Fatah-e-Badr ke Asraat: Qaidi-e-Jang, Zakat ki Farziyat aur Hazrat Fatima (R.A) ka Nikah

 ایران کی روما سے شکست۔ قرآنی پیش گوئی کی تکمیل


        اس دوران جب مدینہ کے باشندے فاتح لشکر کا نہایت گرم جوشی سے استقبال کر رہے تھے تو ایک اور خبر سن اور سنائی جارہی تھی جو جزیرۃ العرب سے باہر کی دنیا میں بھی کسی کایا پلٹ سے کم نہیں تھی ۔ بازنطینی رومی جو چند سال پہلے ایران سے شکست فاش کھاکر نہ صرف اپنے بیشتر ایشیائی مقبوضات بلکہ اپنی مقدس صلیب سے بھی محروم ہوگئے تھے، ایک بار پھر اپنے نئے نوجوان قائد ہرکولیس (ہر قل) کی کمان میں شام اور عرب کی سرحدوں پر ایرانیوں سے جاٹکرائے تھے۔ اس خبر سے مسلمانوں کی مسرت دوبالا ہوگئی، کیوں کہ اس واقعے کی پیش گوئی قرآن کریم چند سال پہلے عین اس وقت کرچکا تھا جب رومی شکست کھاکر ایشیا سے بھاگ نکلے تھے اور بظاہر ان کے دوبارہ جیتنے کی کوئی امید نہیں تھی۔



 شہدائے بدر اور کفار کے مقتولین کی تعداد:

        غزوۂ بدر میں صرف چودہ مسلمان شہید ہوئے ، ان میں سے چھ مہاجر اور آٹھ انصاری تھے۔ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے کم سن بھائی عمیر بن ابی وقاصؓ بھی اس لڑائی میں شہید ہوئے۔ عبیدہ بن الحارثؓ  نے جو عتبہ سے لڑتے ہوئے شدید زخمی ہوئے تھے، جنگ کے اختتام پر واپسی کے سفر میں جامِ شہادت نوش کیا نبی اکرم ﷺ نے انہیں اپنے ہاتھوں سے قبر میں اُتارا۔

        قریش کے ستر افراد مارے گئے جن میں ان کے نامور سردار اور سپہ سالار شامل تھے۔ اتنے ہی کفار گرفتار ہوئے جنہیں قیدی بنا کر مدینہ لایا گیا۔ ان میں حضور اقدس ﷺ کے چچا عباس، داماد ابو العاص ، اور حضرت علی رضی اللہ کے بڑے بھائی عقیل بھی شامل تھے۔ یہ سب بعد میں مسلمان ہوگئے تھے۔

قیدیوں سے معاملہ :

        نبی اکرم ﷺ نے قیدیوں کے بارے میں مشورہ فرمایا تو حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا:

        "بارسول اللہ ! یہ لوگ آپ کے خاندان اور قوم کے ہیں۔ میری رائے ہے کہ فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیا جائے ، اس طرح ہم اپنی طاقت میں اضافہ کریں گے۔ یہ توقع بھی ہے کہ ہمارے حسن سلوک سے یہ لوگ ایمان لے آئیں۔“

        نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ” تمہاری کیا رائے ہے؟“

        وہ بولے : اے اللہ کے رسول ! ان لوگوں نے آپ کو جھٹلایا ، وطن سے نکالا اور جنگ کی ، اس لیے میری رائے یہ ہے کہ ان قیدیوں میں جو میرے رشتے دار ہیں، انہیں میرے حوالے فرمادیں، میں اپنے ہاتھوں سے انہیں قتل کروں گا، عقیل کو ان کے بھائی علیؓ کے اور عباس کو ان کے بھائی حمزہؓ کے حوالے کردیا جائے تا کہ سب کو معلوم ہوجائے کہ مشرکوں کے لیے ہمارے دلوں میں کوئی جگہ نہیں ہے۔“

        حضور اکرم ﷺ نے اس وقت خاموشی اختیار فرمائی اور کچھ دیر بعد حکم دیا کہ قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے۔ آپ ﷺ نے سب قیدی دو دو، چار چار کر کے صحابہ میں بانٹ دیے اور تاکید فرمائی کہ ان کے آرام کا خیال رکھیں، چنانچہ ایسا بھی ہوا کہ کسی صحابی کے گھر میں کھانا کم پڑگیا تو کھانا اپنے قیدی کو کھلا دیا اور خود کھجوروں پر گزارا کرلیا۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ کے بھائی ابو عزیز بھی قیدیوں میں تھے، وہ کہتے ہیں:”مجھے جن انصاریوں کے سپرد کیا گیا تھا ، جب وہ کھانا لاتے تو میرے سامنے روٹی رکھ دیتے اور خود صرف کھجوروں پر اکتفا کرتے تھے۔“

       قیدیوں کے رشتے دار فدیے کی رقم لے کر آتے رہے اور انہیں آزاد کراکے لے جاتے رہے ۔ جو قیدی غریب تھے اور فدیہ ادا کرنے کے قابل نہیں تھے، ان سے بھی وسعت کا سلوک کیا گیا، ان میں سے کچھ لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے، ان سے کہا گیا کہ مدینہ کے دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھادیں تو انہیں چھوڑ دیا جائے گا۔ 

        یہ سب تو ہوا مگر اللہ تعالی کی طرف سے سورۃ الانفال کی آیات میں اس طرح فدیہ لےکر چھوڑ نے پر تنبیہ آئی گویا وحی حضرت عمررضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق تھی۔

داماد کی گرفتاری:

        حضور اکرم ﷺ کے داماد ابو العاص بھی گرفتار ہوئے تھے۔ قانون سب کے لیے ایک تھا، ان سے بھی فدیہ مانگا گیا مگران کے گھر میں دینے کے لیے کچھ نہ تھا۔ مجبور ہوکر ان کی اہلیہ زینبؓ نے مکہ سے اپنا ہار آپ ﷺ کی خدمت میں بھیج دیا۔ بٹی کا ہار دیکھ کر شفیق باپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے خصوصًا اس لیے کہ یہ حضرت خدیجہؓ کا بار تھا جو انہوں نے بیٹی کو رخصتی کے وقت ہدیہ کیا تھا۔ آپ ﷺ اپنی بیٹی کے ساتھ نرمی برتنا چاہتے تھے اور آپ کسی شش و پنج کے بغیر ایسا کرسکتے تھے مگر احتیاط کا یہ عالم تھا کہ آپ نے اس بارے میں بھی صحابہ سے مشورہ کیا اور فرمایا:

        اگر مناسب سمجھوتو یہ ہارواپس کر دو، ابوالعاص کو چھوڑ دو۔

        صحابہ کرام آپ ﷺ کی ایک مسکراہٹ کے لیے گھر بار لٹانے کو تیار تھے۔ انہوں نے بخوشی بات مان لی۔ حضور ﷺ نے ابوالعاص کو چھوڑ دیا مگر ان سے وعدہ لیا کہ وہ مکہ پہنچتے ہی حضرت زینبؓ کو مدینہ بھیج دیں گے۔

        یہ اس لیے ضروری تھا کہ نبی ﷺ کی بیٹی کا دیارِ کفر میں رہنا ، اسلامی شان کے خلاف تھا اور شاید اس لیے بھی حضور اکرم ﷺ کو رقیہؓ کی کمی شدت سے محسوس ہورہی تھی جن کی چند دن قبل وفات ہوئی تھی۔ 

        ابوالعاص نے اپنا عدہ پورا کیا۔ مکہ جاتے ہی بیوی کو اپنے بھائی کِنانہ بن ربیع کے ساتھ مدینہ بھیج دیا۔

صدقۂ فطر کی مشروعیت:

        غزوۂ بدر کے بعد ماہ رمضان کے آخری ایام میں صدقہ فطر واجب ہوا۔ حضور نے ۲۷ رمضان کو صحابہ سے خطاب کرکے حکم دیا کہ نمازِعید سے پہلے پہلے کھجور کشمش یا جو میں سے کسی ایک جنس کا ایک صاع یا گندم کے دو مُد (تقریبا پونے دو کلو) صدقۂ فطر میں ادا کیے جائیں تاکہ فقراء مستغنی ہوجائیں۔

نماز عید کی مشروعیت:

        عید الفطر اور عید الاضحی کے تہوار ایک ساتھ مشروع ہوئے ۔ یکم شوال کو مدینہ منورہ میں پہلی بار نمازِعیدالفطر اداکی گئی۔ اس کے بعد ذوالحجہ میں عیدالاضحی منائی گئی اور ہرسال رسول اللہ ﷺ ذوالحجہ میں قربانی کرتے رہے۔ مدینہ میں جاہلیت کے دو تہوار چلے آتے تھے۔ اسلام نے انہیں ختم کردیا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ نے تمہیں ان کی بہ نسبت دو بہتر تہوار عطا کر دیے ہیں:

 عید الفطر اور عید الاضحی۔

عید گاہ میں رسول اللہ ﷺ کے معمولات:

        عیدگاہ تشریف لے جاتے ہوئے حضرت بلالؓ حضور ﷺ کے آگے آگے نوک دار لاٹی "عَنزہ" ۔ لے کر چلتے جاتے تھے۔ یہ لاٹی نجاشی اَصحَمہ نے حضرت زبیرؓ کو ہدیہ کی تھی اور انہوں نے حضور ﷺ کی نذر کردی تھی یہ عیدگاہ میں رسول للہ ﷺ کے آگے گاڑدی جاتی تھی۔ نمازِعید کے بعد حضور ﷺ دو خطبے دیتے۔

خواتین سے خصوصی خطاب:

        آخر میں حضور ﷺ خواتین سے خصوصی خطاب بھی فرماتے جس میں عمومًا انہیں فکرِآخرت ، شوہروں کی اطاعت اور خیرات کی ترغیب دی جاتی ۔ حضرت بلالؓ خواتین کی صف کے سامنے کپڑا پھیلا کر گشت کرتے اور خواتین اپنی انگوٹھیاں، چوڑیاں اور کانوں کی بالیاں تک اتار کردے دیا کرتی تھیں۔

زکوۃ کی فرضیت:

       اسی سال (۲ھ) کے اواخر میں صاحب نصاب افراد پر زکوٰۃ فرض کردی گئی ۔زکوۃ ایسی عبادت ہے جس کے ذریعے بندہ عملی طور پر اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ اس کے پاس جو کچھ ہے، وہ اللہ کا دیا ہوا ہے اور اللہ کے حکم پر وہ اس کے دیے ہوئے مال کو اس کی رضا کے لیے بخوشی خرچ کرنے پر آمادہ ہے۔ مال کی محبت طبعی طور انسان میں موجود ہے مگر جب یہ بڑھ جائے تو زرپرستی بن جاتی ہے۔ زکوۃ اس زہریلے مادے کے اخراج کا بہترین ذریعہ ہے۔ زکوۃ کے ذریعے معاشرے کے پریشان حال اور ضرورت مند لوگوں کی امداد ہوتی ہے محتاج اور بے کس افراد اپنے پیروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ زکوٰۃ معاشرے میں دولت کے ارتکاز کو روک کر اسے نچلے طبقات تک پھیلا دیتی ہے۔

غزوۂ بدر کے اثرات ۔ انتظام کی نا کام سازش

        بدر کی فتح نے پورے عرب میں مدینے والوں کی دھاک بٹھا دی، اس فتح نے ثابت کردیا تھا کہ دین اسلام اپنے قدم جما چکا ہے اور اس کے علم بردار نہ صرف اپنا دفاع کرسکتے ہیں بلکہ اپنے مخالفین کو منہ توڑ جواب بھی دے سکتے ہیں۔ مٹھی بھر مسلمانوں کا میدان بدر میں تین گنا دشمنوں پر غالب آنا اس بات کا ثبوت تھا کہ آسمانی مدد ان کے ساتھ ہے۔ اس واقعے نے عرب میں ایک بڑے انقلاب کا نقارہ بجا دیا تھا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔

        ادھر مسلمان شاداں و فرحاں تھے اور اُدھر مکہ کے گھر گھر ماتم برپا تھا، ابولہب اس شکست کی خبر سننے کے نو دن بعد مرگیا۔ قریش نے بدر کے مقتولین کا انتقام لینے کی قسمیں کھائیں۔ اُمیہ بن خلف کا بیٹا صفوان اپنے باپ کے قتل پر اتنا غضب ناک تھا کہ اس نے اپنے دوست عمیر بن وہب کو زہر آلود خنجر دے کر نبی اکرم ﷺ کو قتل کرنے مدینہ روانہ کردیا۔ یہ الگ بات ہے کہ نبی اکرم مﷺ نے اسے دیکھتے ہی بتادیا کہ تم نے اور صفوان بن امیہ نے مل کر مجھے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ عمیر نے یہ معجزہ دیکھنے کے بعد ایمان لانے میں ذرا پس و پیش نہ کی۔

قریش کی سفارت حبشہ میں

        بدر کی شکست کے بعد قریش یہ سمجھ گئے تھے کہ مدینہ والوں سے ٹکر لینا آسان نہیں ہے، اس کے لیے غیرمعمولی تیاری کرنا پڑے گی اس لیے انہوں نے شام سے آنے والے تجارتی قافلے کا سارا سرمایہ ایک بڑی جنگ کی تیاری میں جھونک دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ قریش کی نظریں حبشہ میں پناہ گزیں مسلمانوں پر مرکوز ہوگئیں جو کئی سال سے وہاں امن و چین کی زندگی بسرکررہے تھے۔ قریش نے یہ دیکھ لیا تھا کہ مدینہ میں مسلمان مستحکم ہیں مگر حبشہ ایک عیسائی ملک تھا جہاں صرف بادشاہ کے عدل کی وجہ سے مسلمانوں کو پناہ ملی ہوئی تھی۔ قریش نے بدر کا انتقام لینے کے لیے سوچا کہ کیوں نہ حبشہ سے مسلمانوں کو بے دخل کرایا جائے۔

        انہوں نے عمرو بن العاص اورعُمارۃ بن الولید کو قاصد بناکر نجاشی کے دربار میں بھیجا۔ ان دونوں نے نجاشی سے شکایت کی کہ یہ لوگ ہمارے مجرم ہیں، آپ انہیں پناہ نہ دیں بلکہ ہمارے سپرد کردیں۔ مگر اس بار بھی یہ کوشش ناکام رہی اور نجاشی نے قریشی وفد کو بے نیلِ مرام واپس بھیج دیا۔


حضرت فاطمہؓ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نکاح:

        اسی سال رسول اللہ ﷺ نے اپنی چھوٹی صاحبزادی حضرت فاطمۃ الزہراءؓ کے نکاح کی ذمہ داری بھی انجام دے دی۔ ان کے لیے آپ ﷺ نے اپنے چچا زاد حضرت علی رضی اللہ کو پسند فرمایا۔ یہ نکاح غزوۂ بدر کے بعد ہوا، اور نہایت سادگی سے رخصتی ہوئی۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic