Ghazwa-e-Banu Mustaliq Aur Saneha-e-Ifk: Munafiqeen Ki Sazish Aur Syeda Ayesha (R.A) Ki Baraat

 غزوۂ بنومُصطلق اور واقعۂ اِفک (شعبان ۵ ھ)


       جمادی الآخرہ ۵ھ میں چاند گرہن ہوا۔ شعبان ۵ھ میں رسول اللہ ﷺ جنوب میں مُرَسِیع کے چشمے کی طرف روانہ ہوئے جہاں بنومصطلق کا سردارحارث بن ابی ضِرار خُزاعی مسلمانوں کے خلاف جتھہ بندی کررہا تھا۔ رسول الله ﷺ حریف کے تیار ہونے سے پہلے وہاں پہنچ گئے۔ ایک تندوتیز جھڑپ کے بعد بنومصطلق نے ہتھیار ڈال دیے، اس موقع پر بنومصطلق کے سردار حارث بن ضرار کی بیٹی جُویریہؓ نے اسلام قبول کرلیا نبی اکرم ﷺ نے اعزاز کے طور پر ان سے نکاح کرلیا اور مسلمانوں نے اس رشتے کے احترام میں بنومصطلق کے تمام قیدیوں کو رہا کردیا اور مال غنیمت واپس دے دیا۔حارث بن ضرار بھی قبیلے سمیت اسلام لے آئے اور پکے مسلمان ثابت ہوئے۔



منافقین کی کارستانی:

        چونکہ اس غزوہ میں لڑائی کا خطرہ کم اور مالِ غنیمت ملنے کا امکان بہت زیادہ تھا اس لیے عبداللہ بن اُبیّ منافقوں کی اچھی خاصی تعداد کے ساتھ لشکرِاسلام میں شامل ہوگیا تھا۔ وہ سمجھ چکا تھا کہ مسلمانوں کو اب کوئی بیرونی طاقت نہیں دبا سکتی، انہیں اندرونی طور پر توڑ کرہی کمزور کیاجاسکتا ہے، اس لیے اس غزوے میں وہ مسلمانوں کے درمیان منافرت کے شعلے بھڑ کانے کا موقع تلاش کرتا رہا۔ مسلمان بنومصطلق کو شکست دے کر ابھی مُریسیع کے چشمے کے کنارے ٹھہرے ہوئے تھے کہ ایک دن چشمے سے پانی بھرنے کے دوران ایک مہاجر اور انصاری میں کسی بات پرجھگڑا ہوگیا۔ ایک نے مدد کے لیے آواز لگائی: اے مہاجرو! " دوسرے نے پکارا: " اوانصاریو! مگر اس سے پہلے کہ بات بڑھتی حضور ﷺ کوخبر ہوگئی، آپ فورًا تشریف لائے اور فرمایا: ” ایسے نعرے چھوڑ دو۔ یہ بدبودار ہیں۔

        رسول اللہ ﷺ کا ارشاد سن کر مسلمان تو ٹھنڈے پڑگئے مگر عبداللہ بن اُبی نے اس واقعے کو اشتعال انگیزی کا ذریعہ بنالیا۔ وہ انصارکومہاجرین کےخلاف بھڑکانے لگا، اس نے کہا: یہ سب تمہارا ہی کیا دھرا ہے ، تم نے انہیں اپنے شہر میں جگہ دی اپنی دولت میں انہیں حصہ دار بنایا۔ ان کے ساتھ تمہارا سلوک اس کہاوت کا مصداق ہے کہ تم اپنے کتے کو کھلا کھلا کر موٹا کرو اور وہ تمہیں ہی کاٹ کھائے۔ اگر تم ان کے اخراجات برداشت کرنا چھوڑدو تو یہ لوگ خود ہی بھاگ جائیں گے پھرمدینہ پہنچ کر شرفاء گھٹیا لوگوں کونکال باہر کریں گے۔“

        ایک کم سن صحابی زید بن ارقمؓ  نے یہ گفتگوسن لی اور رسول الله ﷺ کو سب کچھ بتا دیا۔ حضرت عمرفاروقؓ نے جوش میں آکر اجازت چاہی کہ جاکر عبد اللہ بن اُبی کا سر قلم کردیں مگر رسول اللہ ﷺ نے یہ کہہ کر منع فرما دیا کہ لوگ کہیں گے محمد اپنے ہی آدمیوں کوقتل کردیتا ہے ۔ بہر حال عبد اللہ بن ابی سے باز پرس ہوئی ، اس نے قسمیں کھا کر خود کو معصوم ظاہرکیا اور کہا: " شاید اس بچے کو کوئی غلط فہمی ہوگئی ہے۔ چونکہ یکے بعد دیگرے دو ناخوشگوار واقعات سے لشکر میں بے چینی سی پھیل رہی تھی اس لیے حضور ﷺ نے خلافِ معمول لشکر کوفی الفورمدینہ کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا۔

        یہ سہ پہر کا وقت تھا لشکر پوری رات سفر کرتا رہا۔ صبح تک لوگ بری طرح تھک گئے مگر حضور اقدس ﷺ نے قافلے کور کنے نہ دیا۔ جب دن نکل آیا اور دھوپ میں شدت آگئی تب رسول اللہ ﷺ نے پڑاؤ ڈالا ۔ اس تیزگامی سے لوگ اتنے تھک گئے کہ پڑاؤ ڈالتے ہی سوگئے اور کسی کو کل کے واقعات پر تبصرے کرنے کا موقع ہی نہ مل سکا اور یہی حضور اقدس ﷺ کا مقصد تھا کہ ایک دوسرے کے خلاف بدگوئی اور غیبت کا ماحول پیدا نہ ہونے پائے۔

            لشکر کے مدینہ منورہ پہنچنے سے پہلے دو اور واقعات پیش آئے: ایک یہ کہ ایک رات کو کہیں پڑاؤ کے دوران حضرت عائشہ صدیقہؓ  قضائے حاجت کے لیے قافلے سے دور چلی گئیں، وہاں ان کا ہار جو گلے میں تھا، ٹوٹ کر گر پڑا۔ وہ اسے تلاش کر رہی تھیں کہ قافلے کی روانگی کا وقت ہوگیا اور لوگوں نے ان کے ہودَج کو اٹھا کر اونٹ پررکھ دیا۔ چونکہ وہ ہلکے پھلکے بدن کی تھیں ، اس لیے یہ محسوس کیے بغیر کہ وہ اپنے ہودج میں نہیں ہیں، قافلہ روانہ ہوگیا۔

        جب یہ پڑاؤ کی جگہ واپس پہنچیں تو قافلے کا دور دورتک نام ونشان نہ تھا۔ اُم المؤمنین وہیں ٹھہرگئیں،خوش قسمتی سے ایک صحابی صنوان بن معطلؓ پیچھے آرہے تھے۔ انہوں نے اُم المؤمنین کو اپنے اونٹ پر بٹھالیا اور خود پیدل چلتے ہوئے آپ کو لشکر تک لے آئے۔

        دوسرا واقعہ یہ پیش آیا کہ سورۃ المنافقون نازل ہوئی، جس میں عبداللہ بن ابیّ اور منافقین کا پول کھول دیا گیا۔ قرآن مجید نے ابن اُبی کے وہ گستاخانہ جملے تک نقل کردیے جو زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ تک پہنچائے تھے۔ 

        ابن اُبی کے بیٹے عبداللہؓ کو جو مخلص مسلمان تھے، اپنے باپ کے اس سنگین جرم کا پتہ چلا تو رسول اللہ ﷺ سے آکر اجازت مانگی کہ اپنے باپ کا سرکاٹ لائیں۔ آپ نے منع فرمایا۔ اس کے باوجود وہ غصے اور ندامت کی ملی جلی کیفیت میں تلوار سونت کر مدینہ کے راستے مں کھڑے ہوگئے۔ جب باپ کی سواری آئی تو اسے روک کربولے:

         " میں تمہیں اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک تم اپنی زبان سے نہ کہ دو کہ تم گھٹیا ہو اورمحمد ﷺ معزز ہیں۔"
 
        حضور ﷺ نے دیکھا تو دوبارہ نرمی کی تاکید کی۔ 

سانحۂ اِفک

        مدینہ منورہ پہنچ کر مسلمان اپنی معمول کی زندگی گزارنے لگے۔ نمازیں، تعلیم دین کے حلقے اور دعوتِ اسلام کی سرگرمیاں سب جاری تھیں مگر عبداللہ بن ابی کی  جو بےعزتی ہوچکی تھی اس کے باعث وہ زخمی سانپ کی طرح بل کھارہا تھا۔ تب اسے یہ شیطانی منصوبہ سوجھا کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کے ایک رات لشکر سے پیچھے رہ جانے اور صفوان بن معطلؓ کے ساتھ واپس آنے کو خانۂ نبوت کی توہین کا بہانہ بنایا جائے۔ ابن ابی نے اس شیطانی تدبیر پر عمل کیا اور اس رات کے واقعے کو لے کرحضرت عائشہؓ اور حضرت صفوانؓ پرالزام تراشی شروع کردی ۔ صحابہ کرام کی اکثریت نے اس سے بے زاری ظاہرکی اور اسے ایک گھناؤنی اور جھوٹی تہمت قراردیا، البتہ کچھ سیدھے سادے مسلمانوں نے مان لیا کہ ایسا ہوا ہوگا۔ وہ ان باتوں کو نقل بھی کرنے لگے۔ حضوراکرم ﷺ منافقوں کی لگائی ہوئی اس آگ کو دیکھ کر رنج وغم میں ڈوب گئے ۔ آپ کبھی تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ منافقین آپ کی نرمی ، درگزر اور احسانات کا یہ صلہ دیں گے۔

        رسول اللہ ﷺ نے اپنا غم باٹنے کے لیے صحابہ کرام کو مسجد میں جمع کیا اور وہاں یہ اعلان فرمایا کہ مجھے اپنی اہلیہ اور صحابی صفوان بن معطلؓ پر پورا بھروسہ ہے۔ صحابہ نے بھی ام المؤمنین کی عفت و شرافت پر پورے اعتماد کا اظہار کیا۔ اوس کے سردار سعد بن معاذؓ نے کہا "ایسی باتیں پھیلانے والا اگر اوس کا کوئی شخص ہے تو ہم اس کا سرقلم کردیں گے اوراگرخزرج کا ہے توآپ جو حکم فرمائیں، ہم اس کی تعمیل کریں گے۔"

        خزرج کے سردار سعد بن عُبادہؓ نے جوباقی صحابہ کی طرح اس ساںحے کے باعث جزبات کے اس تلاطم سے گزر رہے تھے، اسے اپنے قبیلے پر طنز تصور کیا اور طیش میں آکر سخت جوابی کلمات کہہ دیے۔ قریب تھا کہ منافقین کی خواہش کےعین مطابق دونوں قبیلوں میں جھگڑا ہوجاتا اور مسلمانوں کی یکجہتی کے پرخچے اڑجاتے، مگر رسول اللہ ﷺ نے صورتحال کو سنبھال لیا اور سرداروں کو ٹھنڈا کرکے کے مسلمانوں کے اتحاد کو برقرار رکھا ۔ آپ ﷺ نے ہفوات بکنے والوں کے سر قلم کرنے کی اجازت اس لیے نہ دی کہ اس گھناؤنے الزام کی صفائی میں آپ کو وحی کا انتظار تھا جو رک چکی تھی۔

        حضرت عائشہؓ کو بہت دنوں بعد سن گن ملی کہ ان کے متعلق کیا کچھ بدگوئی کی جارہی ہے ۔ وہ حضور ﷺ سے پوچنے کی ہمت نہ کرسکیں کیوں کہ آپ ﷺ اپنے دکھ میں ایسے بے کل تھے کہ گھر والوں سے ہنسنا ، بولنا سب چھوٹ گیا تھا۔ آخر حضرت عائشہ صدیقہؓ حضور ﷺ سے اجازت لے کر اپنے میکے چلی آئیں۔

        یہاں والدہ سے تصدیق ہوئی کہ ان کے خلاف کیا طوفان برپا ہے۔ سن کر صدمے سے بستر پر پڑگئیں اور روتے روتے بے حال ہوگئیں۔ آخر ایک ماہ بعد وحی نازل ہوئی۔

 اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور کی سولہ آیات (۱۱ تا ۲۶) نازل فرماکر حضرت عائشہ صدیقہؓ اور حضرت صفوانؓ کی پاک دامنی کی گواہی دی اور آخر میں فرمایا:

أُولَئِكَ مُبَرَّءُوَنَ مِمَّا يَقُولُونَ
"یہ اس تہمت سے پاک ہیں جو (ان کے بارے میں منافق) لوگ کہہ رہے ہیں۔“

        اس طرح منافقوں کی ناپاک سازش ناکام ہوگئی ۔ آسمانی فیصلے نے خانوادہ نبوت پر لگنے والے الزامات کا دفاع کرکے ام المومنین کی شان دو بالا کر دی ۔ علماء اس بات پر متفق ہیں کہ قرآن مجید میں حضرت عائشہؓ کی برات نازل ہونے کے بعد ان پر تہمت لگانے والا بالاتفاق خارج از اسلام ہے؛ کیوں کہ وہ قرآنی آیات کا منکر ہے۔

         انہی آیات میں پاک دامن خواتین اور مردوں پر جھوٹی تہمت کی سزا اسّی کوڑے طے کردی گئی ۔ چنانچہ جن لوگوں نے یہ الزام تراشی کی تھی، انہیں اسّی ، اسّی کوڑے لگائے گئے۔ شریعت میں اسے "حد قذف“ کہا جاتا ہے۔ اسلامی قانون مسلمان مردوزن کی پاک دامنی پر بلا ثبوت انگلی اٹھانے کو قابل سزا قرار دے کر مسلمان کی عزت و شرافت کو وہ تحفظ فراہم کرتا ہے جس کی نظیر دنیا کے کسی معاشرے اور کسی تہذیب اور کسی قانون میں نہیں ملتی ۔ 


        سانحۂ افک میں جہاں حضورﷺ کی بشریت کا پوری طرح اظہار ہوتا ہے، وہیں رسالتِ محمدیہ کی حقانیت بھی انتہائی طور پر واضح ہوجاتی ہے۔ حضور ﷺ حضرت عائشہؓ سے غیرمعمولی تعلق اور محبت کے باوجود اس معاملے میں اپنے اختیار اور مرضی سے وحی نہ لاسکے۔ اگر آپ کو ہرمعاملے پر مطلق اختیارات حاصل ہوتے تو آپ جلد از جلد وحی لاتے ۔ اگر آپ اللہ کی طرح عالم الغیب اور ہر جگہ حاضر و ناظر ہوتے اور آپ کے بارے میں صحابہ کا بھی یہی عقیدہ ہوتا تو پھر اس ساری پریشانی اور بے چینی کا کوئی سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔ مدینہ پر اتنے دنوں تک ایسی سنگین حالت طاری نہ رہتی۔ غیرمسلموں کو سوچنا چاہیے کہ اگر حضور ﷺ ان کے گمان کے مطابق اپنے ذہن سے وحی گھڑ لیتے تھے (نعوذ باللہ) تو پھر اس معاملے میں اتنی تاخیر کیوں کی؟ حضور ﷺ فورًا وحی بناکر سنا دیتے اور معاملہ ختم ہوجاتا۔ مگر ایسا نہ ہوا: کیوں کہ حضور ﷺ سچے نبی تھے۔ وہ وحی تبھی سناتے تھے جب آسمان سے اس کا نزول ہوتا تھا۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic