Pehli Islami Riyasat: Hijrat-e-Madina aur Istaqbal-e-Rasool ﷺ

 پہلی اسلامی ریاست

        شہر کے لوگوں کو حضور ﷺ کی مکہ سے روانگی کی اطلاع مل چکی تھی۔ (غلبًا انہیں یہ بھی علم تھا کہ آپ ﷺ رات سے صبح تک سفر اور دو پہر کو آرام کرتے ہوئے آرہے ہیں)۔ اس لیے وہ روزانہ فجر ادا کرتے ہی آپ ﷺ  کے انتظار میں شہر کے باہر آتے اور دور دور تک نظریں دوڑاتے ۔ جب گرمی زیادہ ہوجاتی تو واپس لوٹ جاتے۔ 



قبا میں تشریف آوری:

    آخر ایک دن جب کہ سورج خاصا بلند ہوچکا تھا، نبی اکرم ﷺ یثرب کی نواحی بستی "قبا" کے قریب پہنچ گئے۔ مدینہ کے لوگ اس وقت حسبِ معمول انتظار کے بعد گھروں کو واپس جارہے تھے کہ اس دوران مدینہ کے ایک یہودی نے جو اپنے قلعے پر چڑھ کر صحرا کا نظارہ کر رہاتھا ، دیکھا کہ بہت دور حضور اکرم ﷺ اور ان کے ساتھی سفید کپڑوں میں ملبوس چلے آرہے ہیں ، تپتی ریت پر سراب میں ان کا عکس جھلک رہا ہے۔ یہودی بے ساختہ پکار نے لگا:

"اہل عرب! تمہاری خوش بختی آگئی جس کے تم منتظر تھے۔"

        یہ سنتے ہی انصار نے عربوں کی استقبالیہ رسم کے مطابق ہتھیار سنبھالے اور دیوانہ وار آپ ﷺ کے استقبال کے لیے دوڑ پڑے۔ حضور اکرم ﷺ استقبالیہ جلوس کے درمیان چلتے رہے یہاں تک کہ قبا میں عمرو بن عوف کی بستی تک پہنچ کر(جہاں اکثرمہاجرین قیام کرتے تھے) کھلے میدان میں رک گئے اور خاموشی سے بیٹھ گئے۔ 

        حضرت ابوبکرؓ (آپ ﷺ کو زحمت سے بچانے کے لیے) خود کھڑے ہوکر لوگوں سے ملنے لگے۔ جن لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو نہیں دیکھا تھا ، وہ حضرت ابوبکرؓ کو آ آکر سلام کرنے لگے۔ اس دوران سورج سر پرآگیا اورگرمی ناقابل برداشت ہوگئی۔ حضرت ابوبکرؓ نے اپنی چادر اٹھائی اور رسول اللہ ﷺ پرسایہ کردیا۔ اب سب لوگوں کو پتا چل گیا کہ مخدوم کون ہے اور خادم کون ۔ یہ واقعہ پیر ۸ ربیع الاول (۲۰ نمبر ۶۲۲) کا ہے۔


مسجد قبا کی تاسیس:

        آپ ﷺ قُبا میں بنوعمروبن عوف کے ہاں ٹھہرے، وہاں ایک مسجد کی بنیاد رکھی جو آج بھی"مسجد قبا" کے نام سے مشہورہے۔ یہیں آپ ﷺ نمازیں ادا فرماتے رہے۔ یہ دنیامیں رسول اللہ ﷺ کی تعمیر کردہ پہلی مسجد تھی۔

        آپ ﷺ حضرت علیؓ کو لوگوں کی رکھوائی ہوئی امانتیں واپس کرنے کی ذمہ داری سونپ کر آئے تھے۔ حضرت علیؓ تین دن میں یہ کام انجام دے کر روانہ ہوئے اور قبا میں رسول اللہ صلی علیہ وسلم سے آملے۔

مدینہ منورہ میں والہانہ استقبال :

        قبا میں چاردن قیام کرکے جمعہ ۱۲ ربیع الاول (۲۴ ستمبر) کو آپ ﷺ مدینہ کی سمت روانہ ہوئے ۔ راستے میں جمعہ کی نماز بنی سالم بن عوف کے محلے کی مسجد میں ادا فرمائی۔ یہ اس سرزمین میں آپ ﷺ کی پہلی نمازِ جمع تھی۔

        اسی شام آپ ﷺ مدینہ میں داخل ہوئے تو لوگ راستوں ، گلیوں اور مکانات کی چھتوں پر آپ ﷺ کا دیدارکرنے کے لیے جمع تھے۔ ہرطرف نعرے لگ رہے تھے:

اللهُ أَكْبَر، جَاءَ مُحَمَّد، اللَّهُ أَكْبَر، جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ ۔

        معصوم بچیاں مسرت سے سرشار ہوکر یہ اشعار پڑھ رہی تھیں۔

طلع البَدْرُ عَلَيْنَا
من ثَنِياتِ الوَدَاع
قافلوں کو رخصت کرنے والی گھاٹی کی اوٹ سے چودھویں کا چاند نکلا۔

وجَبَ الشَّكْرُ عَلَيْبًا
ما دعا لِلَّهِ دَاعى
ہم پر شکر ادا کرنا لازم رہے گا جب تک اللہ کو پکارنے والا کوئی فرد باقی رہے۔"

أيها المبعوث فينا
جنت بِالْأَمْرِ المُطَاع
"اے وہ رسول!جو ہماری طرف بھیجے گئے آپ ایسا دین لائے ہیں
 جس کی ہرحال میں پیروی کی جائے گی۔ 

        مدینہ آمد کے باوجود حضور ﷺ نے اپنا قیام چودہ دن تک قبا میں بنوعمرو بن عوف کے رئیس کلثوم بن ہِدم کے ہاں رکھا۔ پیر۲۲ ربیع الاول کو آپ ﷺ بنو نَجّار کے مسلح افراد کے بہت بڑے جلوس میں مدینہ کی قدیم آبادی میں قیام کے لیے تشریف لائے۔ اس دن شہر کے بچے بچیاں یہ کہتے ہوئے دوڑ رہے تھے یہ دیکھورسول اللہﷺ آگئے۔

کچھ یوں پکار رہے تھے " اللہ کے نبی آگئے ۔ اللہ کے نبی آگئے۔

بنو نجار کی بچیوں کا نغمہ:

        گنجان گلیوں میں لوگوں کی جماعتیں آگے بڑھ بڑھ کر حضور ﷺ کی اونٹ کی مہار تھامے درخواست کرتیں کہ ہمارے ہاں قیام فرمایئے مگر آپ ﷺ فرماتے اونٹنی کو جانے دو۔ یہ اللہ کے حکم کی پابند ہے ۔ جب حضور ﷺ اپنے والد کے نھیال بنو نجار کی گلیوں میں پہنچے تو اونٹنی ایک جگہ از خود بیٹھ گئی ۔ بنو نجار کی کم سن بچیاں خوشی سے گانے لگیں۔

نحْنُ جَوَارٍ مِنْ بَنِي النَّجارِ
يا حبّذا مُحمد من جار
 ہم بنو نجار کی لڑکیاں ہیں۔ 
کیا ہی خوشی کا مقام ہے کہ محمد ﷺ ہمارے پڑوسی بنے ہیں۔

        ساتھ ہی حضرت ابوایوب انصاری ﷺ کا دو منزلہ مکان تھا۔ نبی کریم ﷺ نے ان کی درخواست پر ان کے گھر کی نچلی منزل میں قیام فرمایا ۔ یہودیوں کے عالم عبداللہ بن سلام اس دن اپنے باغ سے کھجوریں اتار رہےتھے، وہ حاضر خدمت ہوئے، علامات نبوت کو بخوبی پہچانا اور اسلام لے آئے۔

یثرب مدینة النبی ﷺ بن گیا:

        یہ شہراب رسول اللہ ﷺ کا شہر تھا۔ یہ آپ کا مسکن ، آپ کے نام لیواؤں کا وطن اور دینِ اسلام کا پہلا مرکزتھا۔ آپ ﷺ کے تشریف لانے کے بعد ایسا لگتا تھا کہ اس شہر کی ہرچیز ایک نئے رنگ میں ڈھل گئی ہے۔ ایک روشنی تھی جو ہرشے کے اندراترگئی تھی۔ اسے ہم حضور ﷺ کی محبت کے سوا کوئی اور نام نہیں دے سکتے۔

        یہ تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ تھا ایسا کبھی نہیں ہواتھا کہ صدیوں قدیم ایک شہرکسی کی محبت میں یوں ڈھل جائے کہ اپنا نام تک مٹادے اورشہر میں آباد قبائل اپنے سابقہ حسب و نسب کو فراموش کرکے اس ایک شخص سے نسبت کے حوالے سے پہچانے جانے لگیں۔ مگر یہاں یہی ہوا۔ لوگ اپنے وطن کے نام  "یثرب" کو بھول گئے۔ یہ اب نبی کا شہر تھا۔ اسے "مدینۃ النبی" کہا جانے لگا۔ پہلے لوگ اوس ، خزرج اور ان کی ذیلی شاخوں سے پہچانے جارہے تھے۔ اب ہر تفریق ایک وحدت میں بدل گئی۔ 

        حضور ﷺ نے انہیں انصار کا خوبصورت نام دیا جس میں دین کی مدد ونصرت کرنے کا حوالہ جھلکتا ہے۔ اورمکہ سے آئے ہوئے لوگوں کو آپ ﷺ نے مہاجرین کا لقب دیا ۔ اب شہر مدینۃ النبی تھا اور شہری مہاجرین و انصار۔ اب ہر چیز اسلام سے تعلق کا پتا دیتی تھی اور ہررشتہ ناتا دین کے لیے قربانی اورجان سپاری کی بنیاد پرقائم تھا۔


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic