سریہ عبد اللہ بن جحش رضی اللہ عنہ
جمادی الآخر سن ۲ ہجری کے اواخر میں آنحضرت ﷺ نے قریش کی جنوبی تجارت کو جو یمن کی طرف تھی، غیر محفوظ کرنے کے لیے ایک غیر معمولی اقدام کیا۔ آپ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن جحشؓ کو بارہ مہاجرین پر امیر بناکر ایک خط دیا اورفرمایا " دو دن کے سفر کے بعد اسے کھولنا ۔ دودن بعد انہوں نے خط کھول کر دیکھا تو لکھا تھا ” مقامِ نخلہ میں جاکے ٹھرو اور قریش کی نقل و حرکت دیکھو۔ اتنی دور دراز کا سفر وہ بھی عین دشمن کے علاقے میں نہایت خطرناک تھا۔ اس لیے حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے مکتوب پڑھنے کے بعد ساتھیوں کو کہا: ” فقط وہ میرے ساتھ چلے جسے شہادت کی تمنا ہو۔ مگر اس کے باوجود کوئی پیچھے نہ رہا۔
یہ جماعت وہاں پہنچ گئی، تب قریش کا ایک چھوٹا سا قافلہ چمڑا اور کشمش لیے سامنے سے گزرا۔ اس وقت رجب کا چاند نکل چکا تھا جوان مہینوں میں سے ہے جن میں اہل عرب کے ہاں لڑنا بھڑنا حرام تھا اور اسلام میں بھی اس وقت یہی حکم تھا۔ مگر صحابہ سمجھے کہ آج جمادی الآخرہ کی آخری تاریخ ہے۔ چنانچہ انہوں نے حملہ کردیا جس میں قافلے کا سردار عمرو بن حضرمی مارا گیا، دو آدمی گرفتار ہوئے اور خاصًا مال غنیمت ہاتھ آیا۔ مہم واپس آئی تو حضور ﷺ نے فرمایا میں نے رجب میں لڑنے کا حکم نہیں دیا تھا ۔ آپ نے قیدیوں اور مال غنیمت کو جوں کا توں مکہ واپس بھیج دیا۔
عمرو بن حضرمی جو اس واقعے میں قتل ہوا تھا، قریش کا نامور سردار تھا، اس کے مارے جانے پر قریش بہت طیش میں آئے ، انہوں نے مشہور کر دیا کہ مسلمانوں نے حرمت والے مہینوں میں بھی جنگ کو جائز مان لیا ہے۔
اس پروپیگنڈے کے جواب میں آیت يَسْتَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ نازل ہوئی، جس میں بتادیا گیا کہ مسلمانوں کی اس خطا کی بہ نسبت کفار کی بدعقیدگی ، کفروشرک اور ظلم وستم کے جرائم کہیں زیادہ سخت ہیں۔ اپنی ان بدترین حرکات کو بھول کر وہ مسلمانو کو محض ایک غلطی پر مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتے۔
کعبہ قبلہ قرار پایا
مسلمان اب تک بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھا کرتے تھے مگر حضور ﷺ کی دلی خواہش تھی کے نماز کے لیے قبلہ کعبۃ اللہ کو بنایا جائے ، کیوں کہ اس مرکز سے ہزاروں برس پہلے توحید کا پیغام جاری ہوا اوراللہ کا پہلا گھر یہی تھا جس کی عزت و حرمت تمام عبادت گاہوں سے بڑھ کر تھی ۔ آخر ہجرت کے ایک سال چار ماہ بعد ۱۵شوال ۲ ہجری کو اللہ تعالی کی طرف سے حضورﷺ اور تمام مسلمانوں کو کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ یہودیوں نے اس پر جو جواعتراضات کیے سورۃ البقرہ میں ان کے دندان شکن جواب دے دیئے گئے۔
صوم عاشوراء:
مکہ میں مشرکین بھی یوم عاشوراء ( دس محرم ) کا روزہ رکھتے تھے اور اس دن کعبہ کو نیا غلاف پہنایا جاتا تھا۔اسلام میں دس محرم کا روزہ فرض قرار دیا گیا اور مسلمان اس کا پورا اہتمام کرتے رہے۔
حضور ﷺ جن دنوں مدینہ تشریف لائے تو یہاں یہود کو بھی دس محرم کا روزہ رکھتے دیکھا۔ وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا: ” یہ مبارک دن ہے جس میں اللہ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن ( فرعون ) سے نجات دی پس موسیؑ نے روزہ رکھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : میں تمہاری بہ نسبت موسیٰؑ سے تعلق کا زیادہ حق دار ہوں۔
آپ نے حسب معمول اس دن روزہ رکھا اور مسلمانوں کو بھی اس کا حکم دیا۔
مستشرقین کا یہ اعتراض بالکل لغو ہے کہ حضور ﷺ نے یہود کی پیروی میں یہ روزہ رکھا۔ در حقیقت یہ روزہ مسلمان مکہ میں بھی رکھتے تھے۔ یہاں فقط یہ بتایا گیا تھا کہ حضرت موسیٰؑ کے اصل پیرو کار ہم ہیں نہ کہ تم۔
رمضان کے روزوں کی فرضیت
ہجرت کے دوسرے سال ماہ شعبان میں ماہ رمضان کے روزوں کی فرضیت کا حکم نازل ہوا۔ عاشوراء کے روزے کی حیثیت اب نقل کی رہ گئی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو چاہے رکھے، جو چاہے نہ رکھے۔
البتہ آپ ﷺ نے رمضان کے روزوں کی سخت تاکید فرمائی اور اس کی اہمیت اور فضیلت اچھی طرح واضح فرمائی۔ آپ فرماتے تھے: ” جو شخص ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے گا اور اس میں تراویح کا اہتمام کرے گا، اس کے تمام گزشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔
رمضان کے روزوں کی فرضیت اللہ کی محبت میں ہر محبوب چیز کو ترک کر دینے کی عملی مشق تھی۔ یہ روح کی پاکیزگی، دل کی صفائی اور اعضاء کو گنا ہوں سے بچانے کی تربیت تھی۔ رمضان اور اس کے روزوں کی جو فضیلتیں قرآن مجید اور حضور ﷺ کی احادیث سے معلوم ہوئیں ان کی وجہ سے روزہ ، صحابہ کرام کا پسندیدہ مشغلہ بن گیا ،آپ ﷺ اور صحابہ کرام رمضان کےعلاوہ بھی وقتًا فوقتًا روزے رکھا کرتے تھے۔

