انفرادی مقابلے
جنگ اس طرح شروع ہوئی کہ کفار کی صفوں سے عمر رسیدہ عقبہ بن ربیعہ جو لشکر کا سردار تھا، اپنے بھائی شیبہ اور بیٹے ولید کے ساتھ میدان میں نکلا ، تینوں نامور سپاہی تھے۔ انہوں نے آتے ہی للکارا : "اے مسلمانو! کوئی ہم سے مقابلہ کرنے والا ہے تو آجائے ۔ یہ سنتے ہی تین انصاری نوجوان : مُعوّذ ، عوف اور عبد الله بن رواحہ رضی اللہ عنہم آگے بڑھے۔
عقبہ نے پوچھا: ” تم کون ہو؟“
انہوں نے تعارف کرایا تو عقبہ نے کہا: "ہمیں تم سے کوئی غرض نہیں،ہماری ٹکر کے لوگ مقابلے پر بھیجو۔"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود ٹیلے سے جنگ کی کمان کر رہے تھے، آپ نے ان تینوں کو واپس آنے کا حکم دیا اور آواز لگائی: اے عبیدہ بن حارث ! اٹھو، اے حمزہ ! اٹھو، اے علی ! اٹھو۔
یہ تینوں قریشی تھے اور جنگجوئی میں نامور عبیدہ بن حارثؓ یہ پینسٹھ سال کے تھے، حمزہؓ ستاون برس کے اور علیؓ صرف پچیس سال کے ۔ اب مقابلہ بالکل کانٹے کا تھا؛ کیوں کہ ادھر عتبہ بوڑھا تھا، شیبہ اس سے کچھ کم عمر اور ولید بالکل جوان ۔ تینوں صحابی اپنی صف سے نکل کر ان کے سامنے پہنچے۔ انہوں نے چہرے اور سر ڈھانپے ہوئے تھے اس لیے عتبہ نے پوچھا۔ ” تم کون ہو؟ انہوں نے اپنے نام بتائے ، تو وہ بولا: ” ہاں تم لوگ ہمارے برابر کے ہو۔“
حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ عتبہ بن ربیعہ سے نبرد آزما ہوئے ، حضرت حمزہؓ اپنے ہم عمر شیبہ پر پل پڑے اور حضرت علیؓ نے اپنے نوجوان مقابل ولید پر حملہ کیا۔ حضرت حمزہ رضی اللہ نے شبیہ کو وار کرنے کا موقع بھی نہ دیا اور ایک ہی ضرب سے اس کو قتل کردیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے ولید نہ ٹک سکا اور مارا گیا، مگر حضرت عبیدہ بن حارثؓ اور یہ دونوں بہت پرانے شمشیر زن تھے، اس لیے دیر تک لڑتے رہے۔ دونوں کی تلواریں دیر تک ٹکراتی رہیں اورحضرت عبیدہؓ لڑتے لڑتے زخمی ہوکر گر گئے۔ حضرت حمزہ اور حضرت علیؓ نے انہیں گرتے دیکھا تو عتبہ کی طرف لپکے اور اس کا کام تمام کردیا۔ پھر وہ عبیدہؓ کواٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے۔
حضرت عبیدہ رضی اللہ نے آپ کے قدموں پر رخسار رکھتے ہوئے سوال کیا: یا رسول اللہ! کیا میں شہید ہوں؟
رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " میں گواہی دیتا ہوں کہ تم شہید ہو ۔ وہ کہنے لگے " آج ابوطالب زندہ ہوتے تو مانتے کہ ان کے اشعار کا پورا مستحق میں ہوں:
وتُسلِمہ حتى نُصْرَعُ حَوْلَهُ
وَ تَذْهَلُ عَنْ أَبْنَائِنَا وَ الْحَلائِل
"محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوکسی کے حوالے نہیں کریں گے، چاہے ہمیں موت کے گھاٹ اتار دیا جائے ،
ہم ان کے لیے اپنے بیٹوں اور بیویوں کو بھول جائیں گے"۔
گھمسان کی جنگ ۔ عمیر بن حمام کا شوق شہادت:
عقبہ، شیبہ اور ولید کے مارے جانے کے بعد گھمسان کی جنگ شروع ہوئی ۔ مسلمانوں میں سے سب سے پہلے حضرت عمرؓ نے کے غلام مِھجَعؓآگے بڑھے اور شہید ہو گئے ۔ ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو جوش دلاتے ہوئے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے جو شخص بھی آج ان مشرکوں کے مقابلے میں صبر اور حوصلے سے لڑے گا اور پیٹھ نہیں پھیرے گا، اسے اللہ تعالی جنت میں جگہ عطا فرمائیں گے۔"
کچھ صحابہ محفوظ دستے کے طور پر پچھلی صف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب موجود تھے، ان میں عمیر بن حمامؓ بھی تھے جو ہاتھ میں کچھ کھجور لیے کھا رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ سنتے ہی وہ بول اٹھے: ” کیا میں ان میں شامل ہوسکتا ہوں ؟ فرمایا " تم انہی میں سے ہو۔"
وہ بولے ” واہ واہ تو میرے اور جنت کے درمیان اتنا سا فاصلہ ہے کہ کوئی مجھے قتل کر دے۔ یہ کہ کر کھجوریں پھینک دیں اور تلوار سونت کر دشمنوں کی طرف دوڑے لڑتے لڑنے کئی کو قتل کیا اور آخرخود بھی شہید ہوگئے۔
انصاری نوجوانوں کا جذبہ جہاد۔ ابو جبل واصل جہنم
جنگ میں انصاری نوجوانوں کا جوش وخروش قابل دید تھا، دو انصاری بھائیوں : معاذ بن عفراءؓ اور معوذ بن عفراءؓ نے جو حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ کے پاس کھڑے تھے، ان سے پوچھا " چچا! کیا آپ ابو جبل کو پہچانتے ہیں؟ انہوں نے جواب میں کہا ہاں خوب پہچانتا ہوں تمہیں اس سے کیا کام؟
بولے سنا ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتا ہے اللہ کی قسم اگر وہ نظر آگیا تو بچ کر نہیں جاسکتا ۔ اسی وقت ابوجہل گھوڑے پر سواراپنے ساتھیوں کو جوش دلاتا ادھر سے گزراہ عبد الرحمن بن عوفؓ نے فورا کہا۔
"وہ دیکھو، وہ رہا ابوجہل"
یہ سنتے ہی دونوں لڑکے پیدل ابوجہل کی طرف لپکے۔ اس دوران ایک اور انصاری معاذ بن عمرؓ جو پہلے سے ابو جہل کی تاک میں تھے، اس پر جھپٹ پڑے اور اس کی پنڈلی پر تلوار کا ایسا وار کیا کہ وہ کٹ کر گرگئی ۔ ابو جہل کے بیٹے عکرمہ نے باپ کوزخمی ہوتے دیکھا تو معاذ بن عمرؓو کے کندھے پر تلوار کا وار کیا جس سے ان کا بازوکٹ گیا لیکن تھوڑی سی کھال اس سے جڑی رہ گئی جس سے بازو لٹکنے لگا۔ حضرت معاذ بن عمروؓ کو اس بازو کی وجہ سے لڑنے میں مشکل ہوئی تو اس پر اپنا پاؤں رکھ کر جھٹکا دیا جس سے وہ کھال بھی الگ ہوگئی اور انہوں نے بازو کو پھینک دیا ادھر معوذؓ نے ابوجہل پر دوسرا حملہ کرکے اسے شدید زخم کردیا اور خود بھی لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔
ابو جہل خون میں لت پت ہوکر گھوڑے سے نیچے گر چکا تھا ۔ معاذ بن عفراءؓ اور معاذ بن عمروؓ نے خیال کیا کہ ابوجہل مرچکا۔ دونوں دوڑے دوڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور ماجرا سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ہوچھا تم میں سے کس نے اسے مارا ہے؟“ دونوں میں سے ہر ایک نے بیک آواز کہا: میں نے “
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے تلواریں صاف کرلیں ۔ جواب دیا: ” جی نہیں ۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی تلواروں پر لگا خون دیکھا تو معاذ بن عمروؓ کی تلوار پر لگا خون گواہی دے رہا تھا کہ مہلک وار انہوں نے کیا ہے۔ تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حوصلہ افزائی کے لیے فرمایا ” تم دونوں نے اسے مارا ہے ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ ابو جہل کے جسم کے کپڑے اور زرہ بکتر معاذ بن عمروؓ کو دیے جائیں۔
مشرکین کو شکست فاش:
جنگ کے انتہائی مرحلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ چھپر سے اتر کر معرکے میں شریک ہوگئے۔
حضرت علیؓ کہتے ہیں کہ جنگ بدر کے شدید لمحات میں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اوٹ لے رہے تھے۔ جب جنگ کے شعلے اپنی انتہائی حد کو پہنچے تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹھی میں کچھ مٹی اٹھائی اور دشمن کی طرف پھینکتے ہوئے کہا:
یہ چہرے خوار ہوجائیں ، اے اللہ ! ان کے دلوں کو خوف سے بھر دے ، ان کے قدم اکھاڑ دے۔“ اس کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو فیصلہ کن حملے کا حکم دیا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى
اور آپ نے (خاک کی جومٹھی) پھینکی تھی ، وہ آپ نے نہیں اللہ نے پھینکی تھی ۔
مردانہ طور پر کفار میں سے ہر ایک کی آنکھ میں یہ مٹی جاپڑی ، ان میں کھلبلی مچ گئی۔ ادھر صحابہ کرام نے زور دار حملہ مشرکین شکست کھا کر بھاگ نکلے ۔ مسلمانوں نے پیچھا کرتے ہوئے بھی بہت سوں کو قتل اور گرفتار کیا

