فرشتوں کے ذریعے امداد - صحابہ کی کرامات
اس جنگ میں اللہ تعالی نے فرشتوں کے ذریعے مسلمانوں کی مدد فرمائی ۔ سورۃ الانفال میں ارشاد ہے:
" اس وقت کو یاد کیجئے جب آپ اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے پھر اللہ نے آپ کی سن لی اور کہا کہ میں آپ کی ایک ہزار فرشتوں سے مدد کروں گا جو سلسلے وار چلے آئیں گے"۔
فرشتوں کی آمد سے کفار کے دلوں پر ہیبت طاری ہوگئی اور وہ یہ سمجھ گئے کہ مسلمانوں کے ساتھ اللہ کی مدد ہے۔ فرشتوں نے ایک آدھ مشرک کو قتل بھی کیا مگر عمومی طور پر جنگ میں حصہ نہیں لیا ورنہ ایک ہی فرشتہ پوری دنیا کے کافروں ہلاک کرسکتا ہے۔ ان کا مقصد بس مسلمانوں کے حوصلے بڑھانا اور کفارکو مرعوب کرنا تھا۔
بدرکے دن جب مشرکین فرار ہوئے تو ایسے میں ایک انصاری ایک مشرک کا پیچھا کر رہے تھے، تب انہوں نے کوڑا مارنے سنسناہت سنی ساتھ ہی آواز آئی: ” اے حیزوم ! آگے بڑھ "
صحابی نے دیکھا، وہ مشرک وہیں گر پڑا، اس کی ناک ٹوٹ گئی اور منہ پھٹ گیا، صحابی نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر یہ واقعہ سنایا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
" تم سچ کہتے ہو، یہ تیسرے آسمان سے اترنے والا مددگار فرشتہ تھا۔ حیزوم اس فرشتے کے گھوڑے کا نام ہے ۔ بدر کے دن مشرکوں کی مدد کے لیے ابلیس خود آیا تھا؛ کیوں کہ اسے معلوم تھا کہ یہ حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن معرکہ ہے۔ آج حق غالب آگیا تو اسلام کو ابھرنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ عام حالات میں ابلیس سامنے آکر برے سے برے آدمی کی بھی مدد نہیں کرتا مگر اس دن کفر کو پسپائی سے بچانے کے لیے اہلیس اتنا فکر مند تھا کہ خود ایک مشرک سردار سراقہ بن مالک کِنانی کی شکل میں، شیطانوں کی ایک پوری فوج کے ساتھ آیا ہوا تھا۔ ابلیس نے مشرکوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے جنگ کے آغاز میں کہا تھا: " " آج کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا، میں تمہارا حامی ہوں۔
لیکن جب جبریلؑ دوسرے فرشتوں کے ساتھ مسلمانوں کی مدد کے لیے نازل ہوئے تو ابلیس اپنے چیلوں سمیت بدحواس ہوکر بھاگ نکلا۔ مشرکینِ مکہ یہی سمجھے کہ سراقہ بھاگا ہے، جنگ میں شکست کھاکر مکہ پہنچے تو انہوں نے سراقہ کو خوب برا بھلا کہا اور بولے: " تم سب سے پہلے صفیں توڑ کر بھاگ نکلے اور جنگ میں ہمیں مروایا۔
سراقہ حیران ہوکر بولا ” مجھے کچھ بھی معلوم نہیں، میں تو میدان بدر میں گیا ہی نہیں۔
مگر سمجھے کہ سراقہ جھوٹ بول رہا ہے۔
امیہ بن خلف کا قتل
کفار کی شکست اور پسپائی کے وقت، کچھ مسلمان دشمنوں کا چھوڑا ہوا سامان جمع کر رہے تھے ، ان میں عبد الرحمن بن عوف بھی تھے، انہوں نے زرہیں اٹھائی ہوئی تھیں ایسے میں ان کی نظرقریش کے سردار امیہ بن خلف اور اس کے بیٹے پر پڑگئی ۔ دونوں افراتفری کی حالت میں ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ امیہ نے بھی انہیں دیکھ لیا، دونوں چونکہ ماضی کے زمانے میں دوست رہے تھے، اس لیے امیہ نے پکار کر کہا:
ابن عوف ! میں تمہارے لیے ان زرہوں سے بہتر رہوں گا۔“
مراد یہ تھی کہ ہمیں پکڑ لو، تاکہ میں اور میرا بیٹا مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہونے سے بچ جائیں اور تمہیں ہماری رہائی کا فدیہ مل جائے جو زرہوں کی قیمت سے زیادہ ہوگا۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فورًا زرہیں پھینک دیں اور امیہ اور اس کے بیٹے کا ہاتھ تھام کر ساتھ لے چلے۔ جب حضرت بلالؓ کی نظر امیہ پر پڑی ، یہ وہی امیہ بن خلف تھا جو مکہ میں ان کا آقا تھا اور ان پر درندوں کی طرح ظلم و تشدد کیا کرتا تھا۔ اُمیہ کو دیکھتے ہی بلالؓ کو وہ سب مظالم یاد آ گئے ، ان کا خون کھول اٹھا اور وہ چلائے:
مسلمانو! یہ رہا کافروں کا سردار امیہ بن خلف، یہ آج بھی بچ گیا تو سمجھو میں نہ بچا۔“
حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ حیران ہوکر بولے : ” بلال ! یہ میرے قیدی ہیں، کیا تم انہیں قتل کروگے؟ مگر حضرت بلالؓ نے توجہ نہ دی اور پکارتے رہے : ” انصار یو! اے اللہ کے دین کے مددگارو! یہ رہا کافروں کا سردار امیہ بن خلف ۔ یہ آج بھی بچ جائے تو سمجھو میں نہ بچا۔
انصار جو پہلے ہی بھاگتے کافروں کو مار رہے تھے، دوڑے اور اُمیہ اور اس کے بیٹے پر ٹوٹ پڑے، ادھر حضرت بلالؓ نے بھی تلوار سونت کر امیہ پر وار کر دیا۔ تلوار اس کے بدن پر زخم لگا گئی اور وہ چیخ مار کرگر پڑا ۔ عبدالرحمن بن عوفؓ قیدیوں کو بچانے کے لیے ان پر اوندھے جھک گئے مگر انصاریوں نے دائیں بائیں سے تلواریں چبھو کر باپ بیٹے کوموت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس طرح مکہ کے ایک مظلوم غلام نے اپنی اذیت اور تشدد کا پورا پورا بدلہ بدر کے میدان میں لے لیا۔ حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ جو امیہ اور اس کے بیٹے کو بچاتے بچاتے خود بھی زخمی ہوگئے تھے بعد میں یہ واقعہ یاد کرکے کہا کرتے تھے:
"اللہ بلال پر رحم کرے، ان کی وجہ سے میری زرہیں بھی گئیں، قیدی بھی گئے اور زخم الگ کھایا۔
اس اُمت کا فرعون:
لڑائی کا ہنگامہ تھم گیا تو نبی اکرم ﷺ نے ابو جہل کی لاش تلاش کرنے کا حکم دیا، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے اسے ڈھونڈ نکالا۔ دیکھا کہ ابھی اس میں کچھ رمق باقی ہے، انہوں نے اپنا پاؤں اس کی گردن پر رکھ کر کہا:" اواللہ اللہ کے دشمن ! دیکھا، آج اللہ نے تجھے رسوا کرکے چھوڑا۔"
یہ کہہ کر اس کا سر دھڑ سے الگ کردیا اور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں لاکر بولے:
اللہ کے رسول! یہ ہے اللہ کے دشمن ابو جہل کا سر"
آپ ﷺ نے فرمایا: "بڑائی ہے بس اسی ذات کے لیے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔"
آپ ﷺ نے ابوجہل کی تلوار حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کو عطا فرمادی۔
پھر ابوجہل کی لاش کے پاس چل کرگئے اور فرمایا: "یہ اس اُمت کا فرعون تھا۔
دورانِ جنگ نبی اکرم ﷺ اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مجاہدین کی ہمت بڑھانے کے لیے رزمیہ اشعار پڑھ رہے تھے حضور ﷺ ابتدائی مصرعے کا ایک ٹکڑا: " نُفَلقُ هَامًا ۔۔۔" پڑھتے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اسے یوں پورا کر دیتے: مِنْ رِجَالِ أَعِزَّةٍ ... عَلَيْنَا وَهُمْ كَانُوا أَعَقّ وَأَظْلَمَا
جنگ کے دوران معجزاتِ نبوی:
غزوۂ بدر کے دوران صحابہ نے آپ ﷺ کے بعض معجزات بھی دیکھے۔ عین لڑائی کے دوران حضرت عکاشہ بن محصنؓ کی تلوار ٹوٹ گئی۔ آپ ﷺ نے انہیں ایک لاٹھی دے کر فرمایا: "عکاشہ اس سے لڑو ۔ انہوں نے جوہی آپ ﷺ سے وہ لاٹھی لی، وہ ایک تیز دھار تلوار بن گئی ۔ حضرت عکاشہؓ اس سے لڑتے رہے۔ حضرت رِفاعہ بن مالکؓ کی آنکھ میں ایک تیر لگا اور آنکھ پھوٹ گئی ۔ آپ ﷺ نے ان کی آنکھ میں اپنا لعاب دہن ڈال دیا، جس سے آنکھ فورا ٹھیک ہوگئی اور پھر کبھی اس میں کوئی تکلیف نہ ہوئی۔
خونی رشتے قربان:
غزوہ بدر میں خون کے رشتوں کو ایمان کے سامنے قربان کرنے کے عجیب وغریب واقعات پیش آئے تھے، حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے سامنے ان کا باپ آگیا، ایک بار تو چھوڑ دیا مگر دوسری بار ایمانی غیرت نے للکارا، ہر رشتہ بھلا کر باپ کو مار ڈالا۔ حضرت عمر فاروقؓ کی تلوار اپنے ماموں کے خون سے رنگین ہوئی مشرکوں کے ساتھ حضرت صدیقؓ کے بڑے بیٹے عبدالکعبہ بھی تھے جو اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے، اسلام لانے کے بعد یہی عبدالرحن بن ابی بکر کہلائے ۔ جب یہ مسلمان ہوئے تو ایک دن اپنے والد حضرت ابوبکر صدیقؓ سے کہنے لگے:
"اباجی! بدر کی لڑائی میں آپ کئی مرتبہ میری زد میں آئے مگر ہر بار میں نے آپ کو چھوڑ دیا۔
حضرت ابوبکرؓ نے برجستہ جواب دیا: "مگر بیٹا! اگر تم اس دن میری زد میں آجاتے تو میں ہرگز لحاظ نہ کرتا۔
خوشی اور غم ۔ حضرت رقیہ کی وفات :
غزوۂ بدر خوشی کے ساتھ غم کے ملاپ کا ایک عجیب منظر دکھاتا ہے۔ ایک طرف قاصد فتح کی بشارت لے کر مدینہ میں داخل ہورہا تھا اور دوسری طرف رسول الله ﷺ کی صاحبزادی حضرت رقیہؓ دنیا سے رخصت ہورہی تھیں۔ وہ کئی دنوں سے شدید بیمار تھیں۔ حضور اکرم ﷺ نے ان کے خاوند حضرت عثمانؓ کو ان کی تیمار داری کے لیے مدینہ منورہ میں رہنے کا حکم دیا تھا ورنہ وہ خود جہاد میں جانے کے لیے تیار تھے۔ نبی اکرم ﷺ تکبیریں بلند کرتے صحابہ کے ساتھ مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو آپ کی لاڈلی بیٹی کو بقیع کی ٹھنڈی خاک میں دفن کیا جارہا تھا۔

