Jazira-e-Arab par Beruni Hamle aur Butt Parasti ka Aghaz

 عرب بیرونی حملوں کی زد میں


          جزيرة العرب خلیج فارس اور بحیرہ احمر جیسی اہم ترین آبی گزرگاہوں سے اتصال کی وجہ سے دنیا کے نقشے میں غیر معمولی حیثیت رکھتا چلا آیا ہے، ہمسایہ ممالک اس بے آب و گیاہ سرزمین پر قبضے کے فوائد سے بے خبر نہ تھے، مگر عربوں کی طبیعت میں حریت کوٹ کوٹ کر بھری تھی، یہی وجہ تھی کہ وہ کبھی اپنی معاصر عالمی طاقتوں سے مغلوب نہ ہوئے ۔ نہ صرف مصر کے فرعون اور عراق و فارس کے کسری سرزمین عرب کو اپنے زیر تسلط رکھنا چاہتے تھے بلکہ یورپی طاقتیں بھی اس کی خواہش مند رہیں مگر ان کی یہ تمنا کبھی پوری نہ ہوسکی۔ یونانی فاتح سکندراعظم نے ایران و ہندوستان پر قبضے کے بعد واپسی میں جزیرۃ العرب کی طرف پیش قدمی کا ارادہ کر لیا تھا مگر اس کی ناگہانی موت نے عربوں کو ایک بڑی جنگ سے بچالیا۔ اس وقت سکندر کی عمر صرف چھتیس سال تھی ، اس نے تیرہ سال حکومت کی تھی ۔




       سکندر کے بعد یونانی حکومت کمزور پڑ گئی ، دوسری طرف ایران کی اجتماعیت کیانی خانوادے کے آخری حاکم دارا کے بعد ( جسے سکندر نے قتل کرایا تھا، ریزہ ریزہ ہوگئی تھی۔ ایسے میں مشرقی کلیسا کی نمائندہ قسطنطنیہ کی رومی سلطنت تیزی سے ابھر نے لگی ۔ رومی بادشاہ آگسٹس نے چوبیس سال قبل از مسیح میں ایک بہت بڑی فوج بھیج کر جزیرہ العرب پر قبضہ کرنے کی کوشش کی مگر صحرا کی تمازت اور پانی کی کمیابی کی وجہ سے روسی افواج نے راستے ہی میں ہمت ہار دی اور یہ مہم نا کام ہوگئی۔

         تقریباً تین سو سال بعد جب روم سرکاری طور پر عیسائی مذہب قبول کر چکا تھا، عربوں کو زیر دام لانے کی ایک اور کوشش کی گئی جس کے لیے تبلیغ مذہب کا راستہ اپنایا گیا۔ روی کلیسا نے اپنے پادری اور راہب تبلیغ کی غرض سے جنوبی عرب میں بھیجے ۔ اس سے قبل بحیرہ احمر کے پار حبشہ رومیوں کے قبضے میں آچکا تھا اور وہاں مسیحیت کی تبلیغ زورو شور سے ہو رہی تھی۔

        مگر جزیرۃ العرب میں اہل روم کی تبلیغ زیادہ کامیاب نہ ہوسکی، یمن کے تخمیری بادشاہوں نے عیسائیت کی آڑ میں روم کے بڑھتے ہوئے قدموں کو سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھا اور سیاسی ضد یا رد عمل کے طور پر یہودیت اختیار کر لی۔

       تاہم یمن میں چند لوگوں نے عیسائیت قبول کر لی تھی۔ نجران میں ایک بزرگ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی صحیح تعلیمات پر قائم تھے۔ ایک لڑکا عبد اللہ بن تامر ان کا پیروکار بن گیا۔ ان کی برکات و کرامات دیکھ کر نجران کی تمام آبادی نے جام توحید پی لیا۔ حمیری بادشاہ یوسف ذونواس نے اس سے برافروختہ ہوکر نجران کے لوگوں کو آگ کی خندقوں میں پھینکوادیا ۔

      اس کا نتیجہ نہ صرف حمیری بادشاہت بلکہ جزیرۃ العرب کی سیاسی وحدت کے لیے بہت مضر نکلا۔ رومی بادشاہ جسٹینس (Justinus) نے اس سانحے کی خبر پاتے ہی حبشہ میں اپنے نائب کو جسے نجاشی کہا جاتا تھا، حکم دیا کہ وہ یمن پر حملہ کر کے بنو حمیر سے نجران کے مقتولین کا انتقام لے، چنانچہ نجاشی نے اپنے جرنیل اریاط " کو ستر ہزار حبشیوں کی فوج کے ساتھ یمن پر لشکر کشی کے لیے بھیجا جس کے نتیجے میں یمن سے حمیر " کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور وہاں روم کی ماتحتی میں ایک مسیحی حکومت قائم ہوگئی، جس کا مقامی سربراہ اریاط " تھا۔ یہ واقعہ حضور اکرم ﷺ کی ولادت سے ستر برس پہلے کا ہے۔

       اریاط سے یمن کی حکومت دوسرے حبشی سردار ابرهة الاشرم نے چھین لی، یہ بڑا متعصب عیسائی تھا۔ اسے کعبہ اللہ سے عربوں کی غیر معمولی محبت اور وابستگی ایک آنکھ نہ بھائی، اس لیے اس نے پہلے یمن میں ایک شاندار گرجا تعمیر کرکے عربوں کو اس کا حج کرنے کی دعوت دی مگر جب عربوں نے اسے گھاس نہ ڈالی تو اس نے کعبتہ اللہ کو منہدم کرنے کے ناپاک ارادے سے مکہ پر چڑھائی کی اور انجام کار اپنی پوری فوج کے ساتھ تباہ و برباد ہوا ۔

وادیٔ مکہ

        شام اور یمن کی تجارتی شاہراہ پر واقع مکہ حجاز مقدس کے وسط میں ایک نشیبی سرزمین ہے جسے پہاڑیوں اور ٹیلوں نے گھیر رکھا ہے۔ وادیٔ مکہ شمال سے جنوب کی طرف تقریبا دو میل (سوا تین کلومیٹر) طویل اور نصف میل (۸۰۰ میٹر) چوڑی ہے۔ نشیب کی وجہ سے بارشوں کا پانی ٹیلوں سے بہہ کر سیدھا وادی میں اتر آتا ہے۔ اسی وجہ سے شہر کی آبادی کو بارہا سیلاب کے نقصانات برداشت کرنا پڑے۔ گرم آب وہوا کا حامل یہ شہر حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہ السلام کی یاد گار ہونے کی وجہ سے عربوں میں غیر معمولی حیثیت رکھتا تھا۔ یہیں موسم حج میں عرب کے تمام قبائل جمع ہوتے اور مناسک حج ادا کرتے تھے۔



          مکہ کی سیادت بنوجُرہم کے ہاتھ میں تھی جبکہ کعبۃ اللہ کی چابیاں اور اس کی خدمات بنو اسماعیل کے سپرد تھیں۔ یہ منصب حضرت اسماعیل کے بڑے بیٹے نابت نے سنبھالا ہوا تھا مگر نابت کے بعد بنو جرہم کے کچھ حریص لوگوں نے اولاد اسماعیل کو اس منصب سے محروم کر دیا۔ 

          ایک طویل زمانے تک بنو جرہم مکہ اور کعبہ کے جملہ امو کے مالک رہے مگر انہوں نے کعبہ کی حرمت کا حق ادانہ کیا اور بہت سی خیانتوں کے مرتکب ہوتے رہے۔

       جب یمن میں بند مآرب کے ٹوٹنے سے سیلاب آیا اور مختلف قحطانی قبائل نے شمال کی طرف ہجرت کی تو ان کا ایک قافلہ اپنے بوڑھے سردار عمر بن عامر کی قیادت میں مکہ آیا مگر بنوجرہم نے انہیں جگہ دینے سے انکار کر دیا، جس کے بعد 
عمرو بن عامر کے دو پوتے: اوس اور خزرج اپنے اپنے خاندان سمیت یثرب (مدینہ منورہ) چلے گئے، البتہ تیسرا پوتا ربیعہ بن حارثہ مکہ ہی میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگیا اور اس کی اولاد بنو خزاعہ کہلائی-

بنو جرہم کی بے دخلی اور بنو خزاعہ کا قبضہ

     بنو خزاعہ کی طاقت بڑھتی گئی اور آخر کار انہوں نے بنو جرہم کو مکہ سے باہر نکال کر مسجد الحرام کی تولیت اپنے قبضے میںلے لی ۔ یہ واقعہ 207 ء کا بتایا جاتا ہے ۔

      بنو جرہم اپنی کمزوریوں کے باوجود خانہ کعبہ سے وارفتگی کی حد تک محبت کرتے تھے، جب وہ مکہ سے بے دخل ہو کر اپنے آبائی وطن یمن جانے لگے تو کعبہ کے لیے جمع شدہ اموال زم زم کے کنویں میں ڈال کر اسے مٹی سے پاٹ دیا۔

اس موقع پر ان کے شاعر عمر و بن حارث نے یہ نا قابل فراموش اشعار پڑھے :

كَانَ لَمْ يَكُنُ بَيْنَ الْحَجُونِ إِلَى صَفَا
أنيس وَلَمْ يَسْمُرُ بِمَكَّةَ سَامِرُ

یوں لگتا ہے جیسے حجون سے کوہ صفا تک کوئی دوست نہ رہا ہو اور نہ ہی ملکہ میں کسی داستان گو نے کبھی کوئی داستان سنائی ہو ۔

بَلْ نَحْنُ كُنَّا أَهْلُهَا فَأَزَالَنَا
صُرُوفَ اللَيَالِي وَالْجُدُودُ الْعَوَاثِرُ

ہم ہی تو اس شہر کے باشندے تھے مگر ہمیں راتوں کی گردشوں اور ناگہانی مصائب نے یہاں سے بے دخل کر دیا ۔

وَكُنَّا وَلَاةَ الْبَيْتِ مِنْ بَعْدِ نَابِتٍ
نَطُوفَ فَمَا تَحْطَى لَدَيْنَا الْمَكَاثِرُ

نابت ( بن اسماعیل علیہ السلام) کے بعد ہم ہی بیت اللہ کے رکھوالے تھے، جب ہم اس کا طواف کرتے تھے تو ہمارے نزدیک مال و دولت کے ذخیروں کی کوئی حیثیت نہ رہتی۔

       بنو جرہم کی مکہ سے بے دخلی اور بنو خزاعہ کا بیت اللہ پر قبضہ مکہ کے لیے مزید ضرر رساں ثابت ہوا۔ بنو خزاعہ نے اس گھر کی نگرانی سنبھال کر 
توحید کے اس مرکز کو شرک کا گڑھ بناڈالا۔ شرک کی لعنت کا آغاز بنو خزاعہ کے سردار عمرو بن لحی کے ہاتھوں ہوا۔ یہ شخص عربوں کے درمیان بہت بلند مرتبہ قائد تصور کیا جاتا تھا ، اس کی بادشاہوں جیسی تعظیم کی جاتی تھی کیوں کہ وہ دولت و ثروت میں اپنے معاصر سرداروں سے کہیں آگے تھا۔ اس کے اونٹوں کی تعداد میں ہزار تک بتائی جاتی ہے۔ اس شان وشوکت اور رعب کی وجہ سے اس کی ہر بات آنکھیں بند کر مان لی جاتی تھی ۔

بت پرستی کا آغاز 

      عمرو بن لحی نے شام کے سفر کے دوران وہاں کے مقامی لوگوں کو بت پرستی کرتے دیکھا۔ بت پرستوں نے اسے باور کرایا کہ یہ مجسمے روزی دیتے اور بارش برساتے ہیں، ان سے جو حاجت مانگی جائے وہ پوری ہوجاتی ہے۔ شیطان نے بھی یہ شرکیہ دھندے اسے پرکشش کرکے دکھائے ، آخر عمرو بن لحی ایک مجسمہ جسے ہبل کا نام دیا گیا۔ اپنے ساتھ مکہ لے آیا اور اسے کعبہ میں نصب کر کے قوم کو اس کی عبادت کی دعوت دی۔ اکثریت نے اس کی اندھی تقلید کی۔ اس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتےخانہ کعبہ کا صحن طرح طرح کے بتوں سے آلودہ ہو گیا اور عرب بت پرستی کے نشے میں ایسے مست ہوئے کہ وہ دین ابراہیمی جو ان کے بزرگوں کو جان سے زیادہ عزیز تھا، رفتہ رفتہ بالکل مٹ گیا۔ ہاں کچھ لوگ ایسے تھے جو شروع سے بت پرستی کی اس مہلک لہر کے آگے اُٹھ کھڑے ہوئے تھے، 

مثلا بنوجُرہم کے ایک شاعر محمد بن خلف نے عمرو بن لحی کے فعل پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا:

يا عَمْرُو إِنَّكَ قَدْ أَحْدَثَتْ آلِهَة
شتى بِمَكَّةَ حَوْلَ الْبَيْتِ أَنْصَابًا

ارے عمرو تو نے مختلف معبود بنا کر انہیں مکہ میں بیت اللہ کے گرد نصب کردیا 

وكان للْبَيْتِ رَب وَاحِدٌ أَبَدًا
فَقَدْ جَعَلْتَ لَهُ فِي النَّاسِ أَرْبَابًا

اس گھر کا رب تو ہمیشہ سے ایک ہے مگر تو نے اس کی جگہ لوگوں میں بہت سے معبود متعارف کرادیے۔

لتعرفن بأن الله في مهل
مصْطَفَى دُوْنَكُمْ لِلْبَيْتِ حُجَابًا

تو جان لے گا اللہ تعالیٰ تجھے مہلت دے رہا ہے- وہ تیرے سوا اپنے گھر کے لیے دوسرے محافظ منتخب کرلےگا-


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic