اندرونی اور بیرونی خطرات
”جہاد“ اس ابتدائی مرحلے میں بھی حضور ﷺ کے سامنے اپنے وسیع تر مفہوم میں واضح تھا، یہ اسلامی ریاست کو چلانے اور اسلامی سیاست کو قائم رکھنے کا ایک اہم ستون تھا۔ جہاد صرف تلوار چلانے اور حملہ کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک اسلامی ریاست کو محفوظ رکھنے، اس کے دشمنوں سے نمٹنے اور حق کو ریاستی طاقت کے ساتھ سر بلند کرنے ، دین کو پھیلانے اور کفار کی سازشوں کو ناکام بنانے کا نام ہے۔
حضور ﷺ اس سے قبل کسی فوج یا قبیلے کے سردار نہیں رہے تھے، نبوت کے بعد بھی آپ ﷺ کی زندگی کے شب وروز اب تک ایک داعی ، روحانی پیشوا اور معلم کے طور پر گزرے تھے مگر مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد جب آپ پہلے سیاسی امور کی باگ ڈور سنبھالتے ہیں اور پھر عسکری امور کی ذمہ داری بھی آپ پر آن پڑتی ہے تو آپ ﷺ ایک معجزانہ صلاحیت کے ساتھ یہاں سیاسی و عسکری معاملات میں سیادت کی چوٹی پر نظرآتے ہیں۔
مدینہ کی اسلامی ریاست کے لیے سب سے بڑا بیرونی خطرہ قریش تھے اور اندرونی خطرہ یہود۔ حضورﷺ نے "میثاقِ مدینہ" کے ذریعے اندرونی خطرے پر ایک حد تک قابو پالیا تھا مگر بیرونی خطرہ بدستور موجود تھا۔ قریش نے اب تک مدینہ کی جدید ریاست کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ اس کی سالمیت کے خلاف ان کی سازشیں جاری تھیں، مکہ سے مدینہ کے نواح تک آباد اکثر قبائل قریش کے حلیف تھے جنہیں مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جا سکتا تھا۔ سب سے زیادہ اشتعال انگیز بات تھی کہ مدینہ کے قرب وجوار کی شاہراہوں کو قریش پہلے کی طرح اب بھی شام کے تجارتی سفر کے لیے استعمال کررہے تھے، جبکہ نئے حالات میں انہیں مدینہ کی حکومت سے اجازت لے کر یہ راستے استعمال کرنا چاہیے تھے،ت کیوں کہ یہ مدینہ کے حدود سے لگتے تھے مگر قریش کا گھمنڈ اجابت نہیں دیتا تھا کہ وہ مسلمانوں سے سفارتی تعلقات رکھیں، اور راہداری کی اجازت لیں۔ وہ زبردستی اس راستے پر آمدورفت برقرار رکھ کر اپنی دھاک بٹھانا چاہتے تھے۔
ابتدائی مہمات
نبی اکرم ﷺ نے قریش کو ان کی اوقات یاد دلانے اور اسلامی ریاست کو ان کی متوقع سازشوں اور خطرات سے بچانے کے لیے مختلف تدابیر اختیار فرمائیں۔ آپ ﷺ نے مدینہ کے مغرب میں ساحل تک بسنے والی آبادیوں اور قبائل سے معاہدے کیے اور انہیں ایک وفاق کے تحت لانے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں آپ ﷺ نے ساتھ مہاجرین کے ساتھ یہ سفر کیا جسے پہلا غزوہ "ابواء" کہا جاتا ہے۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں آپ ﷺ کی والدہ ماجدہ آپ کو تنہا چھوڑ کر فوت ہوئی ہیں اور یہیں ان کی قبرتھی۔ یہاں آباد بنو ضمرہ سے اتحاد و تعاون کا معاہدہ ہوا۔ یہ صفرسن ۲ ہجری کا واقعہ ہے۔
جمادی الاولی میں حضور ﷺ "عُشَیرہ" گئے اور بنو مدلج سے عہد و پیمان کیا۔ اس طرح "جُہَینہ قبیلے کو جو مدینہ سے تیس میل (۴۹ کلومیٹر) دور پہاڑوں پر آباد تھا ، کم از کم اس حد تک آمادہ کرلیا گیا کہ وہ لڑائی میں قریش کا ساتھ نہیں دیا کریں گے ۔ اسی سال آپ ﷺ اوائلِ شعبان میں " منبع " گئے ۔ پھر وسط شعبان میں "سفوان" تشریف لے گئے جہاں بنوغِفار اور بنو اَسلم سے اس طرح کا حلیفانہ معاہدہ ہوا۔
یہ تمام قبائل مدینہ اور بحیرۂ احمر کے ساحل کی درمیانی پٹی میں شام کی شاہراہ کے قرب وجوار میں آباد تھے، ان کا ریاستِ مدینہ کے زیرِ اثر آنا قریش کے لیے یقینا پریشان کن تھا، کیوں کہ اس طرح ان تجارتی قافلوں کی آمد ورفت مزید خطرات سے دوچار ہورہی تھی۔ نبی اکرم ﷺ نے قریش کے تجارتی قافلوں پر ایسا کڑا پہرہ نہیں لگایا کہ ان کی آمد و رفت بالکل بند ہو جائے ۔ غالبًا ایک نو خیز ریاست کے لیے ایسا کرنا مشکل بھی تھا۔
قریش کا کمزور پہلو: تجارتی راستہ غیر محفوظ
مکہ والے اوس اور خزرج کی دشمنی مول نہیں لینا چاہتے تھے، کیوں کہ مدینہ ان کے تجارتی قافلوں کی شاہراہ پر واقع تھا۔ یہاں کے لوگوں سے دشمنی اہل مکہ کومہنگی پڑسکتی تھی۔ یہ قریش کا وہ کمزور پہلو تھا جسے انصار خوب جانتے تھے۔ وقت پڑنے پر انہوں نے اس کا اظہار بھی کردیا۔ نبی ﷺ کے مدینہ تشریف لانے کے کچھ عرصے بعد اوس کے سردار سعد بن معاذؓ عمرہ کرنے مکہ گئے ۔ ان کی امیہ بن خلف سے پرانی دوستی تھی ، اس لیے مکہ میں اس کے ہاں قیام کیا۔ ایک دن وہ اُمیہ کے ساتھ کعبہ کا طواف کرنے نکلے تو وہاں ابو جہل مل گیا۔ اس نے دھمکاتے ہوئے کہا: تم لوگوں نے صابیوں اور بے دینوں کو پناہ دی ہے، مجھے یہ برداشت نہیں کہ تم لوگ کعبہ کی زیارت کو آسکو، اگر امیہ تمہارے ساتھ نہ ہوتا تو تم بچ کر نہ جاتے۔
سعد بن معاذ رضی اللہ نے ترکی بترکی جواب دیتے ہوئے کہا:
"اگر تم نے ہمیں کعبہ کی زیارت سے روکا تو
ہم تمہارا شام کا تجارتی راستہ مسدود کر دیں گے"۔
اگلے دنوں میں دونوں طرف سے یہ دھمکیاں حقیقت میں بدل گئیں ۔ قریش کا رویہ اتنا مخاصمانہ نظر آرہاتھا کہ مسلمان کعبہ کی زیارت تو کجا مکہ کے پاس بھی نہیں پھٹک سکتے تھے۔ ادھر قریش کے قافلے اب مسلمانوں کی تاخت و تاراج کی زد میں دکھائی دینے لگے۔
غزوات اور سرایا
ریاست کے قیام اور جہاد کی مشروعیت کے ساتھ ہی حضور ﷺ سرحدوں کی حفاظت ، دشمن کی جارحیت کے جواب اور اسلامی سرحدوں سے گزرنے والے ان کے قافلوں کے خلاف کارروائی کے لیے وقتًا فوقتا صحابہ کی مسلح ٹولیاں بھیجنے لگے جنہیں سیرت نگار "سرایا " کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
"غزوات اور"سرایا" کے مفہوم کو یہیں اچھی طرح سمجھ لینا بہت ضروری ہے تاکہ آگے چل کر کوئی الجھن پیش نہ آئے۔ مدینہ کی اسلامی ریاست کی حفاظت اور اس مرکز کے ذریعے اسلام کی سربلندی کی ان منظم کوششوں کو جن میں نقل و حرکت اور سفر کی ضرورت پیش آئی، غزوات " اور "سرایا کہا جاتا ہے۔ غزوات" غزوہ کی جمع ہے۔ اس سے مراد وہ سیاسی عسکری یا تبلیغی اسفار ہیں جن میں رسول اللہ بنفس نفیس تشریف لے گئے۔
"سریا" سَرِیّہ کی جمع ہے۔ یہ اس مہم کو کہا جاتا تھا جس کی ترتیب حضور ﷺ نے مقدرکی ہومگر خود عملی طور پر اس مہم میں شرکت نہ کی ہو۔ "غزوہ" یا "سریہ" جنگ کے ہم معنی الفاظ نہیں، بلکہ ان کے مفہوم میں بڑی وسعت ہے۔
غزوات کی تعداد حضرت زید بن ارقم رضی اللہ سے مروی صحیح روایت میں 19 بتائی گئی ہے۔ جبکہ جابر بن عبد اللہؓ یہ تعداد ۲۱ بیان کی ہے۔ بعض روایات میں یہ تعداد ۲۷ تک بتائی گئی ہے۔ سرایا کی تعداد ۳۸، ۴۷ اور ۵۶ بتائی جاتی ہے۔ اس اختلاف کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ بعض اوقات ایک ہی سفر یا ایک ہی زمانے میں متعدد مقامات پر مہم جوئی کی گئی، کسی نے ایک سفر یا ایک زمانے کی دو تین مہمات کو ایک مہم شمار کیا اور کس نے ہر ایک کو الگ الگ گنا۔
مستشرقین ان مہمات پر ڈاکے کا اطلاق کرتے ہیں؟ کیوں کہ ان میں قریش کے قافلے بھی لوٹے گئے تھے مگر یہ التزام بالکل غلط ہے۔ قریش کے قافلوں پر حملے کو ڈاکا اس وقت کہا جاسکتا ہے جب قریش خود بے قصور ہوئے ۔ دوسرے یہ کہ جب ان پر حملہ کسی حکومت کی طرف سے نہیں، عام لوگوں کی جانب سے ہوتا ۔ ظالم سے بدلہ لینا عین انصاف ہے ۔ اور جب دوریاستوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوں اور ان کے درمیان کوئی معاہدہ بھی نہ ہو تو ایسے میں چوٹ کھایا ہوا فریق دوسرے کو جانی و مالی نقصان پہنچائے تو اسے دنیا کی کسی لغت میں ڈا کا نہیں کہا جاتا۔
خبر رسانی کا نظام
عسکری وسیاسی معاملات مخبری اورجاسوسی کے بغیر کبھی نہیں چل سکتے ، کیوں کہ ان انتظامات کے بغیر اندر کی اصل خبریں ملنا ممکن نہیں ہوتا ۔ اگرچہ حضور ﷺ کو بعض خبریں وحی اور فرشتے کے ذریعے مل جاتی تھیں مگر زیادہ انحصار مخبروں پر تھا۔ ایک مثالی قائد کا کردار پیش کرتے ہوئے حضور ﷺ ہمیشہ صحیح خبریں حاصل کرنے کے لیے ممکنہ انتظامات کرتے رہے۔ مکہ سے قریش کے خاص مشوروں اور فیصلوں کی اطلاعات حضور ﷺ کو کبھی کبھار وہ لوگ دیا کرتے تھے جو اب تک اپنے اسلام کو قریش سے چھپائے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ ملنے والی خفیہ اطلاعات کا ذریعہ ظاہر نہیں کرتے تھے اس لیے اکثر مواقع پر پتا نہیں چلتا کہ آپ ﷺ کو وحی سے اطلاع ملی تھی یا مخبر سے۔
بہر کیف حضور ﷺ نے مخبر ضرور مقرر کر رکھے تھے مگر اس دور میں متحرک قافلوں کے بارے میں کسی مخبر کی خبر اتنی بروقت نہیں پہنچ سکتی تھی کہ قافلے کو روک لینے کا یقینی انتظام کر لیا جاتا۔ بسا اوقات قافلے اچانک اپنا راستہ بدل لیتے تھے اور مدینہ سے پچاس، ساٹھ میل (۸۰ تا ۹۵ کلومیٹر) جنوب کی طرف نکل کر اپنے حلیف قبائل کے درمیان پہنچ جاتے تھے اس لیے قریش کے کئی قافلے صحابہ کی مسلح ٹولیوں کی زد سے صاف بچ نکلے۔ تاہم اتنا ضرور ہوا کہ اس طرح قریش کو تنبیہ ہوگئی کہ اب وہ ایک اسلامی ریاست کی سرحدیں عبور کرکے شام آتے جاتے ہیں جس کی انہیں آزادانہ چھٹی نہیں مل سکتی۔
عمومًا ان دستوں کو ضرورت پڑنے پر ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی لیکن بعض کو صرف دشمن کی نگرانی کرنے کی تاکید کی جاتی تھی۔اس طرح مدینہ کی اسلامی ریاست نے واضح لفظوں میں اعلان کردیا کہ قریش کی تجارت اور ان کی اقتصادیات کی شہ رگ اب مسلمانوں کے رحم وکرم پر ہے، اگروہ دشمنی سے باز نہ آئے تو انہیں سخت اقتصادی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ پہل بھی قابلِ ذکر ہے حضور ﷺ نے ان مہمات میں صرف مہاجرین کو شامل کیا ۔ غالبا قریش کو زیادہ مرعوب کرنا اسی طرح ممکن تھا کہ ان کے ہاتھوں تشدد برداشت کرنے والے مظلوموں کو ہی ان کے مقابلے میں سپاہی بناکر کھڑا کردیا جائے۔ ایک وجہ یہ ہے کہ حضور ﷺ نے انصار سے اپنی حفاظت اور مدینہ پر ہونے والے حملوں میں مشترکہ دفاع کا عہد لیاتھا۔ مدینہ سے باہر کی مہمات اس معاہدے میں شامل نہ تھیں۔ اگر چہ انصار حضور ﷺ کے ایک اشارے پر کہیں بھی جانے کوتیار تھے مگر آپ ﷺ حتی الامکان معاہدے کے مطابق چلنا چاہتے تھے۔
جہاد کی پہلی مہم ہجرت کے سات مہینے بعد ماہِ رمضان میں حضرت حمزہؓ کی قیادت میں روانہ کی گئی، اس دستے میں تیس مہاجرین شامل تھے اور اس کا ہدف قریش کا ایک قافلہ تھا جو ابوجہل کی قیادت میں مدینہ کی شاہراہ سے کترا کر ساحلی سڑک سے شام جارہا تھا ۔ مسلمانوں نے سامنے آکر اس قافلے کو متنبہ کرنے پر اکتفا کیا۔
دوسری مہم شوال میں حضرت عبیدہ بن الحارثؓ کی قیادت میں بطن رابغ کی طرف بھیجی گئی، جہاں ابو سفیان کی قیادت میں ایک تجارتی قافلہ آرہا تھا۔ اس مہم میں سعد بن ابی وقاصؓ بھی شامل تھے، جنہوں نے کفار پر ایک تیر چایا یہ پہلا تیر ہے جو اسلام کی تاریخ میں حریف پر چلایا گیا۔ اس بار بھی قافلے کو صرف ہراساں کرنا کافی سمجھا گیا۔

