Hijrat-e-Habsha: Musalmanon ki Pehli Hijrat aur Najashi ka Darbar

ہجرتِ حبشہ اولی سے واپسی (وسطِ ۶ نبوی)

        انہی دنوں حبشہ کے مہاجرین کو خبر ملی کہ قریش نبی ﷺ اور مسلمانوں کوستانے سے باز آگئے ہیں۔ یہ بات اس طرح پھیلی کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد الحرام میں دورانِ نماز تلاوت کرتے ہوئے سورۃ النجم تلاوت فرمالی پہلی سورت تھی جس میں آیت سجدہ نازل ہوئی تھی۔جب سورۂ مبارکہ کے آخر میں آیت سجدہ پر رسول اللہ ﷺ نے سجدہ کیا تو مسلمانوں کے علاوہ وہاں موجود مشرکین پر بھی ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ وہ سبھی سجدے میں گرگئے۔
 


        حتی کہ جنات نے بھی سجدہ کیا۔ واقعے کے راوی عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فقط ایک مشرک امیہ بن خلف کھڑا رہا اور ایک مٹھی خاک اٹھا کراپنی پیشانی پررکھ دی۔ بعد میں وہ غزوۂ بدرمیں قتل ہوا۔

        یہ خبر انتہائی مبالغے کے ساتھ ادھر ادھر پھیل گئی۔ چونکہ سورۂ نجم میں کفار کے معبودوں : لات، منات اور غزی کا ذکر ہے، اس میں کچھ الفاظ بڑھا کر کفار نے افواہ اڑادی کہ نعوذ باللہ حضور ﷺ نے ان کے بتوں کی تعریف کی ہے۔

        اس کے برعکس کچھ لوگوں نے کفار کو سجدہ کرتے دیکھ کر یہ افواہ پھیلا دی کہ مکہ میں سب نے حضور ﷺ کے ساتھ سجدہ کیا ہے اور وہ سب مسلمان ہوگئے ہیں۔ حالانکہ ایسا نہیں تھا۔ سجدہ کرنے والوں نے بھی ایک خاص کیفیت میں سجدہ کرلیا تھا، جبکہ ابو جہل ، نضربن الحارث، عقبہ بن ابی معیط اور عاص بن وائل جیسے بڑے اسلام دشمن (جو بعد میں حالتِ کفر میں مرے) وہ ان سجدہ کرنے والوں میں شامل ہی نہ تھے۔ اس لیے سب کے مسلمان ہونے کی بات بالکل غلط تھی۔ 

        مگر یہ غلط خبرحبشہ جا پہنچی اور اسے سن کر مہاجرینِ حبشہ اپنے وطن واپس روانہ ہوگئے ۔ تاہم جب مکہ کے قریب پہنچے تو پتا چلا کہ قریش کی اسلام دشمنی برقرار ہے۔اب مہاجرین متحیر رہ گئے ۔ ان میں سے بعض تووہیں سے حبشہ واپس ہوگئے۔ باقی کسی نہ کسی طرح وقتی طور پر قریش کے کسی آدمی کی پناہ اور ضمانت لے کر مکہ میں داخل ہوگئے ، مثلاً ابو سلمہ اور ان کی اہلیہ اُمّ سلمہؓ نے جناب ابو طالب کی پناہ حاصل کرلی ۔عثمان بن مظعون نے ولید بن مغیرہ کی پناہ لے لی اور اس طرح عارضی طور پر قریش کی دارو گیرسے بچ گئے۔

ایک بار پھر مظالم کا سامنا

        وہ مسلمان جنہیں کسی کی پناہ حاصل نہ تھی ، ایک بار پھر ظلم و تشدد کا نشانہ بننے لگے۔ یہ دیکھ کر ایک دن حضرت عثمان بن مظعونؓ کی غیرت کو جوش آیا اور انہوں نے ولید کو کہہ دیا کہ اب مجھے تمہاری سر پرستی اور حفاظت کی ضرورت نہیں۔ مشرکین کو تو ایسے ہی وقت کا انتظار تھا، چنانچہ ایک موقع پر کسی مشرک نے انہیں ایسا مارا کہ ان کی ایک آنکھ بری طرح دکھ گئی۔ ولید نے طعنے کے طور پر کہا ” پہلے تمہاری آنکھ محفوظ تھی تم ایک مضبوط پناہ میں تھے۔"

        انہوں نے بے ساختہ کہا اللہ کی قسم میری دوسری آنکھ بھی ایسی آزمائش کے لیے تیار ہے۔

ہجرتِ حبشہ ثانیہ (اواخرِ ۶ نبوی)

        مسلمانوں کے لیے اب زندگی پہلے سے زیادہ کٹھن تھی۔ خصوصاً نجاشی کے پاس امن وسکون کے دن گزارنے کے بعد قریش کا ظلم اور جبروتشدد برداشت کرنا مشکل تھا۔ آخر مسلمانوں نے ایک بار پھر رسول اللہ ﷺ سے حبشہ جانے کی  اجازت چاہی۔ رسول اللہ ﷺ نے خوشی سے اجازت عطا فرمادی۔

        سابق مہاجرین کے ساتھ اور بھی بہت سے مسلمان اس قافلے میں شامل ہوگئے اور مہاجرین کی تعداد ۸۸ مردوں اور ۱۹ خواتین تک پہنچ گئی جن میں ابوعبیدہ بن جراح ، عبد اللہ بن مسعود ، جعفر بن ابی طالب ، مقداد بن اسود ، شُرَحبِیل بن عبد الله (شرحبیل بن حَسَنہ) سَکران بن عمر اور ان کی اہلیہ سَودہ بنت زمعہ رضوان اللہ علیہم  ان میں نمایاں تھے۔ ام حبیبہ بنت ابی سفیانؓ بھی اپنے شوہر عبید اللہ بن جحش سمیت قافلے میں تھیں ۔ حضرت جعفر رضی اللہ کوان کا امیر مقرر کیا گیا۔

        تاہم حبشہ کی ہجرتِ اولی میں شامل چند ہستیاں مثلاً حضرت رقیہؓ ، حضرت عثمان بن عفانؓ اور حضرت عثمان بن مظعونؓ وغیرہ اس بار قافلے میں شام نہ ہوئیں بلکہ ملک میں کفار کے مظالم کا سامنا کرتے رہیں۔

قریش کی سفارت نجاشی کے دربار میں(اوائل ۷ نبوی)

        جب قریشِ مکہ کو معلوم ہوا کہ حبشہ ہجرت کرنے والے مسلمان امن وامان سے رہنے لگے ہیں تو انہیں سخت غصہ آیا ۔ انہوں نے عمرو بن العاص اور عبد اللہ بن ابی ربیعہ کو سفیر بنا کر شاہِ حبشہ نجاشی کے پاس یہ مطالبہ دے کر بھیج دیا کہ یہ لوگ بے دین اور فسادی ہیں ، انہیں اپنے ملک میں ٹھہرنے کی اجازت نہ دیں بلکہ ہمارے حوالے کردیں۔

        نجاشی ایک معاملہ فہم اوراعتدال پسند آدمی تھا، اس نے یک طرفہ شکایت سن کر کوئی فیصلہ نہ کیا بلکہ مسلمانوں کو اپنے دربار میں بلواکراس الزام کے بارے میں صفائی طلب کی۔ تب حضرت جعفر بن ابی طالبؓ نے مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے اس اجنبی دیس میں اسلام کا تعارف نہایت جامع اور مؤثر اندازمیں کرایا اور فرمایا:

         اے بادشاہ اہم پہلے جاہل تھے، بتوں کے پجاری تھے، مردارکھاتے تھے، فحاشی ، بداخلاقی اور رشتہ داروں سے بدسلوکی کے عادی تھے ، ہم میں سے جو طاقتورہوتا وہ کمزور کو ہڑپ کر جاتا ۔ تب اللہ نے ہمارے درمیان ایک رسول بھیجا جو ہمارے خاندان سے ہے، ہم ان کے نسب سچائی ، امانت ، شرافت اور پاک دامنی سے خوب واقف ہیں۔ انہوں نے ہمیں دعوت دی کہ اللہ کو یکتا مانیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ۔ عزیزوں، رشتہ داروں سے اچھا برتاؤ کریں، پڑوسیوں سے بہتر سلوک کریں۔ انہوں نے ہمیں حرام کاموں سے منع کیا، خون بہانے، جھوٹ بولنے، یتیم کا مال کھانے سے ہمیں روکا ۔ جب ہم نے یہ سنا تو ان پر ایمان لے آئے ۔ ان باتوں پر عمل کرنے کی وجہ سے ہماری قوم ہمارے پیچھے پڑگئی اور ہم پر ظلم کے پہاڑ توڑے۔ ہم مجبور ہوکر آپ کے ملک میں اس امید پر آئے کہ یہاں ہم پر ظلم نہ ہو گا۔“

        نجاشی نے یہ سن کر کہا: جو کچھ وہ نبی لائے ہیں ، اس میں سے تمہیں کچھ یاد ہے تو سناؤ۔"

        تب حضرت جعفرؓ نے ''سورہ مریم" کی ابتدائی آیات پڑھ کر سنائیں ۔ نجاشی اور اس کے دربار میں موجود پادری یہ سن کر اتنا روئے کہ ان کی داڑھیاں آنسوؤں سے تر ہوگئیں۔

        نجاشی بولا یہ کلام اور موسٰیؑ کا لایا ہوا کلام ایک ہی محراب سے نکلے ہیں۔

        پھر اس نے قریشی سفیروں سے کہا " تم چلے جاؤ، میں انہیں ہرگز تمہارے حوالے نہیں کروں گا۔“

        قریشی سفیر یہ سنکر بڑے جھلائے۔ اگلے دن انہوں نے دربار میں ایک نئی شکایت لگائی اورکہا:

        یہ لوگ عیسی بن مریم کے بارے میں بڑی بے ادبی کی باتیں کرتے ہیں۔انہیں بندہ مانتے ہیں۔

        قریشی سفیروں کا خیال تھا کہ نجاشی عیسائی ہونے کے ناتے یہ سن کر مشتعل ہو جائے گا اور مسلمانوں کو قتل کیے بغیر نہیں چھوڑے گا مگر نجاشی نے اس باربھی تحقیق کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھایا اور مسلمانوں کو دوبارہ طلب کرکے پوچھا " تم لوگ حضرت عیسی بن مریمؑ کے بارے میں کیا کہتے ہو؟

        حضرت جعفرؓ نے فرمایا وہی جو ہمارے نبی کریم ﷺ نے بتایا ہے کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے،اس کی طرف سے بخشی ہوئی روح کے حامل تھے وہ اللہ کا ایسا حکم تھے جسے اللہ نے کنواری حضرت مریم کے ذریعے وجود بخشا۔

        نجاشی نے یہ سن کر ایک تنکا اٹھایا اور بولا " حضرت عیسیؑ نے بھی اپنے بارے میں اس سے زیادہ اس تنکے کے برابر بھی کچھ نہیں کہا۔ غرض یہ قریشی وفد نا کام لوٹ گیا اور مہاجرین حبشہ میں امن سے زندگی گزارتے رہے۔

نجاشی کی مدد کے لیے مسلمانوں کی فکرمندی اورمستعدی:

        کچھ دنوں بعد نجاشی کے خلاف ایک دشمن اٹھ کھڑا ہوا ۔ نجاشی کو اس کی سرکوبی کے لیے دریائے نیل کے پار جانا پڑا۔ صحابہ نے ضروری سمجھا کہ اس موقع پر احسان مندی کا ثبوت پیش کیا جائے ۔ انہوں نے طے کیا کہ ہم میں سے ایک شخص دریا کے پار جا کر جنگ کی صورتحال معلوم کرے اور ضرورت ہو تو سب جنگ میں شرکت کے لیے پہنچ جائیں ۔ حضرت زبیرؓ نے جو سب سے کم عمر تھے، اس خدمت کے لیے خود کو پیش کیا۔ وہ پانی سے بھری ہوئی مشک کے سہارے دریائے نیل عبور کرکے رزمگاہ میں پنچ گئے۔ اور صحابہ اور صحابیات نباشی کی فتح کی دعائیں مانگ رہے تھے۔  جلد ہی حضرت زبیرؓ  نے اطلاع بھیجی کہ اللہ نے فتح عنایت کی ہے ۔ اس پر صحابہ بے حد مسرور ہوئے۔

حبشہ کے مہاجرین کی واپسی کے اوقات

        حبشہ کے ان مہاجرین میں سے بہت سے حضرات مثلًا زبیر بن عوام، ابوعبیدہ بن الجراح ابوسلمہ، ام سلم،سَکران بن عمرو اور سودہ بنت زَمعہ رسول اللہ ﷺ کی ہجرت مدینہ سے قبل مکہ واپس آگئے تھے۔

        بہت سے حضرات ہجرتِ مدینہ تک حبشہ میں رہے اور جب انہیں مدینہ میں ایک محفوظ مرکز اسلام بن جانے کی طلاع ملی تو فورا وہاں پہنچ گئے جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ۔

        بہت سے حضرات کم و بیش دس سال وہیں رہے ۔ وہاں ان کی اولاد بھی پلتی بڑھتی رہی ۔ ان میں سے اِکادُکا مد ینہ آتے گئے جیساکہ ام حبیبہؓ ۶ھ میں شُرحبیل بن حسنہؓ کے ساتھ مدینہ تشریف لے آئی تھیں۔ آخر میں عبداللہ بن جعفرؓ ، ان کی اہلیہ اسماء بنت عمیسؓ اور باقی مہاجرین غزوۂ خیبر کے موقع پر مدینہ منورہ آگئے۔

ہجرتِ حبشہ کے اثرات

        اگرچہ حبشہ میں مسلمانوں کی آمد بظاہر چند پناہ گزینوں کی ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف اضطراری نقل مکانی نظرآتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس طرح اپنے ابتدائی دور میں ہی اسلام ایشیا سے نکل کر افریقہ پہنچ گیا تھا اوروہ بھی اس خاموشی سے کہ دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کے لیے اس نقل و حرکت کے دیرینہ اثرات کا اندازہ لگانا ممکن نہ ہوسکا۔

        حضرت جعفر بن ابی طالب اور متعدد صحابہ کرام برسوں تک افریقہ کے اس غیرمتمدن گوشے میں پڑے رہے۔ انہوں نے اتنا طویل عرصہ یہاں مکمل خاموشی سے گزار دیا۔ یہ مٹھی بھر مسلمان یقینا حبشہ میں اسلام کی تبلیغ کے لیے نہیں بلکہ پناہ کے لیے آئے تھے ۔ شاید اسی لیے ذخیرۂ حدیث وسیرت میں یہاں اُن کی کسی تبلیغی و دعوتی سرگرمی کا ذکر نہیں ملتا۔ 

        مکن ہے کہ انہوں نے خفیہ اور فردا فردا کام کیا ہو مگر حبشہ سے کبھی افریقی نومسلموں کے قافلے مکہ یا مدینہ آتے نہیں دیکھے گئے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ شاید رسول اللہ ﷺ کی ہدایات کے پیش نظر سرزمین عرب کے برخلاف یہاں کے خاص حالات میں حکمت کا تقاضا یہی تھا کہ یہاں مسلمانوں کو مہیا امن وامان کو خطرے میں نہ پڑنے دیا جائے اور مقامی حکمرانوں اور پادریو کو کسی غلط فہمی یا اشتعال میں مبتلا نہ ہونے دیا جائے بلکہ جہاں تک ممکن ہو ایسی ہمدرد حکومت کواپنی وفاداری کا عملی ثبوت بھی مہیا کیا جائے۔

        حبشہ کے مہاجرین کی یہ امن پسندانہ پالیسی بےاثر نہیں رہی۔ اس کے اثرات وہاں ضرور پڑے؛ کیوں کہ آخر خود حاکمِ حبشہ اسلام کی تعلیمات اور مسلمانوں کے اخلاق و کردار میں اُن کے پیغمبرﷺ کی مبارک زندگی کا عکس دیکھ کرنهایت متاثر ہوا اور اسلام کا حلقہ بگوش بنا۔ اگرچہ قرنِ اوّل میں افریقہ میں اسلام اس طرح نہیں پھیلا جیسے ایشیا میں۔ مگر اس براعظم کو اسلام کی گھٹی حضرت عثمان غنی ، حضرت جعفربن ابی طالب، حضرت عبداللہ بن مسعود، سیدہ رقیه ، سیده ام سلمہ اورسیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھم جیسی کامل الایمان ہستیوں نے دی تھی ، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ براعظم آخرکار دنیا میں ایک بڑا اسلامی خطہ ثابت ہوا۔ آج بھی سب سے زیادہ مسلم ممالک افریقہ میں ہیں، اس لیے اہلِ مغرب افریقہ کومسلم براعظم کہہ کر یاد کرتے ہیں۔

ہجرتِ حبشہ کے اسباق

        ہجرت حبشہ پر گہری نظر ڈالنے سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ جب مسلمان کمپرسی کے عالم میں ہواوراسلام دشمن طاقتوں ان کا گھیراؤ کر رکھا ہوتو ایسے میں کسی مناسب پناہ گاہ کو تلاش کر لینا چاہیے تا کہ اپنی زندگی، صلاحیت اور قوت کو آئندہ اہم میدانوں ، مؤثر مواقع اور نتیجہ خیز مہمات میں استعمال کیا جا سکے۔ 

        اس سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ اگر مسلمانوں کو کسی غیر مسلم معاشرے میں امن وامان کے ساتھ عدل وانصاف کے سائے میں زندگی گزارنے کا موقع مل رہا ہو تو انہیں وہاں ایسا ماحول پیدا کرنے سے احتراز کرنا چاہیے جس سے خواہ مخواہ ان کے خلاف اشتعال پھیلے یا غلط فہمیاں فروغ پائیں۔ اپنے وسائل، ملکی حالات اور علمی ماحول کو مد نظر رکھتے ہوئے پوری احتیاط، حکمت اور تدبیر کے ساتھ دعوت کا کام تدریجی انداز میں آگے بڑھانا چاہیے اور براہِ راست غیر مسلموں کو دعوتِ اسلام دینے کے لیے مناسب وقت کا انتظار کرنا چاہیے۔


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic