غزوۂ بدر (رمضان ۲ھ /مئی ۶۲۲ ء)
ٍ حضرت عبداللہ بن جحشؓ کے سریے میں پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ قریش کے خلاف تلوار چلی اور ان کا آدمی مارا گیا۔ اس سے قریش کے رؤسا کو اپنی قوم میں اشتعال پھیلانے کا جو موقع ملا انہوں نے اسے ضائع نہ کیا اورمسلمانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر جنگ کی تیاری شروع کردی ، جنگ کے لیے سب سے اہم چیز عسکری اخراجات تھے۔ قریش نے اپنا سارا سرمایہ دے کر ابوسفیان کی قیادت میں ایک بڑا تجارتی قافلہ شام کی طرف روانہ کیا تاکہ اس کے منافع سے سامانِ جنگ تیار کیا جائے۔
یہ قافلہ جاتے ہوئے مسلمانوں کی دسترس سے بچ کر نکل گیا تھا۔ واپسی میں رسول اللہ ﷺ کے مخبر اس کی گھات میں تھے۔ رسول اللہ ﷺ کو بروقت اطلاع مل گئی اور آپ ۸/ رمضان المبارک سن ۲ ہجری کو مہاجرین و انصار کے ان حضرات کو جو فوری طور پر میسر آسکے ساتھ لے کر اس قافلے کو روکنے کے لیے بذات خود روانہ ہو گئے۔
بچوں کا شوق جہاد
رسول الله ﷺ مدینہ منورہ سے نکلے تو مدینہ سے ایک میل (۶۰ اکلومیٹر) دور "بئر ۔۔۔" کے پاس پڑاؤ ڈالا سب کو دیکھا بھالا۔ آپ کو ان میں کچھ کم عمرلڑ کے نظر آئے جو جہاد کے ذوق وشوق میں ساتھ میں آئے تھے۔ آپ نے انہیں واپس جانے کاحکم فرمایا۔ ان بچوں میں اسامہ بن زید، رافع بن خدیج، براء بن عازب، زید بن ارقم اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم شامل تھے۔ انہی میں سولہ سال کے عمیر بن ابی وقاصؓ بھی تھے جو حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے چھوٹے بھائی تھے، وہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے پیش ہونے سے چھپتے پھر رہے تھے ، ان کے بھائی سعدؓ نے دیکھا تو پوچھا کیا ہوا؟ کہنے لگے ڈرتا ہوں کی نبی اکرم ﷺ مجھے دیکھ لیں تو چھوٹا سمجھ کر واپس نہ کردیں، میں اللہ کے راستے میں نکلنا چاہتا ہوں ، شاید اللہ تعالیٰ مجھے شہادت عطا فرمادے ۔ انہیں رسول اللہ ﷺ کے سامنے لایا گیا۔ آپ نے حسب معمول انہیں بھی واپس جانے کا حکم دیا جسے سن کر وہ رونے لگے ۔ آخر آپ ﷺ نے ان کا جذبہ دیکھ کر اس مہم میں شرکت کی اجازت دے دی۔ مسلمانوں کی تعداد تین سو تیرہ تھی لشکر میں گھوڑے صرف دو اور اونٹ ستر تھے۔ ایک ، ایک اونٹ پر تین، تین افراد باری باری سوار ہوتے۔
قافلے کی جگہ مکہ کے لشکر سے سامنا:
ادھر قریشی قافلے کے سردار ابوسفیان بن حرب کو مسلمانوں کی آمد کی خبر ہوگئی تھی ، اس لئے وہ عام راستہ چھوڑ کر سمندر کے کنارے کنارے قافلے کو تیزی سے لے چلے اور ساتھ ہی ایک سوار کو مکہ کی طرف دوڑایا تاکہ قریش مدد کو پہنچیں اور اپنے تجارتی قافلے کی حفاظت کریں۔ قریش پہلے ہی مدینہ پر حملے کا بہانہ ڈھونڈ رہے تھے، اس خبر کا مکہ میں پہنچنا تھا کہ فورًا نو سو پچاس مسلح افراد کا ایک لشکر جن میں دوسو گھڑ سوار اور سات سو اونٹ سوار تھے، مقابلے کے لیے نکل کھڑا ہوا۔ لشکر میں قریش کے بڑے بڑے سردار شریک تھے۔ چھ سو افراد زرہ پوش تھے۔
رسول اللہ ﷺ کو اطلاع پہنچی کہ تجارتی قافلہ بچ کر نکل گیا ہے اور قریش کا مسلح لشکر مقابلے کے لیے آیا چاہتا ہے تو آپ ﷺ نے صحابہ سے مشورہ کیا، حضرت ابوبکر صدیقؓ اور دوسرے مہاجرین نے اپنی جان نچھاور کرنے کا عزم ظاہر کیا مگر آپ ﷺ انصار کا جذبہ دیکھنا چاہتے تھے ۔ انصار آپ ﷺ کو اس وعدے پر لائے تھے کہ وہ آپ ﷺ کی حفاظت کریں گے جس کا مفہوم مدینہ کی حدود میں تحفظ فراہم کرنا تھا۔ کھلے لفظوں میں یہ معاہدہ نہیں تھا کہ اگر مدینہ سے باہر قریش سے جنگ ہوئی تو انصار اس وقت بھی مدد کے پابند ہوں گے، اس لیے آپ انصار کی رائے کے منتظر رہے۔ قبیلۂ اوس کے سردار سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ آپ کی منشا سمجھ گئے اور اُٹھ کر کہنے لگے۔
آپ شاید ہماری رائے جاننا چاہتے ہیں۔ اللہ کے رسول ! آپ جس سے چاہیں صلح کریں ، جس نے چاہیں لڑیں ۔ ہم آپ پر ایمان لاچکے ہیں ۔ اللہ کی قسم! آپ فرمائیں تو ہم سمندر میں کود پڑیں۔
ایک اور انصاری حضرت مقدادیؓ نے عرض کیا:
یا رسول اللہ ! ہم بنی اسرائیلی نہیں جنہوں نے موسیٰؑ کو کہہ دیا تھا کہ جاؤ تم اور تمہارا خدا لڑو۔ نہیں ، ہم تو آپ کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے سے لڑیں گے۔
قریش کا لشکر بدر کی طرف بڑھ رہا تھا جو مدینہ سے ۷۰ میل (۱۲۰ کلومیٹر) جنوب میں ایک وادی ہے ۔ مسلمان بھی اسی طرف روانہ ہوگئے۔ لشکرِ اسلام کا جنگی پرچم سفید رنگ کا تھا جو حضرت مصعب بن عمیرؓ نے تھاما ہوا تھا۔ نبی اکرم ﷺ کے آگے آگے دو سیاہ رنگ کے جھنڈے تھے ، ایک حضرت علیؓ کے ہاتھ میں تھا اور دوسرا حضرت سعد بن معاذؓ کے پاس۔
یہاں قریش کے بعض غلام جو پانی کی تلاش میں نکلے تھے صحابہ کے ہاتھ آگئے۔ وہ ان کو مارپیٹ کر قریش کی تعداد معلوم کرنے لگے تو نبی اکرم ﷺ نے منع فرمادیا۔ آپ نے خود ان سے تفتیش شروع کی اور پوچھا: قریش روزانہ کتنے اونٹ ذبح کرتے ہیں؟ کہنے لگے: "نو"
رسول اللہ ﷺ نے انہیں چھوڑ دیا اور صحابہ سے فرمایا : دشمن کی تعداد نوسو سے ایک ہزار کے درمیان ہے۔ یہ رسول اللہ ﷺ کی فراست اور ذہانت تھی ، عام طور پر ایک اونٹ نوے سے سو آدمیوں کو کافی ہوجاتا تھا نبی ﷺ نے فورا حساب لگایا کہ قریش کتنی تعداد میں ہوسکتے ہیں، جو بالکل درست تھا، وہ نوسو پچاس تھے۔
قریش کا لشکر پیش قدمی کرتا ہوا میدان بدر کے دوسرے سرے تک پہنچ گیا جہاں پانی قریب تھا۔ مسلمانوں نے پہلے میدان کے اس کنارے ایسی جگہ پڑاؤ ڈالا تھاجہاں سے پانی کئی میل دور تھا مگر پھر ایک صحابی حضرت حباب بن منذرؓ کے مشورے پر رسول اللہ ﷺ نے پانی کے چشمے کی طرف بڑھ کر اس کے قریب خیمے لگائے، سات ہی اللہ تعالٰی نے بارش نازل فرمادی جس سے مسلمان خوب سیراب ہو گئے یہاں کی ریتیلی زمین پختہ ہوگئی۔ یہی بارش قریش کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی؛ کیوں کہ ان کے پڑاؤ میں کیچڑ اور پھسلن پیدا ہوگئی۔
جمعه ۷ا رمضان ۲ ہجری ( ۲۵ مئی ۶۲۴ء) کا سورج طلوع ہوا تو قریش اپنی جنگی تیاری مکمل کرچکے تھے ۔ اور نبی اکرم ﷺ مسلمانوں کی صفیں درست کر رہے تھے، حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے مشورے سے آپ ﷺ کے لیے ایک ٹیلے پر کھجور کی شاخوں اور پتوں سے ایک سائبان بنا دیا گیا تا کہ آپ وہاں تشریف رکھیں اور پورے میدانِ جنگ کا معائنہ کرکے احکامات دیتے رہیں۔ پیچھے تیز رفتارسواریاں بھی رکھی گئی کہ خدانخواستہ شکست ہوجائے تو مدینہ کی طرف بچ نکلنے کی صورت باقی رہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نبی اکرم ﷺ کے محافظ مقرر ہوئے۔
صبح سویرے قریش کا لشکر سامنے آگیا اور کچھ فاصلہ چھوڑ کر صف آرا ہوا۔ یہ اسلام اور کفر کا پہلا اور فیصلہ کن معرکہ تھا، ایک طرف تین سو تیرہ مسلمان تھے جن کا سامانِ جنگ بھی کم تھا۔ دوسری طرف تین گنا کفار بہترین اسلحے کے ساتھ موجود تھے۔ اس موقع پر نبی کریم ﷺ گڑگڑا کر اللہ سے دعائیں کر رہے تھے، آپ فرمارہے تھے: ” اے اللہ! اگر آج مومنوں کی یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو پھر تا قیامت روئے زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں رہے گا۔
آپ ﷺ اتنی بے تابی سے دعافرما رہے تھے کہ آپ ﷺ کی چادر شانہ مبارک سے بار بار سرک جاتی تھی ۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ چادر درست کرتے اور تسلی دیتے " اللہ کے رسول ! آپ اپنے رب سے خوب مانگ چکے، اس نے آپ سے جو وعدہ فرمایا ہے، وہ ضرور پورا ہوگا، اللہ آپ کی ضرور مدد کرے گا اور آپ کو فتح مند فرمائے گا۔
دو صحابی عین اسی وقت لڑائی میں شرکت کے لیے پہنچے مسلمانوں کو بڑی مسرت ہوئی؛ کیوں کہ اس وقت مسلمانوں کو اپنی عددی کمی کا شدت سے احساس ہو رہا تھا، ایسے میں اگر ایک شخص بھی مزید پہنچ جاتا تو غنیمت تھا، مگر آنے والوں نے بتایا " راستے میں ہمیں کفار نے روک لیا تھا اور کہا تھا تم محمد ﷺ کی امداد کے لیے جارہے ہو۔ ہم نے بادل نخواستہ کہا کہ ہم لڑائی میں شرکت کے لیے نہیں جارہے،انہوں نے ہم سے یہ وعدہ لے کر چھوڑا کہ ہم جنگ میں شریک نہیں ہوں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے سنا تو دونوں کو لڑائی میں حصہ لینے سے روک دیا اور فرمایا:
"ہم ہرحال میں وعدے کی پابندی کریں گے ہمیں بس اللہ کی مدد کافی ہے"۔
یہ وعدے کی پابندی کی ایسی مثال ہے جو پیغمبر ہی پیش کر سکتے ہیں۔

