قبیلے بن کر کے ذیلی قبائل میں بٹ چکے تھے۔ پھر مُضَر کی اولاد میں سے اس کے پڑ پوتے خزیمہ کا بیٹا کِنانہ، بہت مشہور ہوا۔ کنانہ کی نسل اس کے بیٹے نَضر سے چلی اور بہت پھلی پھولی۔ کنانہ کے پڑ پوتے فہر بن مالک کے زمانے میں یہ لوگ ایک الگ قبیلے کی شکل اختیار کرگئے، جِسے بنو کنانہ کہا جاتا تھا مگر بنو کنانہ میں کئی نسلوں تک یہ ہمت پیدا نہ ہوسکی کہ وہ کعبۃ اللہ کی تولیت بنو خزاعہ سے واپس لے سکیں۔ آخر کار فہر کی پانچویں پشت میں قُصَی بن کِلاب نامی وہ نامور سردار پیدا ہوا جس نے اپنے جد امجد کی وراثت واپس لینے کے لیے کمر باندھی۔




    قُصَی کا بچپن یتیمی کی حالت میں گزرا تھا۔ اس کی ماں نے قبیلہ بنی عذرہ میں دوسری شادی کرلی تھی ، اس لیے اس کا بچپن بنوعذرہ میں گزرا۔ جوان ہونے پر اسے اپنے اصل خاندان کی عظمت و بزرگی کا علم ہوا تو اس نے حجاز کے لیے رخت سفر باندھ لیا۔ یہاں آکر دیکھا تو اس کے قبیلے کے لوگ بڑی بد نظمی کی حالت میں حجاز کے مختلف گوشوں میں بکھرے ہوئے تھے۔ ان کی کوئی امتیازی شکل نہ تھی بلکہ وہ نضر بن کنانہ کی اولاد کہلاتے تھے اور چند منتشر خاندانوں کی بیت رکھتے تھے۔ قصی نے ان سب کو متحد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس کی خوش قسمتی تھی کہ بنوخزاعہ کے رئیس خلیل خزاعی نے اس کی قابلیت اور صلاحیت دیکھ کر اسے اپنا داماد بنا لیا اور مرنےسے پہلے خانہ کعبہ کی چابیاں بھی اس کے حوالے کر دیں ۔ اس طرح صدیوں بعد بیت اللہ کی تولیت کا منصب اولادِ اسماعیل کو واپس مل گیا۔

        قُصی کو اب مکہ میں ایک بڑے سردار کی حیثیت حاصل ہوگئی تھی۔ اس نے مکہ کا انتظام سنبھال کر اپنے قبیلے بنو کنانہ کو ساتھ ملا لیا اور ان کی مدد سے بنو خزاعہ کو حدود حرم سے بے دخل کر دیا۔ پھر اس نے اپنے قبیلے کو مکہ کے مضافات اور حجاز کے مختلف مقامات سے جمع کر کے مکہ میں آباد کر دیا اور انہیں متحد کر کے ایک منظم قبیلے کی حیثیت دی جس کا نام قریش پڑ گیا۔ یہ نام پڑنے کی کئی وجوہ بیان کی گئی ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ قریش کا لفظ " تَقَرُّش " سے نکلا ہے جس کا معنی ہے انتشار کے بعد متحد ہو جانا، چونکہ نضر بن کنانہ کی منتشر اولاد کو قُصی نے متحد کر دیا اس لیے اس نئی اجتماعیت کا نام قریش پڑ گیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ "نضر " کو قریش کہا جاتا تھا، اس لیے اس کی اولاد بھی اسی نام سے مشہور ہوگئی ۔ بعض نے کہا ہے کہ فہر بن مالک کا لقب " قریش تھا جو اصل میں ایک طاقتور سمندری جانور کا نام ہے۔ اس کے بعد اولادِ کنانہ کو بھی ان کی طاقت اور شوکت کے باعث قریش کہا جانے لگا۔

    قُصی کی قیادت میں مکہ قریش کی چھوٹی سی ریاست بن گیا ۔ قصی ایک بڑے سیاست دان کا ذہن لے کر پیدا ہوا تھا۔ اس نے مکہ کے انتظامی امور کو مذہبی،عدالتی اورعسکری امور میں تقسیم کر دیا، خانۂ کعبہ مسجد الحرام اور حاجیوں کی خدمت کے علاوہ شہری انتظامات اور خدمات کو بہتر بنایا ۔ یہ خدمات چھ شعبوں میں تقسیم تھیں:

(۱) حِجابه یا سِدانه : یعنی خانہ کعبہ کی کلید برداری: اس کے نگران کے پاس بیت اللہ کی چابی ہوا کرتی تھی۔ اس کی اجازت کے بغیر کوئی اندر نہیں جاسکتا تھا۔

(۲) سِقایہ : یعنی حج کے دنوں میں حاجیوں کو میٹھا پانی پلانا۔

(۳) رِفادہ : یعنی حاجیوں کو کھانا کھلانا۔

(۴) لِواء : یعنی پرچم نصب کرنا جس کے تحت فوج اکٹھی ہوتی تھی۔

(۵) قيادة : یعنی میدان جنگ میں لشکر کی کمان سنبھالنا۔

(۶) ندوہ : یعنی مجلس مشاورت مسجد الحرام سے متصل ایک کشادہ مکان میں یہ مجلس آراستہ ہوتی تھی۔ اس مکان کو ''دارالنَدوہ'' کہا جاتا تھا۔ قریشی سردار یہاں جمع ہوکر اہم امور کے فیصلے کیا کرتے تھے۔ جنگ کے لیے لشکروں اور تجارتی قافلوں کی روانگی بھی یہیں سے ہوتی تھی۔ نکاح کی رسم بھی یہاں انجام پاتی تھی۔ لڑکی یا لڑکے کے بالغ ہونے کی تصدیق بھی یہیں کی جاتی تھی تا کہ قبیلے کے جوان مرد و زن کی مردم شماری محفوظ رہے۔

        پہ چھ (۶) شعبے گویا قریش کی حکومت کی چھ وزارتیں تھیں جن کا حصول نہایت ہی عزت اور شرافت کی بات سمجھی جاتی تھی۔ قُصی کی زندگی میں ہی اس کے دور کے عبدالدار اور عبدِمَناف ان عہدوں پر مقرر ہوگئے تھے۔

        قُصی نے حاجیوں کو پانی پلانے، کھانا کھلانے کے شعبے عبد مناف کے سپرد کر دیے تھے اور بیت اللہ کی کلیدی برادری،دارالندوہ کی تولیت اور پرچم اٹھانے کی خدمات عبدالدار کے حوالے کردی تھیں۔ 

  بیت اللہ کی کلید برداری کا اعزاز بنوعبدالدار کے پاس آج تک باقی ہے۔  فتح مکہ کے موقع پر حضورﷺ نے بھی اس خاندان کے فرد حضرت عثمان بن طلحہؓ کو نہ صرف اس عہد پر باقی رکھا بلکہ خوش خبری دی کہ یہ خدمت انہی کی اولاد میں ہمیشہ باقی رہے گی اور جو ان سے یہ حق چھینے گا، وہ ظالم ہوگا ۔

ہاشم

    عبد مَناف کے دو بیٹے اس کے جانشین ہوئے ۔ ہاشم اور عبدِ شمش - عبد شمش تنگ دست مگر متحرک اور دلیر آدمی تھا۔ اس کے لڑکے بھی کئی تھے، اس لیے اس نے قریشی فوج کی کمان سنبھال لی۔ عبد شمش کے بعد اس کا لڑکا اُمیہ قریش کا سپہ سالار بنا اور پھر یہ عہدہ اُمَیّہ کی اولاد میں جو ''بنواُمَیَّہ" کے نام سے مشہور ہوئی، مدتِ دراز تک باقی رہا۔

        ہاشم نے مال داری اور فارغ البالی کی نعت کا حق ادا کرتے ہوئے حاجیوں کو کھلانے پلانے کی خدمات غیرمعمولی لگن سے انجام دیں۔ ان کا نام ''ہاشم'' اسی لیے پڑا کہ وہ روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے انہیں شوربے میں بھگوکر ضرورت مندوں کو کھلایا کرتے تھے۔

    قریش تجارت پیشہ لوگ تھے مگر ان کی تجارت ارد گرد کے علاقوں میں ہی ہوا کرتی تھی۔ ہاشم نے اس تجارت کا دائرہ دوسرے ملکوں تک پھیلانے کا جُرأت مندانہ کارنامہ بھی انجام دیا۔ وہ خود شام کے شہر قیصریہ گئے، جہاں قیصر ٹھرا ہوا تھا۔ وہاں ہاشم نے یہ معمول بنالیا کہ روزانہ ایک بکری ذبح کر کے آس پاس کے لوگوں کی ضیافت کرتے۔ قیصر کو اس کی اطلاع ہوئی تو انہیں اپنے پاس بُلوا لیا۔ انہوں نے حاضر ہو کر کہا:

    بادشاہ سلامت اہم عرب کے تجارت پیشہ لوگ ہیں ، اگر آپ کو منظور ہوتو ہمیں ایک امان نامہ لکھ دیں تا کہ ہماری قوم کے لوگ حجاز کا سامان خود آکر آپ کو فروخت کریں۔ اس طرح یہ چیزیں آپ کو سستی ملیں گی۔ 

    قیصر نے فورًا امان نامہ لکھوادیا۔ اس کے بعد قریش کے قافلے بے خوف و خطر شام تک آنے جائے گئے اور ان کے ہاں خوشحالی کی شرح بڑھتی چلی گئی ۔



ہاں خوشحالی کی شرح بڑھتی چلی گئی ۔ قیصر نے فورا امان نامہ لکھوادیا۔ اس کے بعد قریش کے قافلے بے خوف و خطر شام تک آنے جائے گئے اور ان کے


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic