Tameer-e-Kaaba aur Hajar-e-Aswad ka Waqia: Nabi ﷺ ki Hikmat-e-Amli

 کعبہ کی از سر نو تعمیر


        نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر پینتیس برس پوری ہوچکی تھی جب قریش نے کعبہ کو از سرنو تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا۔ حضورﷺ نے اپنے چچا عباس کے ساتھ تعمیری کام میں بھر پور حصہ لیا اور پہاڑوں سے پتھر تلاش کرکے لاتے رہے۔ تعمیر شروع ہونے کے بعد جب دیواروں کی چنائی حجر اسود کی بلندی تک پہنچی اور یہ مقدس پتھر نصب کرنے کا وقت آیا تو کام میں شریک تمام قبلوں میں سخت جھگڑا ہونے لگا کیوں کہ ہر قبیلہ اسے نصب کرنے کا اعزاز خود حاصل کرنا چاہتا تھا۔ بنو عدی اور بنی عبدالدار کے غیظ وغضب کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے عرب کے جنگی معاہدوں کے دستور کے مطابق خون سے بھرے لگن میں اپنے اپنے ہاتھ ڈبوئے اور قسمیں کھائیں کہ اگر انہیں حجر اسود نصب کرنے کا موقع نہ دیا گیا تو وہ مل کر دوسروں پر ٹوٹ پڑیں گے اور لڑتے لڑتے مرجائیں گے۔ 



        ادھر ان کے مخالفین کا غصہ بھی کم نہ تھا۔ قریب تھا کہ جنگ شروع ہوجاتی مگر بعض دوراندیش لوگوں کے سمجھانے بجھانے پر اس تنازعے کا آخری حل یہ نکالا گیا کہ اب جو آدمی مسجد الحرام میں سب سے پہلے داخل ہوگا وہی اس مسئلے کو سلجھائے گا۔ تب لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو سب سے پہلے مسجد الحرام میں داخل ہوتے دیکھا اور پکار اٹھے: محمد الامین آگئے ، ''ہم ان کی بات پر راضی ہیں۔''

         حضور ﷺ نے اس قضیے کو یوں طے کیا کہ ایک چادر منگوا کر حجر اسود کو اس کے درمیان رکھا۔ پھر ہر قبیلے کے ایک ایک نمائندے کو چادر کا ایک ایک گوشہ پکڑایا۔ سب لوگ اس طرح حجر اسود کو اس کے مخصوص مقام تک لے گئے جہاں رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھوں سے اسے کعبہ کے کونے میں نصب کر دیا۔ اس طرح حضور ﷺ کی بے دار مغزی اور منصفانہ حکمت عملی سے ایک بڑی خون ریز جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی۔

گھریلو ذمہ داریاں

        حضور ﷺ پر گھر کی ذمہ داریوں کا بوجھ بھی کم نہیں تھا۔ آپ کی تین صاحبزادیاں : حضرت زینب، حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم اس عمر کو پہنچ چکی تھیں جس میں رشتوں کی فکر کی جاتی ہے۔ عرب کے بگڑے ہوئے ماحول اور مکہ کے آلودہ معاشرے میں یہ کام اتنا آسان نہ تھا۔ حضرت زینبؓ کی ولادت حضور ﷺ کی شادی کے پانچویں سال اور حضرت رقیہؓ کی آٹھویں سال ہوئی تھی۔ ان کے بعد حضرت اُم کلثوم تھیں اور پھر حضرت فاطمہؓ جو سب سے کم سن تھیں جو حضور ﷺ  کے نکاح کے دسویں سال پیدا ہوئی تھیں۔ چار بیٹیوں کے باپ ہوتے ہوئے حضور ﷺ پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی تھیں ان کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے جو بیٹیوں والا ہو۔


        اس دوران حضور ﷺ کی نرینہ اولاد بھی ہوئی تھی۔ دو لڑکے تھے:قاسم اور عبداللہ ۔حضرت قاسم کی نسبت سے حضور ﷺ کی کنیت ابو القاسم ہوئی ۔ حضرت عبد اللہ ''طیب'' اور ''طاہر'' کے لقب سے مشہور تھے۔

ام ایمن کا زید بن حارثہ سے نکاح

        اِدھر حضرت اُم ایمنؓ جنہیں حضور ﷺ ماں کا احترام اور مقام دیتے تھے، بیوہ ہوگئی تھیں۔ ان کی عمر اب پچاس سال کے لگ بھگ تھی۔ حضور ﷺ کو ان کے بے سہارا ہونے کا غم تھا اور یہ احساس بھی کہ انہیں خبرگیری کے لیے ایک فرد کی ضرورت ہے۔ وہ حبشہ تھیں ، عرب میں ان کا کوئی رشتہ دار نہ تھا۔ اس عمر میں ان سے نکاح میں کسی کو رغبت بھی نہیں ہوسکتی تھی۔ تاہم حضور ﷺ کے منہ بولے بیٹے زید بن حارثہ ان سے نکاح پر راضی ہوگئے ۔ اُم ایمنؓ سے ان کا نکاح ہو گیا، اگرچہ زیدؓ بالکل نوجوان تھے مگر ان کی اُم ایمنؓ سے خوب نبھی ۔ حضرت ام ایمنؓ کے مرحوم شوہر کا بیٹا ایمن بھی ان کے ساتھ ہی تھا۔ یہ گھرانہ حضورﷺ کی کفالت میں اور خانوادۂ رسالت کا حصہ تھا۔

خدمت خلق ، حضور ﷺ کا طرۂ امتیاز

        تجارتی، خاندانی اور معاشرتی فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ حضور ﷺ کا سب سے بڑا مشغلہ اور پسندیدہ کام مخلوقِ خدا کی خدمت تھا۔ آپ ﷺ اللہ کی دی ہوئی دولت ، عزت اور فکر‌و دانش کی نعمتوں کو اس کے بندوں کی خیرخواہی میں دل کھول کر خرچ کیا کرتے تھے۔ بھوکوں کو کھانا کھلانا، بیواؤں کی مدد کرنا اور ضرورت مندوں سے ہر ممکن تعاون کرنا حضور ﷺ کی عادت تھی۔مہمانوں کی خاطر مدارات میں حضور ﷺ کوئی کسر نہیں چھوڑتے تھے۔ بنو ہاشم کے مستحق گھرانوں سے حضور ﷺ خاص طور پر تعاون کرتے تھے۔ آپ کے چچا ابوطالب جنہوں نے آپ کی کفالت کی تھی۔ مالی لحاظ سے کمزور تھے۔ حضور ﷺ تاہم ان کے تینوں بیٹوں کا خاص خیال رکھتے ، ان سے برادرانہ شفقت سے پیش آتے ۔ ان میں سے حضرت عقیلؓ حضور ﷺ سے دس سال حضرت جعفرؓ بیس سال اور حضرت علی تیس سال چھوٹے تھے۔ پھر جب ایک بار قحط سالی ہوئی تو حضور ﷺ نے حضرت علیؓ  کو اپنی پرورش ہی میں لے لیا اور یوں اب وہ آپ ﷺ کی گود میں کھیل کر بڑے ہو رہے تھے ۔ 

بنو ہاشم کا سورج

        گھریلو ذمہ داریوں اور تجارتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ حضور ﷺ کا اپنے خاندان بنوہاشم کے ہر اہم معاملے میں شریک ہوتے تھے۔ بنوہاشم کے ستون اس وقت حضور صل اللّٰہ علیہ وسلم کے چچا ابوطالب عباس اور حمزہ تھے۔

        ابو طالب سن رسیدہ تھے اور آپ کے سرپرست بھی۔ ابولہب کی تیز مزاجی کے باوجود آپ کے اس سے اچھے تعلقات تھے۔ آپ ﷺ کی دو بیٹیوں، حضرت رقیہؓ اورحضرت ام کلومؓ کی نسبت ابولہب کے بیٹوں : عُتبہ اور عُتَیبہ سے طے تھا۔

        حضور ﷺ کے نامور چچا حضرت عباس آپ سے تین سال بڑے تھے اور آپ کا بہت خیال رکھتے تھے۔ وہ  ایک دراز قد اور طاقتور انسان تھے۔ زمینداری ان کا پیشہ تھی۔ خوشحال زندگی بسر کرتے تھے۔ عبد المطلب کے بعد کعبہ کی تعمیر و مرمت اور حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت انہی کے ذمے تھی۔

        حضو ﷺ سے ٹوٹ کر پیار کرنے والے چچا حمزہ آپ سے صرف دو سال بڑے تھے۔ انہوں نے بھی ابولہب کی باندی ثویبہ کا دودھ پیا تھا، اس لیے وہ حضور ﷺ کے دودھ شریک بھائی بھی تھے۔ لوگوں سے حسن سلوک کرتے اور ضرورت مندوں کے کام آتے تھے۔ بلا کے تیر انداز اور بے مثال شمشیر زن تھے۔ سیر و شکار ان کا مشغلہ تھا۔

        حضور ﷺ کی پھوپھی صَفِیہ بھی بنوہاشم کی خواتین میں ایک خاص ہستی تھیں۔ وہ حضور ﷺ کی ہم عمر ہی تھیں۔ جرأت اور شجاعت میں اپنی مثال آپ تھیں۔ بنو ہاشم کی اس کہکشاں میں حضور ﷺ کی حیثیت سورج کی سی تھی۔ اتنا تو سبھی جانتے تھے کہ آئندہ بنوہاشم کی قیادت اور سیادت حضور ﷺ کا نصیب ہے۔ مگر یہ کسی کو اندازہ نہ تھا کہ اس در یتیم کے نام دو جہانوں کی سیادت لکھ دی گئی ہے۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic