Ghazwa-e-Banu Qaynuqa aur Kaab bin Ashraf ka Qatl: Yahood se Pehla Takrao

 یہود سے پہلا معرکہ: غزوہ بنو قینقاع


        بدر میں مسلمانوں کی فتح نے جہاں قریش کو مضطرب کررکھا تھا وہاں مدینہ کے یہودی بھی جو رسول اللہ ﷺ سے اتحاد کا معاہدہ کرچکے تھے، اسلام کی بڑھتی ہوئی قوت سے تشویش میں مبتلا ہوگئے تھے۔ خاص کر بنوقینقاع کے یہودیوں نے جو سنار اور صنعتکار ہونے کی وجہ سے بڑے دولت مند تھے ، غزوۂ بدر کے بعد حضور ﷺ سے عہدشکنی کرتے ہوئے قریش مکہ سے سازباز کرنے اور ان کا اتحادی بنے میں بھی کوئی باک محسوس نہ کیا۔



        حضوراکرم ﷺ کوان کی غداری کا پتا چلا تو خود ان کے محلے میں تشریف لے گئے جو مدینہ کے محلوں سے ملا ہوا تھا۔حضور ﷺ نے انہیں جمع کرکے اسلام کے خلاف گٹھ جوڑ سے باز رہنے کی تلقین کی اور اسلام قبول کرنے کی دعوت بھی دی، جس کا انہوں نے یہ اہانت آمیز جواب دیا:

        "آپ کا واسطہ مکہ کی اناڑی فوج سے پڑا ہے ، ہم سے نہیں"۔

        ان کا رویہ اعلانِ جنگ کے مترادف تھا۔ تاہم رسول اللہ ﷺ نے صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا۔

        چند دنوں بعد بنو قینقاع کے یہودیوں نے اپنے صرافہ بازار میں زیور بنوانے کے لیے آنے والی ایک مسلمان خاتون کو بے لباس کرنے کی کوشش کی، کسی مسلمان نے یہ منظر دیکھ لیا اور ایک بدمعاش یہودی کو موقع پر قتل کر دیا، باقی یہودی قلعہ بند ہوگئے ۔ اس گھناؤنی حرکت کے بعد یہودی کسی رعایت کے مستحق نہ تھے۔ حضور ﷺ نے یہ خبر سنتے ہی فوج مرتب کی اور ان کے قلعوں کا محاصرہ کر لیا۔ یہ ۱۴ شوال سن ۲ ہجری کا واقعہ ہے۔ یہ اسلامی تاریخ کی پہلی جنگ تھی، جس میں قلعہ بند دشمن کا سامنا تھا۔ پندرہ دن تک محصور رہنے کے بعد بنو قینقاع نے ہار مان لی ۔ انہیں سزا کے طور پرجلاوطن کردیا گیا۔ یہ لوگ مدینہ سے نکل کر شام کے سرحدی علاقے ” اذرِعات" میں جابسے۔

غزوہ سویق:

        مسلمانوں اور یہودیوں میں کش مکش کا آغاز ہوتا دیکھ کر قریش یہود کو ساتھ ملانے کا سوچنے لگے۔ پہلے انہوں نے مدینہ میں بسنے والے یہودیوں سے خفیہ طور پر حلیفانہ تعلقات استوار کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ کام بنو امیہ کے رئیس ابوسفیان بن حرب کے سپرد ہوا ۔ ابو جہل ، ابولہب اور عقبہ جیسے رئیسوں کی ہلاکت کے بعد ابوسفیان کو قریش کا قابل ترین فرد مانا جاتا تھا۔ ابو سفیان نے دوسو افراد کے ساتھ مدینہ کا رخ کیا اور یہودِ بنونضیر کے قلعوں میں قیام کیا۔ یہاں کے رئیس سلام بن مِشکم سے اتحاد و تعاون کے عہد و پیمان ہوئے۔ واپسی میں ابوسفیان نے جاتے جاتے مدینہ کے ایک نخلستان کو نذرِآتش اور ایک انصاری کو شہید کردیا۔ نبی اکرم ﷺ نے خبر ملتے ہی تعاقب کیا، مگر مکہ والے فرار ہوگئے ۔ بھاگتے ہوئے وہ اپنا ستوؤں کا توشہ پھینکتے گئے ۔ ستّو کو عربی میں سویق کہتے ہیں، لہذا یہ مہم غزوۂ سویق کہلاتی ہے۔

خصوصی خفیہ کارروائی ۔ کعب بن اشرف یہودی کا قتل

        قریش کے مسلح افراد کواپنے ہاں جگہ دینے اور انہیں مدینہ میں کارروائی کا موقع فراہم کرکے بنونضیر بھی اہل مدینہ سے معاہدے کی پاس داری کو مشکوک کر چکے تھے۔ بنونضیر کا ایک رئیس کعب بن اشرف اسلام دشمنی میں زیادہ سرگرم تھا، وہ شاعر بھی تھا اور اپنے اشعار سے مجمعے میں آگ لگا دیتا تھا۔ اب وہ اپنے اشعار میں مسلم خواتین کو ہوس ناک تخیل کا نشانہ بنانے لگا، اس کی یاوہ گوئی سے نبی اکرم ﷺ بھی محفوظ نہ تھے ۔ اس وقت اس نے حد ہی کردی جب وہ مکہ جاکر قریش کے سرداروں سے ملا اور بدر کے مقتول مشرکین کی یاد میں ایسے درد ناک اشعار کہے کہ حاضرین سراپا انتقام بن گئے۔ میثاقِ مدینہ کے خلاف یہ سرگرمیاں اسلامی حکومت سے کھلی بغاوت اور بہر حال قابل سزا تھیں۔

        حضور ﷺ فی الحال بنونضیر سے جنگ چھیڑنا نہیں چاہتے تھے مگر حد سے زیادہ فتنہ پھیلانے والوں کو مزید شرانگیزی کا موقع دینا بھی مناسب نہ تھا۔ اس لیے آپ نے ایک دن فرمایا: "کون ہے جو کعب بن اشرف کو ٹھکانے لگائے؟

        محمد بن مسلمہؓ نے اس کام کا ذمہ لیا اور ساتھ ہی کعب بن اشرف سے کچھ باتیں کرنے کی اجازت مانگی جو آپ ﷺ نے عطا فرمادی محمد بن مسلمہؓ قرض لینے کے بہانے کعب بن اشرف کے قلعے میں پہنچے اور ملاقات کے دوران ایسی باتیں کہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ اسلام کے لیے صدقہ خیرات دے دے کر وہ مالی بوجھ تلے دب گئے ہیں۔ کعب نے کہا اللہ کی قسم یہ پیغمبر تمہیں مزید تنگ کریں گے۔“

        جب قرض کی بات آئی تو کعب نے بدلے میں گروی رکھنے کے لیے عورتوں یا بچوں کا مطالبہ کیا۔ محمد بن مسلمہ نے کہا : " عورتوں کو تم جیسے عرب کے حسین ترین شخص کے پاس کیسے چھوڑا جاسکتا ہے ۔ بچوں کو یرغمال رکھوایا تو یہ قرض کے بدلے گروی رہنے والے کا طعنہ ملتا رہے گا ۔ ہاں ہم اپنا اسلحہ تمہارے پاس رکھوا سکتے ہیں۔“

         کعب بن اشرف اس پر راضی ہوگیا۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ رات کو دو تین ساتھیوں سمیت اسلحہ اٹھائے اس کے قلعے میں پہنچ گئے۔ محمد بن مسلمہؓ ساتھیوں کو سمجھا چکے تھے کہ جب میں اشارہ کروں تو اس پر ٹوٹ پڑنا ۔

        آخر کعب سے ملاقات ہوئی۔ اس وقت اس نے بہترین خوشبو لگائی ہوئی تھی۔ محمد بن مسلمہؓ کہنے لگے:

کہ ایسی خوشبومیں نے کبھی نہیں سونگھی۔

        وہ شیخی میں آکر کہنے لگا: ہاں ! میرے پاس عرب کی سب سے زیادہ خوشبودار اور حسین ترین عورت ہے۔

        محمد بن مسلمہ نے کہا: کیا مجھے اجازت ہے کہ تمہارے سرکی خوشبو سونگھوں ؟“ 

        کعب نے ہاں کہہ کر جونہی سر آگے کیا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اسے دبوچ لیا اور ساتھیوں کو کہا اسے نمٹادو۔

        یوں اسلام کے اس دشمن کا کام تمام ہوگیا۔ یہ واقعہ ۱۴ ربیع الاول سن ۳ھ کا ہے۔

ام کلثومؓ کا نکاح:

        حضور ﷺ کی ایک بیٹی ام کلثومؓ اب تک کنواری تھیں ۔ ادھر رسول اللہ ﷺ کی بیٹی رقیہؓ کی وفات کے عثمان غنیؓ  تنہا ہوگئے تھے۔ حضور ﷺ نے ام کلثوم کے نکاح کے لیے مناسب رشتے پرغور کیا تو اب بھی عثمان سے بہتر کوئی نہ تھا۔ چنانچہ جمادی الآخرۃ ۳ ہجری میں بیٹی کی انہی سے شادی کردی ۔

عراق کی شاہراہ پر قریش سے مزاحمت۔ سریۂ ذی قَردَه (جمادی الآخرہ ۳ھ):


        قریش ایک طرف تو بدر کا انتقام لینے کے لیے جنگ کی تیاریاں کررہے تھے، دوسری طرف اس سال انہوں نے موسم گرما کا تجارتی قافلہ شام کی بجائے عراق بھیجنے کا فیصلہ کیا؛ کیوں کہ مدینہ کے آس پاس سے گزرنا اب ان کے لیے ان خطر ناک ہوچکا تھا۔ صفوان بن امیہ اور ابوسفیان کی قیادت میں قافلہ مکہ سے عراق کی طرف روانہ ہوا جس کے سامان میں چاندی کا بڑا ذخیرہ شامل تھا مگر راستے میں نجد کی سنگلاخ زمین سے گزرتے ہوئے "قردہ" کے مقام پر حضوراکرم ﷺ کے بھیجے ہوئے مسلح مجاہدین سے پالا پڑگیا، جو زید بن حارثہؓ کی کمان میں تھے۔ مکہ والوں کو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کرواپس بھاگنا پڑا۔ ان کا مال و اسباب جو مسلمانوں کے ہاتھ آیا ، ایک لاکھ درہم کا تھا۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic