مشرقی علاقوں کی مہمات ۔ جولان گاہِ جہاد وسیع تر
دھوکہ دہی اور فریب کے ساتھ صحابہ کرام کے قتل کے ان مسلسل واقعات سے بظاہر مسلمانوں کو شدید زخم لگے تھے مگر درحقیقت ایسا کرکے کفار نے بڑی حماقت کا ثبوت دیا تھا۔ ان حرکتوں کے ذریعے انہوں نے خود وہ شاہراہ تعمیر کردیں تھی جس کے ذریعے مسلمان دوردراز کے علاقوں پر یلغار کرسکتے تھے۔ اور بالکل ایسا ہی ہوا۔
حضور ﷺ نے ظالموں کے خلاف قنوتِ نازلہ پر اکتفا نہیں کیا بلکہ سرکش عناصر کو لگام دینے کے لیے فوری طورپر تیزرفتار دستوں کو متحرک کردیا۔ ان مہمات کا مقصد بنولحیان اور اس کے حلیف قبائل(عضل اور قارہ) کے علاوہ رؤسائے مکہ کو بھی مرعوب کرنا تھا جنہوں نے تین صحابہ کو قتل کرنے کے لیے عضل اور قارہ سے خریدا تھا۔
غزوهٔ بنی لِحیان:
آخر رسول اللہ ﷺ نے بذات خود دوسومجاہدین کو لے کر جن میں میں گھڑ سوار تھے، نہایت تیزی کے ساتھ مشرق کی طرف کوچ کیا اور نجد کے علاقے "صخیرات الثمام" تک جاپہنچے۔ عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء کے خون سے ہاتھ رنگنے والے بنولحیان کواس پیش قدمی کی اطلاع ملی تو وہ نہایت سراسیمہ ہوکر اپنی بستیوں سے نکل بھاگے اور پہاڑوں میں روپوش ہوگئے ۔ اس کے بعد حضور ﷺ عُسفان تک گئے جو مکہ سے فقط ۳۶ میل (۵۸ کلومیٹر) دور ہے۔ اس مہم کو غزوۂ بنی لحیان کہا جاتا ہے۔ یہ تیز تر مہم فقط چودہ دن میں مکمل کرلی گئی۔حضرت ابوبکرؓ کی مکہ کے مضافات تک یلغار
اب حضور ﷺ کے حکم پر حضرت ابوبکرؓ دس سواروں کے ساتھ مکہ کی نواحی وادی "غمیم' تک جاپہنچے۔ مکہ والوں کو یہ اطلاع پہنچی تو یہ سوچ کر ان پر خوف طاری ہوگیا کہ مسلمان ان کے مضافات تک یلغار کرسکتے ہیں۔
نجد اور بطنِ عرنہ پر چھاپے:
بعض بدوی قبائل کو یہ گمان ہوگیا تھا کہ مسلمان اُحد میں شکست کھاکر کمزور ہوگئے ہیں۔ چنانچہ بنواسد نے نجد میں اور بنوہُذیل نے مکہ کے قریب بطنِ عرنہ میں جتھہ بندی شروع کردی تھی مگر ابھی وہ پوری طرح تیارنہیں ہوئے تھے کہ حضور ﷺ نے ان دونوں سمتوں میں سرایا بھیج دیے۔ بنواسد مرعوب ہوکر منتشر ہوگئے جبکہ بنوہذیل کا سردار خالد بن سفیان حضرت عبد اللہ بن اُنیسؓ سے جھڑپ میں مارا گیا۔ان مہمات کے اثرات :
ان مہمات کا نتیجہ یہ نکلا کہ غزوۂ اُحد کے بعد مسلمانوں کی طاقت کم ہونے کی بجائے روز بروز بڑھتی دکھائی دی۔ اس سے قبل اسلام کا پرچم حجاز کے ایک محدود علاقے میں لہرا رہا تھا مگر واقعۂ رجیع اور سانحۂ بئرِمعونہ نے مشرقی علاقوں پر یلغار کا جواز پیدا کردیا جس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ۴ اور ۵ ہجری میں کئی سریے بھیجے اور کئی مہمات میں خود قیادت فرمائی۔ ان مہمات نے سرکش قبائل اور خود اہلِ مکہ کو اس حد تک مرعوب کردیا کہ انہیں ایک بار بھی کھل کر مقابلہ کرنے کی جرات نہ ہو سکی۔جہاد کے دوران اسلام کی دعوت :
جہاد کا یہ سفر دعوتِ اسلام کے لحاظ سے بھی مفید رہا۔ حضور ﷺ کی خوش اخلاقی اور رحم وکرم نے ہرجگہ اَن مٹ نقوش چھوڑے۔ نجد سے واپسی کے سفر میں ایک تپتی دوپہرمیں قافلے نے ایسی وادی میں پڑاؤ ڈالا جہاں جابجا کانٹے دار جھاڑیاں تھیں۔ صحابہ کرام سایہ تلاش کرنے کے لیے ادھر اُدھر بکھرگئے ۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی تلوار ایک جھاڑی کی شاخ پر لٹکادی اور خود اس کے نیچے سوگئے ۔ اچانک ایک بدو خلافِ توقع وہاں آن پہنچا۔ اس نے حضور ﷺ کی تلوار میان سے کھینچ لی۔ آہٹ سے حضور ﷺ کی آنکھ کھل گئی۔ دیکھا تو بدو تلوار سونتے کھڑا تھا۔اس نے للکار کر کہا: تمہیں مجھ سے کون بچائے گا ؟ آپ ﷺ نے بڑے اطمینان سے فرمایا: " اللہ "
بدو نے دوبارہ سہ بارہ یہ سوال دہرایا اور آپ ﷺ ہربار یہی جواب دیا۔ بدو پر ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ کے ہاتھ سے تلوار گرگئی۔ حضور ﷺ نے تلوار اٹھالی اور فرمایا: ” اب تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟“
وہ نادم ہوکر کہنے لگا: ”آپ اچھا مواخذہ کرنے والے بن جائیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔“
کہنے لگا: نہیں ، مگر میرا وعدہ ہے کہ نہ آپ سے لڑوں گا اور نہ ہی اس قوم کا ساتھ دوں گا جو آپ سے لڑے۔
اتنے میں صحابہ کرام نیند سے بیدار ہوکر وہاں آگئے ، دیکھا کہ حضور ﷺ نے ایک اجنبی بدو کو پاس بٹھایا ہوا ہے۔ حضور ﷺ نے صحابہ کو پورا قصہ سنایا۔ قدرت کے باجود آپ ﷺ نے اسے سزا نہیں دی اور معاف کردیا۔ اس نے اپنی قوم میں جاکر آپ ﷺ کے اعلی اخلاق کا تذکرہ کیا اورکہا میں بہترین انسان سے مل کر آرہا ہوں۔
یہودیوں کے خلاف دوسری مہم : غزوۂ بنونضیر
نجد کی مہم سے واپسی پر بیرونی خطرات کا زور کم ہوچکا تھا۔ اب حضور ﷺ نے اندرونی خطرات کی سرکوبی کے لے مدینہ کے جنوب میں آباد ہونضیر کے یہودیوں کو جلا وطن کرنا ضروری سمجھا۔ وجہ تھی کہ میثاقِ مدینے کی رو سے احد کی لڑائی میں یہودی مسلمانوں کا ساتھ دینے کے پابند تھے۔ مگر انہوں نے غیرجانب دار رہ کر معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ یہ حضور ﷺ کی بالغ نظری تھی کہ آپ نے مختلف یہودی قبائل کے خلاف ایک ساتھ کاروائی نہیں کی بلکہ ایک کے بعد ایک کو موقع بموقع سزا دی اور وہ بھی جب جب ان کی طرف سے عہد شکنیاں اور شرانگیزیاں سامنے آئیں۔ پہلے بنوقینقاع نے ایک مسلمان خاتون کی عزت پرہاتھ ڈالنے کا گھناؤنا جرم کیا تھا، اس لیے انہیں موقع پر سزا دے دی گئی۔
بونضیر کا رئیس سلام بن مِشکَم قریشِ مکہ سے ساز باز کرتا رہا تھا مگر حضور ﷺ تحمل سے کام لیتے رہے تا ہم اس نے نا قابل معافی جسارت کی ۔ حضور ﷺ کو کسی مقدمے کے سلسلے میں اپنے ہاں لایا اور گفتگو کے دوران آپ کے قتل کی سازش کی ۔ راز فاش ہوجانے پر آپ ﷺ نے آنا فانًا مجاہدین کوطلب کیا اور ۱۲ ربیع الاول ۴ ہجری کو بنونضیر کے قلعوں کا محاصرہ کرلیا۔ ۲۳ دن بعد بنونضیر نے ہتھیار ڈال دیے۔ انہیں جلاوطنی کی سزادی گئی، ان میں سے کچھ مدینہ کے شمال مشرق میں ۹۰ میل (۱۴۴ کلومیٹر) دور واقع خیبر کا رخ کیا اور کچھ سرحداتِ شام چلے گئے۔
غزوۂ بدرالموعد (ذو القعدہ ۴ھ)
غزوہ بنی لحیان اور غزوہ بنونضیر سے قریش پر اس قدر ہیبت طاری ہوئی کہ وہ مسلمانوں کو ایک بڑی طاقت تصور کرنے لگے ۔ ذوالقعدہ ۴ھ میں جب نبی اکرم ﷺ قریش کے اس چیلینج کے جواب میں جو انہوں نے احد کی لڑائی کے اختتام پر دیا تھا، ڈیڑھ ہزار صحابہ کے ساتھ میدانِ بدر میں پہنچے، تب بھی قریش میدان میں اترنے کی جسارت نہ کرسکے اوران کا لشکرمرّالظھران تک آکرواپس ہوگیا مسلمان آٹھ دن تک انکا انتظار کرتے رہے مگر قریش کو مقابلے پر آنا تھا نہ آئے مسلمان اپنے تجارتی سامان بھی لائے تھے۔ وہ بدر کے بازار سے خوب نفع کما کر واپس ہوئے۔
ابورافع کا قتل (ذوالحجہ ۴ ہجری)
خیبر کے یہودی رئیس ابورافع سلام بن ابی الحُقیق نے اپنے قلعے کو نئے جوش و خروش سے مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا مرکز بنالیا ۔ یہ خبریں مدینہ پہنچتی رہیں۔ آخر حضور ﷺ کے حکم پرعبد اللہ بن عتیکؓ چند رفقاء کے ساتھ اسے قتل کرنے گئے ۔ شام کو وہ قلعے کے باہر اس طرح بیٹھ گئے جیسے تضائے حاجت کے لیے باہر نکلے ہوں ۔ دربان نے دروازہ بند کرنے سے قبل انہیں قلعے کا باسی سمجھ کر پکارا کہ اندر آجاؤ ۔ یہ اندر چلے گئے اور کسی گوشے میں چھپے رہے۔
رات کو موقع پاکر ابورافع کی خواب گاہ تک پہنچے اوراسے قتل کرکے بیرونی زینے سے چھلانگ لگا دی۔ گرنے سے ان کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ باقی ساتھی انہیں مدینہ لائے ۔ حضور ﷺ نے پاؤں پر دستِ مبارک پھیرا تو زخم کا نشان تک نہ رہا۔
شمال کی طرف مہمات(۵ھ)
سن ۵ ہجری میں رسول اللہ ﷺ نے شمال کی طرف بھی مہمات بھیجنے کا آغاز کردیا۔ اس سلسلے کی پہلی مہم حضرت زید بن حارثہ کی قیادت میں شام کی شاہراہ پر واقع وادی القری کی طرف بھیجی گئی۔ یہاں کے سردار بنید بن عارض کی ڈاکہ زنی نے شام کی شاہراہ کو غیرمحفوظ بنا دیا تھا۔ زید بن حارثہ نے پانچ سو سواروں کے ساتھ اس کے خلاف لشکر کشی کی۔ اس جھڑپ میں بنید مارا گیا اور اس کا مال ومتاع مسلمانوں کے ہاتھ آگیا۔
غزوهٔ دومة الجندل
۲۵ ربیع الاول ۵ھ کو حضور ﷺ خود ایک طویل سفر پر نکلے اور شمال میں دومۃ الجَندل کے مضافات تک یلغار کی جو دِمشق سے صرف پانچ منازل دور تھا اور عراق ، شام اور عرب کے تجارتی قافلوں کے لیے چوراہے کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس علاقے کے مقامی دیہاتی جنہیں "نبطی" کہا جاتا تھا ، شام سے ستو اور روغن زیتون سمیت متعدد اشیائے خوردونوش لے کر حجاج آیا کرتے تھے مگر ان دنوں رومی اپنی فوجیں سرحدوں پر لارہے تھے اور نبطیوں کو تجارت سے روک رہے تھے جس کا مدینے کی معیشت پر منفی اثر پڑرہا تھا۔ یہ بھی سننے میں آرہا تھا کہ رومی مدینہ کی طرف پیش قدمی کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ ایسے میں ضروری تھا کہ خود آگے بڑھ کر رومیوں کو جزیرۃ العرب کی سرحدوں پر چھیڑ چھاڑ سے منع کیاجائے۔
حضور ﷺ فقط ایک ہزار مجاہدین کو لے کر اس مہم پرنکلے۔ پیش قدمی کو خفیہ رکھنے کے لیے نہ صرف غیرمعروف راستے اختیار کیے گئے بلکہ سفربھی فقط رات کو کیا جاتا تھا۔ بنوعُزرہ کا ایک رہبر مسلمانوں کی رہنمائی کررہا تھا۔
آخر حضور ﷺ دشمن کے سرپر جا پہنچے اور اچانک ان کے مویشیوں اور گلہ بانوں پر چھاپہ مارا۔ رومی اس حملے کی خبر سنتے ہی اپنا پڑاؤ چھوڑکر بھاگ نکلے۔ حضور عﷺ نے آس پاس کی بستیوں میں چھوٹے چھوٹے دستے بھیج کر ان سے اطاعت کا وعدہ لیا اور چند دن قیام کے بعد واپس کوچ کردیا کیوں کہ پیچھے مرکز کی دیکھ بھال بہت اہم تھی۔ ۲۰ ربیع الآخر کو حضور ﷺ واپس مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ یہ حضور ﷺ کی زندگی کا سب سے طویل اور تیزترین سفر تھا۔ اس غزوے نے نہ صرف جزیرۃ العرب کے بالائی علاقوں تک اسلام کی دھاک بٹھادی بلکہ عراق کے فارسی مرزبانوں اور شام پرراج کرنے والے بازنطینی رومی حکام کو بھی یہ احساس دلایا کہ عرب میں عنقریب مسلمانوں کا سکہ چلنے والا ہے۔"

